النور پبلک اسکول،سنبھل میں نئے تعلیمی سیشن کا آغاز

سنبھل:دارالعلوم دیوبند، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سپوتوں کی سرپرستی میں قائم النور پبلک اسکول، سنبھل میں یوپی سرکار کی جانب سے اجازت کا مکمل فائدہ اٹھاتے ہوئے کورونا وبائی مرض کے اصول وضوابط کی پابندی کرتے ہوئے یکم مارچ سے 10 مارچ تک سالانہ امتحان کا انعقاد کیا گیا۔ 11 مارچ سے 13 مارچ تک رپورٹ کارڈ بھی تقسیم کردئے گئے اور ان شاء اللہ 15 مارچ بروز پیر سے نیا تعلیمی سال کا آغاز کیا جارہا ہے۔ گزشتہ سال مارچ سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیگر اسکولوں کی طرح النور پبلک اسکول بھی بند رہا، مگر نئی ٹکنالوجی سے استفادہ کرکے اسکول میں آن لائن تعلیم کا معقول بندوبست کیا گیا، جس سے تقریباً 80 فیصد طلبہ وطالبات نے استفادہ کیا۔ پورے سال تمام امتحانات کے انعقاد کے ساتھ بچوں کی کاپیاں چیک کرنے اور وقتاً فوقتاً بچوں کے تعلیمی احوال سے آگاہی کے لیے اسکول کا بچوں سے برابر رابطہ رہا۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے عمومی طور پر لوگوں کے اقتصادی حالات بہتر نہیں رہے۔ نیز النور پبلک اسکول کا قیام ایک مشن کے تحت ہوا ہے کہ غریب اور کمزور بچے بھی انگریزی میڈیم اسکولوں میں تعلیم حاصل کرکے اپنا مستقبل روشن کرنے کی جد وجہد میں شامل ہوں۔ اس لیے اسکول کی جانب سے 12 مہینوں میں سے صرف پانچ ماہ کی فیس وصول کی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امسال اسکول کو بینر یا پوسٹر لگوانے کی ضرورت نہ پڑی، اور نہ ہی کوئی اعلان ہوا۔ مگر جنوری سے ہی بچوں کا داخلہ کرانے کے لیے ایسی دوڑ شروع ہوئی کہ اسکول میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد سے دو گنا بچوں کو اسکول میں داخلہ نہ مل سکا کیونکہ اسکول کے پاس جگہ محدود ہے اور ایک سیکشن میں ۵۳ سے زیادہ بچے رکھنے کا ارادہ نہیں ہے۔ اسکول کی دیگر خوبیوں کے ساتھ دو باتیں خاص اہم ہیں۔ ایک عمدہ تعلیم کے ساتھ بچوں کی تربیت کا خاص انتظام اور دوسرے نرسری کلاس سے ہی اردو پڑھانے کا اہتمام۔ اس موقع پر النور پبلک اسکول کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی نے کہا کہ مدارس ومکاتب کی بقا کی کوشش کے ساتھ ضرورت ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایسے اسکولوں کا قیام کیا جائے جن میں تعلیم کے ساتھ بچوں کی دینی تربیت کا خاص اہتمام کیا جائے۔ نجیب قاسمی نے اسکول کے پرنسپل محمد حیات وارثی اور اسٹاف ممبر: محمد سہیم، محمد سمیر، انجم آرا، فائزہ رحمان، روحینہ پروین، دانیا عرفان، سامیہ وسیم، عزرا خانم، عزرا بی اور عافیہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سالانہ امتحان کے انعقاد کے ساتھ وقت سے پہلے ہی نئے تعلیمی سال کے آغاز کے لیے اپنی خدمات پیش فرمائیں۔