ایک شریف مگر ظریف انسان۔ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

ہائے چند مہینوں میں کیسے کیسے لعل و گوہر ہم سے چھن گئے ۔کتنے آسمانوں کو بڑی بے رحمی سے زمیں کھا گئی۔مولیٰ! تیرے کمزور بندے انا للہ ۔۔۔پڑھ پڑھ کر اور ان کے قلم حرف ِ غم لکھ لکھ تھک چکے ہیں بلکہ انگلیاں گھس گئی ہیں ۔اے خالق انس و جن اور مالک ِ ارض و سما یقینا ً ساری بادشاہت تو تیری ہی ہے، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ،اللہ رحم فرما فضل فرما کرم فرما!
ایسے ہی آفتاب و ماہتاب میں ایک ہمارے مشفق و مخلص اور بزرگ دوست عادل صدیقی مرحوم تھے۔ ایک انتہائی خوب صورت اور بے ضرر انسان ، کسی سے دوستی نہ کسی سے دشمنی ، بس اپنے کام سے کام ، دھن کے پکے، جس کام میں لگے تو اسے پورا کر کے چھوڑا ، سستوں کو چست کرنے اور روتوں کو ہنسانے والا، بڑے بے تکلف ، بڑے مزاحیہ اور مرنجاں مرنج ۔ یوں تو عمر میں ہمارے باپ بلکہ دادا کی عمر کے تھے لیکن ان کااپنے پرایے سے ملنے کا بے تکلفانہ انداز، خردنوازی، شفقت و محبت ، مزاج کی شوخی اور کھلنڈراپن ہمیں اس کشمکش میں ڈال دیتے تھے کہ وہ ہمارے قابلِ احترام بزرگ ہیں یا ہمارے لنگوٹیے؟
آخری چندبرسوں کو منہا کردیں تو صدیقی صاحب نے لمبی عمر کے ساتھ بڑی خوشگوار زندگی گزاری، تدریس کے ساتھ ساتھ صحافت کو انھوں نے اپنا میدانِ عمل منتخب کیا ۔ جب وہ باضابطہ شعبہ اطلاعات و نشریات سے وابستہ ہوئے تو ریڈیو صحافت میں بھی اپنے جوہر دکھائے۔ انھوں نے لکھا اور خوب لکھا اور ہر موضوع پر لکھا لیکن انھیں اس سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی کہ ان کے مضامین کتابی صورت میں بھی نظر آئیں۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے کہ ان کے قلمی سرمایے کا اکثر حصہ صحافتی تحریروں پر مشتمل تھا تاہم دیگر موضوعات پر تحریر کردہ ان کی اہم کاوشوں کو تو کتابی شکل میں منظر عام پر آنا ہی چاہیے۔
کم عمری ہی میں صدیقی مرحوم نے ملازمت کا آغاز ضرور کر دیا تھا تاہم وسعت بھر وہ اپنی تعلیم سے کبھی غافل نہ رہے اور ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی اور ایم اے تک کی تعلیم مکمل کی۔اسلامیہ کالج مظفر نگر، مسلم قدرت انٹر کالج ، سیوہارہ بجنور میں تدریسی خدمات انجام دیتے ہوئے اسلامیہ کالج دیوبند آگئے اور پھر یہیں سے مولانا احمد سعید دہلوی کی سفارش پر دہلی میں پریس انفارمیشن بیو رو،وزارت اطلاعات و نشریات حکومت ہند میں ان کی سروس ہو گئی۔ایک سوا سال اردو کے بین الاقوامی ماہنامے ” آجکل“ دہلی کے معاون مدیر رہے ۔ عادل صدیقی صاحب ماہنامہ ”یوجنا“ دہلی کے بنیاد گزاروں میں تھے اور اس کے پہلے مدیر بھی منتخب ہوئے اور سات سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ وہ ریڈیو سے بہت پہلے سے جڑے تھے اور اپنی دیگر تمام مصروفیات کے باوجود ریڈیو سے وابستگی وفات سے چند سال قبل تک برقرار رہی۔ 1988میں سبکدوشی کے بعد وہ دار العلوم دیوبند کے ناظم ِ محاسبی کے عہدے پر فائز ہوئے چوں کہ وہ اردو فارسی زبانون کے ساتھ انگریزی زبان سے بھی اچھی طرح واقف تھے بطور خاص وہ ترجمہ اور ترجمانی میں بڑی مہارت رکھتے تھے اس لیے دار العلوم میں جب کسی قومی یا بین الاقوامی میڈیا کی آمد ہوتی تو انھی کی خدمت حاصل کی جاتی اور وہ اس ذمہ داری کو بخوبی نبھاتے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ ایک بار ایک چینل والے ان سے مختلف سوالات کر رہے تھے اور انھوں نے جواب دیتے ہوئے طنزاً کہا تھا کہ ادھر چلیے(مسجد قدیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس کے صحن میں چھوٹے چھوٹے پڑھ رہے تھے) آپ کو دہشت گردوں سے ملاتے ہیں ، رپورٹر منہ تکنے لگا۔یہ اس وقت کی بات ہے جب مدارس دینیہ پر بار بار دہشت گردی کا الزام تھوپا جاتا تھا۔
