ایک ناول پر دو باتیں ـ مالک اشتر

اکثر لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ادب اور سنیما سماج کا آئینہ
ہوتے ہیں۔ سوال ہے کیا ہمارے یہاں بھی ایسا ہے؟۔ اگر یہ دونوں اپنے معاشعرے کا درپن ہوا کرتے تو ہر برس ہزار سے زیادہ فلمیں بنانے والی بھارتی فلم انڈسٹری میں ‘علی گڑھ’ جیسی فلم سامنے آنے میں اتنا وقت نہ لگتا اور نہ ہی ہر ماہ کئی من فکشن پیدا کرنے والی اردو کی ادبی دنیا میں ‘اس نے کہا تھا’ جیسے ناول کا ظہور اتنی دیر سے ہوتا۔ ایسے میں دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں، یا تو لوگ اس موضوع پر بات کرکے ‘شرمندہ’ نہیں ہونا چاہتے یا پھر وہ اس طبقہ کو سماج کا حصہ ہی نہیں سمجھتے جسے عرف عام میں LGBT کہا جاتا ہے۔ اشعر نجمی کے لئے مبارکباد بنتی ہے کہ انہوں نے ‘شرمندگی’ کا خطرہ بھی مول لیا اور اس طبقہ کی سماج میں حصہ داری کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اپنے ناول کے ذریعہ اسے کچھ حد تک Assert بھی کیا ہے۔
اسی مرحلے پر رک کر ایک قضیہ اور حل کر لیجئے۔ سینئر صحافی شکیل رشید نے اشعر نجمی سے پوچھا کہ ان کے ناول پر جو مفصل تبصرے آئے وہ زیادہ تر خواتین نے ہی کیوں کئے؟۔ اشعر نجمی نے اس کا جواب دیا ہے لیکن اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں ‘علی گڑھ’ فلم کا ایک منظر یاد دلانا چاہوں گا۔ موقع وہ ہے جب پروفیسر سیراس کو ہم جنس پرستی کے الزام میں علی گڑھ یونیورسٹی میں استاد کے عہدے سے معزول کر دیا گیا ہے اور کچھ ایکٹیوسٹ لوگوں کے کہنے پر یہ معزولی ہائی کورٹ میں چیلنج ہوئی ہے۔ ملک کا ایک نامور وکیل پروفیسر سیراس کی طرف سے بحث کرنے کو راضی ہو گیا ہے۔ عدالت کی راہداری میں پروفیسر سیراس اس وکیل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘آپ اپنے جیسوں کے لئے اتنا کچھ کر رہے ہیں’۔ یہ سن کر وکیل تو بنا کچھ کہے آگے بڑھ جاتا ہے لیکن اس کا معاون پروفیسر سیراس کو بتاتا ہے کہ وکیل صاحب ہم جنس پرست نہیں ہیں۔
بس اسی منظر میں سارا کھیل ہے۔ پروفیسر سیراس کا یہ سوچنا کہ اگر کوئی ہم جنس پرستوں کا مقدمہ لڑ رہا ہے تو وہ ہو نہ ہو خود بھی ویسا ہی ہوگا، یہی سماج کی اکثریت کی سوچ ہے۔ عجب نہیں کہ اسی سماجی سوچ کا خوف نظر میں رکھ کر بہت سے لوگ ‘اس نے کہا تھا’ جیسا ناول لکھنے یا پھر اس پر تبصرہ کرنے سے بچتے رہے ہوں۔ یہ تقیہ اس لئے ہے کہ کہیں ہم بھی ‘ان’ میں نہ گن لئے جائیں۔
ناول شروع ہونے سے پہلے کتاب میں صدیق عالم کا ڈیڑھ صفحہ کا تبصرہ ہے۔ اس کی چند سطریں دیکھئے۔
"ایک ایسا ناول جس کا کوئی مربوط پلاٹ نہ ہو، نہ ہی واقعات کے زمانی اور مکانی تسلسل کے سلسلہ میں کوئی خاص وفاداری برتی گئی ہو۔ اس کے تانے بانے کے بکھرنے کا قوی امکان رہتا ہے، بشرطیکہ تحریر کی روانی اسے سنبھال نہ لے اور اشعر نجمی کی تحریر کی روانی سے کون انکار کر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ قارئین اس نامانوس دریا کے کنارے کھڑے کے کھڑے رہ جائیں۔ ہو سکتا ہے بیچ دریا تک پہنچتے پہنچتے کچھ لوگوں کی سانس پھولنے لگے مگر وہ جو کنارے پہنچیں گے انہیں کسی نخلستان کی امید نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس دریا کے اندر تیرنا ہی اس کا حاصل ہے۔”
اس تبصرے کے آخری الفاظ "۔۔۔ اس دریا کے اندر تیرنا ہی اس کا حاصل ہے۔” پورے ناول کا تعارف ہیں۔ اگر آپ دیبا خانم کے ‘اسمان سے آیا فرشتہ’ ٹائپ ناول کے شوقین ہیں تو آپ کے ساتھ وہ سب کچھ ہونا یقینی تھا جس کی وعید صدیق عالم نے سنائی ہے۔ آپ الجھ بھی جاتے، آپ کی سانس بھی پھولتی اور ممکن تھا کہ آپ پڑھنے سے زیادہ سامنے موجود عبارت کے تار پچھلے ابواب سے جوڑنے کی کوشش میں ہی پھنس کر رہ جاتے لیکن ان سب کو اشعر نجمی کی تحریر کی روانی نے سنبھال لیا۔ ہر باب کو شروع کرتے ہوئے قاری خود کو بالکل اجنبی دنیا میں ضرور پاتا ہے مگر یہ بیانیہ کا کمال ہے کہ وہ حیران حیران سا ہی سہی لیکن آگے بڑھتا جاتا ہے۔
‘اس نے کہا تھا’ اپنے موضوع کے اعتبار سے اس قبیلے سے ہے جہاں گفتگو کا غالب حصہ جنسی تلذذ بیانی کی نذر ہو جانے کا پورا اندیشہ تھا (اور شائد اس سے ناول کچھ متنازع یعنی مزید مقبول بھی ہو جاتا) لیکن لکھنے والے کو داد دیجئے کہ ناول اپنی دھری سے نہیں ہٹا۔ معلوم ہوتا ہے کہ جنسی افعال کو کھول کر اور بار بار بیان کرنا ناول نگار کا مقصود نہ تھا بلکہ فرد کے جنسی رجحانات کی بنیاد پر اس کے ساتھ معاملہ کرنے کے سماج کے مزاج کو ادھیڑنا مطلوب تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ناول شرماتے لجاتے کسی کی طرف جھکنے کے بجائے کھل کر فرد کی طرف کھڑا نظر آتا ہے۔ یہ ناول ختم ہوتے ہوتے ہم جنس پرستی سے آگے بڑھ کر شناخت اور اس کی سماجی قبولیت کے بحران کے مرحلے تک چلا جاتا ہے۔ یوں بھیLGBT طبقہ کا کرائسس ان کے جنسی Orientation سے زیادہ اس بات کا ہے کہ کیا کسی کی شناخت کا جواز اس بنیاد پر طے ہوگا کہ سماج اس پر کیا حکم لگاتا ہے؟۔
چلتے چلتے ایک سوال، یہ سماج کیا ہے؟۔ ہم افراد سے الگ ہٹ کر کوئی حقیقت یا پھر ہمارے ہی اجتماعی رویے، قدریں اور تعصبات؟۔ اگر سماج کوئی ایسا مرکب ہے جس میں ہم شامل نہیں تو بہت خوب لیکن اگر ہم بھی اس عمارت کی ایک اینٹ ہیں تو اس ناول کو پڑھنا دراصل خود کو آئینہ دکھانے کے عمل سے گزرنے جیسا ہے۔ یقین مانئے خود کو آئینہ دکھانے کے لئے بہت بڑا کلیجہ چاہئے۔