ایک تصویر، ایک واقعہ اور ایک سبق ـ یاور رحمن

زیر نظر تصویر دنیا بھر معروف ہے۔ جسے Kevin Carter نام کے ایک فوٹو جورنلسٹ نے اپنے کیمرے میں قید کیا تھا۔ تصویر سوڈان کے قحط کے دوران 1993 میں لی گئی تھی۔ اس تصویر نے Carter کو دنیا بھر میں اچانک مشہور کر دیا۔ اس تصویر کشی کے لیے کارٹر کو کولمبیا یونیور سٹی نے Prize Pulitzer سے بھی نوازا۔ انہی دنوں ایک انٹرویو کے دوران کسی صحافی نے کارٹر سے پوچھ لیا کہ بھوکے گدھ کے رحم و کرم پر پڑے ہوئے اس قحط زدہ بچے کا انجام کیا ہوا ؟ کارٹر نے اس سوال سے پریشان ہو کر جواب دیا، "مجھے نہیں معلوم کہ اس کے بعد کیا ہوا؟ کیونکہ مجھے فلائٹ پکڑنی تھی اس لیے میں وہاں زیادہ دیر رک نہیں پایا۔” اسکے اس جواب کو سن کر انٹرویو کرنے والے صحافی نے برجستہ کہا، "دراصل اس بچے کے آگے پیچھے دو گدھ تھے جن میں سے ایک کے ہاتھ میں کیمرا تھا”۔
صحافی کے اس ایک جملے نے کارٹر کے اندر دبے ہوئے انسان کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ اسکے اپنے ضمیر نے اسے اس قدر لعنت ملامت کی کہ اس کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا کہ وہ خود کشی کر لے!

کارٹر کی بنیادی غلطی یہی تھی کہ اس نے اپنے آپ کو صرف ایک پریس فوٹوگرافر سمجھ رکھا تھا۔ اس نے صرف اور صرف اپنے پیشے کو مقدم رکھا تھا۔ یہی غلطی دنیا بھر کے وہ صحافی ، قلمکار ، فنکار اور سیاستدان بھی کر رہے ہیں جو شام و فلسطین و عراق کے معصوم بچوں کا گوشت نوچ نوچ کر کھانے والے اور ہمارے اپنے ملک میں بے گناہ راہگیروں کو لینچ کر کے اپنی پیاس بجھانے والے انسان نما گدھوں کو نظر انداز کر کے ان کے ظلم و جبر کو ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔ کاش کہ کبھی انکے اندر کا بھی انسان جاگ جاۓ !

یہی غلطی ہر ایک پیشہ ور کرتا ہے۔ اپنا کام کرتے ہوئے وہ اس پیشہ ور رقاصہ سے کسی طور کم نہیں ہوتا جو صرف اپنی دھن پہ ناچنا جانتی ہے۔ جسے صرف اتنا یاد ہوتا ہے کہ محفل رقص کے اختتام پر چند ٹکے اس کی ‘بے آنچل’ گود میں ڈال دیے جائیں گی۔ محفل ختم اور اسکی ذمہ داری ختم۔ یہ نرا بازاری پن ہے۔ بازاری پن کی یہی غلطی آدمی کو انسان نہیں بننے دیتی۔ اسی رویے نے خاندانوں کا شیرازہ بکھیر دیا ہے، یہی ملکوں میں ظلم و نا انصافی کی اصل وجہ ہے اور اسی نے انسانیت کو آدمیت کے سرد خانے میں دبا رکھا ہے۔

افسوس کہ یہی غلطی وہ لوگ بھی کرتے ہیں جو خیر امّت کے ‘خاندانی ممبر’ ہیں۔ نماز کے لیے جاتے ہوئے، روزے رکھتے ہوئے، زکوة کی ادائیگی کے وقت اور حج کے ارکان ادا کرتے ہوئے بھی وہ اپنے آپ کو صرف اور صرف ایک مذہبی مسلمان سمجھتے ہیں۔ نتیجہ دین کے بقیہ سب مطالبے جو صورتحالات کے تحت اس وقت یا اس لمحے مقدم ہونے چاہییں وہ سطح ذہن پر ابھر بھی نہیں پاتے۔ عالم صرف ایک ‘نذرانہ ور ‘ وا عظ و مقرر ہے، مفتی و فقیہ بس ایک بے رحم جج بنے بیٹھے ہیں اور صوفی و سالک بس ایک ‘ہو’ میں ‘ہوا’ ہو رہے ہیں ۔ باقی سب اہل فکر و نظر ایک دوسرے پر نظر جمائے بیٹھے ہیں۔ سب اپنے اپنے ‘پیشے’ کی ایمانداری کا سائن بورڈ لگائے اسی رقاصہ کی طرح ناچ رہے ہیں۔ ان میں اور رقاصہ میں بس اتنا فرق ہے کہ رقاصہ اپنے پیشے پر اندر سے شرمندہ ہے جب کہ باقی سب ‘نچنئیے’ ناچ ناچ کر اپنے اپنے رقص کی پاکیزگی کا راگ الاپ رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے اور صرف یہی وجہ ہے کہ "إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ” کے 99% دعویداروں کی بندگی کا سفر ایک بے روح نماز سے آگے بڑھ ہی نہیں پاتا۔ ایسے ہی نرے مذہبیوں کو دیکھ کر مذہب اور سیاست کے بیچ طلاق کا ماحول گرم ہوا تھا۔ اور ایسے ہی کسی موقع پر کسی بڑ بولے شاطر نے یہ جھوٹ بول دیا ہوگا کہ "انسانیت ہی اصل مذہب ہے”!!