Home تجزیہ اللہ کی مدد آئے گی، مگر…

اللہ کی مدد آئے گی، مگر…

by قندیل

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘ حیدرآباد
فون:9395381226
حالات جیسے جیسے بگڑتے جارہے ہیں ویسے ویسے یہ یقین پختہ ہوتا جارہا ہے کہ یہ حالات بہت جلد بدل جائیں گے۔ جب کوئی بھی چیز اپنی انتہا پر پہنچتی ہے‘ وہاں سے اس کی اگلی منزل پستی ہوتی ہے۔ اُترپردیش اور ملک کی مختلف ریاستوں میں دشمن طاقتوں نے جو رویہ اختیار کیا ہے‘ ان کی اپنی نظر میں یہ صدیوں کا انتقام ہے اور ان کے بھکتوں، چاہنے والوں کی نظر میں وہ سورما ہیں۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ ہماری تاریخ ایسے ہی واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ہمارے ایک دوست خواجہ علی بابر نے فیس بک پر سورہ ابراہیم کی دو آیات (13,14) پیش کی ہیں‘ جن کا ترجمہ پڑھنے کے بعد حوصلہ بڑھ جاتا ہے کیوں کہ دشمنان اسلام کی زیادتیوں، ان کے مسلمانوں کے ساتھ سلوک پر اللہ رب العزت جو وعدہ کیا ہے‘ وہ ہر دور کے لئے ہے۔ قرآن کریم ہر دور کے لئے راہ ہدایت ہے۔
لِنُخْرِجَنَّکُمْ مِنْ اَرْضِنَا
کافروں نے کہا کہ ضرور بالضرور ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے (یہ NRCہے)
اَوْلَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا
یا ایسا کرو کہ تم ہمارے دین میں واپس ہوجاؤ (یہ CAAہے)
لَنُہْلِکَنَّ الظّٰلِمِےْنَ
تو ان کے رب نے ان سے کہا کہ ہم ضرور بالضرورظالموں کو ہلاک کردینگے (یہ نتیجہ ہے)
وَلَنُسْکِنَنَکُمُ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِہِمْ
ان کے بعد ہم تمہیں اس زمین میں آباد رکھیں گے(یہ بدلہ ہے)
ذٰلِکَ لِمَنْ خَاف مَقَامِیْ وَخَافَ وَعِےْدِ
یہ اس کے لئے ہے جو میرے حضور کھڑے ہوئے اور میری وعید سے ڈرے (یہ شرط ہے)
جب جب حالات ناسازگار ہوتے ہیں‘ مصائب بڑھ جاتے ہیں‘ تب تب ہم اللہ ہی کے حضور گڑگڑاتے ہیں‘ اور اللہ ہمیں کبھی مایوس نہیں کرتا۔ آج ہندوستان بھرمیں نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھی جارہی ہے‘ حرمین شریفین میں دعائیں مانگی جارہی ہیں۔ کسی نہ کسی کی تو دعا ضرور قبول ہوگی۔ جس ماں کی گود اجڑی ہے‘ جس باپ کا سہارا چھن گیا ہے‘ اس کے دل سے نکلنے والی آہیں یقینا رنگ لائیں گی۔ اب جو شعور بیدار ہوا ہے‘ جو جذبہ پیدا ہوا ہے انشاء اللہ یہ برقرار رہے گا۔ چوں کہ حالات ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ اور ہم توبہ کررہے ہیں‘ وہ تواب الرحیم ہے۔ یقینا ہماری پریشانیوں کو دور کرے گا اور ان کی سازشوں کی جال میں خود انہیں اُلجھادے گا۔ بیشک اللہ ہی سب سے بہتر تدبیر کرنے والاہے۔
آج ہمارا احتجاج قابل تحسین ہے۔ جو نوجوان قربانیاں دے رہے ہیں‘ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت میں اجر عطا کرے۔ یہ نوجوان اپنے مستقبل اور آنے والی نسلوں کیلئے ہر ظلم سہہ رہے ہیں۔ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائیگی۔ آج مساجد میں نمازوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ مگر ایک بات ذہن میں رکھئے کہ ہماری صفوں میں کچھ دشمن بھی شامل ہوسکتے ہیں‘ اس کی نگرانی ضروری ہے۔ بیشتر مساجد کے باہر اور اس کے دروازوں پر آپ کو جو سائل نظر آتے ہیں‘ کوئی ضروری نہیں کہ سائل ہی ہوں‘ وہ سنگھ پریوار کے نمائندے بھی ہوسکتے ہیں اور وہ عناصر بھی جو آپ کے پل پل کی خبر دوسروں تک پہنچاکر آپ کے لئے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ عموماً یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ مساجد میں ہم آپس میں بات کرتے ہیں‘ تو یہ بھول جاتے ہیں کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں‘ اور آج کل تو ہر ایک کے پاس موبائل فون ہوتا ہے‘ جس میں آپ کی باتیں ریکارڈ بھی ہوتی ہیں اور براہ راست ساری دنیاتک پہنچ سکتی ہیں۔ آپ کا کوئی بھی متنازعہ جملہ یا لفظ آپ کو شکنجے میں کسنے کیلئے کافی ہوگا۔ پہلے تو جو بھی ہم بات کریں‘ وہ قانون اور ملک کے خلاف نہ ہو۔ آپ اگر اپنے مستقبل کا کوئی لائحہ عمل بناناچاہتے بھی ہیں، تو پہلے چند قابل اعتماد افراد سے اس کا آغاز کریں اور وہ چند افراد اپنے اپنے قابل اعتبار ساتھیوں تک آپ کا پیغام پہنچائیں۔ حتی الامکان نوجوان طبقے کو قابو میں رکھیں‘ کیوں کہ ہمارے دشمن یہی چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان طبقے کا مستقبل تباہ ہو۔ اشرار کی جانب سے مشتعل کرنے کی کوشش کی جاتی رہے گی‘ صبر و تحمل سے کام لیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ فرضی اکاؤٹنس کے ذریعہ ہمیں مشتعل کرنے اور ورغلانے کی کوشش کی جارہی ہے، افسوس اس بات کا ہے کہ اس پر ہم غیر ضروری ردعمل کا اظہار کررہے ہیں‘ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو مشتعل کرنے والا تو فرضی ہوگا، مگر آپ خواہ مخواہ جوش میں ہوش کھو بیٹھیں گے اور ان کے شکنجے میں پھنس جائیں گے۔ یہ وقت آزمائشی ہے ہمیں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔ غیر طبقے سے تعلق رکھنے والی صنف نازک کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی نہ دیکھیں۔ ویسے اپنی قوم کی صنف نازک کی طرف بھی نگاہ غلط گنہگار ہی بناتی ہے اور رسوائی کا سبب بنتی ہے۔ موجود دور میں تو فسادات کو بھڑکانے کیلئے یہ کافی ہے۔ غیروں کے محلے میں ہمارے نوجوان چاہے بائک پر سے گذریں یا پیدل‘ محتاط رہیں۔ بلکہ دوچار کاگروپ رہا تو زیادہ بہتر ہے۔ آپ کی اکثریتی آبادی محلے سے وہ گزریں تو کسی قسم کی ریمارکس نہ کریں‘ کیوں کہ یہ بزدلی بلکہ نامردی ہے۔ مسلمانوں کی عزت اسی لئے ہوتی رہے کہ غیروں کو ہمیشہ یہ بھروسہ رہا کہ ان کے درمیان وہ اور ان کی خواتین محفوظ رہ سکتی ہیں۔ یہی ایک وجہ تھی کہ ہمارے مسلم سورماؤں کو یہاں آکر ظالموں کے شکنجے سے آزاد کروانے کی منت و سماجت کی گئی تھی۔ آج ہمیں اس کردار کو بحال کرنا ہوگا۔ ہمارا رویہ، ہمارے اخلاق و کردار کا آج کے حالات میں بھی اثر ہوگا۔ کیوں کہ ہمارا مذہب اخلاق اور کردار سے زیادہ پھیلا، تلوار سے کم۔ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ ساتھ آپسی اتحاد، یکجہتی بھی ضروری ہے۔ آج جہاں سے بھی آواز دی جائے، لبیک کہنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت سیلف مارکیٹنگ کا نہیں‘ بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑکر ایک دوسرے کو سہارا دینے کا ہے۔
