عجب قیامت کا حادثہ ہے ـ مفتی اشرف عباس قاسمی استاذ دارالعلوم دیوبند

 

ہمارے انتہائی مشفق استاذ،مربی وسرپرست محقق عصر حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی محدث دار العلوم دیوبند بھی ماہ مبارک کے آخری دن اپنے رب کے حضور پہنچ گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

حضرت مولانا سے ہمارا جو قدیم نیاز مندانہ تعلق تھا اور حضرت کی جو شفقتیں اور عنایتیں حاصل تھیں، ان کے پیشِ نظر ذاتی اعتبار سے بھی میرے لیے آج کا حرماں نصیبی اور بڑے صدمے کا ہے۔ حضرت مولانا انقطاع الی العلم ذوق مطالعہ اور علم و تحقیق کے خوگر ہونے کے اعتبار سے علماء سلف کی یادگار اور ان کی روایات کے امین تھے،فن حدیث کے ان چند متبحر علماء میں تھے جن سے اس ملک میں فن کی آبرو قائم ہے۔درس حدیث میں درایتی پہلو کے ساتھ اسانید اور رواۃ حدیث پر بھی زبردست محققانہ کلام کرتے تھے،صحیح مسلم اور سنن ابی داؤد کے اسباق عرصے سے آپ سے متعلق تھے، انتظامیہ نے صحیح بخاری کے چند اجزاء بھی آپ سے متعلق کردیے تھے لیکن دارالعلوم میں مسلسل چل رہے تعلیمی تعطل کے سبب اس کا آغاز نہیں ہو سکا تھا۔ تاریخ، سوانح، حدیث،رجال اور مختلف علمی و دینی موضوعات پر تذکرہ علمائے اعظم گڑھ، مقالات حبیب، شیوخ أبی داود فی سننہ اور انتقاء کتاب الاخلاق وغیرہ کی صورت میں عربی واردو میں قابل قدر تصنیفی سرمایہ چھوڑا ہے۔ وہ جمعیت علمائے ہند کے صف اول کے ذمہ داران، اور اس کے تحریری و فکری سرمایے کو منظر عام پر لانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والوں میں تھے۔ حضرت مولانا دارالعلوم دیوبند کے صرف ایک استاذ ہی نہیں اس کی بنیادوں کو کمزوری اور اس گلستانِ علمی کو خزاں سے بچانے رکھنے کے لیے توانائی اور غذا فراہم کرتے رہتے تھے،اس طرح دارالعلوم کی تعمیر و استحکام میں ان کا زبردست نادیدہ رول تھا۔ تصنع اور تملق وچاپلوسی سے بڑی نفرت تھی۔انتہائی صاف گو اور حق گو واقع ہوئے تھے،ظاہر وباطن کے تضاد سے اللہ ربّ العزت نے پاک رکھا تھا۔ اس وقت کے دارالعلوم کے اکا بر اساتذہ میں آپ کو سب سے زیادہ حضرت الاستاذ حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب حفظہ اللہ سے تعلق خاطر تھا،ان کا مزاج کہیں آنے جانے کا نہیں تھا،لیکن عصر کے بعد پابندی سے حضرت کے پرانے مکان پر واقع مجلس میں ضرور تشریف لاتے، مولانا مدنی بھی آپ کے تیز و تند و جلالی جملوں کو مسکراتے ہوئے برداشت کرتے،ہم نے مولانا مدنی کو مولانا اعظمی سے زیادہ کسی اور کا لحاظ رکھتے ہوئے اور خاطر داری کرتے ہوئے نہیں دیکھا،مولانا سے اصرار کرکے دعوت کرواتے اور اپنے ضعف کے باوجود زینے طے کر کے اعظمی منزل کی دوسری منزل پر واقع مولانا کی قیام گاہ پہنچ کر مزے سے کھانا تناول فرماتے، حضرت مولانا اسجد مدنی صاحب سے بھی آپ کو بڑا تعلق تھا،ان ساری مجلسوں اور پروگراموں میں آپ انھیں ضرور تلاش کرتے،وہ بھی مزاج کی رعایت کے ساتھ آپ کی راحت رسانی کا خوب خیال رکھتے تھے۔ مولانا ارشد مدنی صاحب کی مجلس میں آپ کی شرکت سے جان پڑجاتی تھی۔لیکن افسوس اس مجلس کی رونق ہی ختم ہو گئی کیونکہ مجلس کی روح اور اس کی جان ہی چل بسے۔ مولانا اعظمی رح اپنے کام خود کرتے تھے، حق تلفی اور کسی کے احسان کے زیر بار ہونے سے بچتے تھے، اللہ ربّ العزت نے موت کے وقت بھی آپ کے ساتھ بڑے خیر کا معاملہ کیا،انتقال سیتھوڑی دیر قبل بعض مالی معاملات اور دارالعلوم دیوبند میں اپنی ہزاروں قیمتی کتابوں کے متعلق وصیت کی، بیڈ اور کپڑے کو صاف رکھنے کی تاکید کی،اور اس طرح صاف ستھرے اور ہلکے پھلکے ہوکر اپنی حسنات کے ساتھ ماہ مبارک کے آخری دن پونے ایک بجے رب کریم کے حضور پہنچ گئے۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔

حضرت الاستاذ کی زندگی کے مختلف گوشوں اور علمی و دینی خدمات پر آپ کے فیض یافتگان تفصیل سے لکھتے رہیں گے، میں نے چند جملے انتشار ذہنی اور روتے ہوئے دل کے ساتھ لکھ دیے ہیں، اس سے زیادہ کا اس وقت یارا بھی نہیں ہے۔ اللہ ربّ العزت حضرت مولانا کو صالحین و صدیقین کے زمرے میں شامل فرما کر خاص فضل واکرام سے نوازیں, اپنی بے پایاں رحمتوں کی وسعتوں سے ڈھانپ لیں، جملہ لواحقین اور تلامذہ ومتعلقین کو صبر جمیل نصیب کریں، اور دارالعلوم دیوبند و ملت اسلامیہ کو نعم البدل عطا فرمائیں۔