ایک شرارت بچپن کی ! – رئیس صِدّیقی

یہ اُس وقت کا واقعہ ہے جب میں قریب سات آٹھ سال کا تھا اور اپنی نانی کے یہاں گرمیوں کی چھٹیاں منانے لال پور گیا ہوا تھا۔ایک دن میں اپنے شرارتی دوستوں کے ساتھ، جنھوں نے کسی حد تک مجھے بھی اپنے رنگ میں رنگ لیا تھا، اپنے کھیت گیا۔
کھیت کے پاس ایک کنواں تھا۔ ہم لوگ گرمی سے بچنے کے لئے اکثر وہیں بیٹھا کرتے تھے۔ روزانہ کی طرح، اس دن بھی ہم لوگ کنویں کی منڈیر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اتفاق سے اس دن کسی دوسرے گائوں کے ایک آدمی کا اُدھر سے گزر ہوا۔ ہم لوگوں کو ایک شرارت سوجھی اور اس پر عمل کرڈالا۔
میں چلّا چلّا کر رونے لگا۔
ایں۔۔۔ایں۔۔۔۔ایں !
وہ آدمی مجھے روتا دیکھ کر وہیں ٹھِٹک گیا۔ پھر میرے پاس آکر میرے رونے کی وجہ پوچھی۔میں نے منہ بسور کر روتے ہوئے بتایا۔’ایں ایں۔ میری ٹوپی اس کنویں میں گرگئی ہے۔ ایں ایں ایں۔ اگر ٹوپی مجھے نہیں ملی تو میری نانی مجھے بہت ڈانٹیں گی۔ہو سکتا ہے پٹائی بھی کریں !
پہلے اس آدمی نے بڑے غور سے میرا معصوم چہرا دیکھا۔ کچھ سوچا۔پھر اپنی قمیص اتاری اور کنویں میں سیڑھی سے نیچے اُتر کر میری ٹوپی تلاش کرنے لگا۔
ادھر ہم لوگوں نے اس کے کپڑے اٹھائے اور بھاگ کر ایک قریب کی جگہ چھپا دئے۔جب تھوڑی دیر کے بعد ہم واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ آدمی کنویں سے اپنا آدھا دھڑ باہر نکالے بڑی حیرت سے ہم لوگوں کو تک رہا ہے۔ پھر وہ کنویں سے باہر آیا اور بولا — بیٹا، ہمارے کپڑے کہاں ہیں؟— اور ہاں، تمھاری ٹوپی مجھے نہیں ملی۔ اچھا ایسا کرو کہ تم مجھ سے اس کی پیسے لے لو اور بازار سے خرید لو تاکہ تم اپنی نانی کے غصہ سے بچ جائو۔یہ سننا تھا کہ مجھے کچھ عجیب سا لگا۔میں اسے دیکھتا رہ گیا ۔بجائے ہم لوگوں پر بر ہم ہونے کے ، وہ صرف میرے بارے میں سوچ رہا تھا۔ میرا ضمیر مجھ پر ملامت کرنے لگا۔ میں جلدی سے دوڑ کر اس نیک آدمی کے کپڑے واپس لایا اور اس کو دیتے ہوئے شرمندگی سے بھری مدھم آواز میں بولا۔
میں بہت شرمندہ ہوں۔ مجھے معاف کر دیجئے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اب ــ میں، کبھی بھی، اسطرح کی کوئی بھی شرارت نہیں کرونگا !

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*