عالمِ یگانہ حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوریؒ:کچھ تأثرات، کچھ حالات-مولانا نور عالم خلیل امینی

چیف ایڈیٹر ‘‘الداعی’’ عربی و استاذ ادبِ عربی
دارالعلوم دیوبند
(دوسری و آخری قسط)
سوانحی نقوش
نام:مفتی صاحب کے والدین نے اُن کا نام ’’احمد‘‘ رکھا تھا؛ لیکن مفتی صاحب نے جب ۱۳۷۷ھ / ۱۹۵۸ء میں مظاہر علوم سہارن پور میں داخلہ لیا، تو وہاں اپنا نام ’’سعید احمد‘‘ لکھوایا، اُس وقت سے آپ ’’سعید احمد‘‘ ہی سے جانے جاتے رہے۔ پورا نام سعید ا حمد بن یوسف بن علی بن جیوا (یعنی یحییٰ) بن نور محمد ہے۔
جاے پیدائش: موضع ’’کالیڑہ‘‘ ضلع ’’بناس کانٹھا‘‘ ہے، بناس کانٹھا نام سے کوئی شہر نہیں ہے؛ بل کہ یہ پورے علاقے کا نام ہے، ضلع کا صدر مقام شہر ’’پالن پور‘‘ ہے۔ ’’کالیڑہ‘‘ گاؤں پالن پور سے جنوب مشرق میں تقریباً ۴۸ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کالیڑہ میں ’’سلم العلوم‘‘ کے نام سے ایک عربی مدرسہ بھی ہے، جہاں بہ وقتِ تحریر دورۂ حدیث تک تعلیم ہوتی ہے، مفتی صاحبؒ کی طالب علمی میں یہاں متوسطات ہی تک تعلیم ہوتی تھی۔
تاریخِ پیدایش: اُن کی صحیح تاریخِ پیدایش محفوظ نہیں ہے، اُن کے والد نے جب ’’ڈبھاد‘‘ میں زمین خریدی، تو بیع نامے کی روشنی میں تخمینے سے، اُن کا سنۂ پیدایش اواخر ۱۹۴۰/ ۱۳۶۰ھ بتایا، زمین کی خریدگی کے وقت، مفتی صاحب ڈیڑھ پونے دو سال کے تھے۔ مذکورہ خریدی ہوئی زمین پر ’’مجاہد پورہ‘‘ نام سے ایک گاؤں آباد ہوگیا ہے، مفتی صاحب کے والد کی اولاد جو ’’ڈُھکّا‘‘ خاندان سے تعلق رکھتی ہے، اب اسی گاؤں کی باسی ہے، مفتی صاحبؒ کا خاندان پالن پور کے علاقے کی مشہور ’’مومن‘‘ برادری سے تعلق رکھتا ہے۔
مفتی صاحب کے اُن سے چھوٹے ۴بھائی اور ۴ بہنیں ہیں، مفتی صاحب اُن سب سے بڑے تھے، گویا وہ نو بھائی بہن تھے، بہنیں سب حیات ہیں اور متاہل ہیں۔ بھائیوں میں سے دو بھائی فوت ہوچکے ہیں۔ ایک عبد الرحمن جو مفتی صاحب کے معاً بعد کے تھے اور اپنے گاؤں مجاہد پورہ میں کھیتی باڑی کرتے تھے، ۱۸؍ ربیع الآخر ۱۴۳۴ھ مطابق یکم مارچ ۲۰۱۳ ء کو اُن کا انتقال ہوگیا۔ اِن کے معاً بعد کے مولانا عبدالمجید تھے جو دارالعلوم اشرفیہ راندیر کے فارغ تھے، وہ ۹؍ ربیع الاول ۱۴۳۶ھ مطابق یکم جنوری ۲۰۱۵ء کو وفات پاچکے۔ ان کے بعد کے مولانا مفتی محمد امین پالن پوری ہیں، جن کی تاریخ ولادت ۱۷؍ ربیع الآخر ۱۳۷۱ھ مطابق ۱۵؍ جنوری ۱۹۵۲ء ہے، دارالعلوم کے فاضل ہیں، ۱۴۰۲ھ / ۱۹۸۲ء سے دارالعلوم دیوبند میں استاذ ہیں، اِس وقت دورۂ حدیث اور درجۂ علیا کی کتابیں ان سے متعلق ہیں۔ ذی استعداد اور صاحب تصنیفات ہیں۔ اللہ صحت وعافیت کے ساتھ عمر دراز سے نوازے۔ دیوبند کے محلہ قلعہ میں اپنے ذاتی مکان میں اپنے ا ہل وعیال کے ساتھ اُن کی بود وباش ہے۔ان سے چھوٹے مولانا حبیب الرحمن مولود ۱۳۷۹ھ/۱۹۶۰ء ہیں جو مظاہر علوم سہارن پور سے فارغ ہیں اور دارالعلوم اشرفیہ راندیر میں صحیح بخاری اور جامع الترمذی پڑھاتے ہیں۔
تعلیم: مفتی صاحب نے مکتب کی تعلیم اپنے آبائی گاؤں ’’کالیڑہ‘‘ کے مکتب میں حاصل کی، اس کے بعد اُن کے ماموں مولانا عبدالرحمن شَیْراؒ اُنھیں دارالعلوم چھاپی لے گئے، جہاں اُنھوں نے ماموں صاحب سے اور دیگر اساتذہ سے چھ ماہ تک فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں، چھ ماہ بعد ماموں نے مذکورہ مدرسے سے رشتہ منقطع کرکے اپنے گاؤں میں سکونت اختیار کرلی تو اُنھوں نے ماموں سے اُن کے گھر پر ہی فارسی کی کتابیں پڑھیں۔
عربی کی ابتدائی اور متوسط تعلیم مولانا محمد نذیر میاں پالن پوریؒ کے ’’مدرسہ اسلامیہ عربیہ‘‘ پالن پور میں حاصل کی، یہاں آپ کے اساتذہ میں مولانا مفتی اکبر میاں پالن پوریؒ اور مولانا ہاشم بخاریؒ تھے، جو دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہونے کے بعد گجرات کے کئی مدرسوں میں مدرس رہے، بعد میں کئی سال دارالعلوم دیوبند کے استاذ رہے، پھر مدینۂ منورہ ہجرت کرگئے اور اسی کی خاکِ پاک کا پیوند بنے۔
بعدہ ۱۳۷۷ھ / ۱۹۵۸ء میں مظاہر علوم سہارن پور کا قصد کیا اور یہاں مسلسل تین سال تک تعلیم حاصل کی اور شرحِ جامی کے بعد اور جلالین سے پہلے کا مرحلہ طے کیا۔
۱۳۸۰ھ / ۱۹۶۱ء میں دارالعلوم دیوبند میں جلالین اور ہدایہ اولین کی جماعت میں داخل ہوے۔ اور ۱۳۸۲ھ / ۱۹۶۲ء میں دارالعلوم میں دورۂ حدیث کیا۔ دارالعلوم دیوبند میں مفتی صاحبؒ نے درجِ ذیل اساتذۂ کرام سے تعلیم حاصل کی:
مولانا سید اختر حسین دیوبندی (۱۳۱۶ھ / ۱۸۹۸ء -۱۳۹۷ھ/ ۱۹۷۷ء) مولانا بشیر احمد خاں بلندشہری (متوفی ۱۳۸۶ھ/ ۱۹۶۶ء) مولانا سید حسن دیوبندی (متوفی ۱۳۸۱ھ / ۱۹۶۱ء) مولانا عبد الجلیل کیرانوی (متوفی ۱۳۸۸ھ/ ۱۹۶۸ء) مولانا اسلام الحق اعظمی (۱۳۲۲ھ / ۱۹۰۴ء-۱۳۹۲ھ / ۱۹۷۲ء) حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند (۱۳۱۵ھ/ ۱۸۹۷ء -۱۴۰۳ھ / ۱۹۸۳ء) مولانا عبد الاحد دیوبندی (۱۳۲۷ھ / ۱۹۰۹ء – ۱۳۹۹ھ / ۱۹۷۹ء) مولانا فخرالحسن مراد آبادی (۱۳۲۳ھ / ۱۹۰۵ء – ۱۴۰۰ھ/ ۱۹۸۰ء) مولانا محمد ظہور دیوبندی (۱۳۱۸ھ / ۱۹۰۰ء – ۱۳۸۳ھ ۱۹۶۳ء) علامہ محمد ابراہیم بلیاوی (۱۳۰۴ھ / ۱۸۸۶ء -۱۳۸۷ھ / ۱۹۶۷ء) مولانا مفتی سید مہدی حسن شاہ جہاںپوری (۱۳۰۱ھ / ۱۸۸۴ء – ۱۳۹۶ھ /۱۹۷۶ء) شیخ محمد عبد الوہاب محمود مصری مبعوث از جامعہ ازہر برائے دارالعلوم دیوبند، مولانا نصیر احمد خاں بلندشہری (۱۳۳۷ھ/ ۱۹۱۸ء -۱۴۳۱ھ / ۲۰۱۰ء) شیخ الحدیث حضرت مولانا سید فخرالدین ہاپوڑی ثم المرادآبادی (۱۳۰۷ھ /۱۸۸۹ء – ۱۳۹۲ھ /۱۹۷۲ء)۔
دورۂ حدیث میں مفتی صاحب نے اول نمبر سے کام یابی حاصل کی سواے مسلم شریف کے جس میں اُنھیں ۴۵ نمبر ملے، حدیث شریف کی ساری کتابوں میں ۵۰-۵۰ نمبر حاصل کیے۔ یاد رہے کہ دارالعلوم میں اُس وقت نمبرات کی آخری حد ۵۰ تھی، ابھی چند سال پہلے دنیا کے عام علمی اداروں کی طرح آخری حد ۱۰۰ نمبر ہوگئی ہے۔
۱۳۸۲ھ -۱۳۸۳ھ کے تعلیمی سال میں اُنھوں نے دارالعلوم میں افتا کیا، مستحکم صلاحیت کی وجہ سے ۱۳۸۳ھ – ۱۳۸۴ھ کے تعلیمی سال میں دارالافتا میں معاون مفتی کی حیثیت سے اُن کا تقرر ہوا، حسنِ کارکردگی کی وجہ اُس وقت کے دارالعلوم کے مفتی، مفتی محمود حسن نانوتوی نے ۱۳۸۴ھ میں اُن کے مستقل تقرر کی سفارش کی، مہتمم دارالعلوم حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ نے سفارش کو قبول فرماتے ہوے، افتا کمیٹی کے ممبران کو تحریراً پیش رفت کا حکم دیا؛ لیکن متعلقہ کچھ حضرات نے اُس تحریر کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔ علامہ محمد ابراہیم بلیاوی نے اُنھیں یہ فرماتے ہوے اِس صورتِ حال کی اطلاع دی کی ’’مولوی صاحب! گھبراؤ نہیں، اِس سے اچھے آؤگے‘‘۔ چناںچہ ۹ سال بعد وہ دارالعلوم دیوبند میں باقاعدہ خدمتِ تدریس کے لیے بلائے گئے اور دمِ واپسیں تک اِس سعادت سے بہرہ ور رہے۔
عملی میدان میں
ذی قعدہ ۱۳۸۴ھ / مارچ ۱۹۶۵ء سے شعبان ۱۳۹۳ھ / ستمبر ۱۹۷۳ء تک ۹ سال اُنھوں نے دارالعلوم اشرفیہ راندیر، سورت میں تدریسی خدمت انجام دی۔ وہیں سے تحریری وتالیفی کام کا آغاز بھی کیا اور مختلف کتابیں تصنیف کیں، نیز حضرت الامام مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ (۱۲۴۸ھ/ ۱۸۳۲ء – ۱۲۹۷ھ/ ۱۸۸۰ء) کے علوم ومعارف کی تفہیم وتشریح کا تحریری کام بھی شروع کیا، اِس سلسلے کی ایک کوشش ’’اِفادات نانوتوی‘‘ کے نام سے بالاقساط ’’الفرقان‘‘ لکھنؤ میں شائع ہوئی، جس کی اہل علم نے بہت پذیرائی کی۔
رجب ۱۳۹۳ھ / اگست ۱۹۷۳ء میں منعقد شدہ مجلس شوریٰ نے مفتی صاحبؒ کو دارالعلوم کا استاذ منتخب کیا۔ شوال ۱۳۹۳ھ / نومبر ۱۹۷۳ء سے آپ نے دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمت انجام دینی شروع کی، پہلے سال اُنھوں نے مسلم الثبوت، ہدایہ اول، سلم العلوم، ملا حسن، ہدیہ سعیدیہ، جلالین نصف اول مع الفوز الکبیر کے اسباق پڑھائے۔ سال بہ سال ترقی کرتے ہوے حدیث شریف کی کتابوں کی تدریس تک پہنچے۔
۱۴۳۱ھ / ۲۰۱۰ء میں شیخ الحدیث حضرت مولانا نصیر احمد خاں بلند شہری کی وفات کے بعد آپ دارالعلوم کے شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہوے اور ۱۴۴۱ھ / ۲۰۲۰ء کے تعلیمی سال کے ختم تک آپ نے مکمل بخاری شریف کا درس دیا؛ لیکن حضرت مولانا نصیر احمد خاں کی حیات میں ہی ان کی وفات سے دوسال پہلے سے یعنی سال تعلیمی ۱۴۲۸ھ – ۱۴۲۹ھ مطابق ۲۰۰۷ء- ۲۰۰۸ء سے ہیـ،آپ کے ذمے بخاری شریف کردی گئی تھی؛ کیوں کہ حضرت مولانا نصیر احمد خان بہت کم زور اور رہین فراش ہوگئے تھے۔ دارالعلوم میں آپ شیخ الحدیث اور صدر مدرس بھی رہے، اسی کے ساتھ متعدد ذمے داریاں بھی اُن کے سپرد رہیں، مثلاً: ۱۳۹۵ھ / ۱۹۷۵ء اور ۱۴۰۲ھ / ۱۹۸۲ء میں اُنھوں نے دارالافتا کی سرپرستی اور نگرانی کی خدمت انجام دی، نیز ’’مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت‘‘ کے ناظم اعلی رہے، اُنھوں نے اضافی خدمتوں میں سے کسی کا کوئی الاؤنس دارالعلوم کی پیش کش کے باوجود نہیں لیا۔
