ایک اداس کتاب ـ زاہدہ حنا

 

بیسوی صدی میں برصغیرکی ادبی تاریخ میں امریتا پریتم نے ایک لیجنڈ کی حیثیت اختیار کرلی تھی۔ وہ 1919 میں منڈی بہاء الدین میں پیدا ہوئیں۔ ماں رخصت ہوئیں تو باپ انھیں لاہور لے آئے۔ بٹوارے کے دنوں میں پنجاب پر جو قیامت گزری، اسے انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ بٹوارا ان کی ہڈیوں میں بیٹھ گیا اور لاہور سے دلی کا سفر کرتے ہوئے انھوں نے اپنی وہ نظم لکھی جو پنجاب کا نوحہ ہے۔

’’آج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچوں بول… تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ کھول…اک روئی سی دھی پنجاب دی ، توں لکھ لکھ مارے وین… اج لکھاں دھیاں روندیاں ، تینوں وارث شاہ نے کہن…
امرتا پریتم نے پنجابی اور ہندی میں لکھا ، دنیا کی متعدد زبانوں میں ان کا ترجمہ ہوا۔ انھوں نے سیکڑوں کہانیاں اور ناول لکھے جن میں سے بیشتر اردو میں ترجمہ ہوئے۔ ساحر اور ان کا عشق ایک ایسی داستان ہے جو ہر محبت کرنے والے کو یاد ہے۔ ان کی شادی ہوئی، بچے ہوئے، آخری 40 برس انھوں نے مصور امروز کے ساتھ گزارے۔ پچھلے دنوں جہلم کے بک کارنر سے ان کی ایک کتاب شایع ہوئی جسے احمد سلیم نے ترجمہ کیا اور اس کی ترتیب کی۔ ’’ ایک اداس کتاب‘‘ کا ابتدائیہ لکھتے ہوئے امرتا پریتم کہتی ہیں کہ :
قدیم مصر کی وہ تحریریں جو اس کاغذ پر لکھی ملتی ہیں ، زیادہ تر مذہبی نوعیت کی ہیں، نثر میں بھی اور نظم میں بھی۔ لیکن ان میں سے ایک چھوٹی سی نظم ایسی بھی ملتی ہے جس کا عنوان ہے ’’ آدمی جو زندگی سے اکتا گیا ‘‘ یہ ایک آدمی کی خود کشی سے پہلے اپنے آپ سے کی جانے والی گفتگو ہے۔ نظم کچھ اس طرح ہے۔
آج … موت میرے سامنے واضح ہے/ یوں… جیسے برسوں کا بیمار ، صحت یاب ہوتا ہے/ اور جیسے کوئی قید خانے سے چھوٹ کر/ باہر کی طرف جاتا ہے… / آج… موت میرے سامنے واضح ہے / جیسے کنول پھولوں سے ایک مہک سے اٹھتی ہے/ اور جیسے نشے میں ڈوبی دھرتی کے کنارے کوئی بیٹھا ہو…/ آج… موت میرے سامنے واضح ہے/ جیسے آدمی اپنے گھر کے لیے بے تاب ہو اٹھے/ اور جس نے… برس ہا برس/ ایک قید میں گزارے ہیں۔

زندگی سے محبت انسان کی بنیادی چاہت ہے، لیکن لگتا ہے زندگی سے اکتا جانا بھی تاریخ کا حصہ ہے۔

قدیم زمانوں میں زندگی سے اکتا جانے والے انسانوںکی کیا تاریخ ہے؟ آج ہمیں اس کا سراغ نہیں مل سکتا لیکن یہ نظم ایک تاریخی حوالہ ہے جسے من کی انتہائی اداس حالت میں مرنے والے لوگوں کی اولین نظم کہا جاسکتا ہے۔
امرتا نے جیک لنڈن ، ارنسٹ ہیمگنوے اور دوسرے ادیبوں اور شاعروں کی زندگی لکھی ہے جنھوں نے اپنی زندگی اور تنہائی سے اکتا کر خود کشی کی۔ اس کتاب میں وہ لوگ بھی شامل ہیں، جنھیں ان کے سیاسی خیالات کی بناء پر حکومت نے پھانسی دی یا انھیں گولی ماری گئی۔ ان میں پشکن، گارسیا، لورکا، جیولیس فیوچک، چے گویرا اور مارٹن لوتھرکنگ شامل ہیں۔ اس میں کیوبا کے سابق صدر فیدل کاسترو کے نام انقلابی اور باغی چی گویرا کا آخری خط بھی ہے۔ چی لکھتا ہے۔

فیدل!

