الحاج محمد سلیم رضوی-مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

۱۴/جولائی ۲۰۲۰ ء کی تاریخ، وقت دو بج کر ۱۲منٹ ،میں دن کے کھانے کے بعدقیلولہ کے لیے لیٹا ہی تھا کہ موبائل کی گھنٹی بج اٹھی، دوسری طرف محمد انور صاحب پرنٹو آرٹ والے تھے ،کہہ رہے تھے کہ کچھ معلوم ہو ا؟سلیم بھائی کاانتقال ہوگیا،خبر انتہائی غیر متوقع تھی ،مجھ پر سکتہ طاری ہوگیاکیسے ہوا پوچھنے کی بھی سکت نہیں رہی، انور بھائی نے بتایا کہ ظہر کی نماز کے لیے وضو کرلیا تھا، نماز پڑھنے کا ارادہ ہی کر رہے تھے کہ ہارٹ اٹیک ہوا اور سب کچھ منٹوں میں ختم ہوگیا، ڈاکٹر کو بلانے کی بھی نوبت نہیں آئی، اتنی آسانی سے جان جاں آفریں کے سپردکردیا کہ نزع کی تکلیف کا کوئی احساس ہی نہیں ہوا، نہ کسی کو خدمت کا کوئی موقع دیا ،میں بھاگا ہوا ہوٹل ڈیزی پہونچا،میرے ساتھ مولانا رضوان احمد ندوی معاون مدیر نقیب امارت شرعیہ بھی تھے ،دیدار کیا ،لگا کہ سوگئے ہیں اور برسوں کی تھکن کو جیسے نیند آگئی ہے، ان کے بھائیوں کی خواہش پر جنازہ اسی دن آبائی گائوں چک نصیر منتقل کیا گیا، اہلیہ کو میں نے یہ مسئلہ بتا دیا کہ وہ عدت کی وجہ سے جنازہ کے ساتھ چک نصیر نہیں جاسکتی ہیں،ہر بیوی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ غسل اور کفن کے بعد اپنے مرحوم شوہر کاآخری دیدار کرے ؛لیکن ان کی اہلیہ نے شریعت کے اس حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیا اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ چک نصیر نہیں گئیں،شریعت پر عمل کا ایسامزاج ان دنوں کم ہی پایا جاتاہے، اگلے دن ۱۵/جولائی بروز بدھ دو بجے دن میں جنازہ کی نماز اس حقیر نے ہی پڑھائی اور گائوں کے قبرستان میں اپنے والد اور والدہ کے قریب تدفین عمل میں آئی، پس ماندگان میں اہلیہ ایک بیٹی اورچار بھائیوں کوچھوڑا۔
محترم جناب محمد سلیم رضوی بن محمد نعیم (م۲۰۰۶)کی ولادت چک نصیر ،پاتے پور موجودہ ضلع ویشالی میں ۱۹۴۹ ء میں ہوئی ،ان کا آبائی گائوں کوریا،لال گنج ضلع ویشالی تھا، ان کے والد محمد نعیم صاحب کوچک نصیر کے جناب عبد الودود ومحسن صاحب نے مشترکہ طور پر اپنا بیٹا بنا لیا تھا،اس طرح وہ نقلِ مکانی کرکے چک نصیر کے ہی ہورہے، اور چونکہ عبدالودود اور محسن صاحب لاولد تھے اس لئے انہوں نے اپنی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد محمد نعیم صاحب کے نام کردیا،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد نعیم صاحب نے ان دونوں بھائیوں کی کیسی خدمت کی ہوگی اور دل میں کیسا گھر بنایا ہوگا، عبدالودود صاحب محمد نعیم صاحب کے بچوں کو اپنے پوتے اور پوتیوں کی طرح رکھا، اس لیے اگلی نسل نے بھی انہیں دادا نہ صرف تسلیم کیا بلکہ ان کی ضروتوں کی تکمیل میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا۔
