ایک مسلم اقلیتی اسکول کے عروج و زوال کی کہانی-پروفیسر محمد سجاد

بیسویں صدی کی شروعات میں ٹاٹا خاندان نے معدنیات کے خزانے سے بھرا ایک علاقہ ڈھونڈ نکالا تھا۔ یہ اس وقت کے جنوبی بہار (اور اب جھارکھنڈ) کا ایک پٹھاری علاقہ ہے۔ وہیں انہوں نے 1907 میں ایک بہت بڑی اسٹیل مل قائم کی۔ اس کے لئے انہوں نے ایک بہت ہی ہرا بھرا، خوب صورت اور منصوبہ بند و منظم شہر بھی آباد کیا۔ اس کانام جمشید پور رکھا گیا۔ جو جمشید جی نوشیرواں جی ٹاٹا (1839-1904) کے نام پر ہے۔ یہ بر صغیر ہندوستان کے اہم ترین entrepreneur تھے۔ ان کا تعلق پارسی اقلیت سے تھا۔ یہ شہر ہاؤڑہ۔ بمبئی ریلوے لائن پر آباد ہے، اور اس کے ریلوے اسٹیشن کا نام ٹاٹا نگر ہے۔اس شہر کے جنوب مشرقی علاقے میں ایک اور زیادہ خوبصورت ٹاؤن شپ بھی آباد ہے۔ یہ ٹاؤن شپ 1945 میں آباد کیا گیا، جب ٹیلکو یعنی ٹاٹا انجینرنگ لوکوموٹیو کمپنی (اب اسے ٹاٹا موٹرس لمیٹیڈ کہا جاتا ہے) کی شروعات کی گئی۔اسی ٹاؤن شپ سے متصل ایک بستی ہے جہاں بڑی آبادی مسلمانوں کی ہے۔ اس کا نام باری نگر ہے۔ یہ اب بھی ایک گرام پنچایت گھوڑاباندہ میں شامل ہے۔ یہ پروفیسر عبدالباری (1882-1947) کے نام پر ہے، جو تحریک آزادی میں، اور جمشید پور مزدوروں کی تحریک میں، پیش پیش تھے۔باری نگر کے چاروں طرف پہاڑ ہے، اور یہ چائے کے کپ کی پیندی کے طور پر ان پہاڑوں کے بیچ بیٹھی ہے۔ اس سے اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

اس بستی میں آبادی کی شروعات غالبا 1960 کی دہائی میں ہونے لگی تھی۔ زیادہ تر لوگ ٹیلکو ہی کے مسلم ملازمین تھے۔مارچ 1964 میں جمشید پور میں ایک فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا۔ اس فساد کی بہترین تفصیل، اردو ناول، کالی ماٹی (1999) از علی امجد (1924-2005) میں ہے۔ یہ ناول کم ، اور حقائق پر مبنی رپورتاژ زیادہ ہے۔ علی امجد کی آپ بیتی، شاخ نہال غم: ایک افسانۂ حیات (2006) میں بھی کافی تفصیلات درج ہیں۔اس فساد کی تباہی نے ان لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ انہیں اپنی جان و مال کی حفاظت کی فکر تو بہر حال کرنی ہی ہوگی، ساتھ ساتھ، اپنی آنے والی نسل کے بہتر مستقبل کے لئے جدید تعلیم کا بھی انتظام سوچنا اور کرنا ہوگا۔ انہیں یہ احساس تھا کہ ان کے غیر مسلم برادران وطن تعلیمی اعتبار سے ان سے کافی آگے تھے کیونکہ ان کے بچے عیسائی مشینری اسکولوں (ایک ہندو "مشنری” اسکول، چنمیا ودیالیہ، بھی ہے) میں بہتر جدید تعلیم پارہے تھے۔ واضح رہے کہ ٹیلکو ملازمین کے بچوں کی اسکول فیس کی بڑی رقم کمپنی ہی ادا کرتی ہے۔تہذیبی و شناختی تحفظات (reservations) کی وجہ سے انہیں اپنے بچوں اور بچیوں کو ، اسی ٹاؤن شپ کے عیسائ مشنری والے اسکولوں میں بھیجنے میں تھوڑا تامل تھا۔ اس لئے انہوں نے ٹیلکو مینیجمنٹ کے سامنے ایک عرض داشت پیش کی کہ ان مسلمان ملازمین کی اولادوں کی تعلیم کے لئے کوئی مخصوص انتظام کیا جائے۔ اس طرح کمپنی نے انہیں ایک اسکول اور ایک مسجد کی تعمیر کے لئے زمین فراہم کر دی۔ اس وقت تک ٹیلکو ٹاؤن شپ میں مندر اور گرجا تو تھے، مسجد نہیں تھی۔
اس طرح 1967 میں ایک اردو میڈیم اسکول قائم کیا گیا۔ اس میں خاص طور سے دربھنگہ سے تعلق رکھنے والے ایک ٹیلکو ملازم عبدالباقی (متوفی: فروری 2007) اور ان کے دیگر احباب نے زیادہ اہم قدم اٹھایا تھا۔ شروع میں ، عارضی طور پر، یہ اسکول ٹیلکو کے اسٹاف رہائش کے علاقے میں چلایا گیا۔ بعد میں باری نگر میں ٹیلکو کی عطا کی ہوئی زمین پر اسکول کی تعمیر کر لی گئی۔ یہ مسجد اور اسکول باری نگر میں داخل ہوتے ہی، دائیں بازو پر قائم ہے۔ اس اسکول کا الحاق بہار اسکول اکزامینیشن بورڈ سے تھا۔ اسکول کو گرانٹ تو ٹیلکو دیتی تھی لیکن اسکول کا مینیجمنٹ باری نگر کے مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھا (یعنی تقریباً گورنمنٹ کے اقلیتی اسکولوں کی طرح) تقریباً اسی زمانے میں ( 1970 میں) ملت اردو مسلم اسکول بھی گول موری (جمشید پور) میں قائم کیا گیا۔ ان کے علاوہ کچھ اور اسکول بھی شہر کے دیگر علاقوں میں قائم کئے گئے۔
اپریل 1979 کے فسادات نے ان مسلمانوں کے عزم کو مزید توانا کیا کہ تعلیم اور ادارہ سازی کے بغیر ترقی ممکن نہیں ۔ (تفصیل کے لئے کاشف الہدی کا مضمون، کمیونل رائٹس اِن جمشید پور، ای پی ڈبلیو، 23 مئ 2009 ملاحظہ فرمائیں)
یہ اسکول 1980 کی دہائی تک تو کافی بہتر طریقے سے چلتا رہا، درس و تدریس کا معیار بھی بہتر تھا۔ ڈسپلن بھی خوب بہتر تھا۔ اسکول میں یونیفارم کی پابندی تھی، انفرااسٹرکچر بھی اچھا تھا۔اعلی تعلیم کے لئے اس اسکول کے کچھ فارغین بمبئی، پونا، دہلی، علی گڑھ، بھی گئے۔ ان میں سے کچھ نے اچھا کیریر بنایا۔ کچھ ڈاکٹر، انجینئر، ایم بی اے، اکاؤنٹس، وغیرہ کی ڈگریاں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ اس اسکول کے معیار کو بہتر کرنے کی غرض سے کچھ نے یہ سوچنا شروع کیا کہ اس کا الحاق سی بی ایس ای سے کروا لیا جائے۔ 1992 تک اسکول میں اچھی تعداد میں کمپیوٹر بھی انسٹال کر دیئے گئے تھے۔لیکن اپنے وجود کی تین دہائیاں پوری کر نے سے تھوڑا قبل ہی ، اس کے مینیجمنٹ کے اندر، گروہ بندی اور شدید تفرقوں کی شروعات ہوگئی۔ جن بزرگوں کو اس اسکول کے بانیوں کی حیثیت سے دیکھا جاتا تھا، اور جن لوگوں نے اسکول قائم کرنے کے لئے تمام طرح کی تگ و دو کی تھی، اب انہیں حاشیہ پر دھکیل دیا جا چکا تھا۔ اب ان کی جگہ دوسری قسم کے بگڑیل نوجوانوں نے لےلی تھی۔
"اقتدار” کی یہ منتقلی اب خونیں شکل اختیار کرنے ہی والی تھی۔ 1994 میں ، ایک دن، دن کے اجالے میں، باری نگر کی مرکزی شاہ راہ پر اسکول کے اس وقت کے پرنسپل کے ایک بھائی کا قتل کر دیا گیا۔ بستی کے لوگ محض بے بس اور خاموش تماشائی بنے رہ گئے۔ کہا جاتا ہے کہ انتقاما پھرکچھ ہی مہینے بعد دوسرا قتل بھی ہوا۔ اس طرح اس اچھے مسلم اقلیتی اسکول کا زوال ہو گیا، گرچہ وہ اسکول اب بھی قائم ہے، اور باقی تمام معمولی ترین اسکولوں کی طرح یہ اب بھی چل رہا ہے۔ ٹیلکو مینجمنٹ کی بے توجہی بھی ناگزیر طور پر ہو گئی۔ اقتصادی مندی کے دور میں پرائیویٹ سیکٹر کا کارپوریٹ سوشل ذمہ داری کا شعبہ یوں بھی کمزور ہو چلا ہے۔ گرچہ ٹاٹا کمپنیوں کی ، جمشید پور میں، کارپوریٹ سوشل ذمہ داری والی خدمات نسبتا اب بھی لائق ستائش ہیں۔
اس درمیان باری نگر کی دوسری نسل کی خاطر خواہ آبادی نے ، کچھ ٹیکنیکل اور صنعتی ملازمت مل پانے والی چھوٹے موٹے سرٹیفیکیٹ اور تجربات والے کورسز کر لی تھی، مثلا آئی ٹی آئی، اپرینٹس، انڈسٹریل سیفٹی کورسز وغیرہ۔ 1990 کی دہائی میں یہی لوگ ہندوستان میں، اور عرب ممالک میں (قطر اسٹیل کمپنی QASCO میں ایک اچھی تعداد ان لوگوں کی ہے) نوکریاں کرنے لگے۔ اس طرح اس دوسری نسل نے اقتصادی خوشحالی حاصل کی، اور ان کے بعد کی نسل نے مزید بہتر تعلیم حاصل کرنا شروع کیا۔ اس وقت تک ٹیلکو علاقے کے عیسائی مشنری اسکولوں میں بھی مسلم بچے اور بچیاں داخلے لینے لگے۔ اب ان میں تہذیبی شبہات و اندیشوں کے بجائے خود اعتمادی کا احساس ہونے لگا۔
بجا طور پر اس نسل نے باری نگر کے ان لوگوں کی مینجمنٹ والی صلاحیت پر سوال کھڑا کرنا شروع کر دیا، کہ آخر یہ لوگ ایک اسکول کو چلا پانے میں اس قدر بے بس کیوں ہو گئے۔ جب کہ اسی شہر میں کریمیہ ٹرسٹ کا اسکول اور کالج بہت ہی عمدہ طریقے سے چل رہا ہے۔ اس ٹرسٹ کا ماس کمیونیکیشن، کمپیوٹر سائنس، ٹیچر ایجوکیشن، وغیرہ کا بھی کورس ہے۔ پہلے قانون کی پڑھائی بھی ہوتی تھی، اب یہ بند ہو چلا ہے، جسے پھر سے شروع کیا جانا چاہئے۔ کریمیہ ٹرسٹ کی شروعات 1940 کی دہائی میں ہوئی تھی۔ اس کے بانی سید تفضل کریم (1886-1964) کا تعلق فلم ڈسٹریبیوشن اور سنیما ہالوں کے کاروبار سے تھا۔ کریم سٹی کالج کو ، ملک کے مسلم اقلیتی اداروں میں ، شاید عمدہ ترین مینجمنٹ والے تعلیمی اداروں میں شمار ہوناچاہیے۔ اس ٹرسٹ کے مینجمنٹ سے اس نئے عہد میں یہ توقع کی جا رہی ہےکہ میڈیکل، انجینئرنگ، مینجمنٹ، قانون، اور دیگر اس طرح کے کورسز بھی آنے چاہئیں۔
کچھ دہائی قبل، 1990 میں ، شہر کی آزاد بستی، مانگو میں الکبیر پالی ٹکنک بھی قائم کیا گیا ہے۔ حاجی حکیم انصاری (متوفی 2011) نام کے، ایک صابن بنانے والے کاروباری نے اس ادارے کو قائم کیا ہے۔حاجی حکیم کا تعلق جمیعت علما ئے ہند سے تھا اور کبیر مرحوم حاجی حکیم کے والد تھے۔۔ یہ "کبیر ویلفیئر ٹرسٹ” کے ماتحت ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ اس شہر میں ہندو برادران وطن کی جانب سے بھی کئی اور تعلیمی انجمنوں اور انجینئرنگ کالجوں کا قیام ہوا ہے۔ یہ ادارے غالبا زیادہ کامیاب نہیں ہیں۔مسلمانوں نے 1928 میں جمشید پور شہر کے پوش علاقہ، بسٹوپور میں ایک "مسلم لائبریری” بھی قائم کی تھی۔ اس لائبریری پر اب ایسے مسلم نیتاؤں کا قبضہ ہو چکا ہے جو جرائم سے منسلک سمجھے جاتے ہیں، اور اس لائبریری کی عمارت اور اس کے احاطے کا استعمال تجارتی نمائشوں کے لئے کرایہ کمانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ لائبریری تو محض برائے نام ہے۔جمشید پور کے باری نگر اور آزاد بستی میں کچھ مسلم نوجوانوں کا مجرمانہ پیشہ اختیار کرنا ، اب بھی ان مسلمانوں کے لئے باعث تشویش ہے۔ ان غنڈوں اور دلالوں کو علاقے کے بلڈر اور ٹھیکہ دار قسم کے لوگ اور ایم ایل اے، ایم پی، وزیروں وغیرہ کی پشت پناہی بھی رہا کرتی ہے۔ بستی کے چند سفید پوش حضرات بھی ان مافیا ؤں اور دلالوں سے سانٹھ گانٹھ کئے رہتے ہیں۔(کہا جاتا ہے کہ بستی کے ایک مافیا کا تعلق ایک سابق وزیر اعلیٰ سے بھی ہے)۔
ملک میں بڑھتے فرقہ واریت کے ماحول کی وجہ سے اس طرح کے عناصر کی سر گرمیاں، اکثر شہر کے مسلمانوں کو پریشانی میں ڈال دیتی ہیں۔ مثلا اکتوبر 2016 میں محرم اور درگا پوجا کے موقعے پر ایسے حالات سے کافی مشکل سے نمٹا جا سکااور بڑھتے تناؤ کو فساد کی حد تک جانے سے روکا جا سکا۔ واضح رہے کہ جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلی اور مرکزی کابینہ کے موجودہ وزیر، ارجن منڈا کا مکان بھی باری نگر سے متصل گھوڑا باندہ میں ہی ہے۔
اس سے قبل 19 جولائی 2015 میں مانگو میں ایک فساد ہو گیا تھا۔ ہوا یوں تھا کہ عید کے موقعے سے لگنے والے میلہ میں جو دکانیں لگائی جاتی ہیں ان سے پھروتی اور کرائے کی رقم لینے کے لئے علاقے کے دو مسلم گروہوں (وارث اور آصف ، عرف ، شیبو) کے درمیان ٹکراؤ ہو گیا۔ لیکن ایک گروہ کے چند گرگے ہندو بھی تھے، اور اس طرح یہ ہندو مسلم تناؤ کی شکل اختیار کر لیا۔ 21 جولائی کو وشو ہندو پریشد ، بی جے پی اور بجرنگ دل کے لوگوں کے بارے میں رپورٹ آئی کہ ان لوگوں نے ڈمنا بستی اور منشی محلہ میں مسلمانوں کی دکانوں میں آگ لگا دی ہے۔ اس دن ان ہندو تنظیموں نے بند کا اعلان کیا تھا۔اس علاقے میں ایک مسلمان مرد کی ہندو عورت سے شادی نے بھی کچھ تناؤ کا ماحول بنا رکھا تھا۔ اس لئے لڑکی چھیڑ چھاڑ کی جھوٹی افواہ بھی اڑا دی گئی تھی۔ اس کی تردید ڈپٹی کمشنر امیتابھ کوشل نے کر دی تھی۔ (انڈین ایکسپریس نے 25 اور 29 جولائی 2015 میں تفصیلی رپورٹیں شائع کی تھیں۔ بلکہ 29 جولائی کی رپورٹ کا عنوان ہی بہت کچھ واضح کر دیتا ہے ‏A Deep Divide Vulnerable Even to Rumour ۔ 24 جولائی کی رپورٹ میں بھی افواہوں کو ہی زیادہ ذمہ دار مانا گیا، رپورٹ سبرت ناگ چودھری کی)
اسمبلی حلقہ مغربی جمشید پور سے بی جے پی کے قد آور نیتا، سریو رائے منتخب ہوا کرتے ہیں (اب بی جے پی سے الگ ہو گئے ہیں) ان کا الزام تھا کہ رگھوبر داس سرکار کی پولیس نے قصدا کوئی کارروائی نہیں کی اور فساد برپا ہونے دیاگیا۔ رائے خود اسی حکومت میں شامل ایک وزیر بھی تھے۔فرقہ وارانہ تناؤ اور جرائم پیشہ افراد کی کارکردگی اپنی جگہ لیکن اب پھر باری نگر کے کچھ لوگوں نے پہل کی ہے اور مہم چلائی ہے، جس کے تحت ٹیلکو اردو اسکول کے ابنائے قدیم نے کراؤڈ فنڈنگ شروع کردی ہے۔ ان میں ایک بیچ (batch یعنی ہائ اسکول، 1990) نے اجتماعی طور پر ایک لاکھ روپئے کی رقم دی ہے۔ دیگر بیچوں نے بھی اس جانب توجہ دینا شروع کر دیا ہے۔ اس رقم سے اس اسکول کی پرانی بوسیدہ عمارت کی مرمت اور تعمیر نو شروع کر دی گئی ہے۔باری نگر (جمشید پور) کی یہ مہم آگے کہاں تک جاتی ہے یہ دیکھنا اہم اور دلچسپ ہوگا۔ لیکن موجودہ ماحول میں اسکول کو بہتر بنانے کا جذبہ یقیناً قابلِ تعریف ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)