مظفرنگر میں ایک شیعہ عالم دین مولانا اسد رضا حسینی اور ان کے یتیم خانے پر جس طرح سے حملے کئے گئے‘ جس طرح سے ایک ضعیف اور قابل احترام بزرگ ہستی کے ساتھ انتہائی اہانت آمیز وحشیانہ سلوک کیا گیا ہے یہ اُن تمام کی آنکھوں کو کھولنے کے لئے کافی ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ پولیس کی لاٹھی نے شیعہ سنی میں فرق نہیں دیکھا۔ اُسے تو صرف مسلمان نظر آیا۔ اس واقعہ کی اجتماعی طور پر مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔ گجرات کے 2002ء کے فسادات میں اپنے آپ کو صرف بوہرہ سمجھنے والے تاجر طبقے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا گیا، کیوں کہ ان کے سر پر ٹوپی اور چہرے پر داڑھی تھی۔ ان کے نام اسلامی تھے۔ ایسے حالات شاید ہمیں ایک کرنے کے لئے پیش آتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے اپنے عقیدہ پر قائم رہتے ہوئے اختلافات کو ختم کریں۔ جب دشمن ایک ہوکر ہم پر یلغار کررہا ہے تو ہم ایک ہوکر مقابلہ کریں۔ انشاء اللہ ہم ہی کامیاب ہوں گے کیوں کہ ہم نے اپنی مدد کے لئے اللہ کو پکارا ہے اور اس نے ہماری سن لی ہے۔ آج گوشے گوشے سے ہمارے لئے اٹھنے والی آوازیں اُسی کا ثبوت ہیں۔
احتجاج کب تک ہوتا رہے گا یہ کہا نہیں جاسکتا‘ اگر تمام ہندوستانی مسلمان اورسیکولر ہندوستانی کوئی ایک فیصلہ کرلیں تو ہم اس کے پابند رہیں گے۔ ہمیں ان سیاہ قوانین کا بائیکاٹ کرنا ہے،مگر ساتھ ہی ساتھ ہمیں غفلت میں بھی نہیں رہناہے، جو دستاویزات ہماری بقا کیلئے ضروری ہیں، چاہے انہیں ہم پیش کریں یا نہ کریں وہ تیار ضرور رکھیں۔ ہمارے قائدین چاہے وہ مذہبی ہوں یا سیاسی،ایک حد تک ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بے قصور نوجوان برسوں جیلوں میں گذارتے ہیں، ان کیلئے مقدمے ضرور لڑے جاتے ہیں، 15-15 برس بعد وہ واپس آتے ہیں‘ ایسا ہر کسی کیساتھ نہ ہو‘ اس لئے اپنے آپ کو ہر اعتبارسے تیار رکھیں۔
اِن دنوں نماز فجر کی پابندی کرنے والے بچوں کو سائیکلیں تحفتاً دینے کی ایک اچھی روایت شروع کی گئی ہے۔ اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تحفہ لینے کے بعد بھی وہ بچے پابندی سے آسکیں‘ نماز فجر کی ادائیگی انسان کی کامیاب زندگی کی بنیاد ہے۔ اللہ رب العزت نے صبح اٹھ کر روزی تلاش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ وقت بہترین ہے ورزش کیلئے۔ مساجد کے ذمہ داران اگر نماز فجر کے بعد کم از کم 15منٹ سے آدھے گھنٹے تک اِن بچوں کو قریبی کسی پارک یا میدان میں ہلکی پھلکی وزرش کرائیں‘ کسی کوچ کی خدمات لے کر مارشل آرٹس سکھائیں تو یہ بچے اپنی قوم اور ملک کے محافظ ثابت ہونگے۔ مارشل آرٹس سیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے‘ اس کا ماہر نہتا ہوکر بھی چار پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ یہی نوجوان اگر صحت مند ہوں‘ تو اسپورٹس کوٹے میں انہیں اچھے سے اچھے تعلیمی ادارے میں داخلے مل سکتے ہیں۔ مختلف محکموں میں ملازمت بھی مل سکتی ہے۔ امید ہے کہ ہماری قوم کے ذمہ دار اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ اس کی زیادہ تشہیر نہ کریں اور فن سیکھنے کے بعد ان بچوں کو اس بات کا عہد دلائیں کہ ان کی طاقت، ان کی صلاحیت اپنے دفاع اور کمزوروں کی حفاظت کیلئے ہے، اس کا کبھی غلط استعمال نہیں کریں گے۔ نیک نیتی سے ارادہ کیجئے‘ اللہ کی مدد آہی جائے گی۔

You may also like

Leave a Comment