عالمات و فارغاتِ مدارس کی آن لائن کانفرنس ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

عزیزہ تشکیلہ خانم ، معاون سکریٹری جماعت اسلامی ہند حلقہ کرناٹک نے خواہش کی کہ میں ریاستِ کرناٹک کی سطح پر دینی مدارس کی عالمات و فاضلات کی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ پیش کروں ـ میں نے بخوشی منظوری دے دی ـ

پروگرام کا آغاز عزیزہ عظمیٰ نائک کی تذکیر بالقرآن سے ہواـ انھوں نے سورۂ حم السجدۃ : 30 تا 33 کی عمدہ تشریح کی _ محترمہ امۃ الرزّاق نے افتتاحی کلمات پیش کیے ـ محترمہ نشاط محمدی نے ‘عہدِ نبوی میں خواتین کا کردار’ کے عنوان سے تقریر کی ـ انھوں نے صحابیات کی بہت سی مثالیں پیش کیں کہ وہ اسلام قبول کرنے ، دین سیکھنے ، اس پر چلنے ، اس کی راہ میں اذیتیں برداشت کرنے ، ان پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے میں پیش پیش رہی ہیں ـ
پروگرام کا ایک اہم جز ‘معاشرے کی تعمیر میں عالمات کا رول’ کے عنوان پر مذاکرہ تھاـ اس میں شاہینہ بانو نے ‘خوش گوار خاندان ـ کتاب و سنت کی روشنی میں’ ، ثمینہ پروین نے ‘خواتین اور نئی نسل کی دینی تربیت’ اور مغیرہ صالحاتی نے ‘شرحِ خواندگی بڑھانے میں عالمات کا رول’ کے عناوین پر تقریریں کیں ـ ان عزیزات کی تقریریں بھی اچھی تھیں اور اندازِ پیش کش بھی پُر اعتماد تھا ـ ان پر تبصرہ کرتے ہوئے محترمہ ساجد النساء ، رکن ریاستی مجلس شوریٰ نے عالمات کو ان کی ذمے داریاں یاد دلائیں اور معاشرہ کی اصلاح میں سرگرم کردار سر انجام دینے پر ابھاراـ

مجھ سے ‘حالاتِ حاضرہ میں دعوتِ دین اور اس کے تقاضے’ کے عنوان پر اظہارِ خیال کرنے کو کہا گیا تھاـ میری گفتگو درج ذیل نکات پر مشتمل تھی :

(1) موجودہ حالات عالمی اور ملکی دونوں سطحوں پر مسلمانوں کے لیے سازگار نہیں ہیں ـ ان کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں اور ان کی راہ میں مشکلات کھڑی کی جارہی ہیں ـ اسلام اجنبی ہوگیا ہے ، جس کی پیشین گوئی اللہ کے رسولﷺ نے کی تھی ـ (مسلم:3986) اور فرمایا تھا کہ ان حالات میں راہ حق پر جمے رہنا ہاتھ پر انگارے رکھنے کے مثل ہوگاـ (ترمذی :2260)

(2) حالات جیسے بھی ہوں ، دین کی طرف دعوت دینا ، اللہ کا پیغام عام کرنا اور اس کا کلمہ بلند کرنا ہر مسلمان کی ذمے داری ہےـ اسے دعوت ، شہادت علی الناس ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور دیگر الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہےـ

(3) دین کی مخاطب عورتیں بھی ہیں ، اسی طرح جیسے مرد ہیں _ وہ مردوں کا ضمیمہ نہیں ہیں ، بلکہ ان کی مستقل شخصیت ہےـ وہ نیک اعمال کریں گی تو اجر پائیں گی اور ان سے برے اعمال سرزد ہوں گے تو انہیں سزا مل کر رہے گی ـ اسی طرح دعوتِ دین کی ذمے داری مسلم مردوں کی طرح مسلم خواتین پر بھی عائد ہوتی ہےـ ان پر لازم ہے کہ وہ دین پر خود عمل کرنے کے ساتھ دوسروں تک بھی دین پہنچانے کی کوشش کریں ـ

(4) دعوت کا کام مومن مردوں اور مومن عورتوں کو مل جل کر انجام دینا ہےـ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ـ” (التوبۃ :71) ابتدائی صدیوں میں خواتین دین کے ہر محاذ پر حدود و آداب کی رعایت کرتے ہوئے مردوں کے ساتھ مل کر سرگرمیاں انجام دیتی تھیں ـ

(5) معاشرہ کی اصلاح کے میدان میں عالمات و فاضلاتِ مدارس کا رول عام مسلمان خواتین سے بڑھ کر ہےـ انہیں نمونہ بننا ہےـ امہات المؤمنين کو مخاطب کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو”ـ
(الأحزاب :32) اسی طرح عالمات و فارغاتِ مدارس بھی عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں ـ اگر وہ اپنی ذمے داری نبھائیں گی تو انہیں دُہرا اجر ملے گا اور اگر وہ کوتاہی کریں گی تو انہیں سزا بھی بڑھ کر ملے گی ـ

جماعت اسلامی ہند کے قافلے میں الحمد للہ خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے اور وہ ہر سطح پر دینی سرگرمیاں بڑھ چڑھ کر انجام دے رہی ہیں ـ جماعت کی اعلیٰ اختیاراتی باڈی : مجلسِ نمائندگان ، مرکزی مجلسِ شوری ، ریاستی مجالسِ شوریٰ اور دیگر فورمز میں ان کی مؤثر نمائندگی ہےـ یہ چیز بہت خوش آئند ہے کہ ان میں دینی مدارس سے فارغ ہونے والی طالبات بھی قابلِ ذکر تعداد میں ہیں ـ معاشرہ کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین و حضرات مل جل کر اس کے لیے جدّوجہد نہ کریں ـ

یہ کانفرس دو روزہ ہے _ آج ڈھائی بجے سے پانچ بجے شام تک پروگرام ہواـ اسی طرح کل بھی جاری رہے گاـ یہ معلوم ہوکر خوش گوار حیرت ہوئی کہ اس آن لائن کانفرنس میں 375 خواتین نے شرکت کی ـ یہ بھی اچھا لگا کہ تمام شریکاتِ کانفرنس نے اپنے ویڈیوز بند رکھے تھے ـ کنوینر کانفرنس کے ذریعے معلوم ہوا کہ عالمات نے اپنا واٹس ایپ گروپ بھی بنا رکھا ہے ، جس کے ذریعے وہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہتی ہیں اور مل جل کر سرگرمیاں انجام دیتی ہیں ـ اللہ تعالیٰ ان کی جدوجہد کو قبول فرمائے اور اجر سے نوازے، آمین ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*