ایک جلیل القدر و بابصیرت عالمِ دین کی وفات ـ سمیع اللہ خان

آج مولانا امین عثمانی انتقال فرما گئے یقین نہیں آتا ابھی چند روز پہلے ایک محترم شخصیت نے فون کرکے مجھے ” امین عثمانی ” صاحب کا محبتوں بھرا سلام پہنچایا تھا،اس دن مجھے بیحد مسرت تھی کہ امین عثمانی صاحب نے مجھے یاد کیا،اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ ہم ملاقات کے لیے سفر کی ترتیب ہی بنا رہےتھے کہ ان کی طبعیت خراب ہونے اور ہسپتال میں بھرتی ہونے کی اطلاع ملی، لیکن ہمیں یقین تھا کہ وہ سلامتی کے ساتھ صحتیاب ہوجائیں گے اور ہم ان سے براہ راست استفادہ کرسکیں گے لیکن ” اے بسا آرزو کہ خاک شدہ”
مولانا امین عثمانی صاحب دارالعلوم ندوۃ العلما کے فاضل تھے،اس کےبعد انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ـ جامعہ ملیہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں پنجاب یونیورسٹی سے اسسٹنٹ پروفیسر کا عہدہ پیش کیاگیا لیکن انہوں نے دینی علوم اور ملی امور میں خدمات انجام دینے کو مقدم رکھاـ
وہ ان قدما میں سے تھے جو درحقیقت عظماے اسلام کہلاتے ہیں ـ انہوں نے اسلامی طلبا تنظیم کی تحریک میں بنیاد سے ہی فعال شرکت کی اور اس پر کٹھن حالات آنے کے باوجود ان کے پاے ثبات میں لغزش نہیں آئی ـ جب اسلامی فقہ اکیڈمی کے قیام کی تحریک ہندوستان پہنچی تو اس کی ذمے داری یہاں قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ کے سپرد ہوئی اور انہوں نے اپنے ساتھ مولانا امین عثمانی ؒ کو بنیاد میں شریک کیا، اس کے بعد جس طرح انہوں نے اس ادارے کو سینچا وہ انہیں بجا طورپر اس عظیم الشان ادارے کا ثانی اثنین قرار دیتاہے، مولانا امین عثمانی اسلامی فقہ اکیڈمی کو موجودہ مقام تک پہنچانے میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں، ناسازگار دور میں امین صاحب نے کیسی پیہم جدوجہد کی، اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ وہ قرضے لیکر اکیڈمی کی تنخواہیں اور اخراجات بھی ادا کرچکے ہیں، جن سے قرض حاصل کیا وہ ابھی بقید حیات ہیں، فقہ اکیڈمی کے سیمیناروں کی کامیابی مولانا مرحوم کی جفاکشی کی بدولت ہوتی تھی،وہ عنوان منتخب کرنے سے لے کر اس کے ليے مقالے تیار کروانے،پھر نشست گاہ کی تیاری سے لیکر مہمانوں کے قیام تک وہ ساری محنتیں کرتے جو آج کل جاروب کش کے حوالے ہوتی ہیں ـ وہ رات بھر محنت کرتے اور جب شامیانوں سے سج کر اسٹیج تیار ہوجاتا تو وہ اسٹیج پر آنے کے بجائے کسی کمرے میں جاکر سوجاتے، اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا جس سے آج ملک بھر کے دینی ادارے مستفید ہورہےہیں اس کے باغبان اور جفاکش مالی ” مولانا امین عثمانی ” تھے ـ
پرسنل لا بورڈ، جماعت اسلامی قدیم اسلامی طلبا تنظیم اور فقہ اکیڈمی کے پروگرامز میں وہ جہاں بھی کھڑے ہوجاتے ان کے گرد اہل علم و دانش کا ایک حلقہ بن جاتا تھاـ
وہ قدیم تاریخوں کے گواہ تھے وہ مولانا علی میاں ؒ کے ساتھ بھی رہے اور امام یوسف القرضاوی عافاہ الله کے معتمد رہے، ۷۰ کی دہائی میں ندوہ کے تعلیمی جشن کے وقت علامہ یوسف القرضاوی کی تقریر ہورہی تھی، یہ جشن ملک میں ایمرجنسی کے ماحول میں ہورہا تھا حضرت علامہ کی تقریر عربی میں ہورہی تھی اور اس کا اردو ترجمہ پیش کیا جاناتھا،ایمرجنسی میں جماعت اسلامی کے کارکنان گرفتار کیے گئے تھےـ امام یوسف القرضاوی نے اپنی تقریر میں مطالبہ کیا کہ جماعت اسلامی کے جو لوگ گرفتار ہوئے ہیں انہیں رہا کیا جائے، لیکن مترجم نے اس کا ترجمہ حذف کردیا جس پر ایک اصلاحی عالمِ دین نے اعتراض بھی کیا تھا، ان اور ان جیسے بیشمار تاریخی واقعات اور روایتوں کے امین ” امین عثمانی ؒ ” تھےـ
