اِک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا-شاہدالاسلام

دنیابھرمیں کوروناکا قہر جاری ہے۔عالمی سطح پرکہرام مچ جانے والی کیفیت پائی جارہی ہے۔ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔انسانی زندگی پوری طرح اس کے نرغے میں آچکی ہے۔دنیا بھرمیں کوروناسے ہلاک ہونے والوں کی تعدادسوا چار لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے،جبکہ مجموعی طورپرکورونا کے مریضوں کی تعداد77لاکھ سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔قیامت کی آمد سے قبل قیامت صغریٰ کا منظر دنیا بھر میں دیکھنے کو مل رہاہے۔ زندگی کے جملہ شعبوں پروباکے گہرے منفی اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں۔ عالمی معیشت اوندھے منہ گرچکی ہے۔ہر سو بے یقینی کی کیفیت ہے۔ عالمی سطح پر پائی جارہی افراتفری کے درمیان ملحدین ومنکرین بھی اب خدا کو یاد کرنے لگ گئے ہیں ۔آفت سے نجات کی دعائیں مانگی جارہی ہیں،دوائیں اور ویکسین کی کھوج اور تلاش جاری ہے مگرنہ دعائیںقبول ہوپارہی ہےں اور نہ دواتیار ہوسکی ہے!۔
وبائی ایام میں اس کے زور کوکم کرنے کیلئے عالمی سطح پر’لاک ڈاون‘ کا نسخہ بھی آزمایا گیاجو’کارِ لاحاصل‘ اور بے نتیجہ ثابت ہوکر رہ گیاجبھی توروئے زمین پر بسنے والی213مملکتوں کی77لاکھ سے زائد انسانی زندگی پروائرس کا اٹیک ہوچکا ہے۔ کووڈ19- کی عالمی درجہ بندی کی فہرست پر ایک نگاہ دوڑانے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس’ جہانِ رنگ و بو‘میں خود کو برتر قرار دینے والا ملک امریکہ کورونا کی تباہ کاریوں کے حوالہ سے بھی اقوام عالم پر اپنی برتری کا جھنڈالہرارہاہے۔اکیلے امریکہ میں فی الوقت21لاکھ سے زائد کورونا متاثرین کی موجودگی اورایک لاکھ سے زائد مریضوں کی اموات یہ ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہاں کورونا سر چڑھ کر اپنا وجود منوا رہاہے۔ وائرس کے پھیلاؤ کے تعلق سے برازیل دوسرے نمبر پر ہے،جبکہ روس کا نمبر تیسرا ہے۔

ہم ہندوستانی جو کل تک ’گو کو روناگو‘ کے نعرے لگارہے تھے،تالی وتھالی بجارہے تھے اورچراغاں کرکے وائرس کو بھگارہے تھے،اب عالمی درجہ بندی میں چوتھا مقام پاکربھی گھبرائے نہیں ہیں، بلکہ مطمئن ہیں ! ۔اطمینانِ قلب کی یہ دولت دراصل حکومت کی عطا کردہ ’نعمت ‘ہے۔سرکار یہ سمجھانے اور بتانے کا’کارنامہ‘ انجام دے رہی ہے کہ کورونا کاحوصلہ توڑنے اوربحران کو مواقع میں بدلنے کی پوری قوت کے ساتھ کوشش ہورہی ہے ۔قوم حکومت کے دعووں اور سرکار کے ارادوںکو دیکھنے اور سمجھنے میں لگی ہے۔ حالانکہ حکومت کے مخالفین یہ کہتے ہیں کہ لاکھوں مریض اسپتال کے بسترپر ایڑیاں رگڑ رہے ہیں ،مگر حکومت کہتی ہے کہ کورونا کے خلاف شکنجہ سخت کردیا گیاہے۔یہ الگ بات ہے کہ ناکافی طبی سہولیات کے غم میں کچھ اسپتالوں کے طبی عملوں کو آنسو بہاتے اورحزب اختلاف کے ذریعہ’حکومت کی کورونامخالف جنگ‘ پر سوال کرتے ضرور دیکھا گیا لیکن ’ باشعور‘ ہندوستانیوں کی صحت پراور حکومت کے ارادوں پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔اب جبکہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت یہ محسوس کررہی ہے کہ کورونا کے مریضوں لاشوںکے ساتھ جانور سے بدتر سلوک اختیار کیاجارہا ہے اوراس نے مرکز اور کئی ریاستوں سے جواب طلب کیا ہے، یہ دیکھنا اہم ہوگاکہ ’انسانوں کے ساتھ جانور والے سلوک‘ پرمرکز کاجواب کیا آتا ہے اور ریاستوں کی سرکاریں اس ضمن میں کیا کہتی ہیں ۔فی الوقت تصویر یہی ابھر رہی ہے کہ ہم ہندوستانی قومی سطح پر’کوروناکے ساتھ ساتھ جینے کی عادت‘ڈالنے میں لگ گئے ہیں۔حکمراں جماعت ’ورچوئل ریلی ‘ کے ذریعہ بہار و بنگال کے الیکشن کیلئے قدم بھی بڑھارہی ہے۔