بیعت وخلافت:
اکابر واسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوے، مفتی صاحب طلبِ علم کے زمانے سے اپنی باطنی ا ِصلاح کے لیے فکر مند رہے، چناںچہ تحصیلِ علم کے ساتھ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا قدس سرّہ (۱۳۱۵ھ/ ۱۸۹۷ء – ۱۴۰۲ھ/ ۱۹۸۲ء) سے بیعت ہوکر اُن کی تعلیمات واِرشادات پر عمل پیرا رہے، نیز دیگر معاصر صالحین کی مجلسوں سے استفادہ جاری رکھا، بالخصوص حضرت مولانا عبدالقادر رائپوری نور اللہ مرقدہ (۱۲۹۰ھ/ ۱۸۷۳ء – ۱۳۸۲ھ /۱۹۶۲ء) کی مجلسوں میں کثرت سے حاضر ہوتے رہے۔ ان بزرگوں کی وفات کے بعد حضرت مولانا مفتی مظفر حسین مظاہری رحمۃ اللہ علیہ (۱۳۴۸ھ/ ۱۹۲۹ء – ۱۴۲۴ھ/ ۲۰۰۳ء) سے رجوع ہوے اور اُنھی سے ۱۴۱۸ھ میں اجازتِ بیعت واِرشاد سے بہرہ مند ہوے۔
تالیفات:
مفتی صاحب نے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھیں جن میں مستقل تصنیفات اور شروحات اور مراجعات داخل ہیں، اُن کے صفحات مجموعی طور پر تینتیس ہزار چھ سو بیس (۳۳۶۲۰) ہوتے ہیں۔ ان میں بڑی، متوسط اور چھوٹی تقطیع کی کتابیں شامل ہیں، ان میں سے متعدد کتابیں کئی کئی ضخیم جلدوں میں ہیں، جب کہ اکثر کتابیں ایک یا دو جلدوں میں ہیں، جن کی فہرست حسب ذیل ہے:
۱- تحفۃ القاری، یہ صحیح بخاری کی شرح ہے، ۱۲ جلدوں میں ہے، ہرجلد ۳۰×۲۰ کی تقطیع پر تقریبا چھ سو صفحے کی ہے، ساری جلدوں کے صفحات بہتر سو دس (۷۲۱۰) ہیں۔
۲- تحفۃ الالمعی، یہ جامع ترمذی کی شرح ہے، مذکورہ تقطیع میں ۸ آٹھ جلدوں میں ہے، ہرجلد زائد از چھ سو صفحات پر مشتمل ہے، ساری جلدوں کے کل صفحات انچاس سو اکیاسی (۴۹۸۱) ہوتے ہیں۔
۳- تفسیر ہدایت القرآن، یہ قرآن پاک کی آسان تفسیر اور ترجمہ ہے، مذکورہ تقطیع میں اس کی آٹھ ۸ جلدیں ہیں، ہرجلد زائد از ۶۰۰ صفحات میں ہے، کل جلدوں کے مجموعی صفحات پینتالیس سو چھہتر (۴۵۷۶) ہوتے ہیں۔
۴- آسان بیان القرآن، یہ حکیم الامت حضرت اقدس مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ (۱۲۸۰ھ/ ۱۸۶۳ – ۱۳۶۲ھ / ۱۹۴۳ء) کی تفسیر مکمل بیان القرآن کی تسہیل ہے، جو دارالعلوم کے ایک فاضل مولانا عقیدت اللہ قاسمی نے کی ہے، مفتی صاحب نے نظر ثانی کے بعد، اُس کی طباعت واشاعت اپنے تجارتی مکتبہ: ’’مکتبۂ حجاز‘‘ دیوبند سے کیا ہے، مذکورہ تقطیع پر یہ ۵ پانچ جلدوں میں ہے، ہرجلد تقریباً چھ سو (۶۰۰) صفحات کی ہے، پانچوں جلدوں کے کل صفحات (۲۸۶۸) اٹھائیس سو اڑسٹھ ہوتے ہیں۔
۵- رحمۃ اللہ الواسعہ، یہ محدث دہلوی (امام احمد بن عبد الرحیم معروف بہ ’’شاہ ولی اللہ دہلوی‘‘ (۱۱۱۴ھ /۱۷۰۳ء -۱۱۷۶ھ/ ۱۷۶۲ء) کی مشہور تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کی اردو شرح ہے، جو مفتی صاحب نے بڑی جاں فشانی سے کی ہے؛ اِسی لیے اِس سلسلے میں کی گئیں سابقہ ساری کوششوں سے فائق اور مفید تر ثابت ہوئی ہے اور اہل علم نے اس کی بہت پذیرائی کی ہے۔ یہ کتاب پانچ (۵) جلدوں میں مذکورہ تقطیع میں ہے، مکمل جلدوں کے مجموعی صفحات چھتیس سو چودہ (۳۶۱۴) ہیں۔
۶- تحقیق وتعلیق حجۃ اللہ البالغہ، یہ عربی زبان میں حجۃ اللہ البالغہ کی تحقیق وتعلیق ہے، اس کو بڑے سائز پر دار ابن کثیر دمشق نے ۱۴۳۱ھ / ۲۰۱۰ء میں بہت خوب صورت چھاپا تھا، یہ دو جلدوں میں ہے، پہلی جلد ۶۹۳ صفحات کی ہے اور دوسری جلد ۶۴۷ صفحات کی، دونوں جلدوں کے مجموعی صفحات (۱۳۴۰) تیرہ سو چالیس ہوتے ہیں۔ اِسی طباعت کا عکس مفتی صاحب کے ’’مکتبۂ حجاز‘‘ سے اسی انداز میں چھپا ہوا، دیوبند میں دست یاب ہے۔
۷- ایضاح المسلم، یہ صحیح مسلم کی شرح کی پہلی جلد ہے، جو کتاب الایمان پر مشتمل ہے، مذکورہ تقطیع میں یہ جلد (۶۰۰) چھ سو صفحات میں ہے۔
۸- فیض المنعم، یہ مقدمۂ صحیح مسلم کی شرح ہے، بڑے سائز کے (۱۷۶) ایک سو چھہتر صفحات میں ہے۔
