اے آئی یوڈی ایف اور بی جے پی کی بوکھلاہٹ ـ شکیل رشید

( ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز )
آسام بی جےپی کے صدر رنجیت کمار داس نے توریاستی اسمبلی کے انتخابات کے موقع پر سی اے اے کے نفاذ کی بات کی ہے مگر بی جے پی کی مرکزی قیادت ، یا باالفاظ دیگر وزیراعظم نریندر مودی ،مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نِڈا، سی اے اے کے معاملے پر آسام میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں ۔ اس معاملے پر بی جے پی کی احتیاط کا اندازہ اس با ت سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنے منشور میں سی اے اے کا نہیں ’تصحیح شدہ این آر سی‘ کا وعدہ کیا ہے۔۔۔ اس وعدے کی وجہ ، آسام میں 2020 میں سی اے اے کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہرے ہیں ۔ صرف مسلمانوں نے ہی نہیں ، ہندوآسامیوں کی اکثریت نے سی اے اے کو مسترد کرتے ہوئے سڑکوں پر اتر کر مظاہرے کئے تھے ۔ اُن مظاہروں کے نتیجے میں سی اے اے مخالف دو سیاسی پارٹیاں ، رائجردل اور آسام جاتیہ پریشد منظر عام پر آئی ہیں اور اب ریاستی اسمبلی انتخابات میں تیسرے محاذ کے طور پر میدان میں ہیں ۔ رائجردل کے صدر اکھل گوگوئی ہیں جو سی اے اے مخالف تشدد کے لئے سلاخوں کے پیچھے ہیں ، اورآسام جاتیہ پریشد کے صدر لُرِن جیوتی گگوئی ہیں ۔ یہ دونوں پارٹیاں ،کانگریس اور مولانا بدرالدین اجمل کی آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ ( اے آئی یو ڈی ایف) وبایاں بازو کے ’مہاجوت‘ اتحاد کے خلاف بھی اور بی جے پی وآسام گن پریشد محاذ کے خلاف بھی میدان میں ہیں ۔ ۔۔3؍ اگست 2019 کو آسام میں این آرسی کی جو فائنل فہرست جاری کی گئی تھی اس کے تحت 19 لاکھ افراد کو ’ غیر ملکی ‘ قرار دیا گیا تھا۔ اس فہرست میں ہندؤں کی بڑی تعداد شامل تھی، ظاہر ہیکہ یہ فہرست بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کے منھ پر ایک طرح کا طمانچہ تھی۔۔۔ ساری مہم آسامی مسلمانوں کو بنگالی قرار دے کر ’غیر ملکی‘ ثابت کرنے کی تھی پر نتیجہ الٹا نکلا تھا، اور زبردست پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے ، اسی لئے آسام کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی سی اے اے کے ذکر سے دامن بچاتی آرہی ہے ۔۔۔ لیکن بی جے پی کسی الیکشن کو ہندو ۔ مسلمان میں تبدیل کیے بغیر کہاں رہ سکتی ہے ! اس کے خمیر میں فرقہ پرستی شامل ہے لہٰذا انتخابی مہم میں بی جے پی نے اپنے سارے تیر مولانا بدرالدین اجمل اور ان کی سیاسی پارٹی اے آئی یو ڈی ایف پر برسانے شروع کردیئے ہیں ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی انتخابی ریلی میں جہاں کانگریس او راے آئی یوڈی ایف وبایاں بازو کے ’مہاجوت‘ کو ’ مہاجھوٹ‘ کہا ہے وہیں مولانا بدرالدین اجمل کے حوالے سے ’ غیر ملکی‘ کا سوشہ بھی چھوڑا ہے کہ یہ جو ’مہاجوت‘ ہے یہ سرحد پار سے ’غیر ملکیوں‘ کو لاکر بسائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی ، جو سرتاپا فرقہ پرستی میں ڈوبی ہوئی ہے، اے آئی یوڈی ایف پر ’غیر سیکولر‘ ہونے یا’ فرقہ پرست‘ ہونے کا الزام لگارہی ہے ۔ کانگریس اور مولانا اجمل کا یہ اتحاد آسام میں پہلی بار ممکن ہوسکا ہے ، حالانکہ لمبے عرصے سے اے آئی یو ڈی ایف ، یوپی اے کا ہی حصہ ہے ۔ اس اتحاد سے دو باتیں ممکن ہوسکتی ہیں ، ایک تو یہ کہ وہ ووٹ جو صرف کانگریس کو ہی حاصل ہوتے تھے ، اے آئی یو ڈی ایف کو حاصل ہوسکتے ہیں ۔ اور دوسرا یہ کہ مولانا بدرالدین اجمل کی وجہ سے آسام کے 35 فیصد مسلمانوں کے ووٹ کانگریس کی جیت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ بی جے پی کو خوب اندازہ ہے کہ یہ محاذ اسے جیت سے محروم کرسکتا ہے اس لئے وہ مولانا بدرالدین اجمل کی ذات کو نشانہ بنائے ہوئے ہے، اور ان پر فرقہ پرستی کا الزام لگاکر کانگریس کو قدم پیچھے ہٹانے پر مجبور کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ اور کانگریس قدرے پریشانی میں ہے بھی کہ وہ اپنے اسٹیج سے باربار مولانا بدرالدین اجمل اور ان کی سیاسی پارٹی کے ’سیکولر‘ ہونے کا اعلان کررہی یا ایک طرح سے ’صفائی‘ پیش کررہی ہے ۔ حالانکہ کسی ’ صفائی‘ کی ضرورت نہیں ہے ۔ آسام میں گذشتہ پانچ برسوں کے دوران لوگوں کو بی جے پی کی فرقہ پرستی کا بھی خوب اندازہ ہوچکا ہے اور سی اے اے اور این آرسی کے حوالے سے اس کے جھوٹ کا بھی ۔ بی جے پی نے آسام کی ترقی کے جو وعدے کیے تھے وہ وفا نہیں ہوسکے ہیں ۔ سیلاب کی صورتحال ہنوز بدترین ہے ۔آسام کے چائے کے باغوں اور وہاں کام کرنے والوں کے مسائل جوں کے توں ہیں ۔ بیروزگاری کا مسئلہ آسام میں منھ کھولے کھڑا ہے ۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد ملازمت سے محروم ہے ۔ آسا م میں بھی پٹرول ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں سے مہنگائی آسمان چھونے لگی ہے ۔ کورونا کے مسائل الگ ہیں۔ بی جے پی ان تمام مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے اسی لیے وہ بوکھلائی ہوئی ہے اور اسی لیےمولانا اجمل اس کے نشانے پر ہیں ۔۔۔ کانگریس کو چاہیئے کہ وہ دفاعی انداز اختیار کرنے کی بجائے بی جے پی کی ناکامیوں کو اجاگر کرے ، اس کے حملے کا جواب حملہ سے دے ۔ مولانا بدرالدین اجمل کی پارٹی سے ’اتحاد‘ کے معاملے پر کسی قسم کے پس وپیش کا اظہار درست نہیں ہے کہ یہ اتحاد آسام کی تاریخ بدل سکتا ہے ۔