جناب محمدسلیم رضوی صاحب کی ابتدائی تعلیم گائوں کے مکتب میں ہی ہوئی ، اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے مظفر پور کا رخ کیا، یہاں کمرہ محلہ میں ان کی رہائش تھی، یہاں رہ کر انہوں نے بہار یونیورسیٹی سے بی اے آنرس جغرافیہ سے کیا ،والد اور دوبڑے بھائی گھریلوزندگی گذار رہے تھے اور کھیتی باری سے جڑے ہوئے تھے،بی اے کرنے کے بعد محمد سلیم رضوی نے پٹنہ کا رخ کیا یہاں ان کے بڑے بہنوئی کے بھائی جناب ظفر عالم صاحب بانکی پور کلب پٹنہ میں پہلے سے ملازم تھے،چنانچہ ظفر عالم صاحب نے انہیں ۱۹۷۳ ء میں بانکی پور کلب میں ملازمت سے لگوادیا،کئی برس وہ اسی کلب میں کام کرتے رہے،اپنی محنت ،لگن اور جد وجہد سے انہوں نے اس کلب میں بڑی مقبولیت حاصل کی ؛پھر ۱۹۷۶ء میں وہ مودی اسٹیل کمپنی سے بطورکلرک جڑ گئے انہوں نے اپنی محنت سے اس کمپنی میں اپنا مقام بنالیا اور ترقی کرکے سپلائی افسر بن گئے، ۲۰۰۴ء تک وہیں کام کرتے رہے ،کمپنی نے پٹنہ میں اپنا کام سمیٹا تو وہ اس سے الگ ہوگئے ۔
کمپنی کی ملازمت کے زمانے میں ہی انہوں نے شالیمار پرنٹنگ پریس قائم کیا الیکشن کے زمانے میں پریس میں بڑی کمائی ہوئی اس کی آمدنی سے انہوں نے جامن گلی سبزی باغ میں ایک پلاٹ اپنے ساڑھو ظفر عالم صاحب کی شراکت میں خریدا اس محلہ کے لوگوں نے اصرار کیا کہ یہ پلاٹ آپ مسجد کے لیے دے دیں؛ چنانچہ انہوں نے جتنی قیمت میں وہ زمین خریدی تھی اتنے پیسہ لے کر وہ زمین مسجد کے لیے دے دی جامن گلی والی مسجد اسی پلاٹ پر قائم ہے اللہ نے ان کے اس عمل کو قبول کیا اور اس زمین سے اچھی زمین دریا پور میں لبِ سڑک دلوا دیا جس پر آج ڈیزی ہوٹل قائم ہے۔
۱۹۷۷ء میں ان کی شادی حسین آبادضلع دربھنگہ کے باشی جناب عبد السلام (م ۲۰۱۲ء)کی دخترنیک اخترصفیہ خاتون سے ہوئی، برات نانی ہالی سسرال چک نورموجودہ ضلع سمستی پور گئی تھی اور گاڑی پھنس جانے کی وجہ سے فجر سے کچھ قبل نکاح ہوپایاتھا ،متاہل زندگی کامیاب تھی،صرف ایک لڑکی شبستاں سلیم عرف ڈیزی تولد ہوئی ،لڑکا کوئی نہیں تھا، لڑکی کی شادی کامران صاحب سے ہے جو ارول کے رہنے والے ہیں اور طارق انور کے چچا زاد بھائی ہیں۔
۱۹۸۸ء میں انہوں نے اپنی بیٹی کے عرفی نام سے دریا پور ،لنگر ٹولی ،پٹنہ میں رہائشی ہوٹل کھولا، مسلم علاقہ میں واقع ہونے اورہوٹل کے مسلم ماحول کی وجہ سے جلدہی پٹنہ آنے والوں کی یہ پہلی پسند بن گیا، مودی اسٹیل کمپنی سے علیحدگی کے بعد اسی ہوٹل کے نچلے حصہ میں ڈیزی نرسنگ ہوم کھولا،فقیر بارہ مسجد کے پاس ایک بلڈنگ خریدی اس میں پہلے ڈیزی اسکول پھر میرج ہال اور کپڑوں کی تجارت شروع کی؛لیکن قدرت کو منظور نہیں تھا،سب میں انہیں گھاٹا اٹھانا پڑا،وہ ایک بزنس سے دوسرے بزنس میں اپنی قسمت آزماتے رہے،ہم نشینوں نے مشورے دے دے کر نت نئے تجربات کروائے،ہر تجربہ کو زمین پر اتارنے کے لیے نئے انفرا اسٹکچر کی ضرورت تھی، کافی روپیے اس میں خرچ ہوتے رہے، بینک سے قرض لینے کی وجہ سے اس کی رقم بڑھتی گئی،اور ادائیگی کے لیے روپیہ نہیں تھے اس لئے فقیر واڑہ کے پاس والی بلڈنگ نیلام ہوگئی، احوال طاری ہوئے تو حلقہ احباب نے دھیرے