ایک مشہور کتاب کی تلخیص-اسامہ طیب

زیرِ نظر کتاب کا تذکرہ ایک عرصے سے مخلتف لیکچرز میں سن رہا تھا اور مخلتف کتابوں میں اس کتاب کا نام بطورِ حوالہ پڑھتا آرہا تھا، لیکن شومی قسمت کہ کتاب کے مطالعہ کا موقع اب تک نہیں مل سکا تھا، اور اب جب اس کتاب کا مطالعہ کیا تو اپنی محرومی پر کف افسوس ملنے لگا کہ اس کتاب کا مطالعہ پہلے ہی کیوں نہ کر لیاـ آپ میں سے بہت سے افراد نے اس کا مطالعہ ضرور کیا ہوگاـ
1989 میں Stephen R Covey نے جب یہ کتاب The 7 Habits Of Highly Effective People لکھی تو دیکھتے ہی دیکھتے ہی یہ کتاب دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب بن گئی اور شخصیت سازی پر کام کرنے والوں کا سب سے بڑا حوالہ اور مرجع بن گئی ـ آج 30/ سال کے بعد بھی یہ کتاب اپنی genre کی سب سے زیادہ حوالہ دی جانے والی کتابوں میں سے ایک ہےـ اس کتاب کے مصنف Stephen R Covey ایک ماہر تعلیم اور مشہور مصنف تھے، 1996 میں ٹائم میگزین نے انہیں دنیا کے پچیس مؤثر ترین افراد کی فہرست میں شامل کیا تھاـ اور ان کی مقبولیت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ انہیں ڈاکٹریٹ کی دس مخلتف اعزازی ڈگری سے بھی نوازا گیا تھاـ

اس کتاب میں جن سات عادات پر مفصل گفتگو کی گئی ہے ان کا خلاصہ ذیل میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں ـ
مصنف نے ہر عادت سے متعلق بہت ہی طویل گفتگو کی ہے اور ان کے پیش کردہ مشمولات بہت ہی منطقی، معقول اور مؤثر ہیں ـ

HABIT 1: Be Proactive
آپ ہمیشہ اپنا وقت اور اپنی توانائی ان مسائل پر صرف کریں جنہیں آپ تبدیل کرنے پر قادر ہوں ـ
اپنے اوپر حالات آنے پر یا کوئی واقعہ پیش آنے پر فورا رد عمل دینے کے بجائے Proactive بنیے، یعنی پہلے حالات سمجھیے، پھر حل تلاش کیجیے اور مسئلہ کو ختم کیجیےـ Proactive لوگ اپنی کوششوں کا مرکز اپنے دائرہ اثر میں آنے والی چیزوں کو بناتے ہیں ـ

Habit 2: Begin With The End In Mind
زندگی میں کوئی بھی کام اپنی زندگی کے آخری مرحلہ کو ذہن میں رکھ کر کریں. مثال کے طور پر تصور کریں کہ آپ ایک تعزیتی جلسہ میں گئے اور وہ تعزیتی جلسہ خود آپ کی وفات کا ہو،تو آپ اس وقت اپنے بارے میں لوگوں سے کیا سننا چاہیں گے؟ کیا آپ اپنے بارے میں یہ سننا چاہتے ہیں کہ آپ ایک وفادار دوست تھے؟ آپ ایک اچھے ٹیچر تھے؟ آپ ایک اچھے مصنف تھے؟ آپ ایک اچھے رہنما تھے؟ آپ نے لوگوں کو بہت نفع پہنچایا؟ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی وفات کے بعد لوگ آپ کو ان الفاظ میں یاد کریں تو آپ جائزہ لیں کہ آپ ان خطوط پر کام کررہے ہیں یا نہیں؟ آپ سوچیں کہ وہ کون سی منزلیں ہیں جو آپ کو مرنے سے پہلے حاصل کرنی ہیں اور جتنی جلدی ہوسکے اس پر کام کی ابتدا کردیں ـ

Habit3: Put First Thing First
یہ دراصل "تحديد الأولويات” ہےـ یعنی اپنی ترجیحات طے کرناـ وقت کو منظم کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے لیکن اپنے آپ کو منظم کرلینا نہایت مشکل کام ہے. اپنی ترجیحات طے کریں. اور ضروری کام پہلے کریں. ہر شخص کے ساتھ بے شمار کام لگے رہتے ہیں لیکن کام کو ترجیحات کے خانوں میں بانٹ دینا اور ضروری کام کو پہلے کرلے جانا مؤثر شخص کی نشانی ہےـ
مصنف نے لکھا ہے کہ Good ہمیشہ Best کا دشمن ہوتا ہےـ ہوسکتا ہے کہ ہم کوئی ایسا کام کررہے ہوں جس کی نوعیت Good کی ہو لیکن ہم اس سے دھوکہ کھاجاتے ہیں اور وہ کام کرنا بھول جاتے ہیں جس کی نوعیت Best کی ہوتی ہے. اگر آپ کو زندگی میں اپنی منزل تک پہنچنا ہے تو ہر روز وہ کام پہلے کریں جو آپ کو آپ کی منزل تک پہنچانے میں مددگار ہو، اس کے بعد دوسرے کاموں پر توجہ دیں ـ

