ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا؟ـ مفتی اشرف عباس قاسمی

(امیر شریعت ؒ کی وفات پر حرف تعزیت)

استاذ تفسیر و ادب دارالعلوم دیوبند

۲/شعبان المعظم ۱۴۴۲ھ ۳/اپریل ۲۰۲۱ء کو جو مدرسہ ثانویہ دارالعلوم دیوبند کے کورونا سے بری طرح متاثرتعلیمی سال کا آخری دن تھا،عین ظہر کی جماعت کے وقت آنے والی اس وحشت ناک خبرنے پورے ماحول کو اشکبار کر دیا کہ ملت کے بابصیرت قائد دارالعلوم دیوبند کے فکر و مشن کے امین ’’امیر شریعت حضرت مولانا سید محمدولی رحمانیؒ ‘‘ بھی اپنے رب کے حضور وہاں پہنچ گئے ہیں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا اور ولی صفت لوگ تو آنا بھی نہیں چاہتے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
یوں تو گزشتہ ایک سال کے عرصے میں جب سے اس وبا نے پیر پسار ے ہیں ،علم و عمل کی ایک کہکشاں افق سے غائب ہو کر زیر زمین دفن ہو چکی ہے ، اور کئی صورتیں ، جن سے ملت کی تابندگی قائم تھی ، خاک میں پنہاں ہو چکی ہیں اور اپنے گنج ہائے گراں مایہ کو کھو دینے پر ہم صبر کے عادی ہو چکے ہیں ؎
اٹھ گئی ہے سامنے سے کیسی کیسی صورتیں روئیے کس کے لیے کس کا ماتم کیجیے
اس کے باوجود اس حادثے نے ایک بار پھر قلب و جگر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے،ضبط کا بندھن ٹوٹ چکا ہے اور ظاہری آنکھوں سے بھی نظر آرہا ہے کہ ایک قیمتی متاع امت سے چھن گئی ہے اور ملت ایک بار پھر یتیم و بے آسرا ہو گئی ہے ،خصوصیت کے ساتھ ہمارے صوبۂ بہار کی کل کائنات تو وہی تھے،وہ کیا گئے ،بہار کی بَہار چلی گئی،روشنی مدھم پڑ گئی تاریکی بڑھ گئی ؎
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ؟ ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا
ہفتہ عشرہ قبل جب علالت کی خبر آئی تو حضرت امیر شریعت ؒ کے قریبی متعلقین و تیماداروں سے فون پر رابطہ کرکے خیریت دریافت کی گئی،انہوں نے اطمینان دلایا،میں نے ان قریبی ذرائع کے نمبرات مخدوم ملت حضرت مولانا سید ارشد مدنی اور حضرت مولانا سید اسجد مدنی دامت برکاتہم تک بھی پہنچا دیے تھے ،حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب تقریبا روزانہ عصر کے بعد احوال دریافت کرتے ،فون سے خیریت معلوم کرتے ،جس سے ہمیں محسوس ہوا کہ حضرت مولانا کے دل میں امیر شریعتؒ کی کس قدر قدر و منزلت ہے اور آپ کو امیر شریعت کی علالت سے کتنی زیادہ تشویش ہے،حضرت مولانا کو تشویش اس بات سے تھی کہ انہوں نے ابھی ویکسین لی ہے ،پھربھی ہم دل کو تسلی دیتے رہے کہ امیر شریعت فولادی عزم و حوصلے کے آدمی ہیں،وہ اس بیماری کو بھی جھیل جائیں گے؛لیکن وقت موعود آ پہنچا،تدبیرپر تقدیر غالب آگئی۔
امیر شریعت حضرت مولانا سید ولی رحمانیؒ بابصیرت عالم دین،روشن دماغ مفکر و مدبر، با حوصلہ قائد و مربی اور راہ نوردگان طریقت کے لیے زبردست مصلح و مربی تھے،وہ جرأت و عزیمت کا استعارہ،یاس و قنوطیت کا شکار ہوئے بغیر اپنے کردار و عمل سے کوہ پاٹنے والے،اولو العزم ،دانش مند، اردو کے صاحب طرز ادیب ،باکمال خطیب و اسپیکر اور قدیم صالح وجدید نافع کے سنگم تھے، مشرق سے قلب ونظر کوجلا بخشنے کے ساتھ انہیں مغرب سے بھی حذر نہیں تھااور وہ فطرت کا اشارہ پاکر ہر شام کو سحر کرنے کی مہم پر نکل کھڑے ہوتے،ملک کے اعلی تعلیمی اداروں اور تنظیمی عہدوں پر مسلم نمائندگی کی قلت کا رونا رونے کے بجائے ’’رحمانی ۳۰‘‘ کے ذریعے خاموش مؤثر تعلیمی انقلاب لانے میں کامیاب رہے ،وہ شش جہت شخصیت کے مالک تھے اور ان کی شخصیت کا ہرپہلو اتنا روشن تھا کہ وہی ان کا نشان امتیاز نظر آتا تھا،سرگرم سیاست میں بھی حصہ لیا اور بہار اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر بھی رہے ؛لیکن ان کے اپنے اصول اور بلند اقدار پر سیاست کبھی غالب نہیں آسکی،ارباب اقتدار سے مرعوب ہوئے بغیر جرأت و بصیرت کے ساتھ ملت کی قیادت کرتے رہے،پرآشوب حالات میں بھی ملت کی نیا کے کھیونہار اور اس کی امیدوں کