اجمل فاؤنڈیشن کی ملی و رفاہی سرگرمیوں،این آرسی کی تاریخ اور آسامی مسلمانوں کے دیگر مسائل پر مولانا بدرالدین اجمل کے فرزند عبدالرحمن اجمل کی اہم گفتگو

مکالمہ کار:ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

ہندوستانی مسلمانوں نے ہر دور میں اپنے دیگر برادرانِ وطن کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کیا۔ چاہے بادشاہت کا دور ہو یا امرا اور جاگیرداروں کا یا پھرعام مسلمانوں کی بات ہو۔ ہندوستان کی تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ایک ہزار سالہ دورِ حکومت میں مسلم سلاطین نے رفاہ عامہ کے لئے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ شفا خانے، سرائے، نہریں، کنویں اب بھی ان کے آثار موجود ہیں۔ جبکہ گردوارے، گرجا گھروں اور منادر کے لئے اراضی کا عطیہ دیا۔ جن پر اِن عبادت گاہوں کی عمارتیں اب بھی موجود ہیں۔ انگریزوں نے مذہبی نفرت، دشمنی، تعصب کا بیج بویا۔ مفاد پرست فرقہ وارانہ طاقتوں نے اس کی آبیاری کی۔ اور آج فرقہ پرست جماعتیں مذہبی منافرت اور دشمنی کی فصل کاٹ رہی ہے۔ ہندوستان کو ہندو راشٹربنانے کی کوشش جاری ہے۔ کبھی حیدرآباد کو دہشت گرد اور روہنگیا پناہ گزینوں کی آماجگاہ قرار دے کر اُسے نشانہ بنایا جارہا ہے تو بہت پہلے سے آسام میں بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کابہانہ بناکر وہاں کی ایک کروڑ سے زائد مسلم آبادی کو ہراساں اور پریشاں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آسام  کے مسلمان ہی نہیں بلکہ دوسرے طبقات سے وابستہ عوام بھی غیر یقینی حالات سے دوچار ہیں۔ ان کے لئے اجمل خاندان اور آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (AIUDF)بہت بڑا سہارا ہے۔ مولانا بدرالدین اجمل کی زیر قیادت AIUDF این آر سی کے نام پر مسلمانوں،آدی واسیوں اور پہاڑی قبائل کی ایک بڑی تعداد کو شہریت سے محروم کرنے کی منصوبہ بند سازش کے خلاف ایک چٹان کی طرح فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف ڈٹی ہوئی ہے۔ اجمل خاندان بنیادی طور پر خوشبوؤں کا سوداگر ہے۔ اجمل عطریات کی مہک ساری دنیا کی فضاؤں میں ہے۔ جبکہ آسام میں سسکتی، بلکتی انسانیت کے لئے اجمل فاؤنڈیشن کی خدمات کی مہک بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔ مولانا بدرالدین اجمل کے فرزند مفتی عبدالرحمن اجمل ٹرسٹی اجمل فاؤنڈیشن و سابق ایم ایل اے سے ایک ٹیلیفونک انٹرویو لیا گیا جس کا خلاصہ قارئین کی نذر ہے۔

مفتی عبدالرحمن اجمل 1983ء میں ممبئی میں پیدا ہوئے۔ وہ 6بھائیوں اور ایک بہن میں سب سے بڑے ہیں۔ابتدا میں ICSC اسکول میں تعلیم حاصل کی۔پھر مولانا غلام محمد وستانوی  صاحب کے قائم کردہ  جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم  اکل کواسے حفظ ِقرآن کی تکمیل کی۔ دارالعلوم دیوبند سے عالم اور مفتی  کاکورس کیا۔ ایک بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ اور فی الحال اپنے خاندانی بزنس کے ساتھ ساتھ اجمل فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی کی حیثیت سے اپنی  ملی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