اپوزیشن کی سب سے اہم جماعت کانگریس کے سابق صدرراہل گاندھی جنہیں حکمراں جماعت پیار سے’پپو‘پکارتی رہی ہے، عالمی سطح کے قائدین سے ان دنوں’ورچوئل چرچہ‘ میں لگے ہوئے ہیں ۔ماہرین سے خیالات کے تبادلوں کے ذریعہ وہ ’ہندوستانی بھیاوں‘ کو تھوڑے تھوڑے وقفے سے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سرکار ’محاذِ جنگ‘ میں کہاں کہاں ناکام ہو رہی ہے اورسرکاری سطح پر ناکامیوں کی پردہ پوشی کس کس انداز میں کی جا رہی ہے؟مگرحکمراں برادری کیلئے راہل کی حیثیت پھر بھی’ پپو‘والی ہی بنی ہوئی ہے۔اس کی ایک اہم اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سرکاری بابووں نے قوم کو بہت اچھے سے یہ سمجھایا ہے کہ لاک ڈاو ن کی شکل میں اگر سخت پابندیوں کا نفاذنہیں عمل میں لایا گیا ہوتاتوآج ہندوستان میںکورونا کے مریضوں کی تعداد3لاکھ کے مقابلے کئی گنازیادہ ہوتی اور انسانی زندگی کو بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ۔

ملک کاامیر طبقہ اوربہت سے عام لوگ مطمئن ہیں کہ وزیر اعظم نے’سخت فیصلہ‘ لے کرقوم کو ایک ’بہت بڑی مصیبت‘ سے بچالیاورنہ’ بھارت ماتا‘ کے سپوتوں کو مشکل دن دیکھنے پڑجاتے۔یہ الگ بات ہے کہ’ چند کروڑ‘غریبوںاور مزدوروں کوسر پیٹتے،پریشان ہوتے،ناقابل بیان دشواریاں جھیلتے،ٹرین کی پٹریوںپر مرتے اورسڑک حادثوں میں زندگی گنواتے ضروردیکھا گیامگروہ توغریب لوگ تھے’جن کا’جینا بھی کوئی جیناہے‘۔ ظاہر ہے کہ جن کی زندگی کی کوئی قدر نہ ہو،اُن کی موت بھلا کیا معنی رکھے گی!۔غرضیکہ بہت سی ناکامیوں کو کامیابی کا چولہ پہناکر ہمیں سمجھادیاگیا ہے کہ کورونا ’مخالف جنگ‘ بالکل درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور یہ بھی کہ اس ’صبر آزما لڑائی‘ میں کامیابی ہمارے قدم ضرور چومے گی۔

