مجلس اتحاد المسلمین اور مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی ـ تبریز حسن

(سابق جوائنٹ سیکرٹری، طلبہ یونین، جواہر لال نہرو یونیورسٹی)

تقسیم ہند کے سانحہ کے بعد جس طرح ہندوستانی مسلمان نام نہاد سیکولرازم کے جنازے کو تنہا اپنے ناتواں کاندھوں پر برسوں سے اٹھائے اٹھائے تھک چکے تھے،شاید اب انہیں امید کی کرن اسد الدین اویسی کی روز بروز بڑھتی اور پھلتی پھولتی مثبت سیاست میں دکھنے لگی ہے، ابھی چند دنوں قبل تک جو لوگ انہیں اچھوت،سخت گیر،فرقہ پرست ووٹ کٹوا اور بی جے پی کی بی ٹیم سمجھ رہے تھے ان کے بھی نظریات تیزی سے بدلنے لگے ہیں اور بدلنا بھی چاہئے،کیونکہ ہندوستان کے مسلمان اب مزید نام نہاد سیکولر سیاست کے دھوکے اور فریب کا شکار نہیں ہونا چاہتے ہیں،مسلمانوں کی نوجوان نسل نے اب اپنے حقوق کی بازیابی اور اپنی الگ سیاسی آواز کے لیے مجلس کی قیادت میں بھرپور طریقہ سے محنت شروع کردی ہے،کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے مسلم طلبہ جو کبھی نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے سرگرم اراکین ہوا کرتے تھے اور اویسی کی سیاست سے بغیر کسی منطقی دلیل اور وجہ کے دوری اختیار کرتے تھے انہیں اب اویسی کی حمایت کرتے ہوئے دیکھا جارہا ہے،اور ڈھابوں، چائے خانوں، ہوٹلوں اور عوامی مقامات پر اویسی اور ان کی سیاست ہرخاص و عام میں گفتگو کا موضوع ہے۔
خود راقم الحروف کا تعلق ایک کمیونسٹ پارٹی سے رہا ہے اور صرف تعلق ہی نہیں بلکہ اس پارٹی نے مجھے ہندوستان کی مشہور جواہر لال یونیورسٹی میں طلبہ یونین میں جوائنٹ سیکرٹری اور پارٹی کے یونٹ صدر تک پر خدمات کا موقع فراہم کیا، میں اس کے لئے ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں لیکن خود میں جس خطہ سے آتا ہوں اور جو حالیہ دنوں میں کافی گفتگو کا موضوع بنا ہوا ہے وہ ہے مسلم اکثریتی خطہ سیمانچل، سیمانچل بہار کا سیاسی، معاشی، ترقیاتی اور تعلیمی اعتبار سے ایک مظلوم خطہ ہے،جس کا نام نہاد سیکولر پارٹیوں نے ہمیشہ استعمال اور استحصال کیا،اور ووٹ کے بدلے اسے کچھ بھی نہیں دیا،شاید یہی ایک بڑی وجہ ہے جس نے مجھے اویسی کی سیاست کو سمجھنے اور پڑھنے اور جڑنے کا موقع دیا، کیونکہ اویسی ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے اس خطے کی بدحالیوں اور نا انصافیوں کا شکوہ سب سے پہلے قومی پیمانے پر اپنی تقریروں میں ہمیشہ بے باک طریقہ سے کیا،اویسی کی اسی مسیحائی نے مجھے ان سے فکری اور عملی طور پر جڑنے پر مجبور کیا اور کمیونسٹ پارٹی کا یونٹ صدر رہتے ہوئے اور بہتوں کی تنقیدوں کے خوف کو نظر انداز کرتے ہوئے میں نے مجلس کے بہار یونٹ کے صدر اختر الایمان صاحب جو اب امور سے ودھایک بھی منتخب ہوچکے ہیں کو جے این یو آنے اور سیمانچل کے طلبہ سے ملنے کے لیے ایک میٹنگ کا انعقاد دو سال قبل کیا تھا،شاید یہ پہلا موقع تھا جب مجلس کا کوئی ذمہ دار جے این یو کے پلیٹ فارم سے اپنی بات پوری مضبوطی سے رکھنے کے لیے آیا تھا،جناب اختر الایمان نے سیکڑوں طلبہ کی موجودگی میں پورے یقین و اعتماد کے ساتھ اپنی طویل تقریر میں سیمانچل کی تصویر کو بدلنے، غربت و بدحالی کو دور کرنے اور بہار اسمبلی سے اس خطہ کو ہر سطح پر انصاف دلانے کی بات کی تھی اور الحمد للہ اب ان باتوں کو سچ ثابت کرنے کا وقت آگیا ہے،اختر الایمان صاحب کی شب و روز کی محنت کے نتیجہ میں سیمانچل کی تاریخی فتح نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہاں کے عوام اب نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے فریب، جھوٹے وعدوں اور مکاریوں کو سمجھنے لگے ہیں اور اپنا روشن مستقل مجلس کی شفاف سیاست اور مخلصانہ نمائندگی میں دیکھنے لگے ہیں۔
سیمانچل کے عوام نے کانگریس اور نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے اس الزام کو کہ مجلس بی جے پی کی بی ٹیم یا ووٹ کٹوا ہے، نظر انداز کرکے جس دانشمندی اور حکمت عملی کے ساتھ اپنی فتح درج کرائی ہے وہ ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی،مجلس کی اس خوشگوار فتح نے بلاشبہ اویسی کو زبردست حوصلہ بخشا ہے اور صاف اشارہ بھی سیکولر جماعتوں کو دینے کا کام کیا ہے کہ اب مسلمانوں کو سیاسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے، خواہ ان پر جتنے بھی اوچھے اور خود ساختہ الزامات لگائے جائیں، ویسے بھی سیاست اور الیکشن لڑنے کی راہ کوئی آسان نہیں ہوتی ہے اس کے لیے بہت ہی ریاضت، صبر اور تنقیدوں کی راہ کو عبور کرنا ہوتا ہے،اس راہ میں غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں کے طنز کے تیر بھی سہنے پڑتے ہیں، یہ سیاست ہی تو ہے جس نے جمعیت علماء ہند کے محمود مدنی صاحب کو کانگریس کے اشارے پر یہ کہنے پر ابھارا کہ ہم اویسی کو قوم کا لیڈر نہیں بننے دیں گے،اور شاعر منور رانا کو یہ کہنے کا ٹاسک دیا گیا کہ اویسی جناح ان میکنگ ہیں اور عمران پڑتاپ گڑھی کو آپ سے تم کہنے کی گستاخی پر مامور کیا گیا،اس طرح کے لوگوں کی طویل فہرست ہے اس سلسلے میں،جارج برنارڈ شا نے تو کہا بھی تھا کہ:
An election is a moral horror, as bad as a battle except for the blood; a mud bath for every soul concerned in it.

