اکثریتی فرقہ پرستی کے مقابلے میں اقلیتی فرقہ پرستی قابلِ قبول کیسے ہو سکتی ہے؟ ـ سلیم صدیقی

جب آپ اپنے آپ کو ابوالکلام آزاد کا شیدائی بتاتے ہیں، تو پھر آپ ہیڈگیوار ،گولوالکر اور ساورکر کے جیسا فرقہ پرستی کا راستہ کیوں اپنانے لگے ہیں ؟
اے آئی ایم آئی ایم کی جیت سے مجھے بھی خوشی ہے ، مگر ان کے پرجوش حامیوں کی حرکتوں سے پریشانی ہے، جس طرح بی جے پی آئی ٹی سیل مسلمانوں کے خلاف افواہیں پھیلاتی ہے ،اسی طرح مجلس کے کارکنان ہندوؤں کے خلاف افواہیں پھیلاتے ہیں ۔
بی جے پی آئی ٹی سیل اپنی ماں آر ایس ایس کی بتائی سکھائی تعلیمات پر چل کر کانگریس کو مسلم پرست پارٹی بتاکر ،اس کے خلاف افواہیں پھیلا کر سیدھے سادے ہندؤوں کو ورغلا کر کمیونل بنانے میں بڑی حدتک کامیاب ہوگئی ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ جانے انجانے میں ہم بھی اسی کے طرز عمل پر چل کر کمیونل ہورہے ہیں / بن رہے ہیں ۔
بہت سے دانشوروں کے ساتھ مجھ کم فہم کا بھی یہی ماننا ہے کہ جب تک کانگریس مضبوط ہے تب تک ہندوستانی جمہوریت سلامت رہے گی ، جب کانگریس کمزور ہوجائے گی تو ہندوستانی جمہوریت بھی کمزور ہوجائے گی ، ہندوستانی جمہوریت کو کمزور کرنے کے لئے ہی اس کے خلاف شروع دن سے آر ایس ایس اور اس کے کارکنان سازشی جال بچھاتے رہے، بالآخر آج کسی حدتک اس میں انھیں کامیابی بھی مل ہی گئی ہے ۔
جب آپ خود کو کمیونل نہیں کہلوانا چاہتے ہیں تو سیکولرزم کو گالیاں کیوں دیتے ہیں؟ اور یہ کون سی عقل مندی ہے کہ اگر ہندو کمیونل ہورہے ہیں تو آپ بھی کمیونل بن جائیے ؟
بہار الیکشن میں مہاگھٹبندھن کی ہار کے بعد مجلسی کارکنان اور جذباتی نوجوان بے سروپا آنکڑے پوسٹ کر کے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ مہاگٹھبندھن کے مسلم امیدواروں کو ہندوؤوں اور یادووں نے بالکل ہی ووٹ نہیں دیا ، سیکولرزم کی ذمے داری صرف جمنوں نے لے رکھی ہے،
آج ہارے ہوئے مسلم امیدواروں کی لسٹ گشت کرتی ہوئی مجھ تک پہنچی تو میں نے تحقیق کی غرض سے ایک امیدوار کے حلقے کا جائزہ لیا تو پتا چلا کہ لسٹ میں دی گئی معلومات بالکل غلط ہیں۔ مثال کے طور پر پرانپور ودھان سبھا کے مسلم امیدوار توقیر عالم بی جے پی کی امیدوار نشا سنگھ سے دوہزار ووٹوں سے ہار گئے ، اب اس ہار میں اہم رول کس نے پلے کیا ہے یہ جاننے کے لیے وہ لسٹ دوبارہ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دو مسلم امیدواروں نے 20000 ہزار ووٹ کاٹے ہیں ، اب ظاہر سی بات ہے کہ انہوں سیکولر ووٹ ہی کاٹے ہوں گے ۔ اب ان کی ہار میں مکمل غلطی سیکولر ہندوؤں کی ہے یا مسلمان امیدواروں کی بھی ؟
ایک مثال ہمارے قصبہ ودھان سبھا کی لے لیجیے، یہاں مسلمان ۳۵ فیصد اور ہندو ووٹرس ۶۵ فیصد ہیں، مسلمانوں کے مرد ووٹر زیادہ تر پردیس میں ہیں ، اس کے باوجود مسلم امیدوار نے جیت درج کی،جب کہ مجلس اور اس کی بہن ایس ڈی پی آئی نے اس کے دس ہزار ووٹ کاٹ لیے ، اب بتائیے! اگر ہندؤوں نے ووٹ نہیں دیا تو وہ کیسے جیت گئے؟
اور آخری بات! سیمانچل کے مسلم علاقوں میں آپ نے یک طرفہ ووٹ مجلس کو دیا اور کسی ہندو امیدوار کو نہیں دیا تو کوئی بات نہیں اور ہندوؤں نے ہندو علاقوں میں یک طرفہ بی جے پی کو ووٹ کیا تو آپ کو پریشانی کیوں ہے؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*