چین کے شہر’ووہان‘میںکورونا کی پیدائش کیسے ہوئی اور عالمی سطح پراس کی افزائش کو روک پانے میں غلطیاں کہاں کہاں ہوئیں؟ گوکہ یہ بنیادی سوال ہے،لیکن اس کا جواب تلاش کرنے کا یہ موقع ہرگز نہیں کہ وبائی ایام میں ایسے سوالوں کا جواب تلاش کرنے پر توانائی صرف کرنے سے کہیں زیادہ اس نکتہ پرتوجہ دینا لازمی ہے کہ اس وباسے دنیانجات کیسے پائے؟مگر مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس حوالے سے ماہرین طب کے ’فرمودات‘ اور عالمی ادارہ صحت کے ’منقولات‘کا جائزہ لینے کے بعد عجیب وغریب صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔نومبر 2019میںچین میںاس جرثومہ کی اول اول شناخت ہوئی اور جون 2020کے وسط تک پہنچتے پہنچتے اس کی’ حاکمیت‘پورے عالم میںقائم ہوگئی۔میڈیکل سائنس اس دورانیہ میںکوئی ایسا کارنامہ انجام نہیں دے سکا جس پر دنیا فخرکرسکے۔یہاں نانا پاٹیکرکے’ فلمی ڈائیلاگ‘ کا تکرار تو مناسب نہیں لیکن میڈیکل سائنس کا موجودہ کارنامہ کچھ ایسا ہی ہے،جس سے طبی تحقیق پر فخر کرنے والوں کو یقینا مایوسی ہوئی ہوگی۔البتہ کچھ ٹوٹکے اور کچھ نسخے ضرورآزمانے اور’ موسم کورونا‘ میں’اطمینانِ قلب‘حاصل کرنے کے مفید مشورے ضروردئےے جارہے ہیں،جن سے ’کامیابی‘ کی امید پالی جارہی ہے۔ احتیاطی تدابیراختیارکرنے کے تعلق سے’سماجی فاصلہ‘ قائم کرنے کا ماہرین کا مشورہ بھی ان میں سے ایک ہے،جس کی ناکامی کا ڈنکا اِس وقت پوری دنیا میںبرپا کہرام کی شکل میں بج رہاہے، لیکن مفروضوں کی بنیاد پر اب بھی اسے’واحد کامیاب نسخہ‘ قرار دیاجارہاہے۔سماجی فاصلہ کے قیام کیلئے ’لاک ڈاو ن‘کا نفاذ دنیا کی تمام کی تمام ترقی یافتہ مملکتوں کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ملکوں میں بھی آزمایا گیا۔اس کے باوجود دنیاکے 213ملکوں کے 77لاکھ سے زائدلوگ اس وائرس کی زد میں آگئے۔لاک ڈاون کو’ایک کامیاب نسخہ‘ مان لینے میں بہت سے لوگوں کو اس وجہ سے قباحت ہے کہ ترقی یافتہ ملکوںکے ساتھ ساتھ نہ توترقی پذیرمملکتوں میں ’لاک ڈاو ن‘کوروناکے پاو ں اکھاڑسکا اور نہ ہی دنیا کی غریب مملکتیں ’سخت پابندی‘ کے ذریعہ’گو کوروناگو‘ کے نعرہ کوحقیقی شکل دینے میں کامیاب ہوسکیں۔یہ الگ بات ہے کہ نیوزی لینڈ کوروناسے پاک ہوگیاجو وہاں کے باشندوں کیلئے قابل اطمینان اور دنیا کیلئے قابل رشک کارنامہ ہے۔
وطن عزیزکی تو پوچھئے ہی مت کہ یہاں طویل لاک ڈاون کا نفاذ اورمرحلہ وار اس کی برخاستگی دونوں کے حوالے سے انگشت نمائی ہوتی رہی ہے۔انگلیوں کااُٹھنا اور سوالات کاپوچھا جانایوں توایک فطری امر ہے لیکن کس سوال کو’ملک سے غداری‘ کا جامہ پہنچادیاجائے ،یہ بھی کہنا مشکل ہے۔خیربہت سے ہندوستانی اب بھی یہ نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ جب ملک کے طول وعرض میں کوروناکے صرف 500-550 مریضوںکی ہی شناخت ہوئی تھی،تب اُن کی آزادی’لاک ڈاو ن کی بھینٹ کیوں چڑھ گئی اور جب ملک میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد بڑھ کرتین لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے تویہ ’نعمت ِ آزادی‘آخر کیوں عنایت کی جارہی ہے؟اگرسماجی فاصلہ کاقیام کوروناکی وطن عزیز میں آمدکے بعدکے ابتدائی ایام میں لازمی تھا تواب ہر طرف کورونا کے مریضوں کی موجودگی کے درمیان ’سختی‘ کیوں لازمی نہیں ہے؟ظاہر ہے کہ یہ باتیں عام لوگ کبھی سمجھ بھی نہیں پائیں گے،اُسی طرح جس طرح ہمیں یہ بات آج تک سمجھ میں نہیں آسکی کہ کورونا کا وائرس کس قسم کاہے جوعوام و خواص کوبلاتخصیص اپنی گرفت میں لے رہا ہے،کوئی چار لاکھ سے زائد زندگیاںاس وائرس کی زدمیں آکرتباہ بھی ہوچکی ہیں،77لاکھ متاثرین اب بھی موت وحیات کی کشمکش سے دوچار ہیں،مگر 213 ملکوںکے حکمراں اورسیاست داں بہ حیثیت مجموعی ’مکمل طورپرمحفوظ‘ ہیں اور یہ جرثومہ اُن کی صحت کیلئے نقصاندہ ثابت نہ ہوسکاہے۔حالانکہ برطانوی وزیر اعظم سمیت دنیا کے چندایک ملکوں کے سربراہان اس مرض سے متاثرہوئے لیکن اس عجیب وغریب اتفاق کو آپ کیا کہیں گے کہ دنیاکے کسی بھی حاکم وقت کی ’قوت مدافعت‘ کوکورونا شکست نہ دے سکا۔وبا تو بہرحال وباہے،لیکن حکمراں سلامت رہیں اوردنیابھرکی محکوم قومیںہلاکت کا درد جھیلیں توایسی وباکو سمجھنے میں تھوڑی الجھن توفطری طورپر ہوگی ہی۔ ایک مولوی صاحب نے کہا کہ یہ کچھ اورنہیں، عذاب الٰہی ہے،مگر دل اسے بھی قبول کرنے کو آمادہ نہیں کہ تاریخ میں ہمیں ایسے کسی عذاب کا تذکرہ نہیں ملتاجوجابرو قاہر اورظالم کو امان دے اور مظلوم،مقہوراور معتوب پر قہر بن جائے۔ چنانچہ کوروناکا دونا دھوناچھوڑیے اور اس معمہ کو سمجھنے سے بہتر ہے کہ فانی بدایونی کے کلام کو گنگنائیے:
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)