ایک مردِ درویش کی رحلت-ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

(سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منوّر حسن کی وفات پر اظہارِ تعزیت )

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے بیٹے ابراہیم کی وفات پر اپنے رنج و غم کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا : ” إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ، وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا، وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ لَمَحْزُونُونَ ".(بخاری:1303)” آنکھوں سے آنسو رواں ہیں، دل غم گین ہے ، لیکن ہم وہی کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو _ ہم تمھاری جدائی سے غم گین ہیں ۔”
سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن کی تعزیت کے لیے میرے پاس اس سے بہتر الفاظ نہیں _ آج دوپہر جمعہ کے وقت 78 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا ۔ ادھر کچھ عرصے سے وہ صاحبِ فراش اور کراچی کے ایک پرائیوٹ اسپتال میں زیرِ علاج تھے ۔حالت بگڑی تو چند روز قبل انہیں ونٹی لیٹر کا سپورٹ دیا گیا ، لیکن طبیعت جاں بر نہ ہو سکی اور آج روحِ قفس عنصری سے پرواز کرگئی ۔
سید منوّر حسن اگست 1941ء میں دہلی میں پیدا ہوئے ۔ تقسیم ملک کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ کراچی منتقل ہو گئے ۔ انہوں نے کراچی یونی ورسٹی سے 1963ء میں سوشیالوجی اور 1966ء میں اسلامیات سے ایم اے کیا ۔ ابتدا میں وہ طلبہ کی بائیں بازو کی تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF) میں شامل ہوئے ، یہاں تک کہ اس کے صدر بن گئے ، لیکن بعد میں جب انھوں نے اسلامی جمعیت طلبہ کی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھا اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریروں کا مطالعہ کیا تو 1960ء میں اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوگئے اور جلد ہی کراچی یونی ورسٹی یونٹ کے صدر اور اس کی مرکزی مجلس شورٰی کے رکن بنادیے گئے ۔ بعد ازاں 1964ء میں انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کا مرکزی صدر (ناظم اعلیٰ) منتخب کیا گیا ۔ 1963ء میں وہ اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی کے معاون منتظم بنائے گئے ، جہاں ترقی کرتے ہوئے اس کے سکریٹری جنرل کے عہدے تک پہنچے _ ان کی زیِر قیادت اس اکیڈمی نے ستّر (70) سے زائد علمی ، دینی اور تحقیقی کتابیں شائع کیں _ 1967ء میں وہ جماعت اسلامی میں شامل ہوئے اور کراچی کی مقامی جماعت کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل ، نائب امیر ، پھر امیر تک کی ذمہ داریاں سر انجام دیں ۔ جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شورٰی اور مجلس عاملہ کے بھی رکن منتخب ہوئے _ 1977 ء میں کراچی سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ 1992 ء میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی اسسٹنٹ سکریٹری جنرل ، پھر 1993ء میں مرکزی سکریٹری جنرل بنادیا گیا ۔ مارچ 2009ء میں وہ جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیر منتخب ہوئے _ اس منصب پر وہ 2014ء تک فائز رہے ۔