Habit 4: Think Win/Win
ہمیں جیتنے کے لئے کسی اور کا ہارنا ضروری نہیں ہے، یا کسی کے جیتنے کے لئے ہمارا ہارنا ضروری نہیں ہے. اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو اسے Scarcity Mentality کہتے ہیں ـ لیکن انسان کو Abundance Mentality کا ہونا چاہیے جو ذہنیت یہ سوچتی ہے کہ ہر انسان آگے بڑھ سکتا ہے، ہر ایک منزل حاصل کرسکتا ہے اور اس جہان میں سب کے لئے مواقع ہیں. اس لئے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جس سے سب کا فائدہ ہوـ

Habit 5: Seek First To Understand Then To Be Understood
لوگوں کو سننے کی عادت اپنائیں، اور یہ عادت اس نیت سے اپنائیں کہ لوگوں کو سمجھنا ہے، نہ کہ اس نیت سے کہ ان کو جواب دینا ہے، ان کو قائل کرنا ہے، ان کو باتوں میں شکست دینی ہے، لوگوں کو اس لئے بھی سنیں کہ کسی چیز کو لے کر آپ کا جو زاویہ نگاہ ہے، دیگر افراد اس بارے میں کیا فکر و نظریہ رکھتے ہیں ـ سننے کا تعلق صبر، وسیع ذہن اور سمجھنے کی خواہش سے ہےـ

Habit 6: Synergy
ٹیم بنا کر یا افراد کو جوڑ کر کام کرنے کی عادت ڈالیں،اس سے مشکل کام آسانی سے انجام پاجاتے ہیں اور عام طور پر مثبت اور بہت اچھے نتائج سامنے آتے ہیں ـ مثال کے طور پر سیب کا ایک اونچا درخت ہے، آپ اس سے پھل توڑنا چاہتے ہیں لیکن اونچائی کی وجہ سے آپ کا ہاتھ پھل تک نہیں پہنچ رہا ہے. آپ ہی کے ساتھ ایک انجان شخص بھی پھل توڑنے کی ناکام کوششیں کررہا ہے،پھر آپ اس سے مل کر یہ طے کرتے ہیں ایک آدمی دوسرے کے کندھے پر سوار ہوکر پھل توڑے گا اور دونوں افراد اس پھل سے فائدہ اٹھائیں گےـ اس مثال کی طرح جب ہم لوگوں کے ساتھ Synergize کرتے ہیں تو ہم کام کرنے کی استطاعت دو گنا تین گنا اور اس سے بھی زیادہ بڑھا سکتے ہیں اور نتائج بھی اسی کے مطابق حاصل کرتے ہیں ـ

Habit 7: Sharpen The Saw
اس کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ "آری کو تیز کریں”۔ لیکن اس عبارت سے مصنف یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے مقصد تک پہنچنے کے ہر ذریعہ کی تجدید کرتے رہا کریں ـ

میں نے بہت ہی اختصار کے ساتھ اسے بیان کرنے کی کوشش کی ہے. مطالعہ کے دوران رک کر بار بار یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا تھا کہ ہماری بعض وہ عادتیں جن کا ہمیں احساس تک نہیں ہوتا، ہماری شخصیت کو کس بری طرح مجروح کررہی ہوتی ہیں. مصنف کا منطقی Logical اور عام فہم انداز خود آپ کو اپنی کمزوریوں کی طرف متوجہ کردے گا اور آپ اس سے چھٹکارا پانے کے تعلق سے سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے.
ایک والد، ایک استاد، ایک شوہر، ایک منتظم اور ایک طالب علم کے لئے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ثابت ہوسکتا ہےـ
تبدیلی کی ابتدا اپنی ذات سے ہوتی ہے. Marilyn Ferguson نے کہا ہے کہ ہم سب کے اندر تبدیلی کا ایک دروازہ ہوتا ہے اسے صرف اندر سے ہی کھولا جاسکتا ہے. تبدیلی اندر سے باہر کی طرف ہونی چاہیے نہ کہ باہر سے اندر کی طرف. اپنے اندر تبدیلی لانے اور شخصیت کی نشو نما کے لئے اس کتاب میں رہنما اصول موجود ہیں. یہ کتاب ایک بار پڑھ کر شیلف میں سجا کر رکھنے والی نہیں ہے بلکہ اس کتاب کا حق یہ ہے کہ اس کا بار بار مطالعہ کیا جائے اور اس سے فائدہ اٹھایا جائےـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*