عبدالرحمن اجمل کے جدامجد حاجی اجمل علیؒ عطریات، اگربتی اور مختلف قسم کی خوشبوؤں کے تاجر تھے جنہوں نے اپنی جدوجہد، محنت اور دیانتداری سے عالمی سطح پر اپنی پہچان بنائی۔ ہوجائی (Hojai) میں جو ریاست آسام کا  ایک مشہور قصبہ تھا جسے اب ضلع کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ یہاں حاجی اجمل علی نے دواخانہ کی ضرورت کو محسوس کیا کیوں کہ یہ سہولت نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے عزیز و اقارب اور اڑوس پڑوس کی خواتین اور بچوں کو لقمۂ اجل بنتے دیکھتے رہے تھے۔ انہوں نے اللہ کا نام لے کر 1986ء میں ہو جائی(Hojai) میں اپنے والد کے نام سے حاجی عبدالمجید میموریل چیریٹیبل ڈسپنسری قائم کی۔ جو دیکھتے ہی دیکھتے زخمی، سسکتی انسانیت کے لئے شفا کا سب سے بڑا مرکز بن گیا اور  بلا تفریق مذہب و ملت ہزاروں افراد اس سے فیضیاب ہونے لگے۔ جیسی نیت ویسا پھل۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ڈسپنسری 350بیڈس پر مشتمل ایک ملٹی اسپشیلیٹی ہاسپٹل میں بدل گئی اور 16/ستمبر 1995ء کا وہ تاریخ ساز دن تھا جب نوبل انعام یافتہ مدر ٹریسا نے حاجی عبدالمجید میموریل ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سنٹر کا افتتاح کیا۔ حاجی اجمل علی مرحوم کی یہ خوش نصیبی رہی کہ آپ کی شریک زندگی محترمہ مریم اجمل صاحبہ بھی انسانیت کے جذبہ سے سرشار تھیں۔ مظلوم آنکھوں سے آنسو خشک کرنا، زخمی احساس کو مرہم لگانا، غریب نادار لڑکیوں کے گھر بسانا، بیواؤں اور اسکول جانے والے بچوں کی کفالت ان کی زندگی کا نصب العین رہا۔ حاجی اجمل علی جو 2009ء میں مرحوم ہوگئے‘ ان کے پانچ فرزند امیرالدین اجمل، فخرالدین اجمل، مولانا بدرالدین اجمل، سراج الدین اجمل اور نذیر اجمل مرحوم ہیں۔ ان سب کو انسانیت کی خدمت ورثے میں ملی۔ مولانا بدرالدین اجمل نے اجمل خاندان کے عطر و خوشبو کی موروثی تجارت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں اور دیگر قوموں کے غریب، مزدور اور پسماندہ لوگوں کی فلاح و بہبود کی خاطر سیاسی میدان کا بھی انتخاب کیا۔ پہلے وہ ایم ایل اے بنے، پھر  تین بار سے لگاتاررکن پارلیمنٹ منتخب ہو رہے ہیں۔

آسام میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا سلسلہ کانگریس کے دورِ حکومت ہی میں شروع ہوگیا تھا۔ ترون گگوئی  صاحب کی زیر قیادت کانگریس مسلمانوں کے ووٹوں کی مدد سے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”جس کے ساتھ احسان کرو اس سے نقصان کی امید رکھو“۔ گگوئی صاحب اس قول کی صداقت پر کھرے اترے۔ آسام گنا پریشد (AGP) نے غیر ملکی کے نام پر مسلمانوں کو پریشان کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ  کانگریس کے دورِ حکومت میں مزید خطرناک ہوتا چلا گیا اور کانگریس سرکار مسلمانوں کو  خوف میں مبتلا کرکے ان کا ووٹ حاصل کرتی رہی۔ مسلمانوں نے بار بار ان سے غیر ملکی کے مسئلہ کو حل کرنے کی درخواست کی مگر ان کی باتوں پر کچھ بھی عمل نہیں ہوا۔واضح رہے کہ IMDT Act جو 1983 میں اندرا گاندھی کی حکومت میں آسام کے حالات کے پیشِ نظر بنایا گیا تھا اس میں یہ provision تھا کہ اگر کوئی کسی کو غیر ملکی یا بنگلہ دیشی کہتا ہے تو دعوی کرنے والے پر لازم تھا کہ وہ ثبوت پیش کرے، جس کے خلاف دعوی کیا گیا ہے اسے اس وقت تک نہیں کچھ کہا جا سکتا تھا جب تک اس کے خلاف ثبوت نہ پیش کر دیا جائے۔ اس قانون کی وجہ سے مسلمانوں کو راحت تھی مگر اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا جہاں آسام سرکار نے انتہائی کمزور حلف نامہ پیش کیا اور اس کے دفاع کی کوشش نہیں کی جب کہ جمعیۃ علماء ہند نے اس مقدمہ کو کو بساط کے مطابق لڑا مگر بالآخر سپریم کورٹ نے اس قانون کو رد اور ختم کر دیا۔ اس کے بعد مسلمانوں پر ظلم وستم کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ان حالات کے پیشِ نظر مولانا بدرالدین اجمل نے فدائے ملت اور جمعیۃ علماء ہند کے سابق صدرحضرت مولانا اسعد مدنیؒ سے آسام کے مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی روداد بیان کی۔ انہوں نے گگوئی کو خبردار کیا کہ اگر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا سلسلہ ختم نہ کیا گیا تو کانگریس کی حکومت کو برہم پترندی میں پھینک دیا جائے گا۔ گگوئی صاحب کی سرکار نے وعدہ تو کیا مگر عمل اس کے بر خلاف کیا اور مسلمانوں پر ظلم اور ان کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رہا بلکہ مسلمانوں کو اور زیادہ ستایا جانے لگا۔ داڑھی ٹوپی اور لنگی والے مسلمانوں کو رکشوں سے اُتار کر بنگلہ دیشی قرار دیا جانے لگا۔ اسی اثناء میں حضرت مولانا اسعد مدنیؒ علیل ہوگئے۔ مولانا بدرالدین اجمل اپنے وفد کے ساتھ دیوبند تشریف لے گئے۔ ان سے صورتحال بیان کی۔ مولانا اسعد مدنیؒ  نے فرمایا کہ بس اب ایک ہی راستہ ہے حالات سے مقابلہ کا کہ مسلمان اپنی قیادت میں غیر مسلموں میں سے کمزور اور غریب طبقہ کو ساتھ لیکر پارٹی بنائے اور نا انصافی کے خلاف جد وجہد کرے۔ چنانچہ 2005ء میں آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کی بنیاد ڈالی گئی۔ 2006ء میں پارٹی نے پہلا الیکشن لڑا، الحمدللہ 10ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ اور 15امیدوار معمولی سے فرق سے کامیاب نہ ہوسکے۔ 2011 ء میں AIUDF کے اٹھارہ ایم ایل اے منتخب ہوئے،اس کے بعد 2014 میں اس کے  تین ارکان پارلیمان منتخب ہوئے۔ یہ آسام میں مسلم سیاست کے انقلابی دور کا آغاز تھا۔ جناب عبدالرحمن اجمل نے بتایا کہ آسامی مسلمانوں کی شہریت کو مشکوک بنانے میں کانگریس نے پہل کی۔ آسام گن پریشد (AGP) نے مسلمانوں کو D-voters یعنی مشکوک ووٹر قرار دیا۔ یہ دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 80 ہزار غریب مسلمانوں کو مشتبہ ووٹرس قرار دینے کا عجیب و غریب ہی نہیں شرمناک واقعہ ہے۔ اس کے بعد جب دوبارہ کانگریس کا اقتدار آیا تو اس نے 80ہزار کی تعداد کو ڈھائی لاکھ کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت سرکار میں بیٹھے لوگوں نے ایک این جی اوکے ذریعے حکومت آسام کے خلاف ایک مقدمہ دائر کروایا کہ 1951ء سے 1971 کے درمیان 40تا 50لاکھ بنگلہ دیشی ہندوستان میں پناہ گزین ہوئے ہیں۔ لہٰذا ان سب کی شناخت کرکے ان کو نکالنے کے لئے این آر سی تیار کیا جائے۔ چوں کہ یہ مقدمہ چور دروازے سے خود حکومت آسام نے اپنے خلاف دائر کروایا تھا اس لئے اس نے کمزور حلف نامہ داخل کیا جس کا مقصد یہی تھا کہ راتوں رات 40لاکھ مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دیا جائے۔

مولانا بدرالدین اجمل نے ایوان پارلیمنٹ میں اس حساس اور سنگین مسئلہ کو بہت ہی متاثر کن انداز میں اٹھایا۔ دوسری طرف سپریم کورٹ میں مقدمات کے ذریعہ قانونی چارہ جوئی بھی کی۔ سالیسیٹر جنرل نے حکومت آسام کو لتاڑا۔ اس کے بعد جب بی جے پی حکومت اقتدار میں آئی تو اس نے این آر سی کو مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا ذریعہ بنانا شروع کیااور پرو پیگنڈہ کیا کہ 70، 80لاکھ آسامیوں کو جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہوگی بنگلہ دیشی قرار دے کر ان سے شہریت چھین لی جائے گی اور ملک بدر کردیا جائے گا۔ AIUDF نے زبردست جدوجہد کی۔ غریب اور غیر تعلیم یافتہ شہریوں کے دستاویزات کو درست کروایا۔ اس دوران این آر سی کا عمل مکمل ہوا تو این آر سی کے محرکین کو زبردست دھکہ لگا کیوں کہ جن 19 لاکھ شہریوں کے NRC میں نام نہیں تھے ان میں سے تقریباً تیرہ لاکھ غیر مسلم تھے۔آسام کی موجودہ حکومت نے این آر سی کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کی بہت کوشش کی۔ اس کے لئے انہوں نے پنچایت سرٹیفکٹ کو بھی باطل کروایا مگر مولانا بدر الدین اجمل اور دیگر حضرات نے سپریم کورٹ میں کامیاب قانونی چارہ جوئی کی اور سپریم کورٹ نے گاؤں پنچایت سرٹیفکیٹ کو قابل قبول قرار دیا۔ اس دوران سرکاری عملے نے فارمس میں خانہ پُری کے دوران غیر محسوس طریقے سے مسلمانوں کے فارمس پر N-O کا  اندراج کیا۔ AIDUF اس کے خلاف عدالت سے رجوع ہوئی اور فارمس میں بھی مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز کا جواب طلب کیا تو بتایا گیا کہ N-O کا مطلب Non-Origin یا غیر مقامی ہے۔ یعنی جو مقامی زبان نہیں بول سکتے۔ ہائی کورٹ کے مراٹھی وکیل ریٹائرڈ جسٹس نرلاپلی نے اس پر لتاڑا اور کہا کہ وہ مہاراشٹرا کے ہیں مگر مراٹھی نہیں جانتے۔

