ائمۂ مساجداورمدارس کے اساتذہ کی تنخواہ نہ روکی جائے،کسی طرح کی تخفیف غیرانسانی:مولاناولی رحمانی

پٹنہ:ملک کے طول وعرض میں بعض مساجداورمدارس سے شکایتیں آرہی ہیں کہ ائمہ مساجداورمدارس کے اساتذہ کی تنخواہوں میں یاتوتخفیف کردی گئی ہے یابلاتنخواہ تین ماہ کی رخصت دے دی گئی ہے۔اس پرآل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈکے جنرل سکریٹری اورامارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈکے امیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی نے سخت تنقیدکرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ ان کی تنخواہوں میں تخفیف یابلاتنخواہ چھٹی پرنہ بھیجاجائے۔انھوں نے کہاہے کہ پیسے بچانے کی یہ اوچھی اورغیرانسانی حرکتیں ہیں،مدارس کے اساتذہ اورائمہ مساجدپورے اخلاص کے ساتھ کم تنخواہوں پرکام کرتے ہیں اوراسی پرخوش رہتے ہیں۔ان کے ساتھ ایساسلوک نہیں کرناچاہیے۔بلکہ ان کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔انھوں نے یاددلایاکہ مدارس کے مہتممین یامساجدکے متولیان صرف امین ہیں،اللہ کی امانت ان کے پاس ہے ۔ امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی نے لاک ڈائون کے درمیان متعدد مدارس اور مساجد انتظامیہ کی نامناسب حرکتوں پر تنبیہ کرتے ہوئے ایک ویڈیواپیل جاری کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’کئی دنوں سے ایک خبر آرہی ہے جس کی وجہ سے میرے دل پر، میرے دماغ پر بڑا اثر پڑرہا ہے اورمیں چاہتا ہوں کہ اس سلسلے میں آپ حضرات سے کچھ عرض کروں۔ خبر یہ آئی ہے اور کئی صوبوں سے آئی ہے کہ کئی مدارس کے اساتذہ کی منتظمین نے چھٹی کردی ہے یا تین ماہ کی بلاتنخواہ رخصت دے دی گئی ہے ہے۔یہ بھی خبر آئی ہے کہ مسجدوں کی انتظامیہ نے امام صاحب، موذن صاحب اور کہیں کہیں خدام کوہٹادیا ہے یا انہیں تین مہینے کی بلا تنخواہ چھٹی دے دی ہے۔ یہ بہت ہی تکلیف کی بات ہے۔امیرشریعت نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ منتظمین چاہے مسجد کے ہوں، چاہے مدرسے کے ہوں، اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کی تنخواہیں وہ ادا کرتے ہیں تو یہ بڑی غلط فہمی ہے ، یہ تو اللہ تعالیٰ کاقائم کیاہواایک نظام ہے اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی ہے کہ وہ مسجد کو آباد کریں، مدرسوں کو آباد کریں،مدرسوں کے کام کریں، مسجد میں خدمت انجام دیں او ریہ بات ہمارے اور آپ کے کہنے سے نہیں ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے مدرسین پر، امام صاحبان پر، موذن حضرات پر کہ اللہ ان سے خدمت لے رہا ہے او ریہ حضرات بہت تھوڑی تنخواہ کے اندر کام کرتے ہیں اور راضی بہ رضا رہتے ہیں۔ بحیثیت منتظم اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اگر تین مہینے کی تنخواہ ختم کردی جائے تومسجد کا کچھ پیسہ بچ جائے گا یہ سراسر غلط فہمی ہے۔ ہمیں اللہ کی عنایتوں پر بھروسہ کرناچاہیے اور اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ہم کوشش کریں گے ، مسجد کی انتظامیہ، مدرسے کے مہتمم اگر کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کوششوں کو قبول فرمائے گا۔امیرشریعت نے کہاہے کہ اگر ہم اخلاص کے ساتھ کام کریں گے، للہیت کے ساتھ کام کریں اور تنخواہ کاٹنے والی اوچھی حرکت نہیں کریں گے تو یقین مانیے اللہ تعالیٰ مخلصین کے اخلاص کو رائیگاں نہیں فرمایا کرتا ہے۔ آپ کی ذمہ داری ہے جومنتظمین ہیں چاہے مسجد کے ہوں، یا مدرسے کے ہوں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ صرف امین ہیں، نہ مدرسے کے مالک ہیں اور نہ مسجد کے مالک ہیں، اور اپنے دماغ میں کوئی ایسی بات نہیں پالنی چاہیے جس کے نتیجے میں اس طرح کی حرکت ہو۔منتظمین چاہے مسجد کے ہوں یا مدرسے کے ہوں انہیں یہ سمجھناچاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری امانت کے طور پر حوالے کی ہے اللہ تعالیٰ چاہیں گے تو ذمہ داری اچھی طرح سے انجام دے سکیں گے۔ سارے لوگ اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے ، اپنی محنت جاری رکھیں۔ اس طرح کی ہلکی حرکتیں اور پیسہ بچانے کی وحشیانہ اورغیرانسانی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سبھوں میں اخلاص ، للہیت ، توکل اور کام کے اندر محنت کا جذبہ دے اور اللہ تعالیٰ ہمیں غلط راستوں سے بچائے‘‘۔ (آمین)