اک ترےجانےسے نہ معلوم کیاکیاہوگیا

حضرت امیرشریعت مولاناسیدمحمدولی رحمانیؒ کاسانحۂ ارتحال-اخترامام عادل قاسمی

آج 20/شعبان المعظم 1442ھ مطابق 3/اپریل 2021ء کوسہ
پہر میں حضرت امیرشریعت مولاناسیدمحمدولی رحمانی ؒ کےسانحۂ ارتحال کی خبر سن کر بے حد صدمہ ہوا،دل ودماغ پر ان کی مہجوری کابے حد اثر ہے،ہفتہ عشرہ قبل ان کی علالت کی خبر ملی تھی ،وہ 25/مارچ 2021ء کو میرے غریب خانہ(منورواشریف ) پرتشریف لانے والے تھے،لیکن 22/مارچ کوخانقاہ مونگیرسے حضرت کی علالت سےمتعلق فون آیا،اورآمد کاپروگرام منسوخ ہوگیا،حضرت امیرشریعت سے فون پرمیری آخری تفصیلی گفتگویکم مارچ 2021ءکوبعدنمازمغرب ہوئی تھی ،جوان کی بے پناہ شفقت ومحبت اورحسن اعتماد کا
مظہر تھی ،وہ کبھی کبھی اس حقیر کوخودیادفرماتے تھے ،اورمختلف مسائل پرتفصیل سے گفتگوفرماتے تھے،وہ میرے والد ماجد سے عمر میں ایک سال بڑےتھے ،والدصاحب سے گہرے تعلقات کےعلاوہ ہمارے خاندانی پس منظر سے بھی وہ پوری طرح باخبر تھے ،اس لئے اس حقیر پران کی شفقت وعنایت ہمیشہ قائم رہی،خاص طورپرامیرشریعت سابع منتخب ہونے کےبعدمجھے ان کو بہت قریب سے دیکھنےکاموقعہ ملا،بلاشبہ وہ اس وقت ہندوستانی مسلمانوں کاانتہائی قیمتی سرمایہ
تھے،اس وقت ملک وملت کوان کی بہت ضرورت تھی ، وہ ایک بہترین قائد،شاندارمنتظم ،عصریات میں تجدیدی شعور کےحامل ،نئی نسل کےمعمار،سحرالبیان خطیب ،صاحب طرزقلمکار،بےباک مبصر،اوراپنےدینی ،روحانی اورعلمی ورثہ کےساتھ جدید شعوروآگہی سےبھی آراستہ تھے،وہ ماضی کی تاریخ کےساتھ گردوپیش کےحالات سے بھی باخبررہتے تھے ،بلکہ حیرت انگیزطورپروہ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی پوری نظر رکھتے تھے ،اس طورپر ان کی شخصیت میں جوجامعیت تھی اس میں وہ اپنی مثال آپ تھے ،اسی لئے قدرت کی طرف سے ان کوبےپناہ مقبولیت ومحبوبیت حاصل ہوئی ،وہ ایک طلسماتی شخصیت کےحامل تھے،ان کےوجودمیں ایسی جاذبیت وکشش تھی ،کہ جدھرجاتے خلقت کاہجوم ان کےساتھ ساتھ
ہوتا،ان کی ایک جھلک دیکھنےکے لئےلوگ دیوانہ وارٹوٹ پڑتے تھے، خاص طورپرآخری دودہائیوں میں ان کوجوعظمت وقبولیت اورعوامی محبوبیت حاصل ہوئی،صرف بہارہی نہیں پورے ملک میں اس کی کوئی نظیر نہیں تھی ،اس حقیر نےجن بزرگوں کودیکھاحضرت قاری صدیق احمدباندوی ؒ کےبعداس باب میں کسی کوحضرت ولی رحمانی ؒ کا شریک وسہیم نہیں پایا ۔

انسان کی قدراس کےگذرنےکےبعدمعلوم ہوتی ہے،اورہرجانےوالااپنی جگہ خالی چھوڑکرجاتاہے، حضرت امیرشریعت مرحوم بےشمارمحاسن وکمالات کےمالک تھے،ان کےجانےکےبعدعلم وقیادت کی دنیامیں ایساخلاپیداہواہےجس کاپرہونا بہت مشکل ہے،اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے ،درجات بلند کرے اوران کی روح کواعلیٰ علیین میں جگہ نصیب فرمائے اورجملہ پسماندگان کوصبرجمیل عطافرمائے آمین۔

(مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف )

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*