Home تجزیہ الاقصیٰ آپریشن : ایک مختصر جائزہ -مرزا ریحان بیگ

الاقصیٰ آپریشن : ایک مختصر جائزہ -مرزا ریحان بیگ

by قندیل

 

بیسویں صدی میں عالم اسلام دو بڑے سانحوں سے دوچار ہوا۔ پہلا خلافت عثمانیہ کا زوال دوسرا اس کے نتیجے میں 1948 کو عالم عرب کے قلب میں اسرائیل کا ناجائز قیام۔ اس غاصب ملک کی بنیاد نے شروع سے لے کر اب تک انسانیت کی رسوائی کے سوا کچھ نہیں کیا۔ انسانی حقوق کی حفاظت، جانوں کا تحفظ، مقدس مقامات کی تکریم و تعظیم اس ملک اور اس کے اہالیان کی نظر میں صرف وہم ہی وہم ہے۔ اسی وجہ سے ارض فلسطین پچھلے 75 سالوں سے ظلم و ستم کے نت نئے تجربات سے گزر رہی ہے۔ اسی کے فطری رد عمل کے طور پر وہاں کئی تحریکیں برپا ہوئیں، جن میں ایک بڑا نام حركة المقاومة الإسلامية (حماس) کا ہے۔ جس کی بنیاد 1987 کو انتفاضہ اولی کے آغاز پر ڈالی گئی تھی۔ یہ چند دانشور لیڈروں کی ولولہ انگیز قیادت میں قائم ہوئی اور دیکھتے دیکھتے فلسطینی نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئی۔ اس کے بنیاد سازوں میں شیخ احمد یاسین، ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسی، حسن یوسف اور محمود الزہار وغیرہ نمایاں نام ہیں۔

حماس تحریک نے 17/ اگست 1988 کو اپنا منشور جاری کیا تھا، اس کی روشنی میں تحریک حماس نے اپنے اہداف میں مسجد اقصی اور دیگر مقدس مقامات کی حفاظت، فلسطین کی مکمل آزادی؛ سمندر سے لے کر دریا تک، ایک آزاد حقیقی خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دار الحکومت قدس شہر (یروشلم) ہو اور فلسطینی عوام کے حقوق کی بازیابی اور یہاں کے تمام مہاجرین جو مختلف وقتوں میں اسرائیلی ظلم و زیادتی کے سبب دیار وطن کے ترک پر مجبور ہوئے، انہیں اسی وطن میں زندگی گزارنے کی سہولت فراہم کرنا اور تمام فلسطینی عوام کی خدمت اور ان کی تعلیمی، سماجی، معاشی ترقی کی کوششوں کو اپنے اہداف میں شامل کیا ہے۔
مذکورہ اہداف کے حصول کے لیے تحریک حماس اصلاً ”کتاب الله اور سنت رسولؐ الله کی پابند ہے۔اس کی روشنی میں وہ اخلاقی، تعمیری، پرامن، جمہوری اور آئینی طریقے اختیار کرتی ہے اور ان تمام باتوں اور طریقوں سے اجتناب کرتی ہے جو اسلام کے عام اصولوں کے خلاف ہوں، یا جن سے طبقاتی کشمکش اور فساد فی الأرض رونما ہوتا ہو۔ اسی طرح حماس دیگر تنظیموں کے برعکس قضیۂ فلسطین کے حل کا جامع نقطۂ نظر رکھتی ہے، جس میں وہ ڈائیلاگ، سماجی، تعلیمی، رفاہی اور سیاسی خدمات کے ساتھ مضبوط عسکری اور منظم مزاحمتی کوششوں کو بھی شامل کرتی ہے، اسی وجہ سے اسے داخلی وخارجی سطح پر شدید نقد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

 

حماس تحریک نے متعدد بار سیاسی انتخابات میں حصہ لیا اور بڑی ڈرامائی کامیابیاں حاصل کیں۔ فلسطین کے سابق صدر یاسر عرفات کے انتقال کے بعد حماس نے مقامی سطح پر ہونے والے انتخاب میں حصہ لیا اور غزہ، نابلس کے علاقوں میں متعدد نشستوں پر کامیابی حاصل کی، لیکن اس کو سب سے بڑی فتح 2006 کے انتخابات میں حاصل ہوئی، جب وہ غزہ پٹی میں حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں آگئی، لیکن امریکہ اور مغربی ممالک نے ان نتائج کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سونپنے سے انکار کردیا۔ چند ماہ بعد حماس اور فتح تحریک کے درمیان سخت جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں حماس نے فتح کے اراکین کو غزہ پٹی سے بے دخل کردیا اور غزہ کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا، لیکن اسرائیلی بندشیں برقرار رہیں، تب بھی غزہ حماس کے زیر انتظام ترقی کا سفر طے کرتا رہا، اسی وجہ سے فلسطینی کمیونٹی کی اکثریت حماس کے طریقۂ کار اور فکر و نظر کو پسند کرتی ہے اور اسے ہی اقتدار میں دیکھنا چاہتی ہے۔ (تفصیل کے لئے رجوع کریں: فلسطین سینٹر فار پالیسی اینڈ سروے ریسرچ PSR کی جانب سے شائع رپورٹ)

حماس کی عسکری ونگ کا نام "عز الدین القسام بریگیڈز” ہے۔ اس کے جنگجو مجاہدین نے 90 کی دہائی سے اسرائیل کے خلاف کئی عملی کاروائیاں انجام دی ہیں اور متعینہ اہداف حاصل کئے ہیں۔ ان حملوں میں اسرائیلی شہری اہداف کے خلاف بڑے پیمانے پر بمباری، چھوٹے ہتھیاروں سے حملے، سڑک کے کنارے نصب دھماکہ خیز مواد، راکٹ حملے اور فوجی جھڑپیں شامل ہیں۔ اسرائیلی منصوبہ کے درمیان حائل ان مزاحمتی کوششوں کو دیکھ کر امریکہ نے 2008 میں حماس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور عالمی سطح پر اس کے خلاف کئی طرح کی پابندیاں عائد کیں، لیکن کئی مسلم اور امریکی کیمپ مخالف ملکوں نے اسے قبول کیا اور ڈپلومیٹک تعلقات قائم کئے۔ ان میں سرفہرست روس، ایران اور ترکی ہے۔

7/ اکتوبر 2023ء کو القسام بریگیڈز نے صیہونی حکومت کے خلاف طوفان الاقصیٰ نامی ایک تاریخی آپریشن انجام دیا، جس نے اسرائیلی حکومت کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ بلاشبہ 75/ سالہ تاریخ میں حکومت اسرائیل کی یہ سب سے بڑی فوجی شکست ہے۔ سات اکتوبر کا یہ غیر متوقع اقدام۔۔ وہ بھی اسرائیل جیسے فوجی اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی قوت سے لیس ملک کے خلاف جس کی پشت پناہی عالمی طاقتیں کر رہی ہوں، بذات خود ایک محیر العقول امر ہے۔ چہ جائیکہ اس کے وہ خسارے اور نقصانات جس کے سلسلے میں جب ہم جنگی ماہرین کے تجزیے سنتے ہیں تو دل یقین سے پکار اٹھتا ہے کہ {كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللّهِ}۔

