آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکے عہدیداران کے نام خط -نقی احمد ندوی

(ریاض، سعودی عرب )

سب سے پہلے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے حالیہ اجلاس اور نئے عہدیداران کے انتخاب پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور یہ امید کرتاہوں کہ نئے حالات کے پیش نظر بورڈ اپنی پوری قوت کے ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح معنوں میں مشترکہ آواز بن کر ابھرے گا۔ بورڈ کے تمام عہدیداران اور اراکین یہ نوٹ کرلیں کہ ادھر چند سالوں میں ملک کے حالات اور بورڈ کی کارکردگی پر ہندوستانی مسلمان اور خاص طور پر نوجوان طبقہ بہت ہی مایوس ہے اور اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ بورڈ اپنی فعالیت ، کارکردگی اور افادیت کا از سرنو جائزہ لے اور اپنے تنظیمی ڈھانچہ اور سرگرمیوں میں جلد از جلد اصلاحات لانے کی کوشش کرے۔ اس ضمن میں بورڈ کے تمام عہدیداران اور اراکین کی خدمت میں پانچ تجاویز میں پیش خدمت ہیں۔
نمبر ۱۔بورڈ کی ویب سائٹ پر بورڈ کا پہلا مقصد یوں لکھا ہے: © ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ اور شریعت ایکٹ کے نفاذ کو قائم کرنا اور باقی رکھنے کے لیے مؤثر تدابیر اختیا رکرنا۔ بورڈ یہ کہتا ہے کہ اس کے قیام کا مقصد صرف پرسنل لا کی حفاظت ہے، سوال یہ ہے کہ بورڈ کا دستور کوئی قرآن تو نہیں ہے جس میں وقت اور حالات کے لحاظ سے کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ کیا یہ عجیب نہیں لگتا کہ جن کے عائلی قوانین کی حفاظت آپ کرنا چاہتے ہیں انھیں کا وجود خطرے میں ہے، جب کسی کا وجود ہی خطرے میں ہو تو اس کے وجود کی فکر کی جائیگی یا اس کے متعلق عائلی قوانین کی۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کے لیے بہت سی دوسری تنظیمیں میدان میں موجود ہیں، تو آپ یہ کیوں نہیں سمجھنے کی کوشش کرتے کہ وہ ساری تنظیمیں محدود، کسی مسلک اور افراد سے منسوب ومنسلک اور بورڈ کی طرح عوام میں مقبول نہیں ہیں، لہذا جو بورڈ اپنے پلیٹ فارم سے ایسے حالات میں اپنی قوم کے لئے کرسکتا ہے وہ دوسری تنظیمیں کرنے سے قاصر ہیں۔ اس لیے بورڈ اپنے دستور میں ترمیم کرکے مسلمانوں کے جمیع مسائل کو اپنے دائرہ کار میں لائے۔
نمبر۲۔ تنظیمی ڈھانچہ: بورڈ اپنے اراکین اور عہدیداران کے انتخاب میں کشادگی پیدا کرتے ہوئے ، یونیورسٹیوں کے پروفیسران، عدالتوں کے وکلا ، بزنس طبقہ کے افراد کے ساتھ ساتھ انٹلکچول طبقہ کی نمائندگی کو یقینی بنائے۔ صرف علماکا طبقہ کسی تنظیم کی افادیت کے لیے کافی نہیں ہے۔ مزید برآن بورڈ اپنا چپیٹر اور برانچ باقاعدہ اور باضابطہ تمام صوبوں میں کھولے جن میں تمام فرقوں اور مسلکوں کے لوگ ہوںتاکہ صحیح معنوں میں بورڈ ہر صوبہ میں متحرک ہوسکے اور عوام سے جڑ سکے۔
نمبر ۳۔ بورڈ سیاست میں حصہ نہ لے یہ بات قابل قبول ہے ، مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ بورڈ سیاست پر اثر انداز ہو، سیاست سے خواہ آپ جتنی چاہیں دوری بنائے رکھیں، مگر سیاست نہ صرف پرسنل لا پر بلکہ آپ کے اداروں، تنظیموں اور آپ کی زندگی کے ہرشعبہ پر ہر دم اثرانداز ہوتی ہے، لہذا سیاست میں حصہ نہ لیا جائے مگر سیاست پر اثرا نداز ہونے کی اسٹریٹیجی تو بنائی جاسکتی ہے، اس کے لیے بورڈ کی جو ایک معمولی آفس ہے اس کو وسعت دی جائے، اس میں خاص طور پر وکلا یا قانون سے متعلق افراد کا تعین کیا جائے اور ایک ایسی لابی بنائی جائے جو سیاست کے گلیاروں میں بورڈ اور مسلمانوں کے حقوق کی نگہداشت کے لیے ہر وقت کوشاں رہے۔ صرف اردو زبان میں گاہے بہ گاہے بیان دے دینا یقینا چودہ کروڑ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے کافی نہیں ہے۔
نمبر۴۔ کسی بھی تنظیم کے لیے مالیات ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے، صرف بند کمروں میں بیٹھ کر کچھ صاحب خیر حضرات کے ڈونیشن پر کوئی تنظیم نہیں چلائی جاسکتی، بورڈ اپنا ڈونیشن کمپین چلائے، اس کے لیے جو بھی قانون کے دائرہ میں ذرائع استعمال کیے  جاسکتے ہیں وہ اختیا رکیے جائیں۔ عوام کے بیچ جلسے کیے جائیں، صاحب خیر حضرات کے پاس وفود بھیجے جائیں اور مالیات کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے تاکہ بورڈ کی آفس اور بورڈ کو اپنی سرگرمیوں کو انجام دینے میں کوئی مالی دشواری پیش نہ آئے۔
نمبر ۵۔ بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی مدظلہ العالی اور نائب صدر مولانا ارشد مدنی مدظلہ العالی، کم سے کم چھ چھ ماہ بورڈ کی دہلی آفس میں بیٹھیں، اس کے ساتھ ساتھ جنرل سکریٹری پورے سال بورڈ کی مرکزی آفس میں بیٹھیں ، چودہ کروڑ مسلمانوں کی اس مشترکہ پلیٹ فارم کو پارٹ ٹائم وقت نہ دیا جائے؛ بلکہ یہ آپ کی تنظیموں ، مدارس اور اداروں سے زیادہ اس بات کا حقدار ہے کہ آپ اسے اپنا وقت دیں تاکہ ہندوستانی مسلمانوں کی جب تاریخ لکھی جائے ،تو لکھا جائے کہ اس دور کے بورڈ کے عہدیداران نے ملک وملت کے لیے جو خدمات انجام دیں وہ یقیناآنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ تمام عہدیداران اس امت کے لیے بہت اچھی خدمات انجام دے رہے ہیں اور امت آپ سب کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے ، مگر اس امت کو اس بات کا احساس ہے کہ جو بورڈ کے عہدیداران جو کرسکتے ہیں وہ نہیں کررہے ہیں۔ آپ کی قوم اس سے کہیں زیاد ہ آپ سب سے توقعات لگائے بیٹھی ہے اور آپ سب کی تنظیمی صلاحیت، علمی اور عملی جدوجہد کا انتظار کررہی ہے۔امید ہے کہ بورڈ کے تمام عہدیداران اور ارکان مثبت انداز میں ہماری تجاویز پر غورکرنے کی کوشش کریں گے۔ اللہ آپ سب کی خدمات قبول فرمائے اور امت کے لیے مزید خدمات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے!