اکھلیش یادونے منورراناکے خلاف کارروائی کوغیرمنصفانہ بتایا

لکھنؤ:سماج وادی پارٹی کے صدراورسابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادونے پیرکوکہاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی واحدخواہش سماج وادی پارٹی کو شکست دینا ہے۔ انہوں نے یوگی آدتیہ ناتھ کی سربراہی میں ریاستی حکومت اور بی ایس پی پرحملہ کیا۔ اکھلیش یادونے اعظم خان اورمنورراناکادفاع کرتے ہوئے کہاہے کہ ان دونوں پرکارروائی غیرمنصفانہ ہے۔پیرکو اناؤکے سابق رکن اسمبلی انو ٹنڈن کو ایس پی میں شامل کرنے کے بعد اکھلیش یادو نے صحافیوں کوبتایا کہ فرقہ پرستوں کوروکنے کے لیے 2019 میں بی ایس پی کے ساتھ اتحاد ضروری تھا۔ اکھلیش یادونے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا نظریہ رتھ کے دوپہیوں کی طرح ہے ، اسی لیے میں نے بی ایس پی کے ساتھ اتحادکیاتھا۔ریاست کی سات اسمبلی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کوپریکٹس ٹیسٹ قرار دیتے ہوئے اکھلیش یادونے کہاہے کہ بی جے پی کو سبق سکھانے کے لیے عوام وقت کی منتظرہے۔ مایاوتی نے پیر کی صبح میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ایس پی اور کانگریس ضمنی انتخاب میں ہماری پارٹی کے خلاف سازش کر رہی ہیں اور غیر منصفانہ طور پر مہم چلارہی ہیں تاکہ مسلم معاشرے کے لوگ بی ایس پی سے الگ ہوجائیں۔مایاوتی نے یہ بھی کہا کہ بی ایس پی کبھی بھی بی جے پی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔سابق رکن پارلیمنٹ انو ٹنڈن نے حال ہی میں ریاستی قیادت پر الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس سے استعفیٰ دے دیاہے۔ اس سے قبل سابق مرکزی وزیر سلیم شیروانی اور بی ایس پی کے سابق ممبر پارلیمنٹ تریھوون دت سمیت متعدد سرکردہ رہنماؤں نے سماج وادی پارٹی کی رکنیت لی ہے۔اکھلیش نے کہا کہ پولیس نے حکومت کی ہدایت پر ایس پی لیڈراعظم خان اور منور رانا کے خلاف کارروائی کی ہے ، جو غیر منصفانہ ہے۔