علیم اسماعیل کا تخلیقی شعور اور’’رنجش‘‘-کامران غنی صبا

شعبۂ اردو نتیشورکالج،مظفرپور

حُسنِ ذات سے حُسن کائنات اور کربِ ذات سے کربِ کائنات کا سفر کیے بغیر تخلیقی شعور کا حصول ناممکن ہے۔ بات چاہے نثری ادب کی ہو یا شعری، ایک تخلیق کار اُسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب وہ کائنات کے حسن کو، کائنات کے غم کوبلکہ یوں کہہ لیجیے کہ کائنات کو اس کی تمام جزئیات سمیت اپنے اندر ضم کرنے کی صلاحیت پیدا کر لے۔اس مقام تک پہنچنے کے لیے اپنی ذات کو آئینہ بنانا پڑتا ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس کے سامنے بھلی بری ہر طرح کی شکلیں آتی ہوں اور وہ خاموشی سے ہر منظر کی گواہی دیتا ہو۔ اس کی گواہی میں چیخ تو ہو لیکن ہر کسی کو سنائی نہ دے، جھنجلاہٹ بھی ہو، لیکن ہر کسی کو دکھائی نہ دے۔تخلیق کا فن ہر لحظہ ’’ھل من مزید‘‘ کا متقاضی ہوتا ہے۔ اسی لیے ایک کامیاب تخلیق کار کبھی اپنی ذات سے مطمئن نظر نہیں آتا۔ وہ کبھی کائنات کے حُسن سے ’’شرابِ حسن‘‘ کشید کرتا ہے اور کبھی غمِ کائنات سے ’’شرابِ حزن و ملال۔ یہ شرابیں وقتی طور پر ایک تخلیق کار کو آسودہ کر سکتی ہیں لیکن جب وہ نشے کی کیفیت سے باہر آتا ہے تو پھر مختلف طرح کے نظارے اس کا تعاقب کرتے ہیں۔وہ ہر نظارے کو ایک نئی تخلیقی صورت دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عمل متواترجاری رہتا ہے۔ اس پورے عمل میں تخلیق کار کن کن اذیتوں سے گزرتا ہے یہ وہی جانتا ہے۔ ماہرین فن کی نظر میں ایک اچھا تخلیق کار بننے کے لیے وسیع المطالعہ، وسیع المشاہدہ اور حساس ہونا ضروری ہے لیکن سچ پوچھیے تو ایک تخلیق کار کے تخلیقی شعور کی اساس ’’رنجیدگی‘‘ ہے۔ وہ اگر حُسن کی بات کر رہا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ جو نظارے حسن سے خالی ہیں تخلیق کار ان نظاروں سے رنجیدہ ہے۔ موسم خزاں کی رنجش نہ ہو تو موسمِ بہار کا حسن بھلا کس کام کا؟ذات اور کائنات کی ’رنجش‘ سے ہی تخلیق کا فن وجود میں آتا ہے۔
اس طویل تمہیدی گفتگو کے بعد میں نوجوان افسانہ نگار محمد علیم اسماعیل کے تازہ افسانوی مجموعہ ’’ رنجش‘‘ سے آپ کو روبرو کروانا چاہتا ہوں۔ علیم اسماعیل کا نام اردو فکشن کی دنیا میں اب بہت زیادہ تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ادبی حلقے میں ان کا نام اپنے تعارف کے لیے کافی ہے۔ بہت کم وقت میں انہوں نے فکشن کی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ علیم اسماعیل کے افسانوں کے موضوعات گرچہ بہت انوکھے نہیں ہیں لیکن ان کے افسانوں میں ہمیں امکانات کی ایک روشن دنیا نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کا ذکر میں نے اوپر کیا یعنی علیم اسماعیل کے افسانوں میں حسن ذات سے حسن کائنات اور کرب ذات سے کربِ کائنات کا سفر ملتا ہے۔’’رنجش‘‘ کا پہلا افسانہ ’’چھٹی‘‘ صد فی صد سچ پر مبنی ہے۔ یہاں افسانہ نگار کا کرب ’’چھٹی‘‘ کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا بلکہ چھٹی کے ساتھ ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے۔ اس افسانہ کی قرأت قاری کو رنجیدہ کرتی ہے۔ ’’رنجش‘‘کا پہلا افسانہ ہی قاری کے دل میں افسانہ نگار کے تئیں ہمدردی کا بیچ بو دیتا ہے۔
’’افسانہ ‘‘ قصور علیم اسماعیل کے نمائندہ افسانوں میں سے ایک ہے۔ افسانہ کا مرکزی خیال ایک غریب ویٹر کی حساسیت ہے۔ وہ اپنی ایک چھوٹی سی غلطی کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہے۔ ویٹر کی معمولی سی غلطی سے صاحب کے کپڑے پر چکن بریانی کی پوری پلیٹ گر گئی ہے۔ واش روم سے فریش ہوکر آنے میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ بس نکل چکی ہوتی ہے۔دوسری بس آنے میں کافی تاخیر ہے۔ ویٹر، صاحب کو ہوٹل میں ایک کمرے میں ٹھہراتا ہے، خاموشی سے کمرے کا کرایہ ادا کرتا ہے۔ دوسری بس آتی ہے تو انہیں بس تک چھوڑتا ہے۔ راستے کے لیے انہیں ناشتہ اور پانی کی بوتل پیش کرتا ہے۔ صاحب پاس کی دکان سے سیب لانے کے لیے اسے پیسہ دینا چاہتے ہیں لیکن وہ بنا پیسہ لیے ہی پھل کی دکان کی طرف لپک پڑتا ہے۔ اس بیچ بس چلنے لگتی ہے۔ وہ بس کا تعاقب کرنا چاہتا ہے لیکن ناکام ہو جاتا ہے۔ وہ گر پڑتا ہے۔ اس کے ہاتھ سے سیب گر کر بکھر جاتے ہیں۔ اس عالم میں بھی وہ اپنی چوٹ کی پروا کیے بغیر اپنے ہاتھ ہلا کر صاحب کو الوداع کہنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں پہنچ کر صاحب (واحد متکلم) کا سویا ہوا انسان جاگ اٹھتا ہے لیکن اب کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ افسانہ کا اخری حصہ ملاحظہ فرمائیں:
