اجودھیا:مسجد،ریسرچ سینٹراوراسپتال کی تیاری

مسجدکی تعمیر1400مربع میٹرمیں ہوگی،نام ’بابری‘رکھنے سے گریز
اجودھیا:اجودھیاکے گاؤں دھنی پور میں سپریم کورٹ کی طرف سے ملی زمین پرمسجد 1400 مربع میٹرکے رقبے میں تعمیرکی جائے گی۔اتنے ہی رقبے میں بابری مسجد تھی۔ یہاں عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ رحیم، رساخان اور کبیرجیسی مختلف شخصیات کے نام پرتحقیق کے لیے مرکزبھی تیارکیاجائے گا۔ ریسرچ اسکالرزکے لیے رہائش گاہ اور لائبریری ہوگی۔ تحقیقاتی مرکزیو جی سی معیارپربنایا جائے گا۔ مسجدکی تعمیرکے لیے تعمیر ہنداسلامی ثقافتی فاؤنڈیشن کے سکریٹری اطہر حسین نے بتایاہے کہ یہاں سب سے بڑا منصوبہ اسپتال ہے۔انھوں نے کہاہے کہ جلد ہی فاؤنڈیشن میں اجودھیا کی نمائندگی بھی کی جائے گی۔سنی سنٹرل وقف بورڈ کے ذریعہ مسجد کی تعمیر کا 5 ایکڑپرقبضہ حاصل کرنے کے بعد ڈرافٹسمین ٹیم جائے وقوع پرپہنچ گئی۔ دھنی پور گاؤں میں مسجدکی اراضی کا ایک نقشہ آیا۔ٹیم کے ممبران نے مسجدکی جگہ سے 500 میٹر کے فاصلے پر سریوساحل کابھی معائنہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی اس منصوبے کی تیاریوں کاآغاز ہوگیا۔ حسین نے بتایاہے کہ ٹپوگرافی کا نقشہ تیار کرکے دہلی کے تین نامورمعماروں کے پینل کو بھیجاجائے گا۔حسین کے مطابق 5 ایکڑ اراضی پربڑامنصوبہ اسپتال کا ہے۔ یہ مسجد محض 1400 مربع میٹر رقبے میں تعمیر کی جائے گی۔ بابری مسجد اس شکل میں کھڑی تھی، لیکن مسجدبابرکے نام پر نہیں ہوگی۔ میری ذاتی رائے اس کا نام دھنی پور مسجد رکھنا ہے۔ 5 ایکڑ اراضی پرشروع ہونے والے اس منصوبے کے معماراس پرآنے والے اخراجات کا ڈیزائن تیار کریں گے اور اسے مسجدٹرسٹ میں پیش کریں گے۔ ان میں سے ایک مسجد ٹرسٹ کو آرکیٹیکٹ ڈیزائن سے حتمی شکل دے گی۔انہوں نے بتایاہے کہ بینک اکاؤنٹ کا کام ابھی شروع نہیں ہواہے اور ٹرسٹ اکاؤنٹ میں پیسہ نہیں ہے۔ بہر حال لوگوں کے تعاون سے اس مسجد کا ڈیزائن تیار کیا جارہا ہے۔ مسجد ٹرسٹ میں اس وقت 9 ممبران ہیں۔ 6 مزیدممبران کو بھی شامل کیا جائے۔ اس میں اجودھیاضلع کی نمائندگی بھی کی جائے گی۔ اس معاملے کا فیصلہ ممبران ٹرسٹ میٹنگ میں کریں گے۔ لیکن سب سے بڑا منصوبہ اسپتال کا ہوگا۔ یہاں کے لوگوں کا مطالبہ اسپتال ہے۔ اس کے علاوہ کلچرل ریسرچ سنٹر اور کمیونٹی کچن کے بھی منصوبے ہیں۔ رحیم، رساخان، کبیر جیسے کلچرل سینٹر برائے ریسرچ بھی ہند اسلامی ثقافت کی گنگاجمنی تہذیب کی شراکت داری کے موضوعات کے ساتھ تشکیل دیے جائیں گے۔ اس میں نصف درجن ریسرچ اسکالرزکے قیام اور تحقیق کے لیے لائبریری ہوگی۔ یہ مرکزیو جی سی معیارپربنایاجائے گا۔