ایسا باہمت عالم دین اب کہاں ملے گا؟ ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب کے انتقال کا مطلب ایک دور کا خاتمہ ہے ۔ ایک ایسے دور کا خاتمہ جس میں مولانا مرحوم جیسی شخصیات حق کو حق کہتی ، باطل کو باطل مانتی اور سچ کو سچ بتاتی تھیں ۔ جب فرقہ پرست اقتدار پر مکمل طور پر قابض ہوں اور نظام ان افراد کے ہاتھوں میں ہو جو اپنے دلوں میں دوسروں کے لیے سوائے نفرت کے اور کوئی جذبہ نہیں رکھتے ، تب حق کی آواز اٹھانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے ، لیکن مولانا مرحوم ناممکن کو ممکن بنانا خوب جانتے تھے ۔ وہ وہی بولتے تھے جسے درست اور سچ سمجھتے تھے ۔ حضرت مولانا ولی رحمانی کا انتقال اس معنیٰ میں کہ وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، اتنا افسوس ناک نہیں ہے کہ ہر ایک کی موت کا ایک دن مقرر ہے، یہ زیادہ افسوس ناک اس معنیٰ میں ہے کہ مولانا مرحوم نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے جو سرگرمیاں شروع کی تھیں، اور بورڈ کو ، معاملہ چاہے شریعت پر حملے کا رہا ہو یا بابری مسجد کی شہادت اور قرآن مجید کی توہین کا ، انہوں نے جس طرح فعال کیا تھا ، اس میں جو روح پھونکی تھی ، وہ کہیں سرد نہ پڑ جائے ۔ یہ خدشہ ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بورڈ اپنے ابتدائی دنوں میں تو فعال تھا مگر پھر اس کی رفتار سست پڑ گئی تھی، اب جاکر مولانا مرحوم نے اس میں نئے سرے سے جان ڈالی تھی ۔ میری مولانا مرحوم سے بہت زیادہ ملاقاتیں تو نہیں تھیں لیکن جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں ، میں نے جتنے بھی حضرت کے انٹرویو کیے ان میں حضرت کو بورڈ اور شریعت اور ملک کے حالات کے تعلق سے متفکر ہی پایا ۔ مولانا مرحوم نے حالیہ دنوں میں یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں کچھ باتیں کہی تھیں لیکن مجھے خوب یاد ہے کہ وہ عرصہ سے اس مسئلہ پر غور کرتے رہے ہیں ۔ ایک ملاقات 2015 کی یاد آ رہی ہے ، اس وقت مودی کی مرکزی سرکار اور سپریم کورٹ دونوں نے یونیفارم سول کوڈ لاگو کرنے کی بات کی تھی ، اس تعلق سے میرے ایک سوال کے جواب میں حضرت نے کہا تھا کہ ’’ جب سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت نے ’یونیفارم سول کوڈ‘ کے نفاذ کی بات کہی ہے تو یہ سمجھ لیناچاہئے کہ عائلی قوانین کو خطرہ ہے۔ لیکن ایک بات مزید ہے، خود مرکزی وزیر قانون سدا نند گوڑا نے اس سلسلے میں یہ کہا ہے کہ ’ ہم ’یونیفارم سول کوڈ‘ لاگو کرنا چاہتے ہیں لیکن اس میں دشواریاں ہیں اس لیے تمام فرقوں سے بات کرکے ہی کوئی فیصلہ کیاجائے گا‘۔ لیکن چونکہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے قرآن مجید کے قوانین پر قرآن پاک کا نام لیے بغیر اُنگلی اُٹھائی ہے اور فاضل جج نے یہ بھی کہا ہے کہ نکاح، طلاق اور وراثت کا کوئی تعلق ’دین‘ سے نہیں ہے اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’مسلم پرسنل لاء‘ کو خطرہ لاحق ہے، جج موصوف کی مذکورہ بات سے یہ خوب اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ ’دین‘ کا بہت محدود تصور رکھتے ہیں، انہوں نے مسلم خواتین کے حق کی تو بات کی ہے مگر قرآن مجید کی واضح تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہے‘‘۔ حضرت مولانا نے بہت ہی صاف اور واضح انداز میں مسلمانوں کے موقف کو سامنے رکھا تھا بغیر اشتعال انگیز لفظوں کے استعمال کے ۔ اب ایسی باتیں کہنے والا، شریعت کے ہر عمل کو بچانے کے لیے کوششیں کرنے لوگوں کو سڑکوں پر اتارنے اور شرپسندوں کے نشانہ پر جو عبادت گاہیں ہیں ان کے تحفظ کے لیے ہر طرح کی قانونی چارہ جوئی کے لیے تیار رہنے والا باہمت عالم دین کہاں ملے گا ۔ اللہ حضرت مولانا کی مغفرت فرمائے اور ہم سب کو صبر جمیل دے، آمین ۔