ایک ممنوعہ محبت کی کہانی-شموئل احمد

ندا فاضلی کا شعر ہے:
اٹھ اٹھ کے مسجدوں سے نمازی چلے گئے
دہشت گری کے ہاتھ میں اسلام رہ گیا
رحمن عباس کا ناول ’’ ایک ممنوعہ محبت کی کہانی ‘‘ اس شعر کی تفسیر ہے۔ یہ ممنوعہ محبت کا المیہ کم ہے اور دہشت گردی کا نوحہ زیادہ ہے۔ ناول کی کہانی مہاراشٹر کے کوکن کلچر میں سانس لیتی ہے۔ ناول نگار کے مطابق کوکن گرم مرطوب ہوا کا خطہ ہے جس کے کنارے کنارے بحر عرب کی لہریں صدیوں سے ایک تاریخ کا قبرستان اپنے ساتھ لئے موجزن ہیں۔ ایک ایسا سمندر جس کا دوسرا کنارہ دوسری دنیا کی پر اسرار تہذیب سے جا ملتا ہے۔ بعض پرانے لوگ فرماتے ہیں کہ موہن جودرو سے’’ ممنوع محبت‘‘ کرنے والے جس گھرانے کو شہر بدر کیا گیا تھا در اصل سب سے پہلے وہی اس خطے میں آ بسا تھا۔ ناول کی کہانی اسی ممنوعہ محبت کےاسرار بیان کرتی ہے جس کے سینےمیں بدلتا وقت مذہبی جنون کا خنجر اتار دیتا ہے۔
ناول کا مرکزی کردار عبد العزیز اپنی کمسنی میں ایک شادی شدہ عورت سکینہ کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے جو اس سے عمر میں کئی سال بڑی ہے۔ یہ واقعہ ان دنوں کا ہے جب اس کی مسیں بھیگ چلی تھیں اور سمندر شریانوں میں سر اٹھانے کا فن سیکھ رہے تھے۔ انھیں دنوں وہ سکینہ کے ساتھ اپنے پہلے جنسی تجربے سے دوچار ہوتا ہے اور اس طرح پہلی بار اپنے جسم کے اسرار سے واقف ہوتا ہے۔
سکینہ کا جسم بھی پیا سا ہے اور روح بھی۔ سکینہ کا شوہر تبلیغی جماعت سے متاثر ہے اور سکینہ کی گود ویران ہے۔ سکینہ کی پرورش دینی ماحول میں ہوئی ہے۔ خود شوہر اسے دینی نصاب کی باتیں پڑھ کر سناتا رہتا ہے۔ سکینہ بھی چاہتی ہے کہ ساری زندگی شوہر کی محبت اور خوشنودی میں گذار دے۔ لیکن شوہر سے مثالی محبت کی جو گانٹھ اس نے دل کی شاخ پر باندھی ہے وہ رفتہ رفتہ ڈھیلی پڑنے لگتی ہے اور شادی کے تقریباً چار سال بعد اس کو احساس ہوتا ہے کہ اس کے اندر زندگی کی جو للک تھی اسے شوہر کی دینی باتیں اور اصلاحی حکایات پورا کرنے سے قاصر ہیں اور آخر کار عبد العزیزکی ممنوعہ محبت میں گرفتار ہو تی ہے۔
ناول میں املی کے ایک پیڑ کا ذکر ہے جس کی حیثیت تاریخی ہے یہ چھ سو سال پرانا پیڑ ہے جس پر شگفتہ کی روح بسیرا کرتی ہے۔ رحمن عباس پیڑ کے وسیلے سے اپنی ایک متھ کریئٹ کرنا چاہتے ہیں۔ شگفتہ ممنوعہ محبت کی ماری ہوئی ہے۔ سکینہ نے پیار کیا جس کے پاداش میں وہ قتل ہو تی ہے اور اس کی روح قتل کے بعد پیڑ کو مسکن بناتی ہے۔ اس پیڑپر پہلے جنوں کا ڈیرہ تھا جو شگفتہ کی مسلسل گریہ زاری سے گھبرا کر گھنے جنگل میں پناہ لیتے ہیں اور پیڑ پر شگفتہ کی حکمرانی ہو جاتی ہے۔