۹- شرح علل الترمذی، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، یہ علل الترمذی کی عربی میں شرح ہے، کتاب بڑے سائز کے اسی (۸۰) صفحات میں ہے، مکتبۂ حجاز سے شائع ہوتی رہتی ہے۔
۱۰- زبدۃ شرح معانی الآثار (کتاب الطہارۃ) یہ امام طحاوی (ابوجعفر احمد بن محمد بن سلامہ ازدی طحاوی : ۲۳۸ھ/ ۸۵۲ء – ۳۲۱ھ / ۹۳۳ء) کی مشہور کتاب ’’معانی الآثار‘‘ کے کتاب الطہارۃ کی عربی شرح ہے۔ یہ متوسط سائز کے ایک سو انیس (۱۱۹) صفحات میں ہے۔
۱۱- مفتاح التہذیب، یہ منطق کی مشہور کتاب ’’تہذیب المنطق‘‘ مؤلفہ سعد الدین تفتازانی (۷۲۲ھ /۱۳۲۲ء -۷۹۲ھ/ ۱۳۹۰ء) کی اردو شرح ہے، متوسط سائز کے (۱۵۲) ایک سو باون صفحات میں ہے۔ اس کتاب کی تدریس کی تقریر کو اُن کے پسرِ اکبر مولانا رشید احمد پالن پوری مرحوم (۱۳۸۶ھ/۱۹۶۶ء – ۱۴۱۵ھ /۱۹۹۵ء) نے جمع کیا تھا اور دارالعلوم کے استاذ مولانا خورشید احمد گیاوی نے مرتب کیا تھا۔
۱۲- الفوز الکبیر فی اصول التفسیر، یہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی فارسی تصنیف کا عربی میں ترجمہ ہے، یہ ترجمہ ماضی میں ایک سے زائد لوگوں نے کیا تھا؛ لیکن وہ نقص آلود رہا، اِس لیے مفتی صاحب نے اس کی تہذیب وتصحیح کی اور حذف وتنقیح کے ساتھ، اس پر حاشیہ نویسی بھی کی۔ دارالعلوم دیوبند اور ملحقہ مدارس میں مفتی صاحب ہی کا یہ عربی ترجمہ داخل نصاب ہے، یہ کتاب متوسط سائز کے ایک سو بیس (۱۲۰) صفحات میں ہے۔
۱۳- العون الکبیر شرح الفوز الکبیر، یہ الفوز الکبیر فی اصول التفسیر کی عربی میں شرح ہے، یہ متوسط سائز کے تین سو بارہ (۳۱۲) صفحات میں ہے۔
۱۴- الوافیۃ بمقاصد الکافیۃ، یہ عربی زبان میں علامہ ابن الحاجب (ابوعمرو عثمان بن عمر بن ابی بکر بن یونس دوینی اَسنائی معروف بہ ’’ابن الحاجب‘‘: ۵۷۰ھ /۱۱۷۴ء – ۶۴۶ھ/ ۱۲۴۹ء) کی نحو میں معرکۃ الآراء کتاب ’’الکافیہ‘‘ پر حواشی وتعلیقات ہیں۔ یہ کتاب متوسط سائز کے دو سو پندرہ (۲۱۵) صفحات میں ہے۔
۱۵- ہادیہ شرحِ کافیہ، یہ اردو زبان میں کافیہ کی شرح ہے، چھوٹے سائز کے تین سو اٹھاون (۳۵۸) صفحات میں ہے۔
۱۶- مبادئ الفلسفہ، یہ کتاب دارالعلوم کی مجلس شوریٰ کی طلب پر مفتی صاحب نے ترتیب دی ہے، جو دارالعلوم میں داخل نصاب ہے، کتاب کا مقصد فلسفہ کی بڑی اور دقیق ومشکل کتابوں سے پہلے، طلبہ کو اس کے اصول ومبادی سے واقف کرانا ہے؛ تاکہ ان کے لیے، ان کتابوں کا پڑھنا اور سمجھنا آسان ہوجائے۔ یہ کتاب متوسط سائز کے چالیس (۴۰) صفحات میں ہے۔
۱۷- معین الفلسفہ، یہ مبادئ الفلسفہ کی اردو شرح ہے، جس سے میبذی کے حل میں بھی مدد ملتی ہے اور فلسفہ کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنا آسان ہوتا ہے۔ یہ کتاب چھوٹے سائز پر (۱۶۴) ایک سو چونسٹھ صفحات میں ہے۔
۱۸- مبائ الاصول، یہ اصول فقہ کی بنیادی اصطلاحات پر مشتمل ہے، عربی زبان میں اصول الشاشی، نور الانوار اور کشف الاسرار وغیرہ اُصول فقہ کی کتابوں سے استفادے کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔ اِس کو پڑھ لینے کے بعد اصول فقہ کی مشکل کتابوں کو ہضم کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ یہ کتاب متوسط سائز کے چالیس (۴۰) صفحات میں ہے۔
۱۹- معین الاصول، یہ اردو زبان میں مبادئ الاصول کی شرح ہے، چھوٹے سائز کے ایک سو بارہ (۱۱۲) صفحات میں ہے۔
۲۰- آپ فتویٰ کیسے دیں؟، یہ کتاب علامہ ابن عابدین شامی (محمد امین بن عمر بن عبد العزیز عابدین دمشقی معروف بہ ’’علامہ شامی‘‘ (۱۱۹۸ھ / ۱۷۸۴ء – ۱۲۵۲ھ / ۱۸۳۶ء) کی مشہور کتاب ’’شرح عقود رسم المفتی‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے، مترجم نے مباحث کی ضروری وضاحت اور مفید عنوانات کے اضافے کے ساتھ، فقہا اور کتب فقہیہ کا مفصل تعارف بھی کتاب میں درج کردیا ہے۔ یہ کتاب متوسط سائز کے ایک سو ساٹھ (۱۶۰) صفحات میں ہے۔
۲۱- آسان صرف، یہ کتاب مفتی صاحب نے مبتدی طلبہ کے لیے لکھی ہے، یہ برصغیر میں اکثر مدرسوں میں داخلِ نصاب ہے۔ یہ کتاب تین حصوں میں ہے، چھوٹے سائز پر پہلا حصہ چالیس (۴۰) صفحے میں، دوسرا حصہ چونسٹھ (۶۴) صفحے میں اور تیسرا حصہ ایک سو چار (۱۰۴) صفحے میں ہے۔
۲۲- آسان نحو، یہ کتاب نحو کے مبتدی طلبہ کے لیے دو حصوں میں اردو میں لکھی گئی ہے، چھوٹے سائز پر، پہلا حصہ چالیس (۴۰) صفحے میں اور دوسرا حصہ ایک سو چار (۱۰۴) صفحے میں ہے۔
