ایک خاموش انقلاب کانام تھا مولانا امین عثمانی: اخترامام عادل قاسمی

 

سمستی پور: اسلامک فقہ اکیڈمی دہلی کےسکریٹری مولانا امین عثمانی کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے مولانا اخترامام عادل نے کہاکہ یہ کسی فردکی موت نہیں ۔ایک پوری جماعت کی موت ہے۔امین عثمانی ایک فکر۔ایک ادارہ اورایک تحریک کانام تھا۔وہ اسلامک فقہ اکیڈمی کی تحریک کےاولین قافلہ سالاروں میں تھے۔ اس تحریک فقہی کےبانی فقیہ العصرحضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی کی فکراورمشن کوعملی قالب عطاکرنےوالی ٹیم کےہراول دستہ میں امین عثمانی صاحب کی شخصیت بھی تھی۔وہ ایک خاموش مگرآتش فشاں شخصیت کےمالک تھے۔خاص طورپرحضرت قاضی صاحب کےبعدجس طرح انہوں نےاس اکیڈمی اوراس کےواسطے سےاس تحریک کی قیادت کی۔اوراکیڈمی کوسنبھالا۔ اس کی نظیرملنی مشکل ہے۔جس تحریک یاادارہ کےپاس امین عثمانی جیسی مخلص اورفکروعمل کی جامع شخصیت موجودہووہ تحریک کبھی مردہ نہیں ہوسکتی۔وہ اپنےعہدکےبڑےمفکراورمنصوبہ سازانسان تھے۔ انھوں نے کہاکہ اہل علم اوراصحاب فکر کی بڑی بڑی قطاروں میں کوئی ایک دوشخص ہی اس شان کاحامل ہوتاہے۔وہ ہر فکروعمل کاسرچشمہ تھے مگرایسےخاموش اورگوشہ نشیں رہتےتھے۔جیسےوہ کچھ بھی نہ ہوں ۔ان کی بڑی خصوصیت لوگوں کوجوڑنےکی صلاحیت تھی۔ وہ ہر انسان کےمقام ومرتبہ کوسمجھتےتھے۔وہ علم دوست۔ علم نوازاور علم و فن کےقدردان تھے۔وہ اسٹیج کی زینت نہیں بنتے تھے۔لیکن ہر مجلس کےروح رواں ہوتےتھے۔وہ کیاگئےکہ انجمن ویران ہوگئی ۔ محفلیں سونی پڑگئیں۔
امین صاحب کی وفات اکیڈمی کےلیےحضرت قاضی صاحب کےبعدسب سےبڑاحادثہ ہے۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔پسماندگان کو صبرجمیل عنایت کرےاوراکیڈمی کوان کانعم البدل عطافرمائےآمین۔