’’الجماعہ‘‘ اور تہتر فرقوں والی احادیث کے متون کا تجزیہ ـ ابوفہد

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ’’ اہل کتاب بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے اور مسلمان تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائیں گے، ان میں سے ایک کے سوا سب جہنمی ہوں گے اور وہ ایک فرقہ وہ ہوگا جس پر ’’الجماعۃ‘‘ کا اطلاق ہو گا۔ (اس حدیث کو کئی صحابہ نے کئی طرق کے ساتھ روایت کیا ہے۔)

یہ حدیث شریف جس پیرائے میں کلام کررہی ہے، اس میں زور اس بات پر ہے کہ ہر شخص اور ہر گروہ کو اپنی خیر منانی چاہیے۔ہر گروہ اور ہرشخص اپنے بارے میں سوچے کہ اس پر ’’الجماعۃ ‘ ‘ یا الجماعہ سے انسلاک کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں اور اگر ہوتا ہے تو کس حد تک ہوتا ہے۔

مگر اس کے برخلاف ہو یہ رہا ہے کہ ہر شخص اور ہر گروہ دوسرے شخص اور دوسرے گروہ کے بارے میں سوچ رہا ہے کہ کن کن گروہوں ، تنظیموں اور جماعتوں پر اور کن کن افراد پر’’الجماعۃ‘‘کا اطلاق ہوسکتا ہے یا ہورہا ہے ۔اور کن کن پر نہیں ہورہا ہے۔ ہماری مرکزی سوچ یہی بنی ہوئی ہے۔جبکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا رویہ اور انداز یہ تھا کہ ان میں سے ہرکوئی اپنی خیر مناتا تھا اور اپنے ہی بارے میں سوچتا تھا۔ یہاں تک کہ ان میں سے کئی ایک کو بعض دفعہ اپنے تعلق سے نفاق کا گمان بھی گزر جاتا تھا ۔

اس حدیث شریف کے الفاظ ( وھی الجماعۃ) چیخ رہے ہیں کہ تم اپنی خیر منانا، اپنے بارے میں ہمیشہ غورکرتے رہنا کہ تم’الجماعۃ‘سے ہو یا نہیں، تم رسول اور اصحاب رسولﷺ کے طریقے پر ہو یا نہیں۔؟

یہ حدیث بنیادی طورپرافتراق کو نہیں بتاتی جیسا کہ عام طورپر سمجھا گیاہے، بلکہ افتراق سے بچنے کی دعوت دیتی نظر آتی ہے۔اور نہ صرف دعوت دیتی نظر آتی ہے بلکہ ایک کارگر نسخہ بھی بتاتی نظر آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر آدمی ’الجماعۃ‘ سے منسلک رہنے کی کوشش کرے۔اور ہر گروہ یہ دیکھے کہ اس کے اندر’الجماعۃ‘ کی صفات و خصوصیات پائی جاتی ہیں یا نہیں ،اگر پائی جاتی ہیں تو کس حد تک پائی جاتی ہیں۔ اور نہیں پائی جاتیں تو اس کے تدارک کی کیا تدابیر ہوسکتی ہیں۔؟

کیسی تعجب خیز بات ہے کہ ہم مسلمانوں نے اس حدیث کو ایک دوسرے کی نکیر اور تکفیر کی بنیاد بنالیا ہے۔ حالانکہ اس میں اسی طرح کی خبر ہے جس طرح کی خبر رسول اللہ ؐ نے خلافت کے تعلق سے دی ہے کہ تیس سال خلافت رہے گی اور پھر اس کے بعد ملوکیت ہوگی۔ اور جس طرح فتنوں کے تعلق سے خبر دی ہے اور پھر ان سے بچنے کی تدابیر بھی بتائی ہیں۔