الیکشن ایک مورل ہارر ہے،اور یہ اسی طرح کی گندی چیز ہے جس طرح کہ جنگ، مگر اس میں خونریزی نہیں ہوتی لیکن اس سے جڑے لوگوں کو کیچڑ میں نہانا پڑتا ہے۔

خیر، مجلس کی بہترین کارکردگی اور فتح کے بعد اس پر اب یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام لوگوں کے اعتماد کو برقرار رکھےاور سیاسی سے زیادہ عوامی خدمت پر بھرپور توجہ دے، اپنے کیڈرس کی خصوصی طور پر سیاسی تربیت کرے، زیادہ سے زیادہ ڈبیٹ کلچر کو فروغ دینے کا کام کرے، اسٹڈی سرکل قائم کرے، پرچے اور پمفلٹ مختلف زبانوں میں تیار کرے اور لوگوں کے ہر دکھ تکلیف اور پریشانیوں میں کھڑے رہنے کا عزم کرے،کیونکہ یہ ابتدائے عشق ہے اور مجلس کو ابھی بہت دور تک جانا ہے اور اس کے سامنے یقینی طور پر بھت سارے چیلنجر ہیں جنہیں بہت ہی دانشمندی اور سنجیدگی سے سر کرنا ہوگا۔
ہمارے سامنے جہاں ایک طرف مرکز میں قائم فاشسٹ حکومت ہے، جس کی بنیاد ہی فرقہ پرستی اور مسلم دشمنی پر ہے تو وہیں دوسری طرف نام نہاد سیکولر جماعتیں ہیں جو مسلمانوں کی مسیحائی کا دم تو بھرتی ہیں لیکن جب سوال مسلمانوں کے امپاورمنٹ، تعلیمی، معاشی ترقی اور سیاسی حصے داریوں کا آتا ہے تو انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے، یاد رکھیں کھلے دشمن سے زیادہ خطرناک آستین کے سانپ ہوتے ہیں، اور انہیں بروقت پہچان لینے ہی میں ہمارے لیے بھلائی ہے، ورنہ ہندوستان میں ہم ہمیشہ سیاسی طور پر بے اثر ہی رہیں گے اور ظلم و ستم اور ہر طرح کی ناانصافیوں کے شکار ہوتے رہیں گے۔
اور اگر ہم سماجی انصاف چاہتے ہیں تو ہمیں ایک سنجیدہ اور مضبوط سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنا ہی ہوگا تاکہ سکھوں، دلتوں اور یادووں کی طرح ہماری اپنی نمائندگی ہو اور صرف بہار ہی نہیں بلکہ آئندہ بنگال اور اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں بھی ہم اپنی فتح کا پرچم پوری قوت کے ساتھ لہرا سکیں اور نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو یہ پیغام دے سکیں کے اب ہم تمہارے بندھوا غلام نہیں رہے:
ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا