علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘ مودی کے لہجہ میں سعودی کھجور کی مٹھاس

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز،

 

حیدرآباد۔ فون:9395381226

 

22/دسمبر2020 علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی صدسالہ تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلم یونیورسٹی کی ایک سو سالہ خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ اور اس عظیم جامعہ کے سابق طلبہ کی خدمات کو بھی غیر معمولی طور پر سراہا۔ دنیا حیران ہے کہ اچانک وزیر اعظم نریندر مودی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مثبت اور تعمیری خدمات کے قائل کیسے ہوگئے۔ حالانکہ ان کی جماعت کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہندوستان کی تقسیم کے ذمہ دار ہے۔ اور ان کی پارٹی کے دو نام نہاد مسلم پارٹی قائدین شاہ نواز اور آر ایس ایس کے نظریات کے ترجمان رضوان نے تو ایک نیشنل ٹی وی چیانل کے مباحثے میں باقاعدہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کو موافق پاکستان قرار دیا تھا۔ محمد علی جناح کی پورٹریٹ کو گیلیری سے نکالنے کے لئے باقاعدہ تحریک چلائی گئی اور یونیورسٹی تک مارچ بھی منظم کیا گیا تھا۔ اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ حالیہ مخالف شہری ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج کرنے والے اسی یونیورسٹی کے طلباء پر کس قدر دہلی پولیس نے مظالم ڈھائے اور اب بھی کئی طلبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ یہ وہی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی ہے جس کے اقلیتی کردار کو برخواست کرنے کیلئے حکومت نے حلف نامہ داخل کیا ہے اور کچھ عجب نہیں کہ جس طرح جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کو برخاست کیا گیا۔ اُسی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دیگر اقلیتی تعلیمی اداروں کا کردار ختم کردیا جائے گا۔ وزیر اعظم مودی نے ایک اچھی جامع تقریر کی۔ اگر ان کی حکومت اقلیتوں اور اقلیتی اداروں کے تئیں واقع ہمدردانہ رویہ اختیار کرتی تو تقریر کے ہر لفظ کی ستائش ہوسکتی تھی۔ تاہم اب ہر لفظ پر غور کرنے کو جی چاہتا ہے۔ جہاں تک ہمارا خیال ہے ہی نہیں‘یقین ہے کہ وزیر اعظم مودی کے لب و لہجہ میں تبدیلی دراصل ہندوستان کے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب سے مستحکم ہوتے ہوئے‘ تعلقات ہیں۔ اس وقت کشمیر اور اسرائیل کے مسئلہ پر پاکستان‘ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کے علاوہ کئی مسلم ممالک سے دور ہوچکا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بدترین نوعیت کے ہوگئے ہیں۔ گذشتہ ایک سال کے دوران وہی محمد بن سلمان جنہوں نے عمران خان کا اپنے ملک میں استقبال کرتے ہوئے خود کار ڈرائیو کرتے ہوئے اپنے ساتھ محل لے گئے تھے‘ اور اپنے خصوصی طیارہ کے ذریعہ عمران خان کو واپس بھیجا تھا‘ عین بیچ راستے سے اپنا طیارہ واپس طلب کرلیا تھا کیوں کہ عمران خان مہاتر محمد اور طیب اردغان کے ساتھ مل کر ایک نیا اسلامی بلاک قائم کررہے تھے۔ اور اس کا ایک ٹی وی چیانل کا آغاز کرنے والے تھے۔ محمد بن سلمان اور عمران خان کے درمیان دوریاں اس قدر بڑھتی گئیں کہ ایک ارب ڈالرس بلاسودی قرض فوری واپس طلب کرلیا گیا جو پاکستان نے چین سے لے کر ادا کردیا۔ سعودی عرب نے پاکستان کو تیل کی سربراہی کے معاہدے کی بھی تجدید نہیں کی۔ اور مزید تین ارب ڈالر کا قرض واپس طلب کرنے والے ہیں۔ پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کے لئے ایک طرف پاکستان سے دوری اور دوسری طرف ہندوستان سے تعلقات کو مزید مستحکم کیا گیا اور ایک سو بلین ڈالرس کی سرمایہ کاری کرتے ہوئے ہندوستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے عزائم کا اظہار کیا گیا۔ یوں تو عمران خان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے سے ہی سعودب عرب نے اپنی سرزمین سے دو لاکھ 86ہزار پاکستانیوں واپس کردیا تھا تاہم عمران خان سے تلخیوں کے بعد انہوں نے سعودی عرب کی فوج میں اور اس کی دفاع کے لئے تعینات پاکستانی سپاہیوں کو بھی برخاست کرنے کا فیصلہ کیا۔ جنرل راحیل پاشاہ پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ افواج کے کمانڈر تھے۔

وہ اپنے وطن واپس ہوچکے ہیں۔ تلخیوں کو دور کرنے کے لئے پاکستانی فوجی سربراہ قمر باجوا اور آئی ایس آئی کے ڈائرکٹر جنرل فیض حمیدسعودی عرب کا دورہ کیا مگر پرنس محمد بن سلمان نے ان سے ملاقات سے انکار کردیا۔ دوسری طرف ہندوستانی فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نراون نے سعودی دارالحکومت کا دورہ کیا اور جنرل فہد بن عبداللہ محمد المعاثر سے ملاقات کی جو سعودی رایل فورس کے کمانڈر ہیں‘ ہندوستانی فوجی سربراہ کو رایل سعودی لینڈ فورس ہیڈ کوارٹر میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ ان سے فوجی سربراہ جنرل فیاض بن حامد الرویل کے علاوہ سعودی عرب جوائنٹ فورسس کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل مطلق بن سالم بن العظیما نے بھی ملاقات کی۔دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ کیسے دیا جائے اس پر بات کی گئی۔ ویسے بھی بہت پہلے ہی کنگ عبدالعزیز سٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی (KACST) اور ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارےISRO کے درمیان باقاعدہ معاہدہ ہوچکا ہے۔اور محمد بن سلمان کے دورہ کے موقع پر دونوں ممالک کے نیشنل سیکوریٹی اڈوائزرس کی سطح پر بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل سے اتفاق کیا گیا تھا۔

 

2019ء میں ہندوستانی وزیر اعظم کی سعودی عرب میں ویژن 2030 کانفرنس میں شرکت اور محمد بن سلمان کے دورہئ ہند کے بعد سے ہندوستان سعودی عرب کے لئے ایک بہت بڑی مارکٹ ہے اور سعودی عرب کیلئے ہندوستان کو اس کی 18فیصد کچے تیل کو امپورٹ کرتا ہے۔ ویژن 2030 کے معیار پر کھرا اُترتا ہے۔ میک اِن انڈیا، کلین انڈیا، اسمارٹ سیٹیز اور اسٹارٹ اَپ سے وہ متاثر نظر آتا ہے۔آنے والے برسوں میں سعودی عرب کے ہر شعبہ میں غیر ہندوستانیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ ابھی بھی ہر اہم شعبے کے اہم اعہدوں پرغیر مسلم افراد ہی فائز ہیں۔ یہ حال تمام مسلم ممالک کاہے۔ متحدہ عرب امارت کو شیٹھی نامی ایک ہندوستانی بزنس سے کئی بلین ڈالرس کا دھوکہ ہوچکا ہے۔ مسلم ممالک میں رہتے ہوئے سوشیل میڈیا پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مہم بھی چلائی گئی جس پر کئی افراد کو ملک بدر کیا گیا۔ بہرحال سعودی عرب کے لئے اس وقت ترکی ایک بڑا خطرہ ہے جو عالم اسلام کی قیادت کا دعویدار ہے اور پاکستان اس کا سب سے بڑا حمایتی ہے۔ تاہم سعودی عرب نے ٹرمپ انتظامیہ سے اپنے تعلقات کو برائے کار لاتے ہوئے ترکی کے خلاف پابندیاں عائد کروائیں اور ترکی بھی قریب قریب اسرائیل کو تسلیم کرچکا ہے۔ اس نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس طلب کیا۔

مگر 40سالہ افق اولوتاس کو اسرائیل میں نیا سفیر مقرر کیا گیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے اسرائیل کی مخالفت ضرور کی مگر اس سے تعلقات ختم نہیں کئے۔ بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ اور پابندیوں کے پیش نظر بہت ممکن ہے کہ ترکی کا بھی سعودی عرب کی طرح پاکستان سے فاصلہ بڑھاتا جائے۔ اس وقت کوشش یہی ہے کہ کسی طرح سے پاکستان کو عالمی برادری میں یکا و تنہا کردیا جائے۔ اگرچہ کہ عمران خان نے ہر عالمی فورم سے کشمیر کے مسئلہ کو چھیڑا فلسطین کیلئے آواز اٹھاگئی مگر اسلامی ممالک کی اکثریت نے خاموشی اختیار کی۔ بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات نے اس مسئلہ پر پاکستان کی مخالفت بھی کی۔ او آئی سی میں مسلم ملک نہ ہونے کے باوجود مسلم کثیر آبادی کے پیش نظر ہندوستان جو موقف دیا گیا‘ جس طرح سے سابق میں سشما سوراج نے او آئی سی کے اجلاس سے خطاب کیا‘ جس کا پاکستان نے بائیکاٹ کیا تھا یہ واقعہ دراصل ہندوستان کے مسلم ممالک کیساتھ بہتر ہوتے تعلقات اور پاکستان کی آہستہ آہستہ اِن ممالک سے دوری کا اشارہ دیتے ہیں۔

 

سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات کے پیش نظر موجودہ مرکزی حکومت کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ او آئی سی اور اقوام متحدہ میں ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار ان کے ساتھ کئے جانے والے امتیازی سلوک، CAA، NRC، NPR کے بہانے انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوششوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کیا جائے۔ اس کے لئے خیالات اور لب و لہجہ کی حد تک ہی سہی‘ تبدیلی ضروری ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں سے متعلق کسی پالیسی کے اعلان یا ہندوستان کے بہتر رویہ کے اظہار کے لئے ایوان پارلیمان سے زیادہ موثر جگہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہوسکتی تھی۔ کیوں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ہندوستانی مسلمانوں کے ترجمان اور نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سے اٹھنے والی ہر آواز تحریک بنی۔ اس کی مخالفت کرنے والے ذلیل و خوار ہوئے۔ جس طرح سے بارک اوباما نے عالم اسلام کو اپنے بارے اچھا تاثر قائم کرنے کے لئے ذہن سازی کی تحریک کا آغاز جامعہ ازہر سے کیا تھا۔ مسٹر مودی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایسا ہی کام کیا ہے۔ ان کی تقریر اپنی جگہ ایک دستاویز ہے۔ آج نیت اور ارادہ چاہے کچھ ہو؟ مستقبل میں جب کبھی علیگڑھ مسلم یونیوسٹی پر کوئی فرقہ پرست انگلی اٹھائے گا تو اس یونیورسٹی کی حب وطنی، ملک و قوم کی ترقی میں اس کے ناقابل فراموش کے لئے مودی کی تقریر کا مسودہ ایک سند کے طور پر پیش کیا جاسکے گا۔

 

مودی نے علی گڑھ مسلم یونیوسٹی کے سیکولر کردار، تمام مذاہب کے باہمی احترام کا اعتراف کیا۔ کرونا بحران کے دوران پی ایم کیئر فنڈ میں اس کی گراں قدر عطیے کی ستائش بھی کی۔ مجموعی طور پر اپنی تقریر سے انہوں نے اپنی اس شبیہ کو مٹانے کی کوشش کی جو مخالف مسلم شبیہ کے طور پر ابھی تک ہے اور شاید رہے گی۔ ان کی تقریر میں‘ لب و لہجہ میں باشعور لوگوں نے سعودی کھجور کی مٹھاس محسوس کی۔ آپ کا کیا خال ہے!