۲۳- آسان فارسی قواعد، یہ مبتدی طلبہ کو فارسی پڑھانے کے لیے بہت آسان کتاب ہے، دو حصوں میں ہے، پہلا حصہ چھوٹے سائز پر بتیس (۳۲) صفحے میں ہے اور دوسرا حصہ (۶۴) چونسٹھ صفحے میں ہے۔
۲۴- آسان منطق، یہ کتاب در اصل مولانا حافظ عبداللہ گنگوہیؒ کی تالیف تیسیر المنطق کی ترتیب وتسہیل ہے، جو مفتی صاحبؒ نے کی ہے۔ یہ چھوٹے سائز پر (۷۷) صفحے میں ہے۔
۲۵- تحفۃ الدرر شرح نخبۃ الفکر، یہ علامہ ابن حجر عسقلانی (شہاب الدین ابوالفضل احمد بن علی بن محمد کنانی عسقلانی مصری شافعی : ۷۷۳ھ/ ۱۳۷۱ء – ۸۵۲ھ / ۱۴۴۹ء) کی اصول حدیث کی مشہور کتاب ’’نخبۃ الفکر في مصطلح اہل الاثر‘‘ کی اردو میں شرح ہے، چھوٹے سائز کے (۸۴) چوراسی صفحے میں ہے۔
۲۶- مفتاح العوامل شرح مئۃ عامل، یہ کتاب امام عبدالقاہر جرجانی (ابوبکر عبد القاہر بن عبد الرحمن بن محمد جرجانی: ۴۰۰ھ / ۱۰۰۹ء – ۴۷۱ھ / ۱۰۷۸ء) کی فن نحو کی مشہور کتاب ’’شرح مئۃ عامل‘‘ کی اردو میں گراں قدر شرح ہے۔ یہ شرح دراصل شیخ الحدیث حضرت مولانا سید فخرالدین احمد ہاپوڑی مرادآبادی نور اللہ مرقدہ نے کی تھی، اس کا مسودہ عرصے تک حضرت مولانا ریاست علی بجنوریؒ (۱۳۵۹ھ/ ۱۹۴۰ء -۱۴۳۸ھ / ۲۰۱۷ء) کے پاس محفوظ رہا، مفتی صاحب نے وہ مسودہ ان سے لے کر اس پر دیدہ ریزی سے نظر ثانی کیا اور مولانا خورشید انور گیاوی استاذ دارالعلوم نے اسے مرتب ومکمل کیا، النوع الاول کے نصف کے بعد کی ترکیب نحوی رہ گئی تھی، اس کا اضافہ کیا۔ یہ کتاب چھوٹے سائز پر دو سو بہتر (۲۷۲) صفحے میں ہے۔
۲۷- گنجینۂ صرف، یہ اردو میں صرف کی مشہور کتاب ’’پنج گنج‘‘ کی شرح ہے، یہ شرح بھی حضرت مولانا سید فخرالدین احمد کے قلم سے ہے، مفتی صاحب نے اس کا مسودہ بھی حضرت مولانا ریاست علیؒ سے حاصل کرکے اس پر نظر ثانی کی اور اس کو مرتب ومکمل کرکے اپنے مکتبہ، مکتبۂ حجاز سے شائع کیا، یہ کتاب چھوٹے سائز کے دو سو پچپن (۲۵۵) صفحے میں ہے۔
۲۸- علمی خطبات، یہ مفتی صاحب کی ان تقریروں کا مجموعہ ہے، جو اُنھوں نے رمضان المبارک کے مہینے میں بیرون ملک بالخصوص برطانیہ، کناڈا وغیرہ میں کیں، ان کے صاحب زادوں نے انھیں مرتب کیا اور مفتی صاحب نے لفظ لفظ ان کو پڑھا تھا، اس کے بعد یہ تقریریں شائع کی گئیں، گویا یہ بھی ان کی تالیف ہی ہے۔ پہلاحصہ چھوٹے سائز پر (۳۰۴) تین سو چار صفحات میں اور دوسرا حصہ (۲۷۱) دو سو اکہتر صفحات میں ہے۔
۲۹- تذکرۂ مشاہیر محدثین وفقہاے کرام اور تذکرہ راویانِ کتبِ حدیث، اِس کتاب میں خلفاے راشدین، عشرۂ مبشرہ، ازواجِ مطہرات، بناتِ طیبات، فقہاے سبعہ، مجتہدین امت، محدثین کرام، راویان کتب حدیث، شارحین حدیث، فقہاے امت، مفسرین عظام، متکلمین اسلام وغیرہ کا انتہائی اختصار کے ساتھ تذکرہ ہے۔ یہ کتاب چھوٹے سائز کے اَسّی (۸۰) صفحے میں ہے۔
۳۰- دین کی بنیادیں اور تقلید کی ضرورت، یہ کتاب مفتی صاحب کی ان تقریروں کا مجموعہ ہے، جو اُنھوں نے غیرمقلدین کے ردّ میں لندن میں اور جون ۲۰۰۴ء میں ہندوپور اور شہر مدراس میں کیں، پھر ان پر نظرثانی کی اور رحمت اللہ الواسعہ سے دین کی بنیادی باتوں کا اضافہ کیا، اب یہ مذکورہ نام سے چھوٹے سائز کے (۹۶) چھیانوے صفحے میں چھپتی رہتی ہے۔
۳۱- داڑھی اور انبیاء کی سنتیں، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اس کتاب میں داڑھی پر کیے جانے والے اعتراضات کے جوابات کے علاوہ انبیا کی سنتوں کو بیان کیا گیا ہے، جیسے ناخن تراشنا، بغل کے بال لینا، مسواک کرنا وغیرہ۔ یہ کتاب چھوٹے سائز کے ایک سو اٹھائیس (۱۲۸) صفحے میں ہے۔
۳۲- عصری تعلیم، ضرورت، اندیشے، تدبیریں، لڑکیوں کو سرکاری اسکولوں میں عصری تعلیم دلانے کے سلسلے میں مشکلات ونقصانات پر غور کرنے کے لیے، علاقۂ پالن پور میں قائم اِصلاحی جماعت نے ۱۰؍ ربیع الآخر ۱۴۲۷ھ مطابق ۹؍ مئی ۲۰۰۶ء کو ایک اجتماع منعقد کیا اور مفتی صاحب کو مذکورہ مسئلے پر خطاب کے لیے مدعو کیا۔ اُنھوں نے جو کچھ ارشاد فرمایا اس کو کتاب کی صورت میں، شعبۂ نشر واشاعت دار العلوم چھاپی، گجرات نے شائع کیا۔ یہ کتاب چھوٹے سائز کے پچپن (۵۵) صفحات میں ہے۔
