اخلاقِ حسنہ کا سکندرِ اعظم ـ ضیا چترالی

ذہن ماﺅف، دل محزون، چشم پر نم، شفقت و رافت کے پیکر روحانی باپ کی جدائی کا غم و الم کہ الفاظ گویا اڑ چکے۔ حواس ساتھ نہیں دے پا رہے۔ سانسیں اکھڑی ہوئیں، ہاتھ لرزہ براندام۔ لکھوں تو کیا لکھوں؟ یکے بعد دیگرے علم وعمل کے ستون گر رہے ہیں، قحط الرجال کے دور میں علوم نبوت کی مشعلیں تیزی سے بجھ رہیں اور اندھیرے بڑھ رہے۔ اب تو چلچلاتی دھوپ میں مرکزی سائبان ہی اجڑ گیا، وہ سایہ دار شجر نہ رہا، جو طوفانوں میں پرندوں کا ملجا و ماویٰ تھا۔ دینی حلقوں کا وہ مرکزی نقطہ ہی رخصت ہوگیا، جس کے گرد سارے دائرے گھومتے تھے۔ وہ چراغ ماند پڑ گیا، پروانے جس کا طواف کرتے تھے۔ جس ہستی سے قرآن کریم کے بعد سب سے معتبر دینی کتاب ”بخاری شریف“ پڑھنے کا شرف حاصل کیا، وہ بدھ کے روز ملک بھر کے علما و طلبا کو یتیم چھوڑ کر اپنے مہربان رب کے پاس لوٹ گئی۔ استاذ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب علیہ الرحمة کے سانحۂ ارتحال پر دل چاہتا ہے کہ پہلے موت کو خوب کوسوں اور مصر کی بدوی شاعرہ ملک حفنی ناصف کے الفاظ کچھ ترمیم کے ساتھ مستعار لے کر دل کی بھڑاس نکالوں:
الا یا موت ویحک لم تراع
سلبت منا شیخنا العالی
فذب یا قلب لا تک فی جمود
وزد یا دمع لا تک فی امتناع
سنبقی بعدک یا استاذ!
کسرب الفلاة بغیر راع
(موت! تیرا ستیاناس ہو کہ تیری ہمت کیسے ہوئی کہ تو نے ہم سے ہمارے عظیم شیخ کو چھین لیا، اے دل پگھل جا، تجھے جمنے کا کوئی حق نہیں، آنسوﺅ! خوب بہہ پڑو، تمہیں رکنا نہیں چاہئے، استاذ جی! آپ کے بعد ہم ایسے بے آسرا رہیں گے جیسے صحرا میں جانوروں کا ریوڑ بغیر چرواہے کے)
شیخ المشائخ حضرت مولانا عبد الرزاق اسکندر صاحب علیہ الرحمة کی پیرانہ سالی اور پھر علالت کے باعث اسپتال میں داخل ہونے کے بعد ایک دھڑکا سا لگا رہتا تھا کہ حضرت کو کچھ ہو نہ جائے۔ بدھ کے روز وہی ہوا، جس کا ڈر تھا۔ حضرت ڈاکٹر صاحبؒ چھپاسی برس کی عمر میں آخری وقت تک قرآن و سنت کی تعلیم دیتے دنیا سے رخصت ہوگئے۔
فروغ شمع تو باقی رہے گا صبح محشر تک
مگر محفل تو پروانوں سے خالی ہوتی جاتی ہے
اس پرفتن دور میں ڈاکٹر صاحبؒ کا وجود مسعود پورے زمانے کیلئے خیر و برکت کا باعث تھا۔ تقویٰ و طہارت، للٰہیت و عبدیت، اخلاص و توکل، تحمل و برداشت اور زہد و قناعت غرضیکہ تمام اوصاف حمیدہ اور خلق حسنہ کا وہ مرقع اور پیغمبری صفات کا نمونہ تھے۔ سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال تک جناب نبی کریم علیہ الصلوٰة و السلام کی خدمت کی۔ لیکن اس دوران آپ نے کبھی مجھے اُف تک نہیں کہا اور نہ کبھی آپ نے یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور یہ کام تم نے کیوں نہیں کیا۔ (متفق علیہ) مولانا اکرام اللہ صاحب ہمارے ساتھی ہیں، جو جامعہ بنوری ٹاﺅن کے دفتر میں ہوتے ہیں۔ وہ تقریباً سولہ سال حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کے گویا خادم رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوران کبھی بھی کسی غلطی پر حضرتؒ نے غصے کا اظہار نہیں فرمایا۔ دفتر کے کسی خادم یا طالب علم کو بھی کبھی نہیں ڈانٹا۔ ڈاکٹر صاحبؒ پورے چھیاسٹھ برس جامعہ بنوری ٹاﺅن کے ساتھ وابستہ رہے۔ اس پورے عرصے میں ان کی زبان، یا قلم یا فعل سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ بلکہ مخالفین کے ساتھ بھی حسن سلوک اور مکمل اخلاص و ہمدردی سے پیش آتے رہے۔ اس حوالے سے آپ اتنے محتاط تھے کہ طلبہ سے فرمایا کرتے کہ انتظامی امور کے دوران اگر میری ذات سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو معاف کر دیا کریں، آپ مہمانانِ رسول ہیں۔ طلبہ کے ساتھ شفقت و محبت میں اپنی مثال آپ تھے۔ جامعہ میں عصر کے بعد کھانا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی طلبہ کھیلنے جاتے ہیں۔ کچھ لاابالی طلبہ جلدی کھانا کھا کرفارغ ہونے کیلئے نماز کے بعد دعا سے پہلے ہی اٹھ جاتے ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب اپنے مخصوص انداز میں فرمایا کرتے کہ دعا سے پہلے اٹھنا مجھے بہت برا لگتا ہے، اگر کسی دن میں نے تمہیں یہ کہہ کر بٹھادیا کہ ”صوفی بیٹھ جاﺅ، کہاں جا رہے ہو“ تو شاید تم ناراض ہو جاﺅگے۔ مطلب طلبہ کو اتنا کہنا بھی ان کے طبع نازک پر گراں گزرتا تھا۔ اگر ان کی نرم دلی و شفقت و رافت پر تفصیل سے لکھا جائے تو ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ حضرت ڈاکٹر صاحبؒ نے اپنی طویل زندگی میں کسی انسان تو دور کی بات، شاید کسی ذی روح کو تکلیف نہیں پہنچائی ہوگی۔
مادہ پرستی کے اس دور میں زہد و قناعت کی صفت آپؒ پر ختم تھی۔ چھ دہائیوں تک مادر علمی سے وابستہ رہے۔ عام مدرس سے مہتمم اور پھر شیخ الحدیث کی مسند سنبھالی، مگر اپنا کوئی ذاتی گھر نہیں تھا۔ مدرسے کے تین کمروں پر مشتمل چھوٹے سے گھر میں پوری حیات مستعار بِتائی۔ حالانکہ اگر دنیا سے ذرہ بھی رغبت ہوتی تو عالیشان محل بنانا آپؒ کے لئے چنداں مشکل نہ تھا۔ قارئین کے لئے شاید یقین کرنا مشکل ہو کہ ڈاکٹر صاحبؒ نے جامعہ بنوری ٹاﺅن میں چھیاسٹھ برس تک خدمات انجام دیں، لیکن اس پورے عرصے میں ایک پائی بھی تنخواہ نہیں لی!! اس کے باوجود سخاوت و دریا دلی کا یہ عالم تھا کہ خدمت میں حاضر ہونے والے کسی شخص کو خالی ہاتھ نہ لوٹاتے۔ حالانکہ بلامبالغہ ہر سال ہزاروں افراد مدارس و مساجد سے تعاون کے سلسلے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور انہیں مایوس نہ لوٹاتے۔ اپنی کوئی ذاتی جائیداد بلکہ گاڑی تک نہ تھی۔ ایک کیری تھی، جسے استعمال فرماتے، پھر وہ بھی گلشن اقبال میں ڈرائیور سے چوری ہوگئی۔
ہمارے شیخ نفاست ونظافت کا اعلیٰ معیار رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین فرماتے۔ اس حوالے سے آپ کے بہت سے واقعات بھی مشہور ہیں۔ وظیفہ بندگی اور عبادت کا اتنا اہتمام فرماتے کہ اسپتال میں داخل اور وینٹی لیٹر پرہوتے ہوئے بھی نماز قضا نہیں ہوئی۔ مصنوعی تنفس کے آلات لگا کر نماز ادا کرتے ہوئے آپ کی ایک تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔ خلاصہ یہ کہ آپؒ وقت کے بہت بڑے ولی کامل اور سلف صالحین کا مکمل نمونہ تھے۔ بخاری شریف کی حدیث کا مفہوم ہے کہ حق تعالیٰ جس سے محبت فرماتے ہیں تو جبریل کو بھی اس سے محبت کا حکم دیتے ہیں، جبریل امین کے کہنے پر فرشتے بھی اس سے محبت کرتے ہیں، پھر اس بندے کیلئے محبت زمین پر اتاری جاتی ہے کہ انسانوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت بیٹھ جاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحبؒ بھی اس حدیث کے مصداق تھے، جس کا اندازہ ان کے جنازے میں امڈنے والے انسانوں کے سمندر سے لگایا جاسکتا ہے، بلاشبہ یہ شہر قائد کی تاریخ کا بڑا جنازہ تھا۔مگر افسوس کہ حریم شاہ کی شادی جیسے ”اہم وحساس قومی ایشو“ میں الجھے ہوئے میڈیا کو”فاتح زمانہ“ کے سفر آخرت کا یہ منظر نظر نہیں آیا۔
آپؒ اپنے شیخ محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری قدس سرہ کے خلف الرشید، ان کے خادمِ خاص اور سچے عاشق زار تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی مشہور یونیورسٹی جامعہ اسلامیہ اور عالم اسلام کی معروف قدیم درسگاہ جامعہ ازہر کے فیض یافتہ ہونے کے باوجود آپ نے اپنی زندگی اپنے شیخ کے قائم کردہ ادارے جامعہ بنوری ٹاﺅن کے لئے وقف کر دی۔ڈاکٹر صاحبؒ وطن عزیز کے سب سے بڑے عربی ادیب تھے۔ اگر چاہتے تو کسی عصری جامعہ یا کسی سرکاری ادارے میں بڑے عہدے پر فائز ہو کر دنیوی منافع خوب سمیٹ سکتے تھے۔ مگر آپؒ نے حضرت بنوریؒ سے ایسی وفا نبھائی کہ ”وفا“ بھی ان پر ناز کرتی ہوگی۔ شیخ بنوریؒ سے اس دیرینہ تعلق کے نتیجے میں حق تعالیٰ نے عزت و احترام کا جو مقام آپ کو عطا فرمایا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ آپ بیک وقت ملک کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ بنوری ٹاﺅن کے مہتمم اور شیخ الحدیث ہونے کے ساتھ دینی مدارس کے سب سے بڑے بورڈ وفاق المدارس کے صدر اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر تھے۔ دینی لحاظ سے یہ سارے عہدے بیک وقت اگر کسی شخصیت کے دامن میں گرے ہیں، تو ماضی میں علامہ بنوریؒ تھے۔ عجیب بات کہ حضرت بنوریؒ بھی جامعہ بنوری ٹاﺅن کے پچیس برس مہتمم رہے اور ڈاکٹر صاحب کی مدت اہتمام بھی اتنی ہی ہے۔ پھر دونوں کا ماہ وفات بھی ایک اور مدفن بھی ایک!!
خدا کا شکر کہ مجھے ڈاکٹر صاحب سے بخاری شریف پڑھنے کے ساتھ یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ ششماہی امتحان میں ساڑھے پانچ سو طلبہ میں سے صرف مجھے سو میں سے سو نمبر دیئے تھے۔ تاہم ان کے زیر سایہ مہمانانِ رسول کی خدمت میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی، جو پوری نہ ہوسکی۔ 2015ءمیں جب جامعہ کے اساتذہ و طلبہ کو تواتر کے ساتھ شہید کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تو ڈاکٹر صاحبؒ نے بلایا اور اس حوالے سے اخبار میں جامع رپورٹ لکھنے کا حکم فرمایا۔ جب ایڈیٹر صاحب سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کا حکم سر آنکھوں پر، یہ ان کا اپنا اخبار ہے۔ پھر میں نے اس پر کام شروع کیا اور ”کربلائے مدارس“ کے عنوان سے ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی، جو کئی قسطوں میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد اگلے سال رمضان المبارک میں حضرت ڈاکٹر صاحبؒ نے ”امت“ کو انٹرویو دیا۔جو ان کا شاید پہلا انٹرویو تھا۔ بس اب تو ان کی یادیں ہی دل میں پیوست ہو کر رہ گئی ہیں۔ حق تعالیٰ ان کی قبر پر اربوں رحمتوں نازل فرمائے۔ آمین۔
ہجر کی رات مری جاں پہ بنی ہو جیسے
دل میں اک یاد کہ نیزے کی اَنی ہو جیسے
حادثہ ایک مگر کتنے غموں کا احساس
ایک صورت کئی رنگوں سے بنی ہو جیسے
ڈاکٹر صاحبؒ کی وفات کے بعد اگلے دن جب مادر علمی کے دفتر میں داخل ہوتے ہی ان کی خالی نشست پر نظر پڑی تو ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔ مولانا اکرام اللہ صاحب کے ساتھ اس خالی مسند کے سامنے بیٹھ کر حضرت کی یادیں تازہ کرتے اور اشک بہاتے رہے۔
اب یہاں کوئی نہیں پہلے یہاں تھا کوئی
جس کے دم سے یہ مکاں اور مکاں تھا کوئی
دائرہ دائرہ تھا جس سے وہ مرکز نہ رہا
جب وہ تھا نقطۂ بے قبلہ کہاں تھا کوئی