سید منور حسن کی زندگی کا خلاصہ اگر دو لفظوں میں بیان کرنا ہو تو وہ ہیں حق نوازی اور درویشی _ وہ پرجوش خطیب تھے اور ان کی زبان میں بلا کی کاٹ تھی _ انھوں نے ہر موقع اور ہر محاذ پر حق کی حمایت کی ، اس کا ساتھ دیا اور اس کا نعرہ بلند کیا _ ان کی خطابت کی گھن گرج نے باطل کے ایوانوں کو لرزہ براندام کیے رکھا _ دوسری طرف ان کی درویشی کا یہ عالم تھا کہ زندگی کا بڑا حصہ انہوں نے دو چھوٹے کمروں پر مشتمل کرائے کے ایک مکان میں گزار دیا ۔ مرکز جماعت منصورہ میں امیر جماعت کے لیے ایک فلیٹ مخصوص ہے ، جس میں سابق امرائے جماعت : میاں طفیل محمد صاحب اور قاضی حسین احمد صاحب نے رہائش اختیار کی ، لیکن منور حسن صاحب نے اپنا یہ حق خود اپنی مرضی سے چھوڑ دیا ۔ وہ جتنا عرصہ جماعت کے امیر رہے انھوں نے مرکز جماعت کے مہمان خانے کے ایک کمرے میں گزارا کیا ، جسے درمیان میں ایک رسی باندھ کر دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا ۔ کراچی سے ان کی بیگم آتیں تو رسی پر پردہ ڈال کر دو عارضی کمرے بنالیے جاتے ۔ پردے کے ایک طرف بیگم رہائش اختیار کرتیں اور دوسری طرف کوئی ملنے والا آتا تو اسے بٹھایا جاتا ۔
راقم سطور کو جون 2012 میں ایک ہفتہ سید منور حسن کی مہمان نوازی کا شرف حاصل ہوا ۔ ہوا یہ کہ کراچی میں جناب سید سلام الدین صاحب نے قرآنی نمائش کا انعقاد کیا ، جس کے افتتاح کے لیے انھوں نے سابق امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری کو مدعو کیا ۔ اس سفر میں مجھے مولانا عمری کی مصاحبت حاصل رہی _ دورہ میں لاہور ، کراچی اور اسلام آباد کو شامل کیا گیا _ اس سفر میں بار بار منور حسن صاحب سے ملاقاتیں ہوتی رہیں ، جن سے ان کی شخصیت کے اسرار کھلے ۔ ہمارے منصورہ کے دار الضیافہ پہنچتے ہی وہ تشریف لائے اور خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کیا _ صبح ان کی موجودگی میں جماعت کے مرکزی ذمے داروں کے ساتھ تبادلۂ خیالات کی نشست ہوئی ۔ شام کو جماعت اسلامی لاہور کی جانب سے استقبالیہ تقریب بھی ان کی صدارت میں منعقد ہوئی _ کراچی میں قرآنی نمائش کی افتتاحی تقریب کی بھی انھوں نے صدارت فرمائی ۔ اسلام آباد میں جماعت کے رہ نما میاں محمد اسلم کی رہائش گاہ پر معززین شہر سے ملاقات کا پروگرام تھا ، جس کی صدارت سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے فرمائی ۔ لاہور واپسی پر منور حسن صاحب نے مولانا عمری کے اعزاز میں معززین شہر لاہور کے ساتھ الوداعی عشائیہ کا اہتمام کیا ، جس میں سماج کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا ۔ ہر موقع پر عجیب صورت حال پیش آتی تھی _ میں جان بوجھ کر پیچھے رہ جاتا ، لیکن میزبان حضرات ، خاص طور پر امیر جماعت میرا ہاتھ پکڑ کر مولانا عمری کے برابر اسٹیج پر بٹھا دیتے ۔ تعارف کرایا جاتا تو مولانا عمری کے ساتھ میرا بھی نام لیا جاتا ۔
مولانا عمری کے ساتھ میرا پاکستان کا دوسرا سفر 2014 میں ہوا ۔ یہ موقع تھا جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماع عام لاہور میں شرکت کرنے کا ، جو مینارِ پاکستان کے وسیع میدان میں منعقد ہوا تھا _ اس وقت منور حسن صاحب منصبِ امارت سے سبک دوش ہوگئے تھے اور سراج الحق صاحب امیر تھے _ اس سفر میں بھی منور حسن صاحب سے بارہا ملاقاتیں رہیں ۔
ہم سب راہِ حق کے راہی ہیں ۔ ہم نے عہد کر رکھا ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک اسی راہ پر چلتے رہیں گے ۔ سید منور حسن صاحب نے اس عہد کو پورا کر دکھایا اور جان جان آفریں کے حوالے کردی ، ہم سب منتظر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
” ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے _ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے _ انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے ۔” (الاحزاب :23)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*