۳۳- اسلام تغیر پذیر دنیا میں، یہ کتاب جو چھوٹے سائز میں ایک سو بارہ (۱۱۲) صفحات میں ہے، ان چار مقالات کا مجموعہ ہے، جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے سمیناروں اور جلسوں میں پڑھے گئے۔ پہلے مقالے کا عنوان ’’اسلام تغیرّ پذیر دنیا میں‘‘ ہے جو مفتی صاحبؒ کے قلم سے ہے اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں پڑھا گیا۔ دوسرے مقالے کا عنوان ’’فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کا مسئلہ ‘‘ ہے، یہ بھی مفتی صاحب ہی کا لکھا ہوا ہے، یہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے سمینار میں پڑھاگیا۔ تیسرا مقالہ بہ عنوان ’’فقہِ حنفی میں فہم معانی کے اصول‘‘ ہے، یہ حضرت مولانا ریاست علی بجنوری کا تحریر کردہ ہے، یہ بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے سمینار میں پڑھا گیا۔ چوتھا مقالہ جو ’’نبوت نے انسانیت کو کیا دیا؟‘‘ سے مُعَنْوَن ہے، مفتی صاحب کا نتیجۂ فکر ہے، یہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جامع مسجد میں پیش کیا گیا۔
۳۴- حرمتِ مُصَاہَرَتْ، یہ کتاب چھوٹے سائز کے اسی (۸۰) صفحے میں ہے۔ اس میں سسرالی اور دامادی رشتوں کے مکمل احکام اور ناجائز انتفاع کا حکم ذکر کیا گیا ہے۔
۳۵- حیاتِ امام طحاوی، یہ کتاب چھوٹے سائز کے چھیانوے (۹۶) صفحات میں ہے۔ اس میں امام طحاوی کے تذکرے کے ساتھ، شرح معانی الآثار کا تعارف اور اس کی شروح کا جائزہ شامل ہے۔
۳۶- حیاتِ امام ابوداود، یہ کتاب چھوٹے سائز کے اسی (۸۰) صفحات میں ہے، اس کتاب میں امام صاحب کے حالات، سنن ابی داود کا تعارف، اس کی شرحوں اور متعلقات کا جائزہ شامل ہے۔
۳۷- جلسۂ تعزیت کا شرعی حکم، یہ کتاب چھوٹے سائز پر (۸۶) چھیاسی صفحات میں چھپی ہوئی ہے۔ رجب ۱۴۳۹ھ / اپریل ۲۰۱۸ء میں حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ (۱۳۴۴ھ / ۱۹۲۶ء – ۱۴۳۹ھ / ۲۰۱۸ء) پر دارالعلوم وقف دیوبند نے سمینار کیا جس میں کبار اساتذہ ومنتظمین دارالعلوم کو بھی مدعو کیا گیا، دیگر لوگوں نے شرکت کی لیکن مفتی صاحب نے دلائل کی روشنی میں مذکورہ سمینار کو جلسۂ تعزیت مانتے ہوے، اس میں شرکت نہیں کی، جس سے علمی مناقشے کا سلسلہ شروع ہوگیا، مفتی صاحب نے اپنی عدم شرکت پر علمی انداز میں جو کچھ لکھا، نیز دیگر لوگوں نے تحریری طور پر جو کچھ کہا، اس کو اس کتاب میں جمع کردیا گیا ہے، جس سے کتاب دستاویزی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔
۳۸- تسہیلِ ادلۂ کاملہ، یہ کتاب متوسط سائز کے دوسو بتیس (۲۳۲) صفحات میں ہے، یہ شیخ الہند اکیڈمی دارالعلوم دیوبند سے شائع ہوتی ہے، یہ کتاب غیر مقلدوں کے دس سوالات اور ان کے تحقیقی جوابات پر مشتمل ہے، یہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ(۱۲۶۸ھ / ۱۸۵۱ء – ۱۳۳۹ھ / ۱۹۲۰ء) کی تصنیف ہے، مفتی صاحب نے اس کی تسہیل کی ہے اور اُن کے برادر خرد مولانا مفتی محمد امین پالن پوری نے اس کی ترتیب وتزیین کی ہے۔
۳۹- تحقیق وتحشیہ ایضاح الادلہ، یہ کتاب متوسط سائز کے (۶۷۱) چھ سو اکہتر صفحات میں شیخ الہند اکیڈمی سے طبع ہوتی ہے، غیرمقلدوں کے دس سوالوں کے جوابات کی شرح ووضاحت خود شیخ الہندؒ نے کی تھی، مفتی صاحب نے تحقیق وتحشیہ کا کام کیا ہے اور مولانا مفتی محمد امین پالن پوری نے ترتیب وتزیین کی ہے۔
۴۰- کیا مقتدی پر فاتحہ واجب ہے؟ ، یہ کتاب حضرۃ الامام محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ کی کتاب ’’توثیق الکلام والدلیل المحکم‘‘ کی شرح ہے۔ یہ چھوٹے سائز کے ایک سو انسٹھ (۱۵۹) صفحے میں ہے۔
۴۱- اِرشاد الفہوم شرح سلم العلوم، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ قاضی محب اللہ بن عبد الشکور بہاری (متوفی ۱۱۱۹ھ /۱۷۰۷ء) کی فن منطق کی مشہور ومتداول غیر معمولی کتاب ’’سلّم العلوم‘‘ کی اردو شرح ہے۔ یہ چھوٹے سائز کے (۳۸۴) تین سو چوراسی صفحات میں ہے۔
۴۲- کامل برہانِ اِلٰہی، یہ کتاب متوسط سائز میں چار (۴) جلدوں میں ہے، پہلی جلد پانچ سو چھیاسٹھ (۵۶۶) صفحات کی ہے، دوسری پانچ سو ساٹھ (۵۶۰) کی، تیسری بھی پانچ سو ساٹھ (۵۶۰) صفحات کی، جب کہ چوتھی (۶۱۴) چھ سو چودہ صفحات کی ہے، کل صفحات تیئس سو (۲۳۰۰) ہوتے ہیں۔ اس کتاب میں وہ مضامین ہیں جو مفتی صاحب نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کی شرح ’’رحمۃ اللہ الواسعۃ‘‘ کے ہرمبحث کے شروع میں اس کے مشمولات کو سمجھانے کے لیے لکھے ہیں، قارئین کی خواہش پر ان کی راے ہوئی کہ ان مضامین کو علاحدہ کتاب میں شائع کردیا جائے، تاکہ جو لوگ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں شاہ صاحب کی عربی عبارت کی بہ جائے صرف شاہ صاحب کی مراد کو جاننا چاہیں وہ مفتی صاحب کے ان مضامین ہی کو پڑھ لیا کریں۔
۴۳- محفوظات، یہ کتاب چھوٹے سائز میں تین حصوں میں ہے، تینوں حصوں کے مجموعی صفحات (۱۱۲) ایک سو بارہ ہیں۔ اس میں مفتی صاحب نے طلبہ کو یاد کرانے کے لیے کچھ آیتیں اور احادیث مع ترجمۂ اردو درج کی ہیں۔ پہلے حصے میں چھوٹی چھوٹی آیتیں اور احادیث ہیں، دوسرے میں پہلے سے کچھ بڑی اور تیسرے میں ان سے بھی بڑی؛ تاکہ تدریجاً طلبہ کی استعداد کے مطابق انھیں سمجھنا اور یاد کرنا آسان ہو۔
۴۴- مسئلہ ختم نبوت اور قادیانی وسوسے، یہ کتاب چھوٹے سائز کے چونسٹھ (۶۴) صفحات میں ہے، ردّقادیانیت اور مسئلہ ختم نبوت پر یہ بہت قیمتی رسالہ ہے۔ دارالعلوم کا ’’کل ہند تحفظ ختم نبوت‘‘ شعبہ اس کی اشاعت کرتا رہتا ہے۔
۴۵- تعددِ ازواجِ رسول Aپر ا عتراضات کا علمی جائزہ، یہ کتاب مفتی صاحب کی دورانِ تدریسِ حدیث مذکورہ موضوع پر تقریر ہے، جو بنگلہ دیش کے ایک فاضل دارالعلوم اور مفتی صاحب کے شاگرد مولانا کمال الدین شہاب قاسمی نے مرتب کرکے دارالنشر ڈھاکہ بنگلہ دیش سے چھوٹے سائز کے تریسٹھ (۶۳) صفحات میں شائع کی ہے۔
۴۶- تہذیب المغنی، ’’المغنی‘‘ علامہ محمد بن طاہر بن علی پٹنی (۹۱۰ھ / ۱۵۰۴ء -۹۸۶ھ/ ۱۵۷۸ء) کی اسماء الرجال پر اہم کتاب ہے، مفتی صاحب نے اس کی عربی شرح لکھنی شروع کی تھی؛ صرف باب الراء تک لکھ سکے تھے؛ اِس لیے وہ شائع نہ ہوسکی۔
۴۷- زبدۃ الطحاوی، امام طحاوی کی ’’معانی الآثار‘‘ کی عربی تلخیص ہے، چونکہ مدارس میں یہ کتاب جہاں تک پڑھائی جاتی ہے، وہیں تک کام کرسکے تھے؛ اِس لیے اس کو شائع نہیں کیا۔
۴۸- مفتی صاحب کے بہت سے فتاوی اُن کے ذاتی رجسٹروں اور دارالعلوم کے دارالافتا کے رجسٹروں میں محفوظ ہیں۔ اُنھیں دیگر علمی کاموں سے فرصت نہیں ملی اِس لیے اُنھیں مُدَوَّن کرکے شائع نہ کرسکے۔
پس ماندگان
۱۳۸۴ھ / ۱۹۶۵ء میں مفتی صاحب کی شادی اپنے ماموں مولوی حبیب الرحمن شَیْرَا کی بڑی صاحب زادی سے ہوئی، مفتی صاحب نے اپنی اہلیہ کی نہ صرف صلاح وتقوی اور صبر وشکر پر پرورش کی؛ بل کہ اُنھیں جیّد حافظ قرآن بنایا جس کی وجہ سے یہ ہوا کہ اُنھوں نے امور خانہ داری کو بہ خوبی انجام دیتے ہوئے اپنے بچے اور بچیوں کو؛ بل کہ اپنی بہووں کی بھی حفظ قرآن کی سعادت عظمی سے نوازا۔ قابل ذکر ہے کہ وقتِ تحریر مفتی صاحب کی ۳۱ اولاد واحفاظ واسباط اور پانچ بہوویں حافظِ قرآن ہیں، یاد رہے کہ بہ راہ راست اولاد اور مفتی صاحب کے پوتوں، پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی تعداد ۳۳ ہے۔
پہلے لکھا جاچکا ہے کہ مفتی صاحب کی اہلیہ کا ۱۴۳۲ھ / ۲۰۱۱ء میں انتقال ہوچکا، دو صاحب زادوں کی بھی وفات ہوچکی ہے، ایک پسرِ اکبر مولوی مفتی رشید احمد مولود ۴؍ جمادی الاخری ۱۳۸۶ھ مطابق ۲۰؍ ستمبر ۱۹۶۶ء کی جن کی ایک حادثے میں ۵؍ شوال ۱۴۱۵ھ مطابق ۷؍ مارچ ۱۹۹۵ء کو شہادت ہوگئی۔ ان کے دو لڑکے ہیں: مولوی مفتی مسیح اللہ فاضلِ دارالعلوم دیوبند جو ممبئی کے ایک مدرسے میں مدرس ہیں اور اپنی والدہ (جن کی دوسری شادی ہوچکی ہے) کے ساتھ ممبئی ہی میں سکونت پذیر ہیں، دوسرا لڑکا سمیع اللہ حافظِ قرآن ہے، وہ ممبئی کے ایک مکتب میں معلم ہے اور ممبئی ہی میں اپنی والدہ کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔
پسر ثانی مولانا حافظ سعید احمد مولود یکم ذی قعدہ ۱۳۸۷ھ مطابق یکم فروری ۱۹۶۸ء، ہدایہ تک تعلیم یافتہ تھے اور سورت کے ایک مدرسے میں حفظ کے استاذ تھے، مدرسے کا نام دارالعلوم محلہ رام پورہ ہے۔ پانچ چھ سال سے راندیر کے کسی مدرسے میں مدرس تھے اور وہیں بہ روز منگل: ۲۸؍ ربیع الاول ۱۴۴۱ھ مطابق ۲۶؍ نومبر ۲۰۱۹ء وہ اللہ کو پیارے ہوگئے اور وہیں مدفون ہوے۔
ایک صاحب زادی، جو چوتھے نمبر کی اولاد تھی اور جس کی تاریخ پیدایش ۱۳؍ جمادی الاولی ۱۳۹۱ھ مطابق ۷؍ جولائی ۱۹۷۱ء ہے، بہت جلد بہ مقام راندیر، بہ روز جمعہ: ۱۶؍ ربیع الاول ۱۳۹۳ھ مطابق ۲۰؍ اپریل ۱۹۷۳ء، داغِ مفارقت دے گئی۔
باقی اولاد الحمد للہ زندہ بخیر ہیں، جو مندرجۂ ذیل ہیں:
۱- مولانا وحید احمد مولود ۱۷؍ جمادی الاولی ۱۳۸۹ھ مطابق ۲؍ اگست ۱۹۶۹ء، فاضلِ دارالعلوم ہیں، ۱۵ سال سے دمن کے مدرسہ نورا لاسلام میں درس وتدریس میں مشغول ہیں۔
۲- مولانا حسن احمد مولود ۱۴؍ محرم ۱۳۹۳ھ مطابق ۱۸؍ فروری ۱۹۷۳ء، دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد مفتی صاحب نے انھیں اپنی کتابوں کی کمپیوٹر سے ٹائپ کرنے کی ذمے داری سپرد کی، اب وہ اس کام کے ماہر بن گئے ہیں چناںچہ اُنھوں نے ’’روشن کمپیوٹر‘‘ کے نام سے کمپوزنگ کا باقاعدہ ادارہ قائم کرلیا ہے۔
۳- مولانا مفتی حسین احمد مولود ۲؍ جمادی الاخری ۱۳۹۴ھ مطابق ۲۴؍جون ۱۹۷۴ء۔ دارالعلوم کے فاضل ہیں، ذی استعداد ہیں، مختلف مدرسوں میں تدریسی خدمت انجام دے چکے ہیں، جس کے دوران بخاری ومسلم وترمذی شریف پڑھاچکے ہیں۔ مفتی صاحب کی ترمذی کی شرح ’’تحفۃ الالمعی‘‘ اور بخاری کی شرح ’’تحفۃ القاری‘‘ انھی نے مرتب کی ہے اور اب مسلم کی شرح کو مرتب کررہے ہیں، جس کی ایک جلد مفتی صاحب کی زندگی میں آچکی ہے، اب اس کے بعد کی جلدوں پر کام کررہے ہیں۔ اپنے ذاتی مکان میں ’’معہد الفقہ النعمانی‘‘ کے نام سے ایک ادارہ کے بانی ومدیر بھی ہیں، جس میں فضلاے مدارس کے لیے فقہ وافتا میں مہارت یابی کا انتظام ہے۔
۴- مولانا محمد ابراہیم سعیدی مولود شعبان ۱۳۹۶ھ / اگست ۱۹۷۶ء، دارالعلوم سے فارغ ہونے کے بعد سے ہی، ضلع ہاپوڑ کے ایک گاؤں ’’کورانہ‘‘ میں مدرسہ نافع العلوم میں تقریباً بائیس ۲۲سال سے مدرس ہیں، وہاں کے صدر مدرس اور ناظمِ تعلیمات بھی ہیں اور فقہ وحدیث کی کتابوں کا درس بھی دیتے ہیں۔
۵- حافظ محمد قاسم مولود ۵؍ ربیع الآخر ۱۳۹۸ھ مطابق ۱۵؍ مارچ ۱۹۷۸ء درجہ سوم عربی تک تعلیم حاصل کی، اب تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، دیوبند میں قاضی مسجد کے قریب ’’مکتبۂ حجاز‘‘ کے منیجر ہیں۔
۶- حافظہ عائشہ مولود صفر ۱۳۹۹ھ /جنوری ۱۹۷۹ء، بڑی صاحب زادی کا نام بھی عائشہ تھا، ان کا دو ڈھائی سال میں انتقال ہوگیا، تو مفتی صاحب نے اُس کے بعد متولد ہونے والی بچی کا نام بھی عائشہ ہی رکھا، جو اس وقت دو بہنوں میں بڑی بہن ہے، حفظِ قرآن کے بعد بنیادی دینی تعلیم حاصل کی، اپنی بچیوں کو عائشہ سلمہا نے خود ہی حفظ کرایا اور ان کی مزید تعلیم وتربیت کی ذمے داری ادا کررہی ہیں۔ مفتی اسامہ پالن پوری فاضلِ دارالعلوم کی اہلیہ ہیں، جو جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں درجاتِ متوسطہ وعلیا کی کتابیں پڑھاتے ہیں، فقہی ضوابط، مسائل المیزان، تحفۃ الفقہ، فقہی اصول اور ’’تاسیس النظر‘‘ کی شرح وغیرہ کے مصنف بھی ہیں۔
۷- مفتی محمد سعید مولود ربیع الآخر ۱۴۰۱ھ / فروری ۱۹۸۱ء، دارالعلوم سے فراغت کے بعد، مفتی صاحب کے علمی خطبات کو
مرتب کرنے کا کام کیا، مظفر نگر کے کشن پور کے مدرسہ بحر العلوم میں پانچ سال تدریسی خدمت کے بعد، گیارہ سال سے جامعۃ الامام محمد انور دیوبند میں درجاتِ علیا کی کتابوں کی تدریس ان کے سپرد ہے۔
۸- مولانا احمد سعید مولود ۴؍ صفر ۱۴۰۳ھ مطابق ۲۱؍ نومبر ۱۹۸۲ء، دارالعلوم کے فاضل ہیں، پندرہ سال سے دیوبند کے مدرسہ جامعۃ الشیخ حسین احمد مدنی میں درجات علیا کے مدرس ہیں۔
۹- حافظہ فاطمہ سلمہا مولود ۱۱؍ جمادی الاولی ۱۴۰۵ھ مطابق ۲؍ فروری ۱۹۸۵ء، حفظِ قرآن کے بعد بنیادی دینی تعلیم سے بہرہ ور ہیں۔ ’’گھٹامن‘‘ پالن پور کے مدرسہ جامعہ نور العلوم کے بانی ومہتمم مرحوم جناب حنیف صاحب کھروڈیہ کے صاحب زادے حافظ بلال کی اہلیہ ہیں، حافظ بلال کی بود وباش ممبئی میں ہے، جہاں وہ تجارت سے وابستہ ہیں۔ مفتی صاحب نے اپنی زندگی کے آخری ایام انھی صاحب زادی کے یہاں گزارے اور ممبئی کی خاک کا ہی پیوند بنے۔
۱۰- قاری حافظ عبد اللہ سعید مولود: ۷؍ رجب ۱۴۰۶ھ مطابق ۱۹؍ مارچ ۱۹۸۶ء، حفظِ قرآن کے بعد مدرسہ اسلامیہ ریڑھی تاج پورہ، سہارن پور سے تجوید وقراء ت کی سند حاصل کی، اِس وقت دیوبند میں تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
۱۱- حافظ عبید اللہ مولود ۹؍ صفر ۱۴۰۹ھ مطابق ۲۲؍ ستمبر ۱۹۸۸ء، حافظ قرآن ہیں اور بنیادی دینی تعلیم سے بھی بہرہ یاب ہیں، مکتبۂ حجاز دیوبند میں تجارتی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*