اس نوعیت کی بیشتر احادیث میں قانون فطرت اور سنۃ اللہ کے حوالے سے کسی نہ کسی ’’ہونی‘‘ کا ذکر ہے۔ اور اس ’’ہونی‘‘ سے بچنے کی تلقین ہے۔ فتنے ہوں گے،مگر فتنوں سے خود کو بچانا ہوگا ،جس طرح موت ایک ہونی شئے ہے ۔ باوجود ا س کے کہ یہ سنۃ اللہ ہے مگر کوئی بھی موت کو اپنے اوپر طاری کرنا نہیں چاہے گا۔ اور نہ ہی ایسا کرنا مطلوب ہے، بلکہ یہ گناہ ہے کہ کوئی مسلمان اپنے آپ پر زبردستی کی موت طاری کرنے کی کوشش کرے۔اسے تو اسلام میں خودکشی کہا گیاہے اور خود کشی حرام ہے۔ اسی طرح تہتر فرقوں والا قول رسولﷺ بھی ایک امر واقعہ یا ایک ’ہونی‘ کو بتانے اور اس سے خبردار کرنے کے لیے ہے۔ اس حدیث میں پہلےایک نابکار چیز کی خبر دی گئی ہے کہ مسلمان بھی دیگر اقوام کی طرح ملتوں اور گروہوں میں بٹ جائیں گے۔اورپھر اس کا علاج بتایا ہے کہ انتشار کے زمانے میں ’الجماعۃ ‘سے منسلک رہنا ہے۔

اب یہ غور وفکر کا موضوع ہے کہ ’الجماعۃ ‘ کیا ہے، اس کی صفات اور خصوصیات کیا ہیں۔ اور یہ سب بھی قرآن وسنت کی روشنی میں بڑی آسانی کے ساتھ طے ہوجائے گا۔ پھر اس پر غور وفکر کرنا ہوگا کہ ’الجماعۃ‘ سے منسلک رہنے کی کیا سبیل ہوگی اور کیا تدابیر اختیار کرنی پڑیں گی، کس طرح کی قربانیاں دینی ہوں گی اور سب سے اہم چیز یہ ہے کہ وہ افراد اور گروہ جو ’الجماعۃ‘ کے پلیٹ فارم سے دور جاپڑے ہوں، ان کو الجماعۃ کے ساتھ پھر سے منسلک کرنے کے لیے کس قسم کی مصلحتیں اور تدابیر اختیار کرنی ہوں گی ۔ یقینا افہام وتفہیم کی کارگر تدابیر کو ہی آگے بڑھانا ہوگا۔لیکن اگر وہ کسی بھی طرح مان کر نہیں دیتے تو ان کے ساتھ عصری مسائل اور خاص کر مسلم امت کے خلاف موجودہ وقت کی عالمی ومقامی سیاست کے معاندانہ برتاؤ اور رویوں کے دور عروج میں کس طرح کارویہ رکھنا مناسب اور بہتر ہوگا۔

اس حدیث شریف کی رو سے امت مسلمہ کے ہر فرد اور مذہبی جماعت کا کام یہ ہے کہ وہ اس ہونی سے خود کو بچائے رکھے۔ ہرمسلمان کی اور ہر جماعت کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اس کی اپنی ذات سے، اس کے اپنے استدلال سے، اس کے اپنے اجتہاد سے اور اس کے اپنے فکر ونظر اور عمل سے ، کوئی بھی ایسی بات پیدا نہ ہو جو خود اس کواور امت کے ایک فرد کو بھی ’الجماعۃ‘ سے الگ کرنے کا بالواسطہ یا بلا واسطہ ذریعہ بننے والی ہو۔اس حدیث شریف میں کہیں سے کہیں تک بھی کاٹنے کی بات نہیں ہے بلکہ سرتاسر جوڑنے کی بات ہے، کہ جو بھی جماعت کے ساتھ رہے گا وہ کامیاب رہے گا۔

’’الجماعۃ ‘‘کا لفظ ایک اور حدیث میں بھی آیا ہے ۔ فرمان نبوی ﷺ ہے:

” لَا یَجْمَعُ اللّٰہُ اُمَّتِیْ عَلٰی ضَلَالَة اَبَداً،وَیَدُاللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَة ”

(المستدرک الحاکم ج1 ص116ح۳۹۹ وسندہ صحیح)

’’اللہ میری اُمت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور جماعت کے اوپراللہ کا ہاتھ ہے ‘‘

امت کو گمراہی پر جمع نہ کرنے کا مطلب یہی ہے کہ امتِ مسلمہ کا سواد اعظم گمراہی پر جمع نہیں ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں حق سواد اعظم کی طرف ہوگا،جزوی طورپر کچھ چیزیں ، کچھ اعمال سواد اعظم میں غلط رواج پاسکتے ہیں مگرواضح طورپر کفر وشرک پر مبنی رسومات سواد اعظم میں رواج نہیں پاسکتیں ۔

حدیث کے دوسرے جزو ’’ید اللہ علی الجماعۃ‘‘ سے مراد یہی ہے کہ اللہ کی مدد اتحاد واتفاق اور تنظیم وجماعت کے ساتھ ہے ۔ بکھرے ہوئے تسبیح کے دانوں کی طرح منشر ملت یا قوم اللہ کی مدد، تائید اور رحمت سے دور ہوگی ۔بے شک الگ تھلگ پڑے ہوئے، اجتماعیت سے کٹے ہوئے اور منتشروبکھرے پڑے افراد کے ساتھ اللہ کی تائید غیبی نہیں ہے، چاہے ان کی تعداد زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ بے شک اللہ کی تائید غیبی اور غیر طبعی طریقوں سے بھی آتی ہے، خاص کر انبیاء کرام کے پاس اللہ کی مدد غیبی طریقوں سے یعنی خرق عادت طریقوں سے بھی آتی رہی ہے۔ قرآن میں ہے: فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَ لکِنَّ اللهَ قَتَلَهُمْ وَ ما رَمَیْتَ إِذْ رَمَیْتَ وَ لکِنَّ اللهَ رَمى وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِینَ مِنْهُ بَلاءً حَسَناً إِنَّ اللهَ سَمِیعٌ عَلِیم(الانفال:17) ۔ لیکن اپنے بندوں کی مدد کرنے کا اللہ کا یہ راستہ خاص ہے اور شاذ ہے۔ اس کے برعکس اللہ کی مدد عمومی طورپر فطری راستوں سے آتی ہے۔بندۂ مؤمن محنت کرتا ہے تو اللہ اس کے عمل میں برکت ڈال دیتا ہے، وہ جد وجہد کرتا ہے، جہاد کرتا ہے اور اجتہاد کرتا ہے تو وہ بامراد ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے عمل سے خلیق کثیر کو نفع پہنچاتا ہے۔وہ کھانا کھاتا ہے تو اللہ اس کھانے سے اس کے اندر توانائی کا پیدا کردیتا ہے۔ وہ بیج بوتا ہے اور اللہ اسے ہرا بھرا درخت اور لہلہاتی فصل بنادیتا ہے، وہ بولتا ہے اور اللہ اس کی زبان میں قوتِ تاثیر رکھ دیتا ہے۔ فطری اور طبعی اصول وقوانین یہی بتاتے ہیں کہ جو کام اجتماعیت کے ساتھ کیا جاتا ہے، آپس کے صلاح ومشورے کے ساتھ کیا جاتا ہے، تو وہ کام تیر بہ ھدف ثابت ہوا ہے، رکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں ، نقص زائل ہوجاتا ہےاور منزل قریب آجاتی ہے، جبکہ انفرا دی طورپر اگرکوئی کام کیا جاتا ہے تو اس میں خامیاں رہ جاتی ہیں، اس میں جامعیت نہیں آپاتی اور کئی بار وہ تشنہ وناکارہ رہ جاتا ہے۔یہی مطلب ہے ’’ید اللہ علی الجماعۃ‘‘ کا ،نہ کہ یہ ،کہ اللہ فرد کی مدد نہیں کرے گا بلکہ صرف جماعت کی مدد کرے گا۔

الجماعۃ سے مراد جمہور امت ہیں ۔اور ا س کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس طرف ایسے مسلمانوں کی اکثریت ہو جن پر حقیقی مسلمان ہونے کی شہادتیں پوری ہوتی ہوں جیسے نماز کا قیام وغیرہ اور وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کی پیروی کرتے ہوں تو ہر اس شخص کو جو خود کو مسلمان کہتا ہوواجب ہے کہ وہ جمہور امت سے منسلک رہنے کی پوری کوشش کرے۔ اور کبھی بھی جمہورامت سے الگ نہ جائے، بھلے ہی اس کا علم اور اس کا اجتہاد اسے کچھ بھی بتائے اور کچھ بھی سکھائے۔اگر اس کی رائے الگ تھلگ بن رہی ہے اور اس کا نظریہ ورجحان منفرد بن رہاہے اورپھر وہ اس نوعیت کا بھی ہے کہ اس سے اجتماعیت پارہ پارہ ہوسکتی ہو اور امت میں انتشار پھیل سکتاہو تو اس کے لیے زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ اپنی رائے سے رجوع کرلے۔ اگر رجوع نہ بھی کرے تو کم از کم اتنا تو ضرور کرے کہ بیان کرنے کی حد تک اپنی رائے اور خیال کو بیان کرے اور پھرخاموشی کی چادر اوڑھ لے۔

ہمارے یہاں یہ بھی ایک غلط روش چل پڑی ہے کہ کسی کے تفردات کی بنیاد پر اسے جمہور امت سے الگ سمجھا جائے۔ یہاں ہر کوئی دوسروں کو جمہورت امت سے الگ کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ ذراساکسی کااجتہاد اور عمل اپنے مسلک کے خلاف دیکھا اسے جمہور امت سے نکال پھینکا۔اگر جمہور امت میں کچھ خرابیاں ہوں تو انہیں درست کرنے کی فکر ضرور ہونی چاہیےمگر ان برائیوں اور خرابیوں کو بنیاد بناکر جمہور امت سے الگ تھلگ نہ جاپڑیں اور اپنی الگ سے کوئی جماعت یا جمعیت نہ بنائیں، بنائیں بھی تو وہ بہتر متبادل کے طورپر ہوں اور سپورٹ کرنے والی ہوں، نہ کہ الگ تھلگ پڑ جانے والی۔

یہی وہ ’’الجماعۃ‘‘ یعنی جمہور امت ہے جس کے ساتھ اللہ کی مدد کا وعدہ ہے۔ اور جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی زبانی یہ شہادت دی گئی ہے کہ وہ کبھی بھی برائی پر جمع نہیں ہوسکتی۔ یعنی یہ تو ممکن ہے کہ اس آخری امت کے کچھ افراد صراط مستقیم سے بہک جائیں ، ان کے عقائد میں فساد پیدا ہوجائے یا پھر ان کے نظریات بدل جائیں اور وہ صراط مستقیم سے دور جا پڑیں۔ مگر ایسا نہیں ہوسکتا کہ پوری کی پوری امت گمراہیوں کے عمیق غار میں جا گرےجیسا کہ پہلی امتوں کے ساتھ ہوا کہ ان کے اکثر افراد نے وقت کے ساتھ اپنے پیغمبر کی تعلیمات کو بھلادیا اور کفر وشرک میں مبتلا ہوگئے۔

اس حدیث کی رو سے یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہر زمانے میں تہتر فرقے موجود رہیں۔فرقے بنتے، بگرتے اور مٹتے مٹاتے بھی رہتے ہیں۔ تو بہت ممکن ہے کہ امت کی پوری زندگی میں کثیر تعداد میں فرقے پیدا ہونے کی طرف اشارہ ہو،ہوسکتا ہے کوئی زمانہ ایسا بھی ہو گزرے جس میں فرقے بہت کم ہوں اور پھر دوسرے کسی وقت میں بہت زیادہ فرقوں کا ہونا بھی ممکن ہے۔جن میں سے کچھ کم مدت کے لیے اور کچھ زیادہ مدت کے لیے بھی ہوسکتے ہیں۔ قرآن واحادیث کے جو مصداقات اور تطبیقات قطعی نہیں ہیں انہیں قطعی بناکر پیش کرنا بھی بعض اعتبارات سے غلط ہے۔ اگر حدیث میں کوئی بات عمومی انداز کی ہے تو اسے عموم پر ہی رکھنا بہتر ہے، اگر حدیث شریف میں حضور ﷺ کے بعد کے زمانے میں ظہور پذیر ہونے والے کسی واقعہ، حادثے یا کسی نوعیت کی فتح وہزیمت کا ذکر ہے اور اس کی تعیین کرپانا ممکن نہیں ہےتو اسے بنا کسی تعیین کے بیان کرنا ہی بہتر ہے۔ یہ تو غلط ہوجائے گا کہ ہمارے زمانے میں ظہور پذیر ہونے والے کسی وقوعے کے متعلق ہم اپنی صوابدید پر کہیں کہ فلاں قول رسول ﷺ کا مصداق یہی وقوعہ ہے اور فلاں حدیث میں اسی کا تذکرہ ہے اور فی الواقع ایسا نہ ہو۔

اس لیے فرقہ ناجیہ وغیرناجیہ کی پہچان کرنااور پھر حکم لگانادرست نہیں، کیونکہ کسی فرد یا جماعت کے پاس اس کی اتھاریٹی نہیں ہے۔ جس طرح کوئی شخص خوداپنے تعلق سے جنتی ہونے کا اعلان نہیں کرسکتا اور نہ ہی کوئی جماعت اپنے حوالے سے ایسا کوئی حتمی اعلان کرسکتی ہے، اسی طرح وہ کسی دوسرے کے بارے میں بھی جہنمی ہونے کا اعلان نہیں کرسکتا ۔الایہ کہ کوئی شخص یا جماعت کفر بواح کو اختیار کرلے۔البتہ برے اعمال کی نفی اور ان پر نکیر ضرور کی جائے گی۔اگر مسلمانوں میں یہ سوچ پیدا ہوجائے کہ وہ دوسروں کے بجائے اپنے بارے میں سوچنے لگیں تو بہت جلد ایسا ہو گا کہ ساری کی ساری ملت ایک ہی طرح کی سوچ کی حامل بن جائے گی۔ اور ان کے اند ربھی صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین والی شان پیدا ہوجائے گی۔