دھیرے کنارہ کشی اختیار کرلی،جن لوگوں کو بنانے اور سنوارنے میں لاکھوں روپیے انہوں نے خرچ کیے تھے وہ اس موقع سے کام نہ آسکے،نتیجہ یہ ہوا کہ سمستی پور،مظفرپور وغیرہ کی جائداد بھی بک گئی،مظفر پور میں اسکول کھولا تھا وہ بھی کسی دوسرے کے ہاتھ لگ گیا،احوال آئے تو آتے چلے گئے،ان کی گاڑی ڈرائیور سمیت غائب ہو گئی جس کا آج تک پتہ نہیں چل سکا، ایک خوددار آدمی کے لیے یہ اوقات بڑے پریشان کن تھے،وہ کم لوگوں کو اپنی پریشانی بتاتے تھے، اور رنج و الم شئیر کرتے تھے،سہتے سہتے دل کے مریض ہوگئے،شوگر پہلے ہی سے تھا، اسٹینگر لگایا گیا تھا،ضرورت اوپن ہارٹ سرجری کی تھی ، لیکن اس کے لیے وہ تیار نہیں ہوئے ،اور بالآخر بقولِ شاعر دیکھا اس بیماری ِدل نے آخر کام تمام کیا۔
میرے ان سے تعلقات کی کہانی بھی عجیب ہے، ایک بار وہ سرراہ مل گئے، بات کوئی ۱۹۹۵ء یا۱۹۹۶ء کی ہے کہنے لگے: مفتی صاحب آپ میرے یہاں نہیں آتے ہیں ، میں نے کہا کہ میں مزاجاََ امراء سے دور رہتا ہوں کہنے لگے: کیوں؟ بتایاکہ کب ان کی انا کو ٹھیس پہونچے اور وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں،اس لیے امراء سے میں صاحب سلامت دور کی رکھتا ہوں ، فرمایاکہ سب پر یکساں حکم نہیں لگایاجاسکتا،اور جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں یہ تو بدگمانی کے قبیل کی بات ہے، جب تک آپ کی آمد ورفت نہیں ہوگی آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ کون کیسا ہے ، مختصراََ یہ کہ پکڑ کر اپنے گھر لے آئیں اور ایسا پکڑا کہ جنازہ پڑھانے تک نہیں چھوڑا،میں نے بھی ان کو دیکھا ،جانچا،پرکھا اور ان کا ہو کر رہ گیا، وہ مجھے اپنے گھر کے فرد کی طرح سمجھتے تھے، اور مجھ سے بے انتہا محبت کرتے تھے ۔
۸/فروری ۱۹۹۷ءبروز سنیچر میرا نوادہ میں سخت ایکسیڈنٹ ہوا، میں اچھا ہو کر گھر پر مقیم تھا کہ ایک دن گاڑی لے کر میرے گھر شاہ میاں رہوا ضلع ویشالی پہونچ گئے، زبردستی مجھے لے کرپٹنہ آئے ،میں ان سے کہتا رہا کہ میں ٹھیک ہوں ،کہنے لگے کہ آپ تو یہ سمجھتے ہیں کہ میں ماسٹر محمد نورالہدیٰ کا لڑکا ہوں،مدرسہ احمدیہ ابابکر پور ویشالی کا استاذ ہوں،میں آپ کو ملت کا سرمایہ سمجھتا ہوں، اور اس سرمایہ کی حفاظت میرا فرض ہے، آپ نہیں جانتے سر کے چوٹ کے اثرا ت بعد میں رنگ دکھاتے ہیں؛ اس لیے آج ہی مطمئن ہونا چاہیے،پٹنہ کے مشہورنیورولوجسٹ سے انہوں نے میری پوری جانچ کروائی، سیٹی اسکین کروایا،ساری رپورٹ ٹھیک آئی تو مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ کو تو لگا ہوگا کہ اتنے روپے بے کار جانچ میں برباد ہوئے، یہ سوچ صحیح نہیں ہے، یہ تو مقامِ شکر ہے کہ اللہ نے آپ کو ہر اعتبار سے سلامت رکھاہے۔
