ایک روشن دماغ تھا،نہ رہا (ڈاکٹر فخرالدین صاحب حیدرآباد کی یاد میں)ـ اظہارالحق قاسمی بستوی

کل بائیس رمضان بتاریخ 5 مئی 2021 کو یہ اطلاع ملی کہ حیدرآباد کی مشہور علمی اور سماجی شخصیت جناب ڈاکٹر فخرالدین صاحب بھی راہیِ آخرت ہوگئے۔ اس خبر نے رنجور کردیا۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

اذان انٹرنیشنل اسکول حیدرآباد میں پانچ سالہ ملازمت کے دوران ڈاکٹر صاحب سے ہماری کئی ملاقاتیں رہیں۔ وہ ہمارے چیئرمین ڈاکٹر محمد یوسف اعظم صاحب کے برادر نسبتی (بہنوئی) ہوتے تھے۔ اس وجہ سے بہت سی شخصی تقریبات میں بھی ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ وہ اسکول کے خاص مواقع پر نہ صرف تشریف لاتے بل کہ اپنے خوب صورت تاثرات وجذبات کا بھی اظہار کرتے۔

ڈاکٹر صاحب نے کل ترسٹھ سال عمر پائی۔ تاریخ ولادت 25دسمبر 1958 ہے۔ موصوف ایک نہایت علمی اور سنجیدہ گھر انے کے چشم و چراغ تھے جس کے مبینہ طور پر 55 افراد ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹر صاحب خود بھی ایم بی بی ایس اور ایم ڈی تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی بطور خاص حیدرآباد میں ہر محاذ پر بے شمار قابل قدر خدمات ہیں۔ عہد کورونا میں بھی انھوں نے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر صاحب نہایت اعلیٰ دماغ اور وسیع الفکر شخص تھے۔ اسی وجہ سے حکومت اور اس کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ تمام مذہبی و غیر مذہبی قائدین کے حلقے میں بھی ان کو اعتبار حاصل تھا۔ وہ ایک اچھے ماہر تعلیم اور سماجی خدمت گار شخص بھی تھے۔ عوام وخواص دونوں میں اپنی خاص شناخت رکھتے تھے۔ وہ MESCO (مسلم ایجوکیشنل، سوشل اینڈ کلچرل سوسائٹی) کے یکے از بانیان، چیرمین اور اعزازی سیکریٹری بھی تھے۔ یہ سوسائٹی بہت سے اسکول اور کالج وغیرہ چلاتی اور مصیبت زدگان کی مدد بھی کرتی ہے۔

میسکو کا ایک پروگرام ALEEF (الیف: عربک لینگویج اینڈ انگلش ایجوکیشن فاؤنڈیشن) ہے جس کے ذریعے قرآنی عربی کے فروغ کی کوشش کی جاتی ہے چناں چہ اس پروگرام کے تحت پڑھنے والا طالب علم یا طالبہ پری-پرائمری سے لے کر چھٹی جماعت تک درست قرآن پڑھنے اور بلاواسطہ قرآن سمجھنے کے اہل ہوجاتے ہیں۔ ایسا دعویٰ اور کوشش میسکو کی طرف سے کیے جاتے رہے ہیں جو کہ قابل قدر ہے۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کی ٹیم اپنے اس پروگرام کو لے بڑے پرجوش تھے۔

ہماری اذان اسکول کی انتظامیہ بھی اس پروگرام سے خاصی متاثر تھی جس کو اچھے سے سمجھنے کے لیے ہمیں میسکو بھیجا بھی مگر ہم کو اس پروگرام سے تشفی نہ ہوسکی۔ ہمیں تعجب ہوتا تھا اس دعوے پر کہ ایک تین چار سال کا بچہ جو پری پرائمری میں ہے اور ایک دس بارہ سال کا بچہ جو چھٹی جماعت میں ہے وہ مکمل اسکولی تعلیم کے ساتھ کیسے بلاواسطہ قرآن سمجھ لے گا وہ بھی ہفتے کے صرف تین چار پیریڈ میں۔ ہمارے تقرر سے قبل ہی اذان اسکول میں بھی یہ نظام کچھ لیولز پر شروع کیا جا چکا تھا مگر وہاں ہمارا تجربہ نہایت تلخ تھا۔ پورے چھ مہینے میں پچیس پچاس الفاظ جو یاد کرائے جاتے وہ بھی نوے فیصد طلبہ کو یاد نہیں رہتے تھے چہ جائے کہ وہ قرآن سمجھتے!

ہم لوگ اس بات کے داعی تھے کہ چھوٹے بچوں کو پہلے مبادیات دین پڑھائی جائیں ساتھ ساتھ ناظرہ قرآن اور پھر درجہ ششم سے فہم قرآن کی طرف توجہ دی جائے۔ چوں کہ ہم نے دیکھا کہ اسکولوں میں باقاعدہ ناظرہ قرآن پڑھانے کا رواج نہیں تھا۔ بس وہی ہفتے میں تین چار پیریڈ دیے جاتے ہیں جس میں ناظرہ بھی پڑھوانا ہوتا تھا اور فہم قرآن بھی کروانا پڑتا تھا جس میں ہم اور ہمارے زیر نگرانی چلنے والا قرآنی عربی کا شعبہ صد فی صد ناکام تھے۔ کافی جد و جہد کے بعد انتظامیہ نے ایک سال ہم کو یہ موقع دیا کہ روزانہ ظہر بعد ایک سوا گھنٹے پورے اسکول کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دی جائے۔ جس سے پہلی بار اسکول میں قرآن پڑھنے پڑھانے کا ماحول بنا۔ مگر اسی سال ہماری حیدرآباد سے واپسی مقدر ہوگئی لہذا ہم نتیجہ نہ دیکھ سکے۔ البتہ دیگروں سے حوصلہ افزا خبریں ملیں۔

ہم نے میسکو گریڈ اسکول میں یہ مطالبہ بھی رکھا کہ کسی ایک جماعت میں ہمیں ہماری مرضی کے سوال کی اجازت دی جائے تو ہمیں اطمینان ہوگا مگر ایسا نہیں ہوسکا۔ اس کے مدعی کچھ دوسرے اسکول والوں مثلاً میری فاطمہ اسکول والوں سے بھی ہم نے مطالبہ کیا کہ ہمیں اپنے اسکول میں آکر دیکھنے کی اجازت دیں مگر انھوں نے بھی معذرت چاہ لی۔

اس پروگرام کے خاص ذمے دار ڈاکٹر افتخار صاحب نے بار بار یہ فرمایا کہ بچے کو قرآن پڑھنا اور سمجھنا آگیا تو پورا دین آگیا جس سے ہم ہرگز مطمئن نہیں ہو سکے۔ ہمارا یہ کہنا تھا کہ بچے کو ترتیب سے لے کر چلنا چاہیے۔ چناں چہ پہلے بچے کو مبادیات دین: فرائض و واجبات و ادعیہ و سنن وغیرہ سکھائی جائیں اور ساتھ ساتھ قرآن کا ناظرہ پڑھانے پر توجہ دی جائے۔ پانچویں جماعت تک قرآن مکمل یا روانی اور درستگی کے ساتھ پڑھنے کا اہل بنایا جائے پھر درجہ چھ سے فہم قرآن کی طرف بڑھیں کہ بچے کو قرآن سمجھنے کو سمجھنے کا کسی قدر شعور آجائے گا۔ اذان میں بحیثیت ذمہ دار شعبہ نیز شخصی طور پر بھی ہم اس نظام سے کبھی مطمئن نہیں ہوئے۔ ہماری انتظامیہ نے بھی اس نظام کو ماننے پر مجبور نہیں کیا۔ نیز ڈاکٹر فخرالدین صاحب اور ڈاکٹر افتخار صاحب بھی ہم لوگوں کی رائے سے عدم اتفاق کے باوجود کبھی نالاں یا کبھی چیں بجبیں نہیں ہوئے۔ بل کہ جب ملے محبت و عقیدت کے جذبات سے ملے۔

دونوں ڈاکٹر صاحبان کا جذبہ اور فکر بہت قابل قدر ہے۔ ڈاکٹر فخرالدین صاحب تو اس پروگرام کو سرکاری طور پر منظور کرانے کے لیے بھی کوشاں تھے پتہ نہیں معاملہ کہاں تک پہونچا۔ میسکو الیف کا نصاب مولانا غیاث الاسلام رحمانی صاحب کا تیار کردہ ہے جو ہمارے اعتبار سے ابھی بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے۔

شہر حیدرآباد؛ بل کہ پورے خطہ دکن میں مسلم ڈاکٹروں نے بڑے سارے ملی اور تعلیمی کارنامے انجام دیے ہیں۔ اذان اسکول، میسکو اور ایم ایس اسکول وغیرہ سیکڑوں تعلیمی ادارے جو دینی فکر لیے ہوئے ہیں تعلیم کے میدان میں بہترین کارنامے انجام دے رہے ہیں۔ MFERD (ملت فاؤنڈیشن فار ایجوکیشن، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ) بھی ایک نمایاں تنظیم ہے جس کے روح رواں ڈاکٹر مشتاق صاحب ہیں۔

ڈاکٹر فخرالدین صاحب بڑے ماہر تعلیم بھی تھے۔ کسی پروگرام میں جس میں ہم بھی شریک تھے جوڑ گھٹانا کرکے فرمانے لگے کہ آئندہ کچھ سالوں میں صرف ہمارے اسلامی اسکولوں کے لیے تین لاکھ انگریزی داں علماء کی ضرورت پڑے گی۔ لہذا مدارس کو ہماری ضروریات کے اعتبار سے بھی افراد کو تیار کرنا چاہیے کیوں کہ دین اور قرآن درست تو علماء ہی پڑھا سکتے ہیں۔

ابھی 13 اور 14 فروری کو ایم ایف ای آر ڈی کی طرف سے منعقدہ پہلی ورچوئل کانفرنس میں ہم لوگ بھی شریک ہوئے تھے جس میں ڈاکٹر فخرالدین صاحب بھی ایک سیشن کے ناظم رہے۔ اور آخری بار ان کو سننے کا اور ان سے استفادہ کا موقع ملا۔

ڈاکٹر صاحب کی شخصیت میں ایسی کشش تھی کہ جہاں بیٹھ جائیں وہاں انجمن شروع ہوجائے۔ طبیعت ایسی باغ و بہار تھی کہ ہر وقت چہرے پر شگفتگی اور مسکراہٹ کھیلتی رہتی۔ وہ جب گویا ہوتے تو نہایت خوب صورت گفتگو کرتے جس کے لفظ لفظ سے پختہ فکری اور عزم و حوصلے کی کرن نمودار ہوتی۔

ڈاکٹر صاحب کی خدمات قابل صد رشک ہیں جس کے لیے انھیں دیر تک یاد کیا جائے گا۔ حیدرآباد بل کہ دیش پھر کے علمی اور فکری حلقوں میں ڈاکٹر صاحب کی کمی کو دیر تک محسوس کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