یہ شان پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر مسلمان اپنے لئےعزیمت اور فضیلت تلاش کرے اور دوسرے کے لیے رخصت اور اجازت رکھے ۔ دوسروں کے لیے عذر تلاش کرے، تاویل کرے اورانہیں رخصت دے اور اپنے لیے عزیمت رکھے، حیلے بہانے، قیل وقال اور بے جا تاویلات سےگزیز کرے۔اس کا ایک بڑ انتیجہ یہ بھی نکلے گا کہ اگر ہر مسلمان اسی سوچ کو اپنا لے گا تو ہر مسلمان عزیمت پر آجائے گا۔ ان شاء اللہ

اس حوالے سے مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی ایک مختصر تحریر بڑی چشم کشا ہے، مولانا ؒ نے اسے اپنے زندگی بھر کے مطالعہ کا نچوڑ بتایا ہے۔ہم اسی پر اپنے مضمون کا اختتام کرتے ہیں۔

’’تیسری بات جو بہت تجربہ کی ہے وہ یہ ہے کہ میں نے بھی کتابیں پڑھی ہیں،اسلام کے مذاہبِ اربعہ اور ان سے باہر نکل کر تقابلی مطالعہ کیا ہے، شاید کم ہی لوگوں نے اس طرح کا مطالعہ کیا ہو۔ان تمام کے مطالعے کے نچوڑ میں ایک گُر کی بات بتاتا ہوں کہ جمہور اہلِ سنت کے مسلک سے کبھی نہ ہٹیے گا۔اس کو لکھ لیجیے، چاہے آپ کا دماغ آپ کو کچھ بھی بتائے ، آپ کی ذہنیت آپ کو کہیں بھی لے جائے ،کیسی ہی قوی دلیل پائیں جمہور کے مسلک سے نہ ہٹیے۔اللہ تعالی کی جو تائید اس کے ساتھ رہی ہے،جس کے شواہد وقرائن ساری تاریخ میں موجود ہیں۔چونکہ اللہ تعالی کو اس دین کو باقی رکھنا تھا اور باقی رہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی اصل حالت پر قائم رہے، ورنہ بدھ مذہب کیا باقی ہے، عیسائیت کیا باقی ہے! عیسائیت کے بارے میں قرآن کا ’ولاالضالین ‘ کہنا ایک معجزہ ہی ہے،یعنی وہ پٹری سے بالکل ہٹ چکی تھی، اور اللہ تعالی نے چونکہ اس دین اسلام کے بارے میں فرما دیا ہے’إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ‘ اور اس کے ساتھ جو تائید ہے، جو قوی دلائل ہیں، جو سلامتِ فکر اور سلامتِ قلب ہے،اس کے ساتھ جو ذہین ترین انسانوں کی محنتیں اور غور وخوض کے نتائج ہیں اور ان کا جو اخلاص ہے اور ذہن سوزی ہے، وہ کسی مذہب کو حاصل نہیں ہے۔یہ وہ بات ہے جو ہمارے اور آپ کے استاد مولانا سید سلیمان ندویؒ نے اپنے بعض شاگردوں سے کہی، جیسا کہ مولانا اویس صاحب نقل کرتے تھے اورسید صاحب ؒ سے ان کے استاد مولانا شبلیؒ نے کہی تھی۔بعض لوگ چمک دمک والی تحریر پڑھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔’ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ ‘ (بعض لوگوں کی باتیں تم کو دنیا میں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، حالانکہ اللہ ان کے دل کے حال سے آگاہ ہے۔)، اور شہیدوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہیں علمائے سلف کا مذاق اڑاتے ہیں، کہیں مفسرین ان کے تیر کا نشانہ بنتے ہیں ،لہذا مسلک جمہور سے اپنے کو وابستہ رکھیے، اس کا بڑا فائدہ ہوگا، اللہ کی خاص عنایت ہوگی، اس کی نصرت وبرکت ہوگی اور حسنِ خاتمہ بھی ہوگا۔ ’’(خطباتِ علی میاں، ج1، ص 348- 349)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*