معاشی اعتبار سے دیکھیں تو اسرائیل کو غزہ میں فوجی کارروائی کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق اسرائیل تقریباً 10 لاکھ ملازمتوں سے محروم ہو گیا اور اس کی معیشت 11 فیصد سکڑ گئی۔ الجزیرہ نے اسرائیلی حکومتی ذرائع کے اندازہ سے اپنی رپورٹ کچھ اس طرح شائع کی:
• +6/ ارب ڈالر (مجموعی بجٹ خسارہ)
• 7.3/ ارب ڈالر (اسرائیلی زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی)
• 1.2/ ارب ڈالر (لیبر مارکیٹ میں کمی)
• 200/ ملین ڈالر (جنگ کے یومیہ خرچ کا تخمینہ)
• 1.3/ ارب ڈالر (ریزرو فوجیوں کی تنخواہیں)
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل اکیلے یہ جنگ لڑ رہا ہوتا تو شاید اب تک اس کی معیشت تباہ ہو چکی ہوتی، لیکن ماضی کی طرح اب بھی امریکا اور یورپ اس کی بھرپور مدد کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جو جانی نقصانات ہوئے ہیں اس نے اسرائیلی لوگوں کو نفسیاتی مرض میں مبتلا کر دیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان کے مطابق 400/ بڑے فوجی، جنرل اور پولس فورس مارے گئے۔ 1200/ سے زائد لوگ قتل کئے گئے۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق 1200/ سے زائد فوجی جنگ کے ابتدائی ایام سے اب تک زخمی ہوچکے ہیں۔ مزید 400/ فوجی بری طرح زخمی ہاسپٹل میں زیر علاج ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 9/ ہزار ہے۔ 300/ کے قریب فوجی اور عام شہری قیدی بنائے گئے ہیں۔ قریب 5/ لاکھ یہودی کیمپوں میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ دوسری جانب عبرانی اخبار دی مارکر نے 3 نومبر کو اطلاع دی ہے کہ 7/ اکتوبر کے آپریشن الاقصیٰ سیلاب کے بعد سے 230,000 سے زائد دوہری شہریت والے یہودی اسرائیل چھوڑ چکے ہیں۔ تباہ ہونے والے ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور بلڈوزروں کی تعداد 335 بتائی جارہی ہے۔ ان سب مالی و جانی خسارے کے بعد اسرائیل کا مزاحمتی لیڈران کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا مظاہرہ تب ہوا، جب اسرائیلی حکومت نے اندرونی طور پر قیدیوں کی رہائی اور وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے استعفی کے شدید مطالبے کو دیکھتے ہوئے حماس کی متعینہ شرطوں پر یرغمالیوں کی رہائی اور 4/ روزہ جنگ بندی کا معاہدہ کیا، جس میں پھر دو دن کا اضافہ کر دیا گیا اور اس کے مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ امریکہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے اس وقتی جنگ بندی پر کہا کہ حماس نے اسرائیل کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ وہیں اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی "ایتمار بن غفیر” نے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے اس سمجھوتے کو اسرائیل کی ایک تاریخی غلطی قرار دی اور کہا کہ : "حماس اسرائیل سے جو کچھ چاہتا تھا، وہ سب کچھ اس نے حاصل کرلیا اور اسرائیل نے اس کے احکامات کے سامنے گردن جھکا دی”۔

 

حالیہ ایام کی جنگوں میں یہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا کہ ایک عسکری قوت اور مزاحمت نے اپنی مقامی فیکٹریوں میں بنے راکٹ، مشین گن، میزائل اور اینٹی ٹینک میزائل کے ذریعے بھاری لاگت سے تیار کیے گئے جنگی اسلحوں کو تہس نہس کر دیا ہو۔ حماسی راکٹوں کی کثرت نے اسرائیلی فخر "آئرن ڈوم سسٹم” کی ناکامی کو بالکل عیاں کردیا۔ ال یاسین 105 راکٹ "صدی کے ٹینک” مرکاوا کو تباہ کرنے میں کامیاب ہوا۔ دشکا، کورنیٹ اور زواری میزائل نے اسرائیلی ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کرنے میں اس طرح کامیابیاں حاصل کیں کہ ماہرین حیرت زدہ ہیں۔ اس کے علاوہ اس جنگ کے نتیجے میں پوری دنیا میں جو انقلابی لہر پیدا ہوئی اور ہر انصاف پسند شخص، ادارے اور تنظیموں نے ترجیحی طور پر جس طرح اسے اپنا موضوع بنایا اور حکام سے جس شدت کے ساتھ یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ حق والوں کو حق دیا جائے۔ یہ بھی اس کشمکش کی نمایاں کامیابی ہے، جس نے کئی ملکوں اور کمپنیوں کو اسرائیلی تعلقات اور ہونے والے معاہدات پر از سر نو غور کرنے پر مجبور کیا۔ اور مسئلۂ فلسطین کو ایک زندہ و تابندہ موضوع بنادیا۔ ایک برطانوی پروفیسر کی رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگ کے تناظر میں 95٪ فیصد احتجاجات دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں کئے گئے، جب کہ صرف 5٪ فیصد احتجاجات اسرائیل اور اس کی ظلم و سفاکی کے حق میں ہوئے۔ امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین مارک وارنر کے بقول: ” اسرائیل دنیا بھر کے لوگوں کی ہمدردی کھو چکا”.

انھیں خساروں اور عالمی منظرنامے پر اپنی ذلت و خواری کو دیکھ کر اسرائیل بوکھلا گیا اور کھسیانی بلی کھمبا نوچے کا مظاہرہ کرتے ہوئے 141 مربع میل پر محیط 20/ لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل غزہ جیسے چھوٹے شہر میں اب تک 40/ ہزار ٹن دھماکہ خیز مواد گرا چکا ہے، جس کے نتیجے میں 6/ ہزار بچے، 4/ ہزار خواتین، 70/ صحافی سمیت 15/ ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 36 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ غزہ سرکاری میڈیا کے دفتر کے مطابق تقریباً 50/ ہزار گھر مکمل طور پر تباہ 2/ لاکھ چالیس ہزار گھر جزوی طور پر منہدم کردئے گئے۔ جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق 17/ لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، جوکہ غزہ کی 80 فیصد آبادی بنتی ہے۔ وہیں 88/ مساجد، 3/ گرجا گھر، 266/ اسکول، 103/ سرکاری عمارتیں تباہ کردی گئیں۔ مگر ان تمام خساروں اور سب کچھ لٹ جانے سے اہل غزہ کے صبر و استقلال میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی، بلکہ وہ ایمان و عزیمت کا بے مثال مظاہرہ دکھاتے ہوئے دنیا کو یہ بتانے میں کامیاب ہوئے کہ ایک مسلمان اپنے حقوق اور شعائر و مقدسات کی حفاظت کی خاطر سب کچھ قربان کرسکتا ہے، لیکن غلامی کو برداشت نہیں کرسکتا۔

 

الغرض اعداد وشمار کے اتنے بڑے فرق کے باوجود اگر گہرائی سے حالات کا تجزیہ کیا جائے، تو یہ واضح طور پر دکھے گا کہ موجودہ الاقصیٰ آپریشن اپنی جنگی حکمتِ عملی، بھرپور تیاری، مضبوط سفارتکاری، قائدین کی اعلیٰ ہوشمندی اور اپنے موافق رائے عامہ کی ہمواری کی بدولت پوری طرح کامیاب رہا۔ مزاحمت کاروں نے اپنے متعینہ اہداف حاصل کر لئے۔ صرف بزدلانہ امن معاہدات کو ناکام بنانے میں حماس کی کامیابی پر مشہور اسرائیلی مؤرخ اور یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے پروفیسر "دی واشنگٹن پوسٹ” میں لکھتے ہیں: "اگر حماس کے جنگی مقاصد میں واقعی اسرائیل سعودی امن معاہدے کو پٹڑی سے اُتارنا اور نارملائزیشن کے تمام مواقع کو ضائع کرنا ہے تو وہ اس جنگ کو مکمل طور پر جیت رہی ہے اور اسرائیل حماس کی مدد کر رہا ہے، اس لیے کہ نیتن یاہو کی حکومت اپنے واضح سیاسی مقاصد کے بغیر یہ جنگ لڑرہی ہے”. اس کے علاوہ اسرائیلیوں کو اپنی منظم فوج، اعلیٰ سطحی انٹیلیجینس اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی پر جس قدر فخر و غرور تھا اور دنیا نے اسے ان سب میں جس طرح امامت و پیشوائی کا درجہ دے رکھا تھا۔ مزاحمتی قوتوں کے اس پیچیدہ اور مربوط آپریشن نے حقیقت حال سے پردہ اٹھایا اور ان کی سیکورٹی اور دفاعی نظام کی کمزوری کو بے نقاب کیا۔ یہ حملہ جنگی تاریخ میں، فلسطین اور آزادئ مسجد اقصی کی مہم میں ایک "اہم جنگی موڑ” کے طور پر یاد رکھا جاۓ گا۔ عسکری دانشگاہوں میں بحث وتحقیق کا موضوع بنے گا اور ملکوں ملکوں ظالم و جابر حکومتوں کے خلاف سرکردہ مزاحمتی اقدامات کے لئے ہمت و حوصلہ کا سامان بھی فراہم کرے گا۔ ان شاءاللہ!
اگر فلسطینوں پر کوہِ غم ٹُوٹا تو کیا غم ہے
کہ خُونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحَر پیدا

You may also like