الفا کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کےلیے درمیانی راستہ تلاش کرنے کی امید

نئی دہلی:آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما نے ہفتہ کے روز کہا ہے کہ وہ کالعدم الفا کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کے لئے کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کے لیے  پرامید ہیں کیونکہ عسکریت پسند تنظیم مذاکرات کا مطالبہ کرتی رہی ہے ۔سرما نے کہا کہ اگر الفا اور حکومت کو کوئی قابل احترام مقام مل جاتا ہے تو بات چیت کا آغاز ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم انتہائی عجیب و غریب حالات میں ہیں۔ (الفا کے سربراہ) پریش بروا (آسام کی) خودمختاری کے معاملے پر بات کرنا چاہتے ہیں جبکہ میں نے ملک کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے وزیر اعلی کی حیثیت سے حلف لیا ہے۔ یا تو اسے اپنا موقف تبدیل کرنا پڑے گا یا مذاکرات شروع کرنے کے لیے مجھے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرنی پڑے گی۔انہوں نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ چونکہ پریش بروا اپنا مؤقف تبدیل نہیں کررہے ہیں اور اگر میں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی تو مجھے عہدہ چھوڑنا پڑے گا، ہمیں ایک درمیانی زمین ڈھونڈنی ہوگی۔سرما نے کہا کہ کچھ لوگ بروا سے بات کر رہے ہیں تاکہ وہ مذاکرات کی میز پر آسکیں۔ انہوں نے کہاکہ مجھے امید ہے کہ کوئی راستہ مل جائے تاکہ ہم امن مذاکرات کا آغاز کرسکیں۔سرما نے کہا کہ وہ بروا کی مجبوری کو سمجھتے ہیں لیکن ساتھ ہی الفا کے سربراہ کو بھی (وزیر اعلی) کی بے بسی کو سمجھنا چاہیے ۔10 مئی کو حلف اٹھانے کے بعد سرما نے بروا کی زیرقیادت الفا کے سخت گیر گروپ سے اپیل کی تھی کہ وہ امن مذاکرات کے لیے آگے آئیں اور ریاست میں تین دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری شورش کے مسئلے کو حل کریں۔