اختر اعظمی کی شاعرانہ کیمسٹری-حقانی القاسمی

شاعری دراصل ایک کیمیائی قوت ہے جو اظہار و احساس اور جذبہ و خیال کی تعبیر وتاثیر بدل دیتی ہے، جس طرح نسخہئ کیمیاسے کیفیتیں بدل جاتی ہیں، اسی طرح شاعر ی بھی قلبی کیفیات کو تبدیل کردیتی ہے۔ شاعری اور کیمیا کا ایک بہت ہی خوبصورت رشتہ ہے، جس طرح کیمیا مالیکیول پر مرکوز ہے اسی طرح شاعری انسانی دل پر مرتکز ہے، دونوں میں ایک ارتباطی کیفیت ہے۔ سائنس اور جمالیات کا یہی وہ تعلق ہے جس کی وجہ سے شاعری کی تجربہ گاہ اور سائنس کی لیباریٹری میں بہت حد تک ہم آہنگی ملتی ہے۔
جذبہ واحساس کے مرکب یعنی شاعری سے اختر اعظمی کی اچھی کیمسٹری ہے۔ وہ شاعر ی کے تمام رموز واسرار سے واقف ہی نہیں بلکہ اس کی اداؤں سے بھی آشنا ہیں۔ شاعری ان کی رگوں میں لہو کی طرح دوڑتی ہے اور لفظ اُن کے ذہنی اُفق پر آفتاب و ماہتاب کی طرح طلوع ہوتے ہیں، ان لفظوں کو وہ خوبصورت پیکر عطا کر کے شاعری میں ڈھالتے ہیں اور ان شبدوں کی صورت اتنی حسین ہوتی ہے کہ اپنی طرف کھینچنے لگتی ہے۔ ظ۔ انصاری کو انٹرویو دیتے ہوئے انگریزی کے پروفیسر اور اردو کے ممتاز شاعر فراقؔ گورکھپوری نے اپنی شاعری میں رمزیت، استعجاب اور خواب ناکی کی بات کہی تھی اور مظاہرفطرت سے اپنی شاعری کی قربت کا اشارہ دیاتھا، نئی نسل کے تازہ کار شاعر اختر اعظمی کی شاعری میں بھی خواب ناکی اور استعجاب کی کچھ ایسی ہی کیفیت ملتی ہے۔ اختر کی شاعری چھوٹی چھوٹی سانسوں پر مشتمل نہیں ہے بلکہ گہری سانس کی شاعری ہے۔ اس شاعری میں وژن بھی ہے، عرفان بھی ہے، حیات و کائنات کے تجربات وتغیرات کی داستان بھی ہے اور کہیں کہیں سیلف ریفلکشن بھی ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں جن موضوعات کو برتا ہے وہ بیشتر شاعروں کے موضوعات سے مماثل ہیں، مگر انہوں نے اپنے انداز اورآہنگ سے ان موضوعات میں کئی نئی راہیں تلاش کرلی ہیں اور یہی تلاش انہیں بھیڑ میں ایک الگ پہچان عطا کرتی ہے۔ انہوں نے کلاسیکی یا جدید شاعری سے صرف تشبیہات اور استعارات اخذ نہیں کیے ہیں بلکہ اپنے طور پر تراشے بھی ہیں، اس لیے ان کے خیال میں ایک طرح کی ندرت اور جودت دکھائی دیتی ہے۔ ان کا ایک تشبیہی شعر ہے:
تری زلفوں کے سائے میں جو یہ آنکھوں کا منظر ہے
کہ جیسے رات کی آغوش میں گہرا سمندر ہے
اختر اعظمی کے یہاں بہت سے ایسے شعر ہیں جن میں حیرتوں کے دروا ہوتے نظرآتے ہیں اور انسان ایک نئے جہان میں کھو ساجاتا ہے:
جہانِ ریگ ترا آب دیکھنے کے لیے
ملی ہے آنکھ مجھے خواب دیکھنے کے لیے
یہ کیا ستم ہے کہ صحرا بھی دیکھنا ہوگا
ذرا سی گھاس کو شاداب دیکھنے کے لیے