جناب عبدالرحمن اجمل نے کہا کہ AIDUF مذہب، ذات، پات، زبان اور علاقہ واریت کے خطوط سے بالاتر ہوکر ہر شہری کی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔ ایک طرف سیاسی میدان میں اس کی خدمات مسلمہ ہے تو دوسری طرف اجمل فاؤنڈیشن کے تحت کارپوریٹ سوشیل ریسپانسبلٹی CSR کے تحت اس کی خدمات کی لامحدود وسعتیں ہیں۔ اجمل فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ہوجائی، بدرپور، گوال پارہ، موئراباری میں 4ہاسپٹلس ہیں۔ جس میں تاحال 33لاکھ مریضوں کا علاج ہوچکا ہے جن میں سے لگ بھگ 18لاکھ مریضوں کو مالی اعانت بھی پیش کی گئی۔ اجمل فاؤنڈیشن حاجی عبدالمجید میموریل پبلک ٹرسٹ اور مرکز المعارف کے تحت سماجی بہبود اور تعلیمی خدمات انجام دی جاتی ہیں۔ گھر گھر تعلیم کی روشنی پھیلانے کے غرض سے تعلیمی اداروں کا جال پھیلادیا گیا ہے۔ الحمدللہ 42اسکولس، 25کالجس، ایک آئی ٹی آئی، پانچ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس قائم ہیں۔ اجمل اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت 19ہزار سے زائد بے روزگار نوجوان کو ٹریننگ دی گئی جن میں سے بیشتر ہندوستان اور بیرون ملک کمپنیوں میں برسر روزگار ہیں۔ اسوچیم(ASSOCHAM) نے اسکل ڈیولپمنٹ میں اجمل فاؤنڈیشن کو بہترین این جی او(Best NGO) کا ایوارڈ دیا۔ جبکہ مرکزالمعارف کو چیف منسٹر آسام نےDDU Best سنٹر قرار دیا۔

جہاں کہیں آفات سماوی سے انسانیت متاثر ہوتی ہے‘ اجمل CSR کی تنظیمیں امداد، راحت رسانی اور باز آبادکاری پروگرام کے تحت انسانیت کی خدمات شروع کردیتی ہیں۔ تاحال ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد اس سے فیضیاب ہوچکے ہیں۔ ابھی تک 78ہزار سے زائد غریب مستحق افراد کو خود کفیل بنانے کی غرض سے ای۔رکشا، رکشا، سائیکل، ٹھیلے، سلائی مشین، ماہی گیر کشتیاں، ماہی گیری کے جال، میوہ فروشی کے ٹھیلے فراہم کئے گئے ہیں۔ بیواؤں کے آنسو بھی پونچھے جاتے ہیں۔ اور ان کے سر پر آسرابھی فراہم کرنے کی غرض سے سطح غربت سے نیچے بسنے والی 3282 بیواؤں کو  مکانات تعمیر کرکے دیئے گئے۔ نیپال میں زلزلے کے متاثرین کی مدد کیلئے پرائم منسٹر ریلیف فنڈ میں 35لاکھ روپئے اور آسام سیلاب سے متاثرین کی امداد کے لئے آسام سی ایم ریلیف فنڈ میں 10لاکھ روپئے۔ اسی طرح کووڈ 19 کے مریضوں کی امداد کے لئے سی ایم ریلیف فنڈ میں 10لاکھ روپئے دیئے گئے۔ آسام کے غریب کینسر کے مریضوں کے علاج کے لئے اجمل فاؤنڈیشن اور ٹاٹا میڈیکل سنٹر کولکتہ کے درمیان باہمی تعاون ہے۔ مریضوں کو مالی امداد بھی دی جاتی ہے۔ آسام کے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے میڈیا ویلفیر انڈومنٹ فنڈ ہے‘ تاحال 500 سے زائد صحافی فیضیاب ہوئے۔ آسام اور شمال مشرقی ریاستوں کے ضرورت مند مریضوں کے لئے اجمل کینسر کیئر فاؤنڈیشن کی غیر معمولی خدمات مسلمہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیموں کی کفالت کی ہدایت فرمائی ہے۔ اجمل CSR بے یارو مددگار یتیموں کی مدد کرتا ہے۔ شمال مشرقی علاقوں میں 6یتیم خانے قائم کئے گئے ہیں۔ 9ہزار سے زائد یتیم فیضیاب ہورہے ہیں۔

تعلیم کی روشنی پھیلانا سب سے اہم مقصد ہے۔ چنانچہ اجمل فاؤنڈیشن آسام کے باصلاحیت، ہونہار طلبہ کی دہلی میں آئی اے ایس کوچنگ کو اسپانسر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اجمل سوپر 40 پروگرام کے تحت میڈیکل اینڈ انجینئرنگ کوچنگ پروگرام کاکامیاب اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس سے مستفید ہونے والے ہونہار طلبہ میڈیکل اور انجینئرنگ طلبہ فری سیٹس حاصل کرتے ہیں۔ معذور افراد کے لئے اجمل CSR کی جانب سے وہیل چیئر، ٹرائی سائیکل، بلائنڈ اسٹکس، آلات سماعت مہیا کئے جاتے ہیں۔ اجمل فاؤنڈیشن کی خدمات بلالحاظ مذہب و ملت ہے چنانچہ امرسنگھ تھاپا سب سے بہترین مثال ہے جس نے اجمل فاؤنڈیشن سے فیضیاب ہوکر بارہویں جماعت کے امتحان میں پورے اسٹیٹ میں ٹاپ کیا۔ بٹس پلانی(Bits Pilani) میں داخلے کے لئے اجمل فاؤنڈیشن نے 25لاکھ روپئے اسکالر شپ فراہم کی ہے۔

جناب عبدالرحمن اجمل نے بتایا کہ اجمل فاؤنڈیشن اور AIUDF کی خدمات اس قدر شفاف ہیں کہ اپنے اور پرائے سبھی اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ جب کبھی سازشی عناصر بے داغ دامن کو اپنے الزامات سے داغدار کرنا چاہتے ہیں تو غیر مسلم برادرانِ وطن ہمارے دفاع میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے۔ ہمارا یہی ایقان ہے کہ ہم رحمۃ للعالمین کے امتی ہیں۔ ہمارا وجود سب کے لئے فیض رسانی کا ذریعہ بنے۔

جہاں تک موجودہ سیاسی حالات کا تعلق ہے‘ عبدالرحمن اجمل نے کہا کہ بی جے پی کھلا دشمن ہے۔ اس کا رویہ سفاک ہے۔ اس کی پالیسی بدلنے والی نہیں ہے۔ اس کا ایک مقصد ہے۔ اس ملک کو مکمل ہندو راشٹرا بنانا۔ کانگریس کا جہاں تک تعلق ہے‘ اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد اس کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔ اس کی پالیسی بدل سکتی ہے۔ آسام کی ایک خاصیت ہے کہ نہ تو مغل اور نہ ہی انگریز آسام پر حکومت کرسکے۔ کیوں کہ اس پہاڑی علاقہ کے لوگ پہاڑ کی طرح عظیم اور مضبوط ہیں۔ ان کے ارادوں سے ٹکراکر ناپاک عزائم چکناچور ہوجاتے ہیں۔ یہ ہمارا ملک ہے‘ جس کے ہم برابرکے شہری ہیں۔ اس کے ذرہ ذرے سے ہمیں محبت ہے۔ اس سے وفاداری ہماری رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔ ہمارے اسلاف نے اس ملک کو انگریزوں سے آزاد کرنے کے لئے قربانیاں دیں آج ہم اس ملک کو فرقہ پرستی سے آزاد کرانے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ قربانیاں دے رہے ہیں۔ رہی بات بی جے پی کی تو ان شاء اللہ ہم آنے والے الیکشن میں بی جے پی کو برہم پترا ندی کی نذر کردیں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*