سکینہ عبد العزیز سے حاملہ ہوتی ہے اور یوسف کو جنم دیتی ہے۔ عبد العزیز تعلیم مکمل کر کے ملازمت کے لئے گلف کا رخ کرتا ہے۔ گاؤں کے نوجوان ملازمت کے لئے کویت کوچ کرتے ہیں۔ گاؤں کا کایا کلپ ہوتا ہے۔ گاؤں میں بجلی آتی ہے اور ساتھ ساتھ جرمنی اور کوریا کے برقی آلات آتے ہیں۔ مٹی کی دیواریں مسمار ہوتی ہیں ان کی جگہ سمنٹ کے پختہ مکانات تعمیر ہوتے ہیں۔ لکڑی کے چولہے مٹی کے برتن پائے موسل اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔ گھر کی زینت آرائشی سامانوں سے ہوتی ہے اور زیتون کا تیل لکس صابن اور عطریات کی بہتات ہوتی ہے۔ یہ واپسی میں خلیج دولت کے ساتھ عرب کی ثقافت بھی ساتھ لاتے ہیں۔ عورتوں کے لئے برقعے بزرگوں کے لئے جانماز اور اندھیرے میں چمکنے والی تسبیحات! ہر بات میں اسلامی آداب کا ذکر ہونے لگتا ہے۔ بچوں کے نام بھی عربی طرز کے رکھے جاتے ہیں۔ عورتوں کو نماز کی تلقین ہوتی ہے۔ لوگ سفید کرتا اور ٹخنوں کے اوپر پائجامہ پہنتے ہیں اور ثواب اور گناہ کے موضوع پر بحث کرتے ہیں۔ اب برقعہ نہیں پہننا بےحیائی اور بد چلنی کی علامت ہے۔ اب ہندو کافر ہیں اور مراٹھی زبان کافروں اور بت پرستوں کی زبان ٹھہرا دی گئی ہے۔ اردو مذہب سے جڑ گئی ہے۔ لوگ خوشحال تو ہو گئے ہیں لیکن ثقافتی اور تہذیبی سطح پر مقامی کلچر سے دور ہو گئے ہیں۔ گاؤں اب دلوں کی انجمن نہیں ہے۔ گاؤں اب محض گھروں کا مجموعہ ہے۔
عبد العزیز کا ناجائز بیٹا دینی تعلیم حاصل کرتا ہے۔ وہ غضب کا ذہین ہے۔ کم عمری میں ہی مفتی بن جاتا ہے اور اپنا مدرسہ قایم کرتا ہے اور احکامات جاری کرتا ہے۔ مثلاً ہندوؤں کے تہواروں میں شرکت گناہ ہے۔ ٹوپی پہننا لازمی ہے۔ ٹیلی ویژن کو فوراً پھینک دو۔ بچوں کو اردو میں ہی تعلیم دلوائی جائے۔ عرس اور مزاروں کا اسلام میں کوئی مقام نہیں ہے وغیرہ وغیرہ!لیکن عبد العزیز کی سوچ ایسی نہیں ہے۔ بیرون ملک جا کر اس میں اور بھی روشن خیالی آ گئی ہے۔ وہ جب گاؤں واپس آتا ہے تو اسے بدلا ہوا ماحول پسند نہیں آتا۔ اسے ان قدروں کی تلاش ہے جن میں پل کر وہ جوان ہوا ہے۔جہاں اس کے گاؤں کا اپنا کلچر ہے۔ کھلی فضا ہے۔ آزادی ہے۔ محبت ہے لیکن گاؤں کے انتہا پسندوں کو اس کے خیالات اسلام کے لئے مضر معلوم ہوتے ہیں۔ اس کا اپنا خون یوسف جو اب مفتی کی حیثیت رکھتا ہے اس سے متنفر ہو جاتا ہے۔ اس کو مرتد سمجھتا ہے اور آخرش اس کا قتل کر دیتا ہے۔ جس وقت عبد العزیز کی جان نکلتی ہے تو شگفتہ کی روح املی کے پیڑ سے پرواز کر جاتی ہے۔ گویا اس کی جگہ اب عبدالعزیز کی روح لگے گی۔
کوکن کلچر کے بیان میں مصنف نے بہت سے کوکن الفاظ اردو زبان کو عطا کئے ہیں مثلاً ’’ پٹری‘‘ ’’ منکیلدار‘‘ ’’ گڑگے ‘‘ وغیرہ۔ ناول کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ رحمن عباس نے مغربی ناولوں سے براہ راست استفادہ کیا ہے۔ ان کی تحریر پر اردو ناولوں کا اثر نہیں ہے۔ ان کا اسلوب مغربی طرز تحریر کا کاک ٹیل ہے۔ ان کا بیانیہ کہیں کہیں چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہے جو میلان کندیرا کا انداز ہے۔ وہ قاری کو صرف اپنی موجودگی کا احساس نہیں دلاتے بلکہ شدت سے اپنی بات باور کرانے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ مارکیز کے انداز میں فنتاسی کا رنگ بھی شامل ہے اور بیانیہ میں مستقبل حال اور ماضی کو گڈ مڈ کر کے میجک ریلزم کا سا تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*