اک شہرِ فن کو حکمراں کی ضد اڑا کر لے گئی ـ روہنی سنگھ

 

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں فنون لطیفہ اور قدیم دستاویزات کے شیدائیوں کے لیے اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹ، نیشنل آرکائیوز اور نیشنل میوزیم کی شاندار عمارات اور اس کے وسیع و عریض احاطے کسی جنت سے کم نہیں تھےـ

ان کا وجود میرے لیے بھی ایک نعمت تھاـ یہ تینوں عمارتیں دہلی کے وقار میں اضافہ کرتی تھیں اور ان کی وجہ سے میں بھی دہلی کے مکین ہونے کے ناطے فخر محسوس کرتی تھی ـ

نیشنل آرکائیوز میں تو پورے جنوبی ایشیاء کی تاریخ سمٹی ہوئی ہے. خلجی، تغلق، پٹھان، مغل اور برطانوی دورِ حکومت کی تمام تر دستاویزات اور فرامین یہاں محفوظ ہیں اور محقیقین کی راہ دیکھتے رہتے ہیں ـ

مگر اس وقت جب دہلی میں کورونا وائرس کی وباء نے پوری آبادی کو ہراساں کیا ہوا ہے اور اموات کی وجہ سے خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں، بلکل اسی طرح وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے نیا دارالحکومت اور نئے سرکاری دفاتر و رہائش گاہیں بنانے کی ضد نے اس شہر کی روح کو زخمی کر کے رکھ دیا ہےـ

دہلی کا وسطی علاقہ، یعنی پارلیمنٹ ہاؤس سے انڈیا گیٹ تک اس وقت جیسے کوئی جنگ زدہ علاقہ لگتا ہے. ہر طرف کھدائی اور بڑے بڑے کھڈے. نیا شہر بسانے کے نام پر اندرا گاندھی نیشنل سینٹر آرٹ، نیشنل آرکائیوز اور نیشنل میوزیم سمیت کئی عمارات ڈھائی جا رہی ہیں. دہلی کی ثقافت و تہذیب ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو کر ہماری آنکھوں کے سامنے اس طرح ملیا میٹ ہو رہی ہے، جو شاید نادر شاہ یا تیمور لنگ کے حملوں کے وقت بھی نہ ہوئی ہوـ

بھارت کے افسر شاہی نظام میں، ایک اسکول یا ہسپتال بنانے کے لیے زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے میں ماہ و سال لگ جاتے ہیں. مگر تین کلومیٹر پر محیط اور ٢٠٠ بلین روپے کی لاگت والے اس پروجیکٹ کو بس چند روز میں ہی پاس کیا گیاـ

ایسے وقت میں، جب طبی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے لوگ وبا سے ہلاک ہو رہے ہیں، حکومت کی نیا دارالحکومت بنانے کی ترجیح سے عوام بے حال ہیں. لاک ڈاؤن کے دوران بھی اس منصوبہ پر کام زور و شور سے جاری ہےـ اس سائٹ پر روزانہ ٣٠٠ سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں اور ان کو لاک ڈاون سے استثنیٰ دیا گیا ہےـ

اس آرٹ سینٹر کے ساتھ کئی میری یادیں وابستہ ہیں ـ کھبی اس کے وسیع و عریض احاطے میں ریختہ فاؤنڈیشن کی طرف سے جشن اُردو برپا ہوتا تھا تو کبھی دور دراز کے صوبوں یا علاقوں کے رقص و موسیقی کے پروگرام، کبھی مشاعرہ تو کبھی کوئی سمیلین. غرض آرٹ اور کلچر کے دیوانوں کے لیے یہ کسی آستانے سے کم نہیں تھاـ اس سینٹر نے مجھے بھارت کے مسحورکن ثقافتی تنوع کو سمجھنے اور اس کی قدردانی سکھائی، جو فی الوقت اضطراب کا شکار ہےـ

فنون لطیفہ کے دیوانوں کے لیے اس احاطے میں وقت جیسے تھم جاتا تھا. اس کی لائبریری میں تقریباً تین لاکھ سے زیادہ کتب موجود تھیں. سامنے نمائش گاہ، جہاں ہر وقت ملک کے کسی نہ کسی گوشے کے کسی مصور کے شہ پاروں کی نمائش لگی ہوتی تھی ـ اس کے متصل آڈیٹوریم، جہاں آرٹ و کلچر سے وابستہ کسی شخصیت کے لیکچر سے آپ لطف اندوز ہو سکتے تھےـ اس کی ریفرنس لائبریری میں آچاریہ ڈاکٹر ہزارہ پرساد دویدی اور کرشنا کرپلانی جیسے ممتاز شہریوں کا ذاتی ذخیرہ موجود تھاـ

بدقسمتی سے حکمرانوں کی بے حسی، تنگ نظری اور ضد کی وجہ سے یہ جگہ اب تاریخ بن رہی ہے اور اس کے ذخیروں کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہےـ تاریخ دان اور آرٹ اور کلچر سے محبت کرنے والے لوگ اس اہم جگہ کے ضائع ہونے پر ہلکان ہیں ـ

تقسیم سے قبل کے پنجاب اور سکھ ازم کے موضوع پر جب میں تحقیق کر رہی تھی تو مجھے اکثر نیشنل آرکائیوز جانا پڑتا تھا. یہ پورے جنوبی ایشیاء کی تاریخ کے علاوہ نایاب اور انمول میراث سمیٹے ہوئے ہےـ

سن ١٩٤٧ میں برصغیر کی تقسیم کے وقت نئی مملکتوں بھارت اور پاکستان کی افسر شاہی نے دفتری فرنیچر، خزانہ، فوج اور دیگر سازو سامان کو آپس میں بانٹ تو لیا مگر کتب اور آرکائیوز کا بٹوارہ نہیں ہواـ

اسی لیے آرکائیوز سے متعلق سبھی دستاویزات بھارت میں ہی رہیں.
مثال کے طور مغلیہ دور پر تحقیق کرنے والے کسی بھی محقق کو اگر شہنشاہ اکبر یا کسی دیگر فرمانروا کے کسی تحریری فرمان کا مطالعہ کرنا ہو تو وہ اسی بلڈنگ میں موجود ہےـ

برطانوی دور کے جاسوسوں کی رپورٹیں، اس بلڈنگ کے خزانے میں موجود ہیں. نیشنل آرکائیوز کے دہلی میں موجود ہونے اور اس کو سن ١٩٤٧ کے بٹوارہ کی مار سے بچانے کی وجہ سے بھارت میں ہمیشہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی نسبت بہتر مورخ پیدا ہوئے ہیں ـ

چند برس قبل پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں موجود قائد اعظم یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے مجھے بتایا کہ بھارتی حکومت، پاکستانی یا بنگلہ دیش کے محققین یا مورخین کو اس آرکائیوز سے مستفید ہونے کی اجازت نہیں دیتی ہےـ

پہلے تو مجھے لگا کہ پروفیسر صاحب کسی پروپیگنڈہ کا شکار ہو گئے ہیں. ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ان ممالک کے محقیقین کو اس مشترکہ وراثت سے دور رکھا جائے. مگر دہلی واپس آ کر معلوم ہوا کہ یہ بلکل سچ ہے. پاکستان اور بنگلہ دیش کے محقیقن اپنی تاریخ کے ماخذ اور اصل اور بنیادی دستاویزات کے مطالعہ اور ان پر اپنی رائے قائم کرنے کے حق سے پچھلے ٧٥ سالوں سے محروم ہیں ـ

زیادہ حیرت تو اس پر ہوئی کہ ابھی تک کسی نے اس پر آواز بھی نہیں اٹھائی ہے اور بنگلہ دیش یا پاکستان کے وزرائے اعظم یا دیگر حکمرانوں یا افسران نے اس کو کبھی بھارت کے ساتھ گفت و شنید کا بھی موضوع نہیں بنایا ہےـ

صرف ایک بار پاکستانی اخبار ڈیلی ٹائمز کے دہلی کے نمائندے نے بھارت اور پاکستان کے افسران کی ایک میٹنگ کے حوالے سے اس ایشو کو اٹھایا تھا لیکن بعد میں کسی نے بھی اس کو فالو نہیں کیاـ

اسی طرح کا خزانہ نیشنل میوزیم میں بھی موجود ہےـ چند برس قبل یہاں ‘کوڑی سے کریڈٹ کارڈ تک‘ پر ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا. دریائے سندھ کی تہذیب سے لے کر اب تک کی کرنسی کا سفر اس نمائش میں دکھایا گیا تھاـ یہ تصور کرنا مشکل تھا کہ ایک ہی چھت کے نیچے کرنسی کی تاریخ کا اس قدر نایاب خزانہ موجود ہو سکتا ہےـ تب ایک افسر نے مجھے بتایا کہ یہ تو صرف ان کے پاس موجود خزانہ کا صرف ٪٢٠ فیصد ہےـ

ماہرین کا کہنا ہے کہ عجائب گھر یا آرکائیو کی منتقلی خاصا پیچیدہ عمل ہے اور اس کے لئے برسوں کی محنت اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہےـ

اس قیمتی وراثت کو صندوقوں میں بھر کر اندھیری کوٹھریوں میں نہیں رکھا جا سکتا ہےـ انہیں انتہائی احتیاط کے ساتھ سنبھالنا پڑتا ہے تاکہ انہیں کوئی نقصان نہ ہوـ مزید یہ کہ منتقلی سے قبل نئی سائٹ بھی تیار ہونی چاہیےـ

ان تین عمارتوں کے علاوہ آٹھ دیگر عمارات، جن میں سے زیادہ تر آزادی کے بعد تیار کی گئی تھیں، کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے تاکہ وزیر اعظم مودی کے لئے محل اور نئے سرکاری دفاتر تعمیر کرائے جائیں ـ

بھارت کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی دہلی کی رہائش گاہ کو بھی مسمار کیا جا رہا ہےـ دیگر عمارات، جو گرائی جا رہی ہیں، اتفاقاً کسی نہ کسی صورت میں بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور نہرو کے لیے مودی کی ناپسندیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں ہےـ

نہرو کے ساتھ یہ نفرت کس قدر شدید ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کا صدر دفتر، جو نہرو بھون کے نام سے جانا جاتا ہے اور بس دس سال قبل ہی تعمیر ہوا اور جدید فن تعمیر کا ایک شاہکار مانا جاتا ہے، اس کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے. اس سے زیادہ ستم ظریفی کیا ہو سکتی ہے؟

کہتے ہیں کہ آمروں کو آرٹ اور کلچر راس نہیں آتا کیونکہ ان کے ذریعے کسی نہ کسی صورت میں اظہار رائے اور موجودہ حالات کی عکاسی ہوتی ہےـ

تاریخ گواہ ہے کہ جس کسی بھی حکمران نے دہلی کی از سر نو تعمیر کی ہے، اس کو اس میں بعد میں بیٹھنا نصیب نہیں ہواـ قبل از تاریخ اس شہر کو اندر پرستھ کے نام سے پانڈوں کے سردار یڈھشٹر نے بسایا. یہ شہر آج کے چڑیا گھر اور شیر شاہ سوری کے بنائے گئے پرانے قلعہ کے پاس ہے. مگر پانڈوں کو اس شہر میں رہنا نصیب نہیں ہوا. نہ صرف وہ ملک بدر ہو گئے بلکہ انہوں نے جوئے میں اپنی مشترکہ بیوی دروپدی کو بھی کھو دیاـ

یہی کچھ واقعات بعد میں پرتھوی راج چوہان، علاؤ الدین خلیجی، فیروز شاہ تغلق، شیر شاہ سوری، شاہجہان اور بعد میں برطانوی حکمرانوں کے ساتھ پیش آئے. مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں آٹھ بار جن حکمرانوں نے دہلی کو ازسرنو تعمیر کرایا، انہوں نے پرانا شہر مسمار نہیں کیاـ

دہلی یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر سری رام اوبرائے نے مجھے بتایا کہ دہلی میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ماضی میں کبھی نہیں ہواـ
کہتے ہیں جو قومیں اپنی تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں کرتیں وہ نیست و نابود ہو جاتی ہیں ـ ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے.!!!