مسلم پرسنل لا بورڈ اور مولانا سجاد نعمانی کا خط-مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

مسلم پرسنل لا بورڈ ملک کا ایک باوقار ادارہ ہے ، اس کا قیام مسلمانوں کے پرسنل لا یعنی عائلی قوانین کی حفاظت کے لئے عمل میں آیا ،چنانچہ اس ادارہ نے ہمیشہ اپنا دائرہ  عائلی قوانین حفاظت تک محدود رکھا ،  مسلسل دباؤ پر اس نے بابری مسجد کیس کو اپنے دائرہ میں لیا،قیام کے وقت سے موجودہ وقت تک اس ادارہ نے عائلی قوانین کے لئے کوشش کی ،کبھی کامیابی ملی ،کبھی ناکامی ، بہرحال اپنے قیام کے تقاضوں پر عمل کیا ،جب بھی کسی مسئلے میں ناکامی ہوئی تو عوام کو اتنی ہمت کہاں خواص ہی نے الزامات کے بوچھاڑ کردی ،جس کی وجہ سے مسلم پرسنل لا بورڈ کا وقار بھی مجروح ہوا اور اس میں کمزوری بھی آئی ،موجودہ وقت میں پھر مسلم پرسنل لا بورڈ موضوع بحث ہے ، جب مسلمانوں پر کوئی بڑی مصیبت کی گھڑی آتی ہے تو لوگوں کی نظر اسی ادارہ کی جانب جاتی ہے ،چونکہ ملک میں یہی ادارہ ہے ،جس کو اللہ تعالی نے ابھی تک فتنہ سے محفوظ رکھا ہے۔

 

موجودہ وقت میں  مسلمانوں کے سامنے بڑا مذہبی مسئلہ  حجاب پر پابندی کا ہے ،جو کرناٹک کے اسکولوں سے شروع ہوا ہے ، اس پر احتجاج  دھیرے دھیرے پورے ملک میں پھیلتا جارہا ہے ،جبکہ یہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے ،دانش مندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ جہاں کا معاملہ تھا ،وہیں محدود رکھا جاتا ،وہاں کی حکومت پر دباؤ بنایا جاتا ،عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا جاتا ،مگر ایسا نہیں کیا گیا ، بلکہ لوگ  اس احتجاج کو آگے بڑھانے لگے ، کرناٹک سے دیگر اسٹیٹس میں بھی یہ سلسلہ بڑھنے لگا۔

اب مسلمانوں نے اچھا طریقہ سیکھ لیا ہے کہ جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو خود گھر میں بیٹھے رہتے ہیں اور خواتین کو روڈ پر اتاردیتے ہیں ،اس کی خرابیوں پر غور نہیں کرتے ہیں ،خدا نخواستہ کچھ ہوا تو مسلم سماج کے لئے بڑی توہین کی بات ہوگی ،اللہ تعالی حفاظت فرمائے۔

 

حجاب کے سلسلے میں میں نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے مکتوب کو بھی پڑھا اور مولانا سجاد نعمانی صاحب کے خط کو بھی پڑھا ،مسلم پرسنل لا بورڈ ایک موقر ادارہ ہے ،ایسے موقعے پر ایک ادارہ کا رول کیا ہونا چاہیے ،بورڈ کے مکتوب میں اسی کا اظہار ہے ، اپنے ممبران کی رہنمائی کی گئی ہے ،بورڈ کا موقف قابل تحسین ہے کہ اس نے احتجاج کے سلسلے کو آگے  بڑھانے کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور یہ کہا کہ عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا جائے ، چونکہ عدالت میں کیس بھی انھی کی جانب سے کیا گیا تھا ، جن پر پابندی عاید کی گئی ہے ، ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں مسلم خواتین کا سڑک پر اتر کر احتجاج کرنا کتنا خطرناک ہے ،اس سے سب واقف ہیں ، اس تناظر میں مسلم پرسنل لا بورڈ  کا مکتوب مناسب ہے ، اس میں درج رہنمائی کو بزدلی کہنا صحیح نہیں ہے ، البتہ مولانا محمد سجاد نعمانی صاحب بورڈ کے سینیر ممبر ہیں ،اگر انہیں اس پر اعتراض تھا تو مذکورہ خط کو عام کر نے کے بجائے جنرل سیکریٹری کے پاس بھیج دینا تھا ،یہی طریقہ  رائج ہے اور یہی بہتر طریقہ ہے ، میرے مطالعے کی روشنی میں مولانا نعمانی صاحب کا خط جذباتی ہے ،موجودہ وقت میں بغیر کسی طے شدہ لائحہ عمل کے خواتین یا نوجوانوں کو سڑک پر اتار دینا کسی طرح مناسب نہیں ، بہت سے حضرات عدلیہ اور ملک کے آئین  پر سوالات اٹھاتے ہیں ، وہ  اس عمل کے ذریعے خود بھی گمراہی میں ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہی میں ڈالتے ہیں ، مولانا نعمانی صاحب کے خط نے  جہاں مسلم پرسنل لا بورڈ اور  بورڈ کے جنرل سکریٹری کے وقار کو مجروح کیا ،وہیں مولانا نعمانی صاحب کا وقار بھی مجروح ہوا ،یہ نہایت ہی افسوسناک ہے ، موجودہ وقت میں اس کی ضرورت ہے کہ جب  مسلم امہ پر کوئی آفت آئے تو سب آپس میں مشورہ کریں اور مسائل کو حل کرنے پر غور کریں ،مرکزی حکومت اور اس کے عہدے داران سے ملاقات کریں ،ائین اور قانون کے دائرے میں مسائل کا حل تلاش کیا جائے ،سیکولر برادران وطن کے ساتھ بار بار میٹنگ کی جائے ، جلسہ میں تقریر سے کوئی فائدہ نہیں ہے ، برادران وطن کے ساتھ  مل کر عام لوگوں سے ملاقات کی جائے ،قومی یکجہتی کو بڑھایا جائے ،مسلم سماج اور برادران وطن کے درمیان دوری بہت بڑھی ہوئی ہے ،اس کو پاٹنے کی کوشش کی جائے ، امید ہے کہ اچھے نتائج سامنے آئین گے ،اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ملک میں امن و شانتی کا ماحول بحال کرے ، اکابر امت سے اپیل ہے کہ  وہ آپسی معاملات کو باہمی  تبادلۂ خیال سے حل کریں ، ورنہ یہ ملت اور انتشار میں مبتلا ہو جائے گی ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*