ہوٹل ڈیزی کا ایک دروازہ اوپر چڑھنے کے لیے صرف رمضان میں ہی کھلتا تھا، پوری چھت پر ٹینٹ لگواتے تھے، جو مہینہ بھر لگا رہتا تھا، افطار میں کوئی پانچ سو لوگ رہا کرتے تھے، رکشہ پولر، طلبہ ،مزدور، علماء،ائمہ مساجد،اور دوردراز سے چندہ کے لیے آنے والے مدارس کے سفراء بھی اس سے مستفیض ہوتے تھے، کسی کو رکاوٹ نہیں تھی، مغرب بعد رجسڑلے کر بیٹھتے اور خوب دل کھول کر زکوۃ کی رقم تقسیم کرتے ،تراویح کا اہتمام عموماََدس دن کا ہوتا اور انجمن اسلامیہ کے چھ دن کی تراویح ختم ہونے کے بعد ساتویں دن وہاں تراویح شروع ہوتی ؛پہلے حضرت قاری نسیم احمد صاحب ؒ تراویح پڑھاتے تھے، لیکن جب وہ بنگلور جانے لگے تو یہ کام میرے ذمہ ہوگیا، دس دن میں وہ جتنا اکرام کرتے اس کے لیے الفاظ ناکافی ہیں۔
آخری دن سارے مقتدیوں کی زبردست دعوت کرتے ،کچھ نہ کچھ ہدیہ سب کو دیتے ،علماء اور ائمہ مساجد کو کپڑے دیتے اور حافظ صاحب کو شروانی صدری اور دیہات میں جسے ’’پانچوں ٹُک‘‘ کپڑا کہا جاتا ہے، اس کا اہتمام کرتے، رقم حسبِ توفیق الگ سے پیش کرتے ،چار رکعت پر حافظ عموماََ پانی پیا کرتے ہیں ،لیکن وہ تھرمس میں مصلی کے قریب گرم دودھ رکھا کرتے تھے؛تاکہ حافظ کا صرف حلق ہی نہ تر ہو سینہ بھی تر رہے، میں جب امارت شرعیہ آگیا اور میرا سفر رمضان میں بیرون کا ہونے لگا تو پھر میرے لڑکے محمد نظر الہدیٰ قاسمی ،محمد ظفر الہدیٰ قاسمی اور بھتیجے محمد وہاج الہدیٰ قاسمی نے اس سلسلے کو جاری رکھا،ایک دن میرا بھتیجا وہاج الہدیٰ قاسمی سخت بیمار ہوگیا، سب کو امید تھی کہ آج ان کے لیے تراویح پڑھانا ممکن نہیں ہوگا، لیکن جب اس نے اسی حال میں اچھے سے قرآن سنا دیا تو بہت خوش ہوئے اور اپنے ہاتھ کی قیمتی گھڑی اتار کر اسی وقت اس کوہدیہ کردیا اور انتہائی مسرت کا اظہار کیا، تراویح کے موقع سے ہر سال وہ چھت پر جماعت خانے اور بعد میں ہال میں نئی دیوارگھڑی لگاتے تھے اور تراویح میں قرآن ختم ہونے کے بعد وہ گھڑی بھی حافظ صاحب کو وہ پیش کرتے تھے، میرے پاس آج بھی ان کی دی ہوئی کئی گھڑیاں موجود ہیں، بعد میں جب احوال خراب ہوئے تو بھی مختصر جماعت کے ساتھ تراویح پڑھتے ،ابھی تیسرے سال ہی ہم نے ان کے یہاں قرآن سنایا تھا، اس موقع سے جو کپڑا انہوں نے اپنے لیے سلوایا تھاوہ میری خدمت میں پیش کیا میں بغیر کلی اور کف دار کرتا نہیں پہنتا، لیکن ان کا دل رکھنے کے لیے قبول کرلیا، اور دو ایک بار صرف ان کے یہاں پہن کر گیا تاکہ انہیں خوشی محسوس ہو۔
میری کتاب تذکرہ مسلم مشاہیر ویشالی،انہوں نے ہی پہلی بار چھپوایا تھا، اس زمانے میں اس کی طباعت پر اٹھارہ ہزار روپے صرف ہوئے تھے، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلسِ عاملہ کااجلاس پٹنہ میں ہواتو انہوں نے بڑی تعداد میں میری کتاب تفہیم السنن شرح آثارالسنن کو خرید کر تقسیم کیا، اس طرح بڑے علماء تک میری کتاب پہونچ گئی ،۲۰۰۲؁ء میں ان کے صرفہ پر میں حج بیت اللہ کے لیے گیا، چالیس دن ان کے ساتھ گذرا ،میں نے انہیں اچھا رفیق سفر پایا، گھر پر نوکر چاکر کام کیا کرتے تھے، لیکن وہاں کھانا وغیرہ لانے میں وہ ہوٹل سے سبقت کرتے، دسترخوان بچھنے کے بعد جب تک سارے ساتھی حاضر نہ ہوتے وہ کھانا کبھی نہیں شروع کرتے، مزاج کے خلاف باتوں کے سامنے آنے پر بھی تحمل بردباری اور برداشت سے کام لیتے، یہ سفر بڑا خوشگوار رہا، اس سفر میں ان کے دوساڑھو جناب ظفر عالم اور شجاع الدین صاحب مع اہلیہ بھی شریک تھے، سلیم صاحب مرحوم کی اہلیہ اور شجاع صاحب کی والدہ بھی ساتھ تھیں،اللہ سب کے سفرِ حج کو قبول کرلے۔
