اجمل فاؤنڈیشن پر مشتبہ غیر ملکی فنڈز حاصل کرنے کا الزام

گوہاٹی میں ایف آئی آر درج،مولانا بدرالدین اجمل نے سیاسی سازش قرار دیا

نئی دہلی:جمعہ کے روز دائر کی گئی ایک ایف آئی آرمیں دعوی کیاگیا ہے کہ آسام کے رکن پارلیمنٹ اور اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ مولانا بدرالدین اجمل کے زیر انتظام چلنے والے اجمل فاؤنڈیشن کو مبینہ طورپر دہشت گرد گروہوں سے وابستہ کچھ غیر ملکی ایجنسیوں سے فنڈز موصول ہوئے ہیں۔ مولانا بدرالدین اجمل آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ ہیں ، جو 2021 کے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس کے ساتھ اتحاد کے لئے بات چیت کرتے رہے ہیں۔چار دسمبر کو انگریزی اخبار ’’دی ہندو‘‘میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق دائیں بازو کے رہنما ستیہ رنجن بورہ نے گوہاٹی کے ایک پولیس اسٹیشن میں اجمل فاؤنڈیشن کے خلاف اپنی شکایت میں لیگل رائٹس آبزرویٹری نامی ایک این جی او کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیاہے۔شکایت کنندہ نے اپنی ایف آئی آر میں لکھا ہے”اس رپورٹ کو دیکھتے ہوئے ہم ’’غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ‘‘ کے تحت اس سلسلے میں مناسب تحقیقات چاہتے ہیں۔ اجمل فاؤنڈیشن نے ان غیر ملکی فنڈز کا ملک دشمن سرگرمیوں میں استعمال کیا ہے "۔ اس این جی او نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ اس فاؤنڈیشن کو تعلیم کے لئے "ترکی اور برطانیہ کے دہشت گرد گروہوں” سے 69.55 کروڑ ملے تھے لیکن اس میں سے صرف 2.05 کروڑ کا استعمال ہوا۔ آسام کے وزیر ہیمنت بِسوا شرما نے امید ظاہر کی ہے کہ مرکز اس فاؤنڈیشن کے ذریعے ممکنہ غیر ملکی تعاون (کی نگرانی) ایکٹ (ایف سی آر اے) کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے گا۔ انہوں نے کہاہے کہ "ایک تصور ہے کہ بدرالدین اجمل اپنی جیب سے فلاح انسانی کے کاموں میں صرف کرتے ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔”
رپورٹ کے مطابق اجمل فاؤنڈیشن نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر خصرالاسلام نے کہا ہے کہ “یہ سنگین الزام ہے۔ ہم بھی تحقیقات چاہتے ہیں۔ اس سے معاملات واضح ہوجائیں گے”- انہوں نے مزید کہا "ہمارے فاؤنڈیشن کو ایف سی آر اے کے تحت پانچ سے آٹھ برطانیہ بیسڈ ایجنسیوں سے چالیس پچاس کروڑ سالانہ وصول ہوتا ہے اور یہ رقم امداد اور تعلیم سے متعلق سرگرمیوں کے لئے صرف کی جاتی ہے۔” انہوں نے سعودی عرب میں مقیم کسی بھی ایجنسی سے رقم وصول کرنے سے انکار کیا۔ واضح رہے کہ آج اجمل فاؤنڈیشن کے چیف ٹرسٹی اور ممبر پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے بھی پریس کانفرنس کرکے مشکوک تنظیموں سے فنڈز کے حصول اور ان کے غیر قانونی استعمال کو سرے سے خارج کیا اور کہا ہے کہ یہ دراصل بی جے پی اور دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے ہماری پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچانے کی سازش ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ہر قسم کی جانچ کے لیے تیار ہیں اور اس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم جو بھی غیر ملکی امداد حاصل کرتے ہیں وہ تمام تر ہندوستانی قوانین اور ضابطوں کے مطابق حاصل کی جاتی ہے اور اس کے تمام تر حسابات ہمارے پاس موجود ہیں،کبھی بھی کسی بھی قسم کی جانچ کے لیے ہم تیار ہیں۔