اس لمحے مجھے کئی ایک باتیں یاد آ رہی ہیں ، جب میں تمہیں ماریا انٹونیا کے ہاں ملا تھا، جب تم نے مجھے ساتھ آنے کی دعوت دی تھی، وہ پریشانیاں جو تیاریوں سے متعلق تھیں، سبھی باتیں مجھے یاد آ رہی ہیں ! ایک روز انھوں نے دریافت کیا تھا کہ موت کے بعد کسے اطلاع دینی چاہیے اور اس امکان کے حقیقت بننے کے احساس نے ہم سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں ہم نے جانا تھا کہ یہ احساس درست تھا کہ ( اگر انقلابی تگ و دو حقیقی ہو ) انقلاب میں یا تو جیت ہوتی ہے یا پھر موت مقدر بنتی ہے۔ فتح کی منزل تک پہنچتے پہنچتے ہمارے کئی ایک ساتھی موت کی گود میں جا سوئے۔
آج ہر شے نسبتاً کم ڈرامائی نظر آتی ہے کہ ہم نسبتاً زیادہ باشعور ہو گئے ہیں لیکن یہ حقیقت ، موت کی حقیقت خود کو دہرائے جاتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنے فرض کا وہ حصہ ادا کر دیا ہے کہ جس نے مجھے کیوبا کی سرزمیں اور انقلاب سے منسلک کر رکھا تھا ، سو میں تم سے اور ساتھیوں سے اور تمہارے عوام سے کہ جوکبھی کے میرے ہو چکے ہیں رخصت ہوتا ہوں۔ میں رسمی طور پر پارٹی کی قومی لیڈرشپ کے عہدے سے میجرکے عہدے سے اور اپنی کیوبن شہریت سے کوئی قانونی بندھن اب مجھے کیوبا سے نہیں باندھے ہے۔ جو بندھن موجود ہیں وہ ایک اور نوعیت کے ہیں۔ ایسے بندھن جنھیں عہدوں کی مانند مرضی سے توڑا نہیں جا سکتا۔

اپنی گزشتہ زندگی کو یاد کرتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ میں نے کافی دل جمعی اور خلوص کے ساتھ انقلابی فتح مندی کو استحکام بخشنے کی کوشش کی ہے اس سلسلے میں فقط ایک غلطی سرزد ہوئی اور وہ یہ کہ میں نے تم پر اس درجہ انحصار نہ کیا جتنا کرنا چاہیے تھا۔ تم میں مضمر لیڈر اور انقلابی بننے کی صلاحیتوں کو سمجھنے میں مجھے دیر ہوئی۔ میں نے عظیم الشان دن گزارے ہیں کہ کریبین بحران کے عظیم پر افسردہ دنوں میں خود کو عوام کے ساتھ متعلق پانے کے با وقار احساس میں، میں نے اپنے آپ کو تمہارے ساتھ پایا تھا۔ شاذو نادر ہی کوئی سیاستدان اتنا سمجھ دار ہو سکے گا کہ جتنے تم ان دنوں میں ثابت ہوئے تھے۔ میں نازاں اس امر پرکہ میں نے بلا جھجک تمہارے احکامات کی تکمیل کی، خود کو تمہارے انداز فکر سے ہم آہنگ کیا اور خطروں کے درمیان اصولوں پرکار بند رہنے کی جسارت کی۔