’’میں نے بس کی نشست سے ٹیک لگاتے ہوئے ایک لمبی سانس لی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیرا۔ میرا چہرہ تمتما گیا تھا۔ کان دہکتا ہوا شعلہ بن گئے تھے۔ جسم سے آگ کی لپٹیں نکل رہی تھیں۔ باہر کھڑکی سے آنے والی سرد ہوا جسم میں گھسی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ کانوں میں عجیب سی آوازیں آنے لگی تھیں، سیٹیاں بجنے لگی تھیں، چنگھاڑتی، بھنبھناتی، ٹراتی ہوئی آوازیں ایک ساتھ خلط ملط ہو گئی تھیں اور میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنے کان بند کر لیے تھے۔۔۔۔۔۔ بس کنڈیکٹر دھیرے دھیرے مسافروں کو ٹکٹ دیتا ہوا میرے پاس آیا۔ میں نے ٹکٹ مانگا، اس نے ٹکٹ دیا، میں نے پیسے دینا چاہے لیکن اس نے انکار کرتے ہوئے کہا۔ ’جو صاحب آپ سے باتیں کر رہے تھے انہوں نے آپ کی ٹکٹ کے پیسے پہلے ہی دے دیے تھے۔‘‘
’’رنجش‘‘ علیم اسماعیل کا ایک بہترین افسانہ ہے۔ ایک ذرا سی غلط فہمی کس طرح برسوں کے رشتوں کو رنجش میں بدل دیتی ہے،یہی اس افسانے کا تھیم ہے۔ کاظم اور کاشف بچپن کے دوست ہیں۔ دونوں کے دل میں ایک دوسری کی بے پناہ محبت ہے۔ایک تیسرا شخص پیسوں کی تنگی کی وجہ سے اپنی بالکل نئی کار آدھی قیمت پر فروخت کرنا چاہتا ہے۔ کاشف اس کار کو خریدنا چاہتا ہے لیکن کاظم اپنی ضرورت کا حوالہ دے کر کار خرید لیتا ہے۔ کاشف کو اپنے دوست کاظم کا یہ رویہ پسند نہیں آتا اور وہ اس سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔ اس کے دل میں کاظم کے تئیں اتنی رنجش پیدا ہو جاتی ہے کہ رات کو دو بجے جب کاظم کی بیوی کاشف کے دروازے پر دستک دیتی ہے اور کاظم کی طبیعت خرابی کا حوالہ دے کر اسے ساتھ چلنے کو کہتی ہے تو کاشف دروازہ تک نہیں کھولتا ہے۔ وہ اپنے رویے سے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے گویا وہ سویا ہوا ہو۔صبح اسے معلوم ہوتا ہے کہ کاظم کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو چکا ہے۔ اسے اپنے رویے پر شدید افسوس ہوتا ہے۔ میت کو قبر میں اتارنے تک وہ ضبط کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن آخر کار اس کا ضبط جواب دے دیتا ہے، وہ چیخ چیخ کر روتا ہے۔ اس نے اپنے بچپن کا ایک مخلص دوست کھو دیا ہے۔ اب اس افسانہ کا اختتام بھی دیکھیں:
’’ کاظم کے انتقال کے تین دن بعد صبح چائے پیتے ہوئے کاشف کی بیوی نے اس سے کہا ’رات میں کاظم بھائی کی بیوی گھر آئی تھی، وہ بتا رہی تھی کہ کاظم بھائی نے بطور گفٹ (تحفہ) آپ کے لیے کار خریدی تھی، آپ جلد سو گئے تھے تو وہ یہ کار کی چابی دے کر چلی گئی۔‘‘
’’ریجکٹ‘‘، ’’اجنبی‘‘، ’’ادھورے خواب‘‘،’’سودا‘‘،’زہر‘‘،’’اعتماد‘‘ اور ’’جنون‘‘ جیسے افسانوں سے علیم اسماعیل کے تخلیقی شعور کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ علیم اسماعیل کے افسانوں کی خاص بات ان کا اختصار ہے۔ وہ اپنی کہانیوں کو غیر ضروری طوالت سے بچاتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں کہیں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ ان کے افسانوں میں کردار اور مکالمے گرچہ کم ہوتے ہیں لیکن افسانہ کی قرات کے دوران کرداروں کی ایک مکمل شبیہ ہمارے ذہن میں محفوظ ہو جاتی ہے۔ ان کے مکالمے بھی مختصر مگر برمحل اور مکمل ہوتے ہیں۔
مجھے امید ہے کہ مستقبل میں علیم اسماعیل کا نام فکشن کی دنیا میں حوالہ بن کر ابھرے گا۔ ’’رنجش ‘‘ کی اشاعت پر انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*