ان کے ساتھ میرا تعلق گھر کے ایک فرد کی طرح تھا،میرے والد ماسٹر محمد نورالہدیٰ صاحبؒ(م۲۰۱۷ء)کا جب آنکھ کا آپریشن پٹنہ میں بھگوان داس کے یہاں ہواتو وہ پوری مستعدی کے ساتھ صبح و شام ان کی عیادت کے لیے وہاں جاتے،صحت یابی کے بعد انہوں نے اپنی گاڑی سے والد صاحب کو گھر تک پہونچایا،میرے یہاں کوئی بھی خوشی یا غمی کا موقع ہوتا تو وہ ضرور تشریف لاتے،شادی کے موقع سے وہ قیمتی تحائف کے ساتھ آیا کرتے اور تقریب کے ختم ہونے کے بعد ہی واپس ہوتے۔جب۲۰۰۱ء میں اس وقت کے صدر جمہوریہ کے آر نارائنن کے ہاتھوں تعلیم کے میدان میں قابل قدر خدمات انجام دینے کی وجہ سے اچھے معلم کا ایوارڈ ملا تو سلیم بھائی نے نہ صرف اسٹیشن پر دلی سے لوٹنے کے بعد زبردست استقبال کروایا بلکہ انہوں نے پہلی استقبالیہ تقریب ہوٹل ڈیزی میں منعقد کیا جس میں پٹنہ کے بڑے صحافی حضرات،ائمہ کرام کو انہوں نے مدعو کیا تھااور مولانا محمد عالم قاسمی،مولانا ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی اور دیگر صحافی حضرات نے خطاب فرمایا تھا،اس موقع سے مختلف اضلاع میں پینتیس استقبالیہ جلسے منعقد ہوۓ تھے لیکن اولیت کا شرف سلیم بھائی ہی کو حاصل تھا۔
سلیم بھائی کا امارت شرعیہ بہار و اڈیشہ و جھاڑکھنڈ سے بڑا گہرا تعلق تھا،وہ امارت شرعیہ کے اکابر سے پے پناہ محبت کرتے تھے،وہ امارت شرعیہ کے کاموں میں مالی اعتبار سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے زمانہ دراز تک وہ امارت شرعیہ کی مجلس شوریٰ کے رکن رہے اور مجلس شوریٰ کی اجلاس میں پابندی سے ان کی حاضری ہوتی رہی،امارت شرعیہ ان کے ایمان و یقین کا حصہ تھا اس لیے وہ اس سے جی جان سے محبت کرتے تھے۔
ان کے آبائی گائوں چک نصیر میں جامعہ ایوبیہ کے نام سے ایک مدرسہ قائم ہے، اس مدرسہ کے لیے زمین کا ایک حصہ جناب ایوب صاحب نے دیا تھا، بعد میں سلیم رضوی صاحب نے کچھ زمین خرید کر اپنے پیسہ سے مدرسہ کی شاندار عمارت تیار کرائی، ملک کے نامور خطاط مولاناابوبکر قاسمی سے مدرسہ کے محراب پر قرآن و حدیث کی آیات لکھوائیں، جو آج بھی مدرسہ کی دیوار پر جھومر کی طرح معلوم ہوتا ہے، مدرسہ میں طلبہ کی کفالت ،اساتذہ کی تنخواہ وغیرہ پر بھی ان کی جیب سے بڑی رقم خرچ ہواکرتی، مدرسہ کی سنگِ بنیاد اور افتتاحی اجلاس میںانہوں نے ملک کے بڑے علماء کو مدعو کیا ،لوح ِسنگ بنیاد اور افتتاحی اجلاس پر ان کے نام کندہ کروائے، وہ تاعمر مدرسہ اور مسجد کے ذمہ دار رہے، مدرسہ کے اجلاس میں ۱۹/ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو ان کے ساتھ میرابھی جلسہ میں جانا ہوا تھا،اس موقع سے انہوں نے خطبہ استقبالیہ پڑھاتھا، جس میں مدرسہ کی تاریخ بیان کی گئی تھی، مستقبل کے منصوبوں پر انہوں نے روشنی ڈالی تھی، اور علماء کرام کا استقبال کیا تھا۔
گائوں میں ایک پرائمری اسکول سرکاری ہے، اس کی عمارت کی تعمیر کے لیے جب کوئی زمین دینے کو تیار نہیں ہوا تو انہوں نے زمین خرید کر اسکول کو دیا، گائوں میں ٹرانسفارمر نہ ہونے کی وجہ سے بجلی سے گائوں کے لوگ محروم رہتے تھے،انہوں نے اپنے صرفہ سے ٹرانسفارمر نہ صرف لگوایا بلکہ اپنے سامنے کھڑے ہوکر لگوایا، یہی وجہ ہے کہ ان کے گائوں کے لوگ ان کا بہت احترام کرتے تھے اور ان کی باتیں سنی جاتی تھیں، بڑے سے بڑے مسائل کے حل کرنے میں ان کی بات حرفِ آخر ہواکرتی تھی، ظاہر ہے یہ دور زمینداری کانہیں ہے کہ لوگ ڈنڈے کے زور سے بات مان لیں، آج کل بات محبت کی بنیاد پر ہی کوئی مانتا ہے، ورنہ سب کی اپنی اپنی ڈفلی اور اپنے اپنے راگ ہوتے ہیں۔
ان کی سخاوت ضرب المثل تھی،پتہ نہیں کتنے گھر ان کی دادودہش سے آباد تھے اور کتنے مدرسوں کی رونق ان کے دم قدم سے تھی،کتنی مساجد کی تعمیر میں انہوں نے حصہ لیا اور کتنے علماء کی خفیہ طور پر مدد کیا کرتے تھے، وہ اپنے رشتہ داروں کا خیال پورے طور رکھتے تھے،پریشانی کے دور میں بھی ان کی خوشی و غمی میں شریک ہوا کرتے تھے، ابھی چند دن قبل ان کے چھوٹے بہنوئی امتیاز احمدصاحب کا کولکاتہ میں انتقال ہوا تھا،اس کا انہیں بہت صدمہ تھا ،راتوں کی نیند اڑ گئی تھی،وہ اپنی بہنوں سے بہت محبت کرتے تھے، ایک بہنوئی محمد مظاہر ساکن چک نصیر کا انتقال پہلے ہوچکا تھا،ان کے علاج و معالجہ میں غیر معمولی اخراجات انہوں نے کیے تھے، کڈنی فیل ہونے کی وجہ سے وہ جاں بر نہ ہوسکے، انہوں نے اپنی بھانجی وغیرہ کے شادی کا خرچ بھی اٹھایا اور آج وہ لوگ خوش و خرم ہیں ،چک نصیر جاتے تو بیوہ بہن کے گھر جانا ان کی اولین ترجیح ہوتی۔اس چھوٹے بہنوئی کے انتقال کے بعد وہ اندر سے ٹوٹ کر رہ گئے تھے،موت تو وقت پر ہی آتی ہے، اسباب کے درجہ میں اس صدمہ نے بھی اپنا اثر دکھایا ہوتوکوئی بعید نہیں۔
سلیم بھائی نے عمر اکہتر سال پائی، فراخی اور تنگی دونوں حالات دیکھے اور دونوں کا سامنا کیا، فراخی میں اللہ نے شکر کی توفیق دی اور تنگی میں صبر کی، دونوں صفت جنت میں لے جانے والی ہے، وہ نماز کے انتہائی پابند تھے، صحت و سلامتی کے دور میں تکبیرِ اولیٰ فوت نہیں ہوتی تھی، بعد میں گھر پر ہی وقت پرنماز پڑھ لیا کرتے تھے،مجھے ان کا ایک جملہ آج تک یاد ہے اذان ہو گئی تھی وہ ہوٹل سے نماز کے لیے نکل رہے تھے،میں بھی ان کے ساتھ تھا، اایک صاحب آتے ہوئے نظر آئے کہنے لگے کہ میں آپ ہی سے ملنے کے لیے آرہا تھا ،فرمایا کہ بھائی اذان کے بعد صرف ایک دروازہ مسجد کا کھلا رہتا ہے، بقیہ سارے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔آپ نماز کے بعد ملئے۔ایسے تھے ہمارے سلیم بھائی، اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کوصبرِ جمیل بخشے۔آمین یارب العالمین۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*