یہ کیسا اُجالا ہے اندھیروں سے دبا ہے
روشن تو تری زلف ہے رخسار نہیں ہے

اخترؔ یہ شب غم بھی مگر جائے کدھر کو
اب میرے علاوہ تو کوئی در بھی نہیں ہے
اس طرح کے بہت سے اشعار ہیں جو ایک نئے شاعر کی تازہ کاری کے ثبوت کے طور پر پیش کیے جاسکتے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اخترؔاعظمی کے ہاتھوں میں اپنے چراغ ہیں، اپنی روشنی ہے، اپنی نظر ہے، اپنا نظریہ ہے، وہ اپنا راستہ آپ بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔ انہیں احساس ہے کہ اگر اپنی پہچان بنانی ہے تو اپنا جداگانہ رنگ پیدا کرنا ہوگا اور انہوں نے واقعی اپنا ایک الگ انداز اختیار کیا:
پھینک کر سارے خواب پانی میں
دیکھتا ہوں سراب پانی میں

شام کو لے کے تیرے لب کی شفق
آگیا آفتاب پانی میں

ہم عشق والے فلسطین ہوگئے اخترؔ
ہمارا کون ہے ہمدرد اس زمانے میں
اختر اعظمی نے اس صارفی معاشرے کو بھی انہیں آنکھوں سے دیکھا ہے جہاں متاع ہنر کی کوئی قیمت نہیں، اور مادیت ہی افضلیت کا معیار ہے، ان کی شاعری میں جہاں صحرا ہے، شہر ہے، وہیں وہ بازار بھی ہے جو انسانی قدروں کو ڈس رہا ہے، یہ بازار واد کا وہ بھیانک روپ ہے جس نے انسانوں سے ساری تہذیبی قدریں چھین لی ہیں، یہ اشعار دیکھئے:
شہروں میں بڑے قاتل و جلاد ملیں گے
صحرا میں چلو شیریں و فرہاد ملیں گے