دنیا کی دوسری قومیں میری ناچیزکاوشوں کو آواز دے رہی ہیں، میں وہ کچھ کرسکتا ہوں جو تم کیوبا کے سربراہ ہونے کی ذمے داری کے باعث نہیں کر سکتے سو ہمارے بچھڑنے کا وقت آ گیا ہے۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں یہ کام خوشی اور غم کے ملے جلے احساسات کے ساتھ کر رہا ہوں، میں یہاں قوم کے لیے ایک معمارکی پاکیزہ ترین امیدوں اور اپنے پیاروں میں سے عزیز ترین لوگوں کو چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جنھوں نے مجھے ایک بیٹے کی حیثیت سے قبول کیا تھا، اس احساس کا زخم بہت گہرا ہے۔ میں تمہارے بخشے ہوئے ایمان کو اپنے سینے میں سموئے۔ اپنے عوام کے انقلابی جذبوں سے سرشار، اپنے مقدس ترین فرض کی ادائیگی کے احساس کے ساتھ جنگ کے نئے محاذوں پر سامراج کے خلاف کہ وہ جہاں بھی ہے جدوجہد کرنے جا رہا ہوں۔ یہ احساس عمیق ترین زخموں کو بھی بھر دے گا۔

اگر میں نے آخری لمحوں میں خود کو کسی اور آسمان تلے پایا ، تو میرا آخری خیال انھی عوام کے اور بالخصوص تمہارے بارے میں ہو گا۔ میں تمھاری تعلیمات کا شکرگزار ہوں اور اپنے اعمال کے انتہائی نتائج سے دیانت دار رہنے کی کوشش کروں گا۔ مجھے ہمیشہ ہمارے انقلاب کی خارجہ پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے اور کیا جاتا رہے گا۔ میں جہاں کہیں بھی ہوں گا خود کو ایک کیوبن انقلابی سمجھوں گا۔

مجھے اس امر کا افسوس ہے کہ میں اپنے بچوں اور اپنی بیوی کے لیے کچھ چھوڑکر نہیں جا رہا ہوں۔ میں خوش ہوں کہ یہ ایسا ہے۔ میں ان کے لیے کچھ نہیں چاہتا کہ میں جانتا ہوں کہ ریاست ان کے اخراجات اور تعلیم کے لیے انھیں خاطر خواہ رقم دے دیا کرے گی۔

میں تم سے اور اپنے لوگوں سے بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں لیکن شاید اس کی ضرورت نہ ہو۔ الفاظ وہ کچھ ادا کرنے سے قاصر ہیں جو میں ان کے ذریعے کہنا چاہتا ہوں۔ ایسے میں محض اصطلاحوں کے استعمال سے کیا حاصل۔ فتح کی جانب مسلسل بڑھتے چلو۔ میں تم سے اپنی تمام تر انقلابی خدمت کے ساتھ بغل گیر ہوتا ہوں۔ یہ اداس کتاب جب ہم پڑھ کر ختم کرتے ہیں تو دل کچھ اور اداس ہوجاتا ہے۔ اس کتاب کا اختتام فیض صاحب کی ان سطروں پر ہوتا ہے۔

امرتا پریتم کا نام ہندو پاکستان کی سرحد کے دونوں جانب یکساں معروف اور مقبول ہے۔ پنجابی شاعری میں تو ان کا مقام کسی ذکرکا محتاج نہیں لیکن نثرکی مختلف اصناف میں بھی ان کی تحریر کچھ کم قیمت نہیں۔ ناول، کہانیاں، خاکے، خودنوشت، انشائیے بھی ان کے شعر کی طرح پنجابی ادب میں گرانقدر اضافہ ہیں۔

یہاں آخر میں یہ عرض کردوں کہ وہ ’’چے گویرا‘‘ جس کا چہرہ آج بھی آپ کو نوجوانوں اور محنت کشوں کی ٹی شرٹ پر نظر آتا ہے، وہ دنیا کے پر جوش انقلابیوں کے لیے ایک ستارہ ہے لیکن کوئی نہیں جانتا ، یا شاید کوئی جانتا بھی ہو کہ اس کا گولیوں سے چھلنی بدن کس گم نام خندق میں پھینک دیا گیا وہ ایک عوامی رہنما تھا اور عوامی باغیوں کے ساتھ ہی سوگیا۔

(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس، اشاعت: 23 جون، 2021ء)