عالمی وبا کورونا وائرس،حکومت اور مسلمان-مسعود جاوید

جمنوں کو بھی خوش ہونے کے لئے کوئی معقول وجہ نہیں چاہیے۔کوئی مودی کو گالی دے جمن خوش۔ یہ ایک نفسیاتی مرض ہے کہ آپ جس کو نہیں چاہتے اسے وقتی طور پر کوئی دوسرا بھی پسند نہ کرے تو اسے آپ اپنے لئے حصولیابی سمجھیں۔ پورے ملک میں کورونا وائرس کا قہر برپا ہے حکومت کی جانب سے اس سے لڑنے کے لئے بہت کچھ نہیں کیا گیا ہاں مہیا حفاظتی تدابیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا۔ لیکن اس میں بھی دور اندیشی کی اتنی کمی تھی کہ خاص و عام محسوس کر رہا ہے کہ یہ حکومت کی طرف سے زیادتی تھی کہ مکمل لاک ڈاؤن سے پہلے صرف چار گھنٹے کا وقت دیا گیا جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ کم از کم پانچ سات روز کا وقت دیا جاتا روٹین شیڈیولڈ ٹرین کے علاوہ اضافی اسپیشل ٹرینیں بھی چلائی جاتیں تاکہ اس محدود وقفہ میں جن لوگوں کو جہاں جانا ہے وہ چلے جاتے۔ ایسا نہیں کرنے کی وجہ سے ہی ہندوستان میں تارکین وطن مزدوروں، طلبا اور ملازمین کا نہ صرف انسانی بحران پیدا ہوا بلکہ وبا پھیلنے کے بعد بڑے شہروں سے مزدوروں کا اپنے آبائی وطن لوٹنے کی وجہ سے ان ریاستوں میں کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ اور حلقۂ اثر میں توسیع ہو رہی ہے۔ حالانکہ لاک ڈاؤن سے متاثر تارکین وطن کے لیے رہنے اور کھانے کا مناسب انتظام کرکے ایک ذمہ دار حساس اور غریب دوست حکومت کے لئے یہ ممکن تھا کہ وہ یومیہ مزدوروں کی اتنی بڑی ہجرت کو روک لے اور معیشت پر منڈلاتے کالے بادل کی تاثیر کو کم کر لے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور نتیجتاً بڑے شہروں میں پچھلے تقریباً دو ماہ سے بغیر کام اور بغیر اجرت کے لوگوں کا تحمل جواب دے دیا تو انہوں نے پیدل ہی اپنے گھروں کو لوٹنے کا فیصلہ کیا مگر ایسے سنگین نتائج والے فیصلے پر بھی حکومت نے نہ صرف بے حسی اور بے مروتی کا ثبوت دیا بلکہ حکومت کے بعض ذمہ داروں نے غیر انسانی رویہ دکھایا۔ بلڈرز کے کہنے پر ٹرین کینسل کردیا، سڑکوں پر چلنے پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں اور یہ تاثر دیا کہ یہ آزاد ہندوستان کے آزاد شہری نہیں بندھوا مزدور ہیں جو بحالت مجبوری اپنے گھر واپس جانے کا حق بھی نہیں رکھتے ! ۔ بالفاظ دیگر یہ یو پی، بہار، ، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ کے مزدور بلڈرز اور فیکٹری مالکان کے غلام ہیں۔ لیکن بہر حال جب قوتِ برداشت جواب دے گئی اور صبر کا باندھ ٹوٹا تو یہ بدحال مزدور سر پر گٹھری اٹھائے اپنے بیوی بچوں کو لے کر پیدل ہی چل پڑے، تپتی دھوپ میں بوڑھے جوان عورت بچے حاملہ عورتیں اور شیر خواروں کا بے بسی کی حالت میں دردناک سفر کا منظر گرچہ ایجنڈے کے تحت مین اسٹریم میڈیا نے نہیں دیکھایا مگر این ڈی ٹی وی اور دیگر کئی یو ٹیوب چینلز اور نیوز پورٹل کے ذریعے وائرل تصاویر کو دیکھ کر مدراس ہائی کورٹ کے ججز بھی یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ یہ بہت بڑا انسانی المیہ ہے اور وطن لوٹنے والے مزدوروں کی ان تصاویر کو دیکھ کر آنسو روکنا ممکن نہیں ہے۔
لیکن ان تمام کوتاہیوں اور ڈھکے کھلے غیر انسانی سلوک کے باوجود ملک کی اکثریت کے مزاج میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔یہ صرف مسلمان ہیں جو یہ سوچ کر خوش ہو رہے ہیں کہ مودی، بھاجپا اور آر ایس ایس سے مزدوروں کا موہ بھنگ ہو گیا ہے، ان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے اور یہ کہ آنے والے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں عوام بر سر اقتدار پارٹی کو سبق سکھائے گی۔ جن مزدوروں کے پاؤں میں چھالے پڑ گۓ چپلیں ٹوٹ گئیں ان مزدوروں کو جمن مشورہ دے رہے ہیں کہ ان چپلوں کو آنے والے انتخابات کے وقت کے لئے سنبھال کر رکھنا ! جمن ایسی حماقت کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ جمنوں کی یہ خوش خیالی ہے ۔ اکثریت خاص طور پر بھکتوں سے ایسی توقعات رکھنا محض wishful thinking ہے۔ اور آج کی تاریخ میں پڑھے لکھے اور ناخواندہ سب ایک ہی قسم کے بھکت ہیں مودی جی نے ٹرین اور بس کا انتظام نہیں کیا تو کچھ اچھا ہی سوچ کر ایسا کیا ہوگا !
شاید آپ بھول رہے ہیں کہ موجودہ دور حکومت میں ایسے کتنے فیصلے کیے گئے جو بظاہر عوام دوست نہیں تھے لیکن کیا اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی کی؟ لال سلام والے سڑک پر نکلے، چکا جام کیا؟ اس سے کیا سمجھا سکتا ہے یہی نا کہ اکثریت ان فیصلوں سے خوش ہے۔ اگر یہ نوٹ بندی کسی اور حکومت کے دور میں ہوتی تو کتنے بینک اور اے ٹی ایم جلا دیے جاتے! اس سے یہ معنی اخذ کرنا مشکل نہیں ہے کہ یہ نیا ہندوستان ہے جس کی روپ ریکھا جمہوریت نہیں اکثریت کی منشا کے مطابق ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)