ماہنامہ ’یوجنا‘ دہلی کے اجرا کے موقعے کاعادل صاحب نے ایک پر لطف قصہ سنایاکہ جب اس رسالے کی پبلسٹی کی بات آئی تو انھوں نے ایک مشورہ دیا کہ کوئی متنازع مسئلہ چھیڑ دو پھر دیکھو۔ اور واقعتا یہ مشورہ تیر بہدف ثابت ہوا اور یہ رسالہ ایسا چلا کہ آج تک جاری ہے۔ایک بار فرمایا کہ وہ ریڈیو کے لیے جارہے تھے کہ بلڈنگ کے ا یک دروازے پر کسی نئے دربان نے انھیں روک لیا ، صدیقی صاحب نے ایک طرف ہوکر ایک ہاتھ سے اپنی ڈاڑھی پکڑی اور دوسرے ہاتھ سے ڈاڑھی پر تھپڑ مارنے لگے ، کسی بڑے افسر نے دیکھا تو کہنے لگے کہ ارے یہ کیا کر رہے ہیں تو انھوں نے جواب دیا : اسی بدمعاش نے سارا مسئلہ کھڑا کیا ہے ۔ پہچاننے والے انھیں اندر لے گئے اور روکنے والے کو پشیمانی ہوئی۔
صدیقی مرحوم کا برسوں یہ معمول رہا کہ وہ ہر جمعے کو آل انڈیا ریڈیو دہلی جاتے اورریڈیو نشریہ لکھتے ۔ وفات سے چند سال قبل تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ دار العلوم کے پڑوس میں ہی ان کا محلہ تھا، گھر سے پاپیادہ دیوبند اسٹیشن جاتے، دونوں کے بیچ کا فاصلہ تقریباً تین کلو میٹر ہے ، پیسنجر ٹرین کا ٹکٹ لیتے، ٹرین میں عموماً اوپر والی سیٹ پر بیٹھنے کی کوشش کرتے، حالانکہ وہ اتنے خوشحال تھے کہ گھر سے اسٹیشن اور دیوبند سے دہلی تک بآسانی آرام دہ سفر کرسکتے تھے لیکن انھیں اسی طرح کے سفر میں لطف حاصل ہوتا تھا ۔ پہلے جمعیۃ مرکزی دفتر آٹی او جاتے ،وہاں جمعہ ادا کرتے ، پھر پیدل ہی آل انڈیا ریڈیو کی آفس منڈی ہاﺅس پہنچتے ، بر وقت انھیں ایک عنوان دیا جاتا ، ایک آدھ گھنٹے کے اندر ہی وہ ایک جامع نشریہ تحریر کر کے پروگرام آفیسر کو تھما دیتے اور اپنا چیک لے کر پھر شام والی پیسنجر ٹرین سے دیوبند واپس۔
مولانا ابو الکلام آزاد ، مولانا احمد سعید دہلوی، پنڈت نہرو اور مولانا حفظ الرحمن وغیرہ سے ان کی راہ و رسم تھی آخر الذکر سے بطور ِ خاص ان کا قریبی تعلق تھا ۔ایک دفعہ انھوں نے بتایا کہ جب مولانا آزاد کا انتقال ہوا تو تھوڑی ہی دیر میں جواہر لعل نہرو ان کی رہائش پر پہنچ گئے اور سرہانے کھڑے ہوکر یوں کہا : آپ بھی چل دیے ۔
انھیں علمائے دیوبند سے بڑی عقیدت و محبت تھی اسی طرح اس وقت کے ہندوستان کے مشہور مجاہدین آزادی کو بھی انھیں بہت قریب سے دیکھنے اور پرکھنے کاموقع ملا اور انھوں نے ان میں سے بیشتر پر شخصی مضامین بھی تحریرکیے ۔
راقم کو بھی ان کی شفقت حاصل رہی،بڑی محبت سے پیش آتے اور اس قدر بے تکلفی سے پیش آتے کہ تھوڑی دیر کے لیے ہمارے بیچ کی عمر کا فاصلہ غائب ہوجاتا۔ چوں کہ دیوبند کے زمانۂ طالب علمی میں راقم تھوڑی بہت تک بندی بھی کرلیا کرتا اور تخلص عاجز استعمال کرتا تھا ۔ عادل صاحب سے کبھی احاطۂ مولسری ، کبھی دفتر محاسبی اور کبھی ماہنامہ ’دارا لعلوم ‘کے دفتر تو کبھی کسی گیٹ پر ملاقات ہوجاتی ، بڑے پُرتپاک انداز میں ملتے ، خیریت معلوم کرنے پر لفظوں کے بجائے حرکتوں سے جواب دیتے اور اس طرح جواب دیتے کہ پوچھنے والا بھی کھل اٹھتا اور تازہ ہوکر ان سے رخصت ہوتا۔ کبھی مجھے پکڑ کر دوسرے احباب سے کہتے یہ ملیے ”مجموعۂ اضداد سے “ اور ذرا کھینچ کر بولتے ” فاروق اعظم عاجز “ میں ایک ادنیٰ طالب علم بس اتنا کہتے ہوئے وہاں سے فرار ہونے ہی میں عافیت محسوس کرتا کہ حضرت یہ ’عاجز‘ ’اعظم‘ کے اشتعال کو نارمل کرنے کے لیے ہے ، وہ ہنس دیتے۔
کبھی خاص لفظوں کے ذریعے ہنسی کی پھول جھڑی چھوڑتے ۔ ایک بار غالباً مولانا احمد سعید صاحب کا واقعہ بتاتے ہوئے فرمایا : ان کے پاس سہارن پور کا ایک جوان ملازمت کی سفارش کے لیے پہنچا ، مولانا نے جوان سے نام پوچھا ، جواب دیا جی آفتاب ، تو مولانا نے بڑی شفقت سے مزاح فرمایا کہ عزیزم آفتاب سوا نیزے پہ کب آﺅگے ۔
اسی طرح کبھی اپنے مخصوص انداز میں دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر کوئی البیلا شعر سنادیتے ۔ مثلاً
عمامے مغز پیدا کھوپڑی میں کر نہیں سکتے
ارے ناداں کو دستار ِ ہنر دینے سے کیا ہوگا
کبھی کہتے :
سنا ہے حضرت ِ بدھو بھی گاندھی کے ساتھ ہیں
گو مشت ِ خاک ہیں مگر آندھی کے ساتھ ہیں
ظاہر ہے وہ ایک انسان تھے اور بہت سے لوگوں سے انھیں بھی شکایت رہتی لیکن کبھی بھی صدیقی مرحوم شکایت کرتے ہوئے سنجیدہ نہیں پائے گئے ، بس مختصر لفظوں میں کوئی پُرمزاح جملہ پھینک دیتے اور بس ۔ نہ تو اس میں کسی کی تنقیص کا رنگ ہوتا اور نہ ہی تحقیر کا کوئی شائبہ۔
2009کے اواخر میں راقم جب دیوبند کی تعلیم مکمل کرکے دہلی بغرض عصری تعلیم رخت ِ سفر باندھ رہاتھا تو ان سے بھی مشورہ کیا ۔چوں کہ وہاں ایک نئی زندگی شروع ہونے جارہی تھی اور دہلی میں رہاش کا بڑا مسئلہ تھا اس لیے انھوں نے بڑی ہمدردی اور محبت کے ساتھ اپنے ایک عزیز پروفیسر ختر الواسع (جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی) کے نام ایک سفارشی خط عطا کیا اور راقم کو امید دلائی کہ وہ یقیناً تمہاری رہنمائی کریں گے اور تمہارا تعلیمی سفر آسان ہوگا۔ خیر ان کا یہ سفارشی خط تو کام نہیں آیا تاہم ان کی دعائیں ضرور کام آئیں۔
اسی طرح میری پہلی کتاب ’ مناظر ِ گیلانی ‘ (2007) جب زیور ِ طباعت سے آراستہ ہوئی تو کتاب لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا ، بڑی خوشی کا اظہار کیا دعاﺅں سے بھی نوازا اور کچھ دنوں بعد کتاب پر ایک مفصل تبصرہ بھی عنایت کیا ۔جس کا ایک اقتباس تھا : ” دار العلوم دیوبند کے ایک نئے فاضل جناب فاروق اعظم عاجز قاسمی نے اپنی مصروفیات کے باوجود سلطان القلم علامہ سید مناظر احسن گیلانی ؒ کی گوناگوں شخصیت کے چند پہلوﺅں کو اجاگر کرنے کے لیے کتاب تصنیف کی ہے جو یقیناً ایک قابلِ قدر ادبی کارنامہ ہے ۔“
ابھی گزشتہ ڈیڑھ دو سال پہلے ان کی خدمت میں حاضری ہوئی ، گھر پر تھے ، ظاہری صحت تو ٹھیک تھی لیکن دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا بار
بار نام پوچھتے پھر بھول جاتے لیکن اس حالت میں بھی بڑے پیار سے بٹھایا ، حال احوال پوچھے ۔ کچھ دیر بیٹھ کر اور اس پرانے چراغ سے تھوڑی روشنی لے کر حسرت بھری نگاہ سے ان سے جدا ہوگیا اور اب ان سے اس دنیائے دوں میں کبھی ملاقات نہیں ہوپائے گی ۔ وفات کی خبر سے بڑا دکھ ہوا ۔ اللہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے ۔