اجے مالوی کی تحقیدی فکریات-حقانی القاسمی

haqqanialqasmi@gmail.com
Cell:9891726444

اجے مالوی کا تحقید (تحقیق +تنقید) سے گہرا رشتہ ہے۔ ان کی تحریریں محض مستعار افکار پر مرکوز نہیں ہوتیں بلکہ وہ اپنے طور پر بھی نتائج کا استخراج اور استنباط کرتے رہتے ہیں۔ نئے زاویوں اور جزیروں کی جستجو ان کے تحقیقی تنقیدی جنون میں شامل ہے۔وہ رسمی اور ر وایتی موضوعات میں بھی انفرادی راہ تلاش کر لیتے ہیں۔ اجے کا دائرۂ نقد کسی خاص صنف تک محدود نہیں ہے بلکہ جملہ اصنافِ ادب پر ان کی نظر ہے اور نگارشات بھی۔ ادبی ثقافتی مباحث پر تسلسل سے اُن کی تحریریں مقتدر مجلات اور رسائل میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ اُن کی تازہ ترین کتاب ’غبارِ فکر‘ میں شامل تمام مضامین اُن کے علمیاتی شعور ، مطالعاتی وسعت اور ادراکی قوت کا مظہر ہیں۔
اصناف کے اعتبار سے اُن کے مضامین اور مقالات میںتنقید، شاعری (غزل، نظم، قطعہ) فکشن سبھی شامل ہیں۔ اُن کی کچھ تنقیدی تحریروں میں عمومیت کا ایک پہلو نکل سکتا ہے۔ مگر تحقیقی مقالات اُن کے انفراد اور اختصاص کا اشاریہ ہیں اور اجے مالوی کے اصلی جوہر ان کے تحقیقی مقالات میں ہی کھلتے ہیں۔ کیوں کہ جن موضوعات اور مباحث سے اُن کی تحریروں کا رشتہ ہے وہ گہری ریاضت، ژرف نگاہی ،محنت اور مشقت کے بغیر وجود میں نہیں آسکتے۔ اس نوع کے مضامین اردو میں خال خال ہی ملتے ہیں۔ اردو میں ہندوؤں کے مذہبی نصوص و صحائف اُن کے خصوصی مطالعہ کا مرکز ہیں اس لئے انہوں نے رگ وید، رامائن، مہابھارت، بھگوت گیتا، پران، منو سمرتی پر تحقیق کی ہے جس پر اردو میں مبسوط تنقیدی، تحقیقی کتب و مقالات کی قلت ہے۔ اِن مضامین سے اُردو کی وسیع تر ،کشادہ اور سیکولر روایت سے اس کا رشتہ جڑتا ہے اور اُن غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہوتا ہے جو بہت سے ذہنوں میں اردو زبان کے تشخصاتی کردار کے حوالہ سے جنم لیتی رہی ہیں۔ اجے مالوی کے یہ تحقیقی مقالات یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ اردو کسی خاص قوم یا مذہب سے مشخص نہیں ہے بلکہ ایک جمہوری زبان ہے جس میں تمام مذاہب کے لئے بڑی گنجائشیں رہی ہیں۔ یہ وہ تکثیریت پسند زبان ہے جس میں تمام افکار و اقدار کے جذب و انجذاب کی پوری قوت ہے۔ میں نے پنے ایک مضمون میں بہت پہلے یہ لکھا تھا کہ:
’’اردو اخوت، اتحاد، احترام، ٓدمیت اور انسانیت سے عشق کی زبان ہے۔ اس لئے اس کا ارتکاز انسانی افکار و اقدار پر ہے۔ یہ دراصل وحدت اضداد (Unity of opposites) کی زبان ہے جس میں تمام تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی تصورات و تخیلات کے لئے گنجائش ہے۔ اس زبان میں جہاں مسلمانوں کے مذہبی صحیفے موجود ہیں وہیں سناتن دھرم اور دیگر مذاہب کی کتابیں ہیں۔ اس زبان نے تمام تفریقی تشخصات اور تقطیبی شناختوں کو مسترد کیا ہے۔ اس لئے اسے کسی ایک مذہب، قوم یا ملک سے مختص نہیں کیا جا سکتا۔ اس زبان نے Polar Opposites کو لسانی اور فکری سطح پر بھی مسترد کیا ہے اس کا لسانی اور فکری دائرہ نہایت وسیع ہے اور تمام زبانوں اور تہذیبوں کو محیط ہے۔‘‘
تحقیقی زمرے کے تعلق سے اس مختصر سی تمہید کے بعد تنقیدی زمرے کے مضامین کی تفصیل میں جایا جائے تو بہت سے وقیع اور بیش قیمت تحریروں سے روبرو ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اس میں ’مابعد جدیدیت اور گوپی چند نارنگ‘ کے عنوان سے ایک مضمون شامل ہے جس میں اجے مالوی نے ما بعد جدیدیت کے مباحث کو منطقی اور معروضی انداز میں سمیٹتے ہوئے اردو میں مابعد جدیدیت اور ساختیات کے بنیاد گزار گوپی چند نارنگ کے مابعد جدید تصورات اور نظریات پر مدلل گفتگو کی ہے اور مابعد جدید ادب کے امتیازات کو واضح کیا ہے۔ اردوئی مابعد جدیدیت کے انقلاب آفریں کردار کی انہوں نے ستائش بھی کی ہے۔
’نئے عہد کی تخلیقیت کا دانائے راز ناقد نظام صدیقی ‘میں اجے مالوی نے ان کی تنقیدی کتاب ’مابعد جدیدیت سے نئے عہد کی تخلیقیت تک‘ میں شامل تحریروں کو محور و مرکز بنا کر اس کتاب کو جامع اور نظام صدیقی کو ایک نئے میلان، نئے عہد کی تخلیقیت کا نقیب قرار دیا ہے۔ ان کے وسیع ترین مطالعہ اور گہری تنقیدی بصیرت کی داد دی ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ صرف اردو کے نقاد نہیں ہیں بلکہ انگریزی اور فرانسیسی زبان میں بھی اُن کی تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں۔ اور یہ بھی کہ وہ صرف ناقد نہیں بلکہ فکشن نگار بھی ہیں۔
اجے مالوی نے اردو صحافت کو بھی اپنا موضوع بنایا ہے۔ اس تعلق سے اُن کی تحریر ’ہندوستانی صحافت کے تناظر میں اردو صحافت نگاری‘ اس کتاب میں شامل ہے۔ جس میں انہوں نے اردو صحافت کے آغاز و ارتقاء ، تحریک آزادی میں اردو اخبارات کا کردار اور اپنے شہر الہ آباد سے شائع ہونے والے اخبارات اور مجلات کا بھی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے الہ آباد سے شائع ہونے والے ’سوراجیہ اخبار‘ کہ ایک معنی خیز اور دلچسپ اشتہار کے بارے میں بھی بتایا ہے۔ اشتہار کا مضمون کچھ یوں ہے : ’’ایک جو کی روٹی اور ایک پیالہ پانی یہ شرح تنخواہ ہے جس پر سوراجیہ الہ آباد کے واسطے ایک ایڈیٹر مطلوب ہے۔‘‘اجے نے اس مضمون میں مساوات، نئی روشنی، ہمارا اخبار وغیرہ کے علاوہ ادیب، ہندوستانی، کارواں، نکہت، شب خون اور شب رنگ کا بھی ذکر کیا ہے۔
حب الوطنی اور قومی یکجہتی کے حوالے سے اردو میں بہت سی کتابیں اور مضامین لکھے گئے ہیں اور یہ ایسا موضوع بن گیا ہے جس پر ہر کوئی خامہ فرسائی کر رہا ہے۔ مگر حب الوطنی کے حقیقی مفاہیم اور تصورات کیا ہیں اِن پر کم ہی گفتگو کی جاتی ہے۔ اجے مالوی نے بھی اس موضوع پر شاعری اور افسانہ کے حوالہ سے مبسوط گفتگو کی ہے۔ شاعری کے تعلق سے اُن کے مضمون کا عنوان ہے’اردو شاعری میں حب الوطنی اور قومی یکجہتی کے عناصر‘‘ جس میں انہوں نے حب الوطنی کی توضیح و تشریح کرتے ہوئے اردو میں شعراء کے اشعار سے استشہاد پیش کیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ’’ اردو شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت، وطن دوستی، قومی یکجہتی، یگانگت، امن و امان، رواداری، بھائی چارہ اور اس کی اعلیٰ قدروں کی ترجمانی ہر دور میں ہوتی رہی ہے۔‘‘ اردو زبان کے تعلق سے یہ نہایت مخلصانہ اور منصفانہ اعتراف ہے۔ اسی زمرے کا ایک اورمضمون ’’اکیسویں صدی کے افسانوں میں حب الوطنی‘‘ بھی ہے جس میں اجے مالوی نے افسانوں میں امثلہ اور شواہد سے حب الوطنی کے عناصر کی جستجو کی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ اردو کے شعری یا افسانوی متون کے بین السطور میں ملک اور وطن سے محبت اور الفت کا جذبہ نمایاں رہا ہے۔
’نئی غزلیہ تخلیقیت کا جشن جاریہ ‘میں اجے مالوی نے معاصر غزل گو شعراء کے ذہنی رویے، اظہاری اسالیب اور طریقۂ کار پر عمدہ گفتگو کی ہے۔ ان کا یہ خیال بہت اہم ہے کہ:’’ اس مابعد جدیدیت کے تناظر میں نئی غزلیہ شاعری، نئے عہد کی نئی اضافی عصریت، نئی اضافی معنویت اور نئی اصافی فنیت سے مملو ہے۔ ‘‘
’اکیسویں صدی میں اردو نظمیہ شاعری‘اس اعتبار سے اہم ہے کہ انہوں نے معاصر نظمیہ شاعری کے رویے اور رجحانات پر گفتگو کرتے ہوئے مابعد جدید شعراء کے یہاں مقامی، قومی، عالمی، فکری لہروں کو تلاش کیا ہے اور نظم کے موجودہ موضوعات پر بسیط گفتگو کی ہے۔
نظیر اکبرآبادی بھی ایک ایسی شخصیت ہیں جن کے تمام شعری زاویوں کے حوالہ سے کتابیں اور مضامین موجود ہیں شاید ہی اب کوئی ایسا پہلو ہو جو تشنہ رہ گیا ہو۔اجے مالوی نے انہیں بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نظیر اکبر آبادی کی شاعرانہ معنویت کے عنوان سے مضمون لکھا ہے جس میں انہوں نے نظیر کی شاعری میں ہندوستانی معاشرت کے غالب عناصر کی جستجو کی ہے اور نظیر کی شاعری کا عمدہ محاکمہ کیا ہے۔
’حالی کی قطعہ نگاری ‘بھی اُن کا ایک مضمون ہے جس میں انہوں نے خواجہ الطاف حسین حالی کی افادی اور مقصدی شاعری کو مضوع بنایا ہے اور انہیں اردو کی نظمیہ شاعری کا باکمال پیامبر قرار دیا ہے۔
فانی بدایونی ایک ایسے شاعر ہیں جن کی فکر اور فلسفے کے حوالہ سے متضاد نوعیت کی تحریریں مجلات میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ کوئی انہیں قنوطی پسند شاعر قرار دیتا ہے اور یاسیت کا امام بھی بتاتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں نے فانی کی شخصیت کو ان کی شاعری کے سیاق و سباق میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اسی لئے اُن کی شاعری اور شخصیت کو یاس و نااُمیدی اور غم سے مربوط کر دیا ہے۔ اجے مالوی نے بھی انہیں غمِ حیات کا شاعر قرار دیا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ فانی بدایونی کو زندگی میں بہت سی آسائشیں اور سہولیات میسر تھیں اور اُن کی شاعری اُن کی شخصیت کا مکمل آئینہ نہیں ہے۔
میراجی کے گیت میں انہوں نے اُن کے گیتوں کے حوالہ سے اچھی بحث کی ہے اور اُن کے فنی امتیازات کو روشن کیا ہے۔ اِن کے علاوہ اردو ادب میں گاندھیائی فکریات کے عنوان سے ایک اچھی تحریر ہے جس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اردو ادب پر گاندھی کے آدرش کا بہت گہرا اثر ہے اور اردو زبان و ادب نے مہاتما گاندھی کے افکار و اقدار کو روشن کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے علاوہ جعفر رضا کے شعری افکار، لولاک کی اقداری اور جمالیاتی معنویت، انیسواں ادھیائے کی قدریاتی معنویت، پروین کمار اشک کی غزلیہ شاعری، زبیرالحسن غافل کی شعری کائنات، اسرار گاندھی کا افسانوی فکر و فن، بھوک کشمیر کو بنگال بنا دیتی ہے : ایک تجزیاتی مطالعہ جیسے مضامین شامل ہیں۔ جن سے معاصر تخلیقی رویے اور جحانات کی تفہیم میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے پروفیسر اعجاز حسین کی کتاب ’مختصر تاریخ ادب اردو‘ پر بھی ایک نظر ڈالی ہے اور یہ لکھا ہے کہ تاریخ ادب اردو کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
تحقیقی زمرے میں جو مقالات شامل ہیں ان کے عنوانات حسب ذیل ہیں:
1۔رگ ویدی تہذیبی تناظر میںلفظ اردو کی اصطلاحی معنویت و اہمیت ہے
2۔ اردو میں رامائن
3۔ اردو میں مہابھارت
4۔ اردو میں شریمد بھگود گیتا
5۔ اردو میں پران
6۔ اردو میں منو سمرتی
7۔ اردو میں یوگ واسشٹھ
اس باب کے تمام مضامین دستاویزی اور حوالہ جاتی حیثیت کے حامل ہیں اور یہ اردو کے تعلق سے تعصبات کے تارِ عنکبوت میں جکڑے ہوئے ذہنوں کے لئے تازیانہ بھی ہیں۔اجے مالوی نے اپنے پہلے مضمون میں اردو کے تعلق سے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ اردو نہ تو ترکی نژاد لفظ ہے اور نہ ہی لشکر کے معنی میں ہے بلکہ یہ خالص ویدک لفظ ہے۔ یہ اُر اور دُو کا مجموعہ ہے۔ اُنہوں نے اُر کا معنی دل دُو کا معنی جاننا لکھا ہے۔ یعنی روح اور جان کو جاننا ۔ا س کا تعلق معرفت، مَن اور دل سے ہے۔ اُنہوں نے سنسکرت اور فارسی زبانوں میں الفاظ اور تلفظ کی یکسانیت پر بھی روشنی ڈالی ہے اور اردو زبان میں وید سے متعلق 89 کتابوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ یہ مضمون اردو کی پیدائش کے تعلق سے کافی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں اردو کے آغاز سے متعلق محققین سے الگ موقف اختیار کیا گیا ہے۔
رامائن کو ہندوستان کا مہا بیانیہ سمجھا جاتا ہے۔ اجے مالوی نے اس مہا بیانیہ کی جمالیاتی ،قدریاتی، علمیاتی، قدسیاتی، الوہیاتی معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے رامائن پر گفتگو کرتے ہوئے اردو میں تقریباً ڈیڑھ سو رامائنوں کا ذکر کیا ہے۔ غیر مسلم ترجمہ نگاروں کے علاوہ انہوں نے رامائن کے مسلمان ترجمہ نگاروں میں مہدی نظمی، طالب الہ آبادی، نفیس خلیلی، رند رحمانی، امتیازالدین خان اور صفدر آہ کے نام لکھے ہیں اور رامائن سے متعلق تقریباً 133 مطبوعات کا ذکر کیا ہے۔ یقینی طور پر رامائن کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور دنیا کی بہت سی زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے ہیں۔ فارسی میں بھی رامائن کے کئی ترجمے ہیں۔ شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے حکم پر مُلّا عبدالقادر بدایونی نے رامائن کا فارسی میں بھی ترجمہ کیا ہے۔ ودیع البستانی لبنانی نے ’الرامیانہ ملحمۃ معربہ شعراً‘ کے عنوان سے عربی میں اس کا ترجمہ کیا ہے جسے ’دائرۃ الثقافہ والسیاحۃ‘ابوذہبی نے شائع کیا ہے۔
مہا بھارت بھی ایک ہندوستانی رزمیہ ہے جس میں بھرت خاندان کے حالات درج کئے گئے ہیں۔ اردو میں بھی مہا بھارت کے تعلق سے تقریباً 22 تصنیفات ہیں اور اس کے مسلم ترجمہ نگاروں میں جلال افسر سنبھلی، عبدالعزیز خالد، قاضی محمد نیر القریشی، منشی ریاض الدین نظیر لدھیانوی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اس کا بھی ترجمہ عربی اور فارسی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ فارسی میں اکبر کے زمانے میں رزم نامہ کے نام سے اس کا ترجمہ ہوا تھا۔ عربی میں ودیع البستانی نے المہابھارتہ الملحمۃ الھندیہ کے عنوان سے اس کا ترجمہ کیا ہے جو 1952 میں بیروت سے شائع ہوا۔ ان لوگوں نے مہابھارت کو اردو داں طبقہ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ یہ تراجم مہابھارت سے ایک لگاؤ کا ثبوت دے رہے ہیں۔
شری مد بھگود گیتا بھی ہندو دھرم کا ایک عظیم صحیفہ ہے۔ اردو میں تقریباً اس کے 128 تراجم ہیں۔ اس کے مسلمان مترجمین میں احقر لکھنوی، انور جلال پوری، حسن الدین احمد، خلیفہ عبدالحکیم، خواجہ دل محمد، خواجہ زکریا فیاضی، رفیع الدین خادم، سید غیاث الدین، عبدالقادر ندوی، شیخ عبدالغنی، محمد اجمل خان، شان الحقی حقی کے نام لئے جا سکتے ہیں۔
اجے مالوی نے ارددو میں پران کے ترجموں پر بھی گفتگو کی ہے۔ اسے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی روح قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس کے مفہوم، تعداد، برہما پران، پدم پران، وشنو پران کا ذکر کرتے ہوئے اردو میں 44 مطبوعات کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے منو سمرتی جسے ایک دھرم شاستر کی حیثیت حاصل ہے اس میں حیات و کائنات کے مسائل اور فلسفوں پر ذکر کرتے ہوئے اردو میں اس کے چار ترجموں کا بھی ذکر کیا ہے۔ یوگ واشسٹھ پر بھی انہوں نے مضمون لکھا ہے۔ جسے ایک عظیم صحیفہ کی حیثیت حاصل ہے۔ اردو میں بھی اس کے ترجمہ ہوئے ہیں۔ اس کا ایک ترجمہ ابوالحسن فرید آبادی نے منہاج السالکین کے نام سے کیا تھا۔ دوسرا ترجمہ سید ابوظفر ندوی نے کیا جو خدا بخش لائبریری پٹنہ سے 1994ء میں شائع ہوا۔
ہندوؤں کے مقدس صحائف کے اردو میں ترجمے اردو کے سیکولر مزاج ، باہمی رواداری کا ثبوت ہیں۔ یہ اس Narrative کی مکمل نفی ہے جو اردو کے تعلق سے بہت سے ذہنوں میں ہیں۔
یہاں یہ بات کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ اردو زبان کا دامن تمام مذاہب کے مقدس صحائف کے تصورات اور تجلیات سے مزین اور مالا مال ہے۔ اردو سے تعلق رکھنے والوں نے مقدس ہندو نصوص کے تراجم میں نہ صرف دلچسپی لی بلکہ اس کی تشریحات اور تعبیرات بھی پیش کی ہیں۔ ہندو مت پر اردو میں علمی مواد کا بہت اہم ذخیرہ ہے۔ پاکستان کے ڈاکٹر محمد اکرم نے ہندومت پر اردو میں علمی مواد ایک موضوعاتی کتابیات کے عنوان سے ایک تحقیقی مقالہ تحریر کیا ہے۔ جس میں انہوں نے تقریباً 1112 کتابوں اور مقالات کا ذکر کیا ہے۔ اس کتابیات سے یہ اندازہ لگانابہت آسان ہے کہ اردو زبان میں ہندوؤں کے کلاسیکی لٹریچر اور نصوص پر اچھا خاصہ سرمایہ موجود ہے اور ان کتابوں کا مقصد دونوں طبقے کے مذہبی تصورات اور عقائد میں تلفیق اور تطبیق کی صورت تلاش کرنا ہے۔ ہندو مت پر مسلم مطالعات کا بھی ایک وقیع سرمایہ موجود ہے اور یقینی طور پر یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اردو سے تعلق رکھنے والے دانشوروں نے ہمیشہ احترام مذہب، مذہبی ہم آہنگی اور بقائے باہمی کے تصور کو فروغ دیا ہے اور ہندوستان کی مذہبی لسانی اور ثقافتی تکثیریت پر اِن کا ایمان و ایقان رہا ہے۔
اس باب میں شامل اجے مالوی کی تمام تحریریں چشم کشا ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان مضامین کے ترجمے ہندی اور دیگر علاقائی ہندوستانی زبانوں میں کئے جائیں تاکہ ذہنوں میں جو بدگمانیاں اور غلط فہمیاں ہیں ان کا ازالہ ہو سکے۔ علمی ڈسکورس کو سیاسی ڈسکورس میں تبدیل کرنے کی وجہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں میں مذہب اور تاریخ کو لے کر خلیج بڑھتی جا رہی ہے جب کہ علمی ڈسکورس اس خلیج کو پاٹنے میں اہم رول ادا کر سکتا ہے۔ اجے مالوی کے مضامین اسی ڈسکورس کا ایک حصہ ہیں۔ان مضامین سے اردو کی نظریاتی اور فکری کشادگی کے علاوہ مسلمانوں کی علمی بے تعصبی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ دیگر مذاہب کی ترویج میں اردو کا اہم حصہ رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد عزیر نے اس تعلق سے ایک مبسوط کتاب بھی تحریر کی ہے جو انجمن ترقی اردو ہند سے شائع ہوئی۔
یہاں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ اردو سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کو ہندو اساطیر و عقائد سے بہت گہرا شغف رہا ہے جس کا ثبوت اردو شاعری اور افسانے ہیں۔ اجے مالوی یقینا قابل مبارک باد ہیں کہ انہوں نے ایک ایسے موضوع کو منتخب کیا ہے جو آج کے عہد کی بہت بڑی ضرورت کی تکمیل کرتا ہے۔ یہ محض سیاہ روشنائی میں چھپی ہوئی لکیریں نہیں ہیںبلکہ شبد چراغ ہیں۔ یہ اگر روشن رہے تو یقینا ذہنوں کی تاریکیاں مٹ جائیں گی اور امن، انسانیت اور رواداری کا ایک نیا منظر نامہ ہمارے روبرو ہوگا۔