عالمی ادارےاسرائیل کے خلاف سخت کارروائی کریں، علما کونسل کے سکریٹری جنرل محمود دریابادی کا اقوام متحدہ اور اوآئی سی کو خط

ممبئی: آل انڈیا علما کونسل کی جانب سے کونسل کے سکریٹری جنرل مولانا محمود احمد خاں دریابادی نے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انتونیو گتروس اور اسلامی ممالک کی متحدہ تنظیم آرگنازیشن آف اسلامک کوآپریشن ( او آئی سی ) کے جنرل سکریٹری یوسف بن احمد العثیمن کو خط لکھ کر اسرائیل کی جانب سے فلسطین میں ہونے والی وحشیانہ کارروائی کی مذمت کی ہے اور تمام مسلمانوں کی جانب سے شدید احتجاج درج کرایا ہے ـ

مولانا دریابادی نے اسرائیل کی جانب سے فلسطین میں ہونے والی غیر انسانی بمباری، خواتین اور معصوم بچوں پر ہونے والے شدید مظالم کو جلد از جلد روک پانے میں عالمی اداروں خصوصا اقوام متحدہ اور اس کی سیکورٹی کونسل نیز او آئی سی کی اور عرب لیگ کی ناکامی اور اسرائیل کے خلاف کوئی موثر اقدام نہ کئے جانے پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے ـ

اپنے خط میں مولانا نے کہا کہ یہودیوں کو جب جرمنی سے بے دخل کیا گیا تھا تب انھیں عارضی طور پر اہل فلسطین نے پناہ دی تھی آگے چل کر یہی مہاجرین بعض عالمی طاقتوں کی شہ پر اصل باشندوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے لگے، اُن کی جائدادوں پر جابرانا قبضہ کیا گیا اور اب ان کی جانیں بھی خطرے میں ہیں ـ

مولانا دریابادی نے یہ بھی کہا ہے کہ فلسطینی مظلوموں کے خلاف اسرائیلی تشدد کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے، پچھلے ستر سال سے اس طرح کی وحشیانہ کارروائی کرتارہا ہے، افسوس کی بات یہ ہے مسلم ممالک اور دیگر عالمی طاقتیں اس پر خاموش رہتی ہیں یاصرف زبانی مذمت کو کافی سمجھتی رہی ہیں ـ تشدد کا موجودہ دور مسجد اقصی کی بے حرمتی اور وہاں عبادت کررہے نمازیوں پر اسرائیلی افواج کی بے تحاشا فائرنگ کے اور اتشزنی کے بعد شروع ہوا ہے ـ ساری دنیا جانتی ہے کہ کہ مسجد اقصی ہم مسلمانوں کا قبلہ اول ہے، دنیا کا ہر مسلمان بیت المقدس کی دل سے عزت کرتا ہے اور اس کی ادنی سی بے حرمتی بھی برداشت نہیں کرسکتا ـ اسرائیلی افواج کی جانب سے کی جانے والی اس بے حرمتی پر وہاں کے مقامی لوگوں نے جب احتجاج کیا ہے تو ان پر بھی بے تحاشا فائرنگ کی گئی، فلسطین اور غازہ کے لوگوں کے مزید احتجاج پر جدید ہتھیاروں سے لیس فوج نے ظلم وستم کے سارے سابقہ ریکارڈ توڑ دئے ، غازہ پٹی میں رہائشی مکانات، اسپتال اور اسکولوں وغیرہ پر زبردست کارپیٹ بمباری کی گئی، اسرائیلی افواج کے اس ظالمانہ اور وحشیانہ قدم سے تقریبا دو ارب مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، ان کے اندر شدید غم اور غصہ ہے ـ

بعد از خرابی بسیار جب سینکڑوں بے گناہ فلسیطینی باشندےجن میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل ہیں شہید ہوگئے، کڑوڑوں ڈالر کی ملکیت کا نقصان ہوگیا تب جاکر جنگ بندی ہوپائی ہے ـ تاہم جس طرح فلسطین اور غازہ کے نہتےاور بے سروسامان مجاہدین نے صیہونیوں کی ننگی جارحیت کا مقابلہ کیا ہے اس سے اسرائیل کے سوپر پاور ہونے کا غرور پاش پاش ہوگیا ہے ـ مولانا دریابادی نے اپنے دوسرے ایک بیان میں غازہ اور فلسطین کے بہادر مجاہدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ مجاہدین کی اسی بہادری اور قربانی کے جذبے نے اسرائیل جیسے وحشی کو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا ہے ـ

مولانا نے امن عالم کی حفاظت کا دعوی کرنے والے تمام عالمی اداروں اقوام متحدہ، سیکورٹی کونسل، عرب لیگ اور او آئی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس بات کے کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ اسرائیل اس قسم کی جارحانہ اقدام سے باز رہے ، اور عالمی طاقتیں خصوصا مسلم ممالک امن عالم کو ہمیشیہ خطرے میں ڈالنے والے ملک اسرائیل کے خلاف زبانی جمع خرچ کرکے ٹال دینے کے بجائے موثر کارروائی کریں ـ