مولانا امین عثمانی ؒ ان برگزیدہ شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے عالم عربی کی اسلام پسند تحریکات کے بیج ہندوستان میں بوئے، ترکی، قطر، افغانستان کے علماے حق سے رابطے کے لیے وہ معتبر اور بیحد مؤقر پُل تھے، انہوں نے سعودی عرب، سے لیکر افغانستان میں بھی کام کیا، مولانا امین عثمانی افغانستان میں فقہ اکیڈمی کے قیام کے بھی محرک تھے، افغانستان میں اکیڈمی کے قیام تک اس کی علمی فکری رہنمائی اور اخلاقی سرپرستی کرتے رہے، علماے عرب کے یہاں امین عثمانی صاحب کی رائے اور کلام باوزن معتبر اور معروضی ہوتی تھی، قبلۂ اول بیت المقدس کی آزادی ان کا محبوب مشن تھا، فلسطینی کاژ اور مسجدِ اقصیٰ کی تحریک کو ہندوستان میں متحرک رکھنے کے ليے ہمیشہ عملی طورپر فکرمند رہےـ
مولانا امین عثمانی عالمی اسلامی تنظیموں کے نمائندہ تھے، وہ الاتحاد العالمی، رابطہ علماے اہلسنّت کے مؤقر ممبر تھے، وہ ہندوستان میں فقہ اکیڈمی کے علاوہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، اسلامی طلبا تنظیم اور جماعت اسلامی کے متحرک اور ذمہ دار ارکان میں سے تھے ـ انہوں نے کئی کتابیں لکھوائیں،کئی علمی پروجیکٹ کی سرپرستی کی، وہ ہمیشہ علمی کام کرنے والے چھوٹوں کو نوازتے اور حوصلہ افزائی کرتے رہتے،انہوں نے اپنی خاموش تربیت، غیر محسوس تعاون اور باعزت اصول پسندی، بامروت اخلاقیات سے کئی افراد کے جوہر تراشے، ان کا سینہ رازوں کا سمندر تھا،انہوں نے ہمیشہ آپس میں صلح و درگزر سے کام لیا،ان کے ضبط اور سمندر جیسے دل نے بڑے بڑے نام والوں کو زندگی دے دی، وہ باوقار شخصیت تھے جنہوں نے کبھی مظلومیت کا شکوہ نہیں کیا،وہ آزمائشوں کو پیتے گئے، وہ ملّی مسائل میں دھڑکتے دل کی طرح دوڑتے تھےـ
اپنی ذات کو فنا کر کے ملت کی تعمیر کرنا، اپنے آپ کو کھپا کر افراد تیار کرنا نفس کشی کے ذریعے لیڈرشپ تیار کرنا اگر یقینًا معرفت، رجال سازی اور صاحبِ فضل و کمال ہونے کے مراحل ہیں تو امین عثمانی ؒ اس کے مصداق تھے، ان کے جانے سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا، اخلاص کا ایک چراغ جس کی روشنی سے بیشمار سورج طلوع ہوئے، گرچہ ان میں سے کچھ اعتراف نہ کریں آج وہ دیا بجھ گیا، آج ایک عظیم بیباک عالمِ حق رخصت ہوگیا ایک ایسی شخصیت رخصت ہوگئی جن کے خاموش وجود سے قوموں کا ہونا ہوتا ہے،جن کے سمندر جیسے ظرف میں امت کے ليے آغوش تھی ـ
آہ امین عثمانی صاحب آہ! ہم کتنے بدنصیب ہیں کہ آپ کے ساتھ ملاقات کی جس صبح کا انتظار تھا اس کی شام پہلے ہوگئی، لیکن ان شاءالله باذن الله آپ کے عزائم،آپ کی تڑپ، آپ کے عظیم خواب شرمندۂ تعبیر ہوں گے، آپ تاریخی شخصیت تھے آپ تاریخ ساز کہلائیں گے، یہاں نہ سہی جنت میں ہم ضرور ملیں گےـ
میرے ليے مولانا امین عثمانی کی وفات جبکہ میں ان سے ملاقات کی تیاری کررہاتھا بیحد غیرمتوقع ہے، میری یہ بڑی شومئی قسمت ہے کہ جن عظیم بزرگوں سے رابطہ ہونے لگا مشیت ایزدی نے ان سے دور کردیا، امین عثمانی صاحب جیسے کئی عبقری بزرگ گزر گئے،کچھ باقی ہیں خاموشی سے گواہ بن رہےہیںـ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ان اہلِ وفا اہلِ عزیمت کی قدر نصیب ہو ان کا حق ادا کرنے کی توفیق ہو، جن کی زندگیوں نے مضبوط بنیادیں فراہم کردی ہیں،ان بنیادوں کے موجودہ مکین انہیں یاد کریں گے،ان کی روح کو محسوس کریں گے، انہیں بےلاگ صراحت کی ضرورت کے وقت تلاش کیا جائیگاـ
امین عثمانی صاحب کی روح کو اللہ نہال فرمائے، ان کے بیٹے ابان سمیت تمام اہل خانہ و پسماندگان کو صبر و ہمت عطا ہو، ہم آپ کے غم میں شریک ہیں، یہ ہم سب کا خسارہ ہےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*