آل انڈیا ہیومن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’ عالمی ادبیات کے اردو تراجم ‘‘ پر قومی سیمینارکا انعقاد

 

نئی دہلی (پریس ریلیز )قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون اور آل انڈیا ہیومن فاؤنڈیشن دہلی و تسخیرفاؤ نڈیشن کے اشتراک سے جماعت اسلامی کیمپس میں یک روزہ قومی سیمینار ’عالمی ادبیات کے اردو تراجم: مسائل وامکانات‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈاکٹر نوشاد عالم ، ڈاکٹر جاوید حسن، مولانا حفظ الرحمن قاسمی، شہاب الدین قاسمی، سلمان عبدالصمد، عبدالباری قاسمی، ابو الدردا ندوی، فرقان عالم، وسیم احمد علیمی، فیصل نذیر اورمحمد نجم الدین وغیرہ نے اپنے مقالات پیش کیے اور اس پروگرام کی نظامت مشہور شاعر ڈاکٹر خان محمد رضوان نے کی ۔
قبل ازیں تحریری کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے مشہور ناقد اور کالم نگار ڈاکٹر صفدر امام قادری نے کہا کہ دنیا میں تقریباً آٹھ ہزار زبانوں کے وجود کی خبر ملتی ہے۔ کم از کم سو زبانوں کی فہرست بنانی ہی چاہیے جنھیں ہم عالمی ادبیات کی اصطلاح کی تفصیل کے طور پر پہچان سکتے ہیں۔انھوںنے کہا کہ دیگر عالمی زبانوں سے اردو میں ترجمے کی ایک مستحکم روایت رہی ہے، تاہم موجودہ عہد میں ترجمے کی روایت پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ خود ہندوستان میں تقریباً دودرجن زبانیں ایسی ہیں جن کے ادبی میلانات سے اردو کے طالب علموں کو استفادہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے اپنے خطبے میں مبسوط انداز سے عالمی زبان کے اردو تراجم اور مترجمین پر بحث کی۔ کلیدی خطبے کے علاوہ ڈاکٹر صفدر امام قادری نے صدارتی خطاب بھی پیش کیا جس میں انھوں نے گلوبلائزیشن کے عہد میں تراجم کے مسائل وامکانات پر روشنی ڈالی۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر واحد نظیر(JMI)نے کہا کہ حقائق کا ترجمہ قدرے آسان ہے،تاہم تہذیبی سروکار اور اندرون کے معاملات کو منتقل کرنا بہت مشکل امر ہے،کامیاب مترجم وہی ہوسکتاہے جو کسی نہ کسی سطح پر جذبات کی ترجمانی کرسکے۔ ناظر اجلاس مفتی ڈاکٹر اعجاز ارشد قاسمی نے کہا کہ ہم اکثر روایت کے بیان میں کھو جاتے ہیں، تاہم ہمیں موجودہ حالات کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ مہمان ذی وقار مفتی احمد نادرالقاسمی نے کہا کہ اردو کا دائرہ عالمی سطح پر جس طرح وسیع ہورہا ہے، وہ خوش کن ہے ۔ ظاہر ہے زبان کے دائرے کو وسیع کرنے میں تراجم کا بھی کردار ہوتا ہے ۔ کیوں کہ ایک زبان کا مواد دوسری زبان میں ترجمے کی صورت میں پہنچتا ہے تو اصل زبان سیکھنے کی طرف لوگ مائل ہوتے ہیں۔ جب کہ مشہور افسانہ نگار پرویز اشرفی خصوصی مہمان کی حیثیت سے مدعو تھے۔ پروگرام کے کنویر فیض الاسلام فیضی نے کہا کہ گلوبلائزیشن کے عہد میں ترجمے کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔ کیوں کہ نئی چیزوں سے روبرو ہونا اور نئی تہذیب سے روشناس ہونا اب ہماری سائکی کا حصہ ہے۔ تہذیبی چیزوں کے تبادلے میں تراجم کا اہم کردار ہوتا ہے اور ساتھ ہی تراجم کے دروازے میں داخل ہوکر ہم روزگار کی سطح پر بھی اپنی دنیا آباد کرسکتے ہیں۔اس سیمینار میں تسخیر فاؤنڈیشن کے جنرل سکریٹری گلاب ربانی، مشہور صحافی وسیم احمد ، ڈاکٹر ذاکر فیضی، نذرالاسلام، مظہر حسین، محمدطاہر کے علاوہ کثیر تعداد میں علم دوست افرادموجود تھے۔