دل میں کچھ ہے ہی نہیں حسن کی باتیں نہ کرو
جیب خالی ہو تو بازار سے ڈر لگتا ہے

جب بھی بازار گیا خوب لٹا کر آیا
میری دولت تو گئی میری شرافت بھی گئی
بازار کا ایک نیا تصور ہے جہاں انسان بھی ایک متاع کوچہئ بازار بن کر رہ گیا ہے۔ یہ آج کی صارفی معاشرت کی ایک سفاک حقیقت ہے جسے اخترؔ اعظمی نے شعری پیکر میں ڈھالا ہے، مجھے نہیں معلوم اخترؔ اعظمی کی شاعری کے مرکزی محرکات کیا ہیں اور یہ بھی نہیں پتہ کہ ان کی شاعری کا سبب کیا ہے، مگر ان کے شعروں سے ان کے شعری محرکات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ دراصل شاعری ان کے لیے بھی کتھارسس کا ایک ذریعہ ہے۔ انہوں نے بھی شکستگی، محزونی او رمحرومی کا منظر دیکھا ہے، اس لیے ان کی شاعری میں وہ سارے مناظر قید ہوگئے ہیں، اس میں ان کی شکست آرزو بھی ہے اور اقدار کی شکست و ریخت بھی، ان کی شاعری میں اپنی ذات کا غم بھی ہے اور جہاں کا درد بھی، یعنی ان کی ذات کا ئناتی واردات اور واقعات سے ہم رشتہ ہے اور یہی ہم رشتگی ان کی شاعری کے موضوعاتی کینوس کو وسیع سے وسیع تر کرتی ہے، ان کی شخصیت اورشاعری میں اثبات ونفی اور اقرار و انکار کی کش مکش بھی ہے:
یہ وہ یقیں ہے جو الجھے یقیں سے نکلا ہے
ہماری ہاں کا یہ دھاگا ’نہیں‘ سے نکلا ہے
اخترؔاعظمی کے یہاں غم و نشاط کی وحدت بھی ہے، اس لیے جہاں ان کی شاعری میں نشاطی کیفیات ہیں، وہیں حزنیہ احساسات بھی ہیں۔ دراصل یہ دونوں انسانی زندگی کے جزو لاینفک ہیں، کبھی خوشی، کبھی غم، لمحے اور ماحول بدلتے رہتے ہیں تو دل کی کیفیات بھی بدلتی رہتی ہیں اور یہ شاعری بھی ایسی ہی تبدیل ہوتی کیفیتوں کا آئینہ ہے۔
اختر اعظمی کی شاعری میں شورش دوراں بھی ہے اورغم جاناں بھی، جہاں اُن کی شاعری میں شب و روز کے تجربات، زندگی کی اداسیوں، محرومیوں، تناؤ کا بیان ہے، سماجی حقیقت پسندی ہے، سوشل ازم ہے، وہیں رومانٹک آئیڈیلزم بھی ہے، مگر ان کی محبت، صرف ایک فرد سے یا ذات سے مشروط یا مربوط نہیں ہے، بلکہ ملک اورمعاشرے سے بھی ان کی محبت کا سلسلہ جڑا ہوا ہے، جہاں وہ اس طرح کے شعر کہتے ہیں:
عشق میں اپنا گھر جلا ڈالا
یہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے
وہیں اس طرح کا شعر بھی کہتے ہیں:
کوئی دیوار نفرت کی گرے نفرت سے ناممکن
محبت سے تو اک کو ہِ گراں مسمار کرلیتا
ان کے یہاں محبت کا ایک تصور اور بھی ہے:
نہیں نہیں و ہی گلستان چاہئے
مجھ کو میرا والا ہندوستان چاہئے
جس میں رادھا کانہا کی محبت کا تھا پھول
جس میں تھی تلوار نہ کوئی خنجر نہ ترشول
جس میں رکھے تھے کچھ بھائی چارے کے گلاب
جس میں اتنی ساری نفرتوں کی تھی نہ دھول
پیارا پیارا وہ ہی گل دان چاہئے
مجھ کو میرا والا ہندوستان چاہئے
اخترؔ کے یہاں محبت کا ایک وسیع تر تصور ہے۔ ان کی شاعری سماج کے مشاہدات اور تجربات کا تخلیقی رد عمل اورانسانی نفسیات، جذبات کا ایک دریچہ ہے۔ ان کے یہاں ادراک واظہار کے نئے انداز ہیں، کیونکہ عہد جب بدلتا ہے تو اظہار کے آداب بھی بدل جاتے ہیں، انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ اپنے جذباتی تناقض کا بہت خوبصورت اظہار کیا ہے۔
اختر اعظمی کی شاعری کا سلسلہ سائنس سے بھی جڑا ہوا ہے اور انہو ں نے اس کے ذریعے سائنس اور آرٹ کے مابین تطابق اور تفاہم کی صورت بھی پیدا کی ہے وہ خود بھی سائنس سے جڑے ہوئے ہیں اور شاید اس حقیقت سے واقف ہیں کہ:
”Science is the poetry of Reality“
اور انہوں نے اسی Reality کو ایک Imagination کی صورت عطا کی ہے، انہی کا شعر ہے:
منحصر ہے فضا پہ رنگ حیات
جانتا ہوں میں کیمیا کیا ہے
پوچھئے کیمیا سے اخترؔ کی
”آخر اس درد کی دوا کیا ہے“

آگے مریض عشق ہیں، پیچھے ہے کیمیا
میں کیمیا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
ان کے علاوہ یہ اشعار بھی دیکھیں جن میں اختراعظمی نے حیرتوں کے دروا کرگئے ہیں:
اک ترے غم پر بہا ہے ایک جلوے سے ترے
اشک دیدہ اور ہے دیدہ کا پانی اور ہے

یہ نہیں وہ آب باراں بارہا جو مل سکے
کام ہی میں لا کہ آب زندگانی اور ہے
ان دو اشعار میں اخترؔ اعظمی نے علم حیاتیات اور علم طبیعیات کے موتی کو اپنے شعور فن کی مالا میں بہت ہی خوبصورتی سے پرو دیاہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے سائنس کے طالب علموں کے لیے منظوم کیمسٹری کا تجربہ بھی کیا ہے اور کیمیائی اصطلاحات کو شعری پیکر عطا کیا ہے:
ایچ سی این آر این اے آ نہ جائیں سائڈ میں
ہم کو رہنا ہوگا کیمسٹری کی گائڈ میں
میں ایسڈ بن جاؤں گا لیکن تو سوچ لے
تو ٹوٹے گا میتھین، ایتھن ایتھک سائڈ میں
میں ہوں ڈائی ایتھل، ایتھر تو ہے ایسی ٹون
تو کیسے انزائم بنے اور میں ہارمون
اس طرح کی شاعری سے سائنسی ذوق بھی پروان چڑھتا ہے اور اظہاری صلاحیت میں بھی قوت اور کشش پیدا ہوتی ہے۔ ماضی میں اس طرح کے تجربے کیے جاچکے ہیں۔ ریاضیات، طبیعیات، حیاتیات اور نباتیات جیسے سائنسی علوم سے وابستہ بہت سے شعراء ہیں جنھوں نے سائنسی نظمیں لکھی ہیں، رولڈ ہافمین (Roald Hoffmann)کیمسٹری کے نوبل انعام یافتہ تھے، مگر شاعری اور ڈراما نگاری میں ان کی اپنی الگ پہچان تھی، اسی طرح Humphry Davy سائنٹسٹ بھی تھے جنہوں نے سوڈیم اور پوٹیشیم کے عناصر دریافت کئے، وہ ایسے شاعر تھے جن کی تعریف ورڈس ورتھ اور کولرج جیسے شاعروں نے کی ہے، اور اس طرح کے بہت سے مجموعے شاعری کے منظر عام پر آئے ہیں جو سائنسی مسائل اور موضوعات سے متعلق ہیں۔ بہت پہلے Mario Marky کی نظموں کا ایک مجموعہ ’کیمیکل پوئم‘ کے نام سے شائع ہوا تھا، جس سے یہ اندازہ لگانا بہت آسان ہے کہ سائنس اور آرٹ کا رشتہ بہت گہرا ہے کیونکہ سائنس کو شاعری سے بڑی معاونت ملتی ہے۔ انبساطی کیفیات کا صحیح ادراک سائنس کے فارمولے سے نہیں بلکہ شاعری کی سحر انگیزی سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ Nitrous oxide کو منطق یا سائنس سے زیادہ شاعری کے ذریعہ سمجھا جاسکتا ہے، جبکہ یہ ایک سائنسی فارمولہ ہے۔ اختر اعظمی نے کیمیا اور شاعری کے مابین ایک نئے رشتے کی جستجو کی ہے اور اس حقیقت کا ادراک کرایا ہے کہ شاعری دراصل ایک کیمیا ہے۔ شکستہ دلوں کے درد کا درماں اور ہجر کے مارے ہوئے لوگوں کی راحت کا ساماں۔ اخترؔ اعظمی کے لیے شاعری ایک جنون ہے، ایک دیوانگی ہے، ایک آشفتہ سری ہے اور اس جنوں کے سارے انداز شاعری میں موجود ہیں اور اپنے جنون کے اظہار کے لیے انہوں نے جو زبان استعمال کی ہے وہ ایسی ہے جسے سب لوگ جانتے بھی ہیں اور بولتے بھی ہیں۔ سادہ، سلیس اور عام فہم الفاظ جن میں کوئی پیچیدگی نہیں، کوئی زولیدگی نہیں۔ اختر اعظمی کی شاعری میں جہاں اردو زبان کی شیرینی ہے وہیں بھوجپوری لہجے کی مٹھاس بھی ہے، ان کی ایک نظم مزدور میں ایک نیا لسانی تجربہ کیا گیا ہے:
کھڑی دوپہر یا میں سونی ہے ڈگریا
نازک کلین سے کوٹے لی پتھریا
رات کے اندھیروں سا ہے یہ اجیروا
ہاتھ لگ جیہن کا ہوئی جو سویروا
جر جائی گوری گوری کھال
بھوکے نہ سوئیں مورے لال
شاعری اسی سویروا کا نام ہے اور ہر شاعر اپنی تخلیق کے ذریعہ اسی سویروا کی تلاش میں لگا ہوا ہے، یہ سویروانہ ہوتو پھر شاعری شام کی طرح ڈوبنے لگتی ہے۔