آخری کال ـ شہلا کلیم

لاپرواہی میری عادت ، بیزاری میری فطرت اور اسی بیزاری کی کیفیت میں دنیا بھر سے قطع تعلقی میری طبیعت اور شاید اسی لیے رشتوں کی ناکامی میرا مقدر؛ لیکن یہاں معاملہ برعکس ہےـ ہمارے درمیان کوئی ایسا رشتہ نہ تھا جسے نباہتے رہنا لازم ہوـ نہ عمر کا، نہ دوستی کا نہ شاگردی کا اور نہ مریدی و مرشدی کا پھر یہاں ناکامی چہ معنی؟ بریک…. وقفہ…. دنیا سے اکتا کر زندگی سے من چاہے بریک لیتے رہنا میری سب سے بڑی کمزوری اور ناکامی کی سب سے بڑی وجہ!!
تعلق طویل نہ تھا لیکن مختصر ہو ایسا بھی نہیں ـ ایک فکشن نگار اور مبصر کا تعلق ایسا ہی ہوا کرتا ہےـ مختصر ہوتے ہوئے طویل اور طویل ہوتے ہوئے مختصرـ اور پھر جب وہ فکشن نگار مشرف عالم ذوقی ہو تو یہ تعلق مزید دلچسپ ہو جاتا ہےـ بحثیت انسان آب آب اور بحثیت قلم کار آگ آگ، دل مومی اور دماغ فولادی، انسان دوست اور فاشزم کا دشمن ـ
ذرا ٹھہریے! یہ تو محض جملہ معترضہ تھا مبصر ہونے کا دعوی نہیں ـ طفل مکتب ہوں بلکہ یوں کہیے قلم پکڑنے کے ابتدائی مراحل میں ہوں موجودہ حالات ہوں یا ہندوستان کسی بھی موضوع پر قلم اٹھانا اوقات سے بڑھ کر ہے چنانچہ ایسی حالت میں مرگ انبوہ اور مردہ خانہ میں عورت جیسے ناولوں پر تبصرے کرنا فقط اندر کی آگ سرد کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے اور بہانہ بھی ـ
خیر ادیب کے ادب پر تو ہمشہ باتیں ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی فی الوقت مشرف عالم ذوقی کی بات کرتے ہیں (جو فکشن نگار کے سوا بھی بہت کچھ تھاـ) اور اس بے نام سے تعلق کی جس کا انجام ایک "آخری کال” تھاـ
ان دنوں زندگی جمود کا شکار تھی ـ وہی سکتہ طاری تھا جو اکثر و بیشتر ذات پر سوار ہو کر دنیا و مافیہا سے بیزار اور قلم کتاب سے بے خبر کر دیا کرتا ہے اور مجبورا یا عادتا زندگی سے بریک لینا پڑتا ہے سو اس چند ساعتوں کے وقفے میں صدیوں کا نقصان ہو جانے کی خبر بھی مجھ تک زبان غیر سے پہنچی اور بہت دیر سے پہنچی ـ منیر نیازی کی نظم "ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں” میری ذات کی من و عن عکاسی بھی ہے اور میری زندگی کا المیہ بھی ـ وائے ناکامی کہ جو شخص اپنی کسی کتاب کی اشاعت پر قارئین کی فہرست میں ناچیز کا نام سر فہرست رکھتا اور جو اپنے سخت دنوں میں بھی اپنا یہ فرض نہیں بھولا اس کی زندگی کے آخری ایام کی خبر گیری کی بھی مجھے نہ فرصت ہوئی، نہ توفیق! اور اب جب ان کے آخری ایام کے واقعات بھی عوام الناس کے ذریعے علم میں آئے تو دل کی کسک مزید بڑھ گئی اور یہ خیال شدت سے کچوکے لگانے لگا کہ چند دن پہلے کال کرکے میری خبر گیری کرنے والا شخص خود بیمار تھا؟ یعنی وہ مشفق آواز آخری مرتبہ سماعتوں سے ٹکرائی تھی؟ کیا خبر تھی کہ منظر عام سے کیوں غائب ہو کہنے والا بہت جلد خود منظر عام سے غائب ہو جائےگاـ
وہ چاہتے تھے کہ میں ان کا نیا ناول ضرور پڑھوں جوابا میں نے کہا تھا کہ زندگی ان دنوں جمود کا شکار ہے جس دن تحریک ملی اور طبیعت ذرا بھی پڑھنے لکھنے کی طرف مائل ہوئی ہاتھوں کو سب سے پہلا لمس آپکی کتاب کا حاصل ہوگاـ اور ادبی دنیا میں واپسی آپکے ناول پہ بھرپور تبصرے کے ساتھ ہی ہوگی ـ وائے افسوس کہ زندگی کا جو جمود آپکی زندگی پر لکھ کر ٹوٹنا تھا اس کا خاتمہ آپکی موت پر ہواـ
شاید میں اب کبھی وہ ناول پڑھوں اور اگر پڑھوں تو شاید کبھی تبصرہ کر سکوں اور اگر تبصرہ کر بھی دوں تو شاید بلکہ یقینا وہ خوشگوار احساس نہ ہو سکے کیونکہ یقین جانیے کسی تخلیق پر خود تخلیق کار سے گفتگو کرنا اور داد وصولنا ایک منفرد اور خوشگوار تجربہ ہے!
مشرف عالم ذوقی کی ذات و صفات کا مکمل خاکہ آپکے اقربا اور آپکی تخلیقات کا مکمل احاطہ ادبی نقاد کے سر ہے ـ میرے لیے تو وہ ایک عظیم محرک ہیں ـ اگر تحریکیں جمود کی کوکھ سے جنم سے لیتی ہیں تو شاید اب میری زندگی کو محرک ہونے کیلیے کسی جمود کی ضرورت نہ پڑے اور شاید اب میں زندگی سے اکتا کر دنیا سے کنارہ کشی کا شیوہ تیاگ دوں کیونکہ کیا خبر کب، کس کی، کون سی کال آخری ہو جائے:
یہ وقفہ ساعتوں کا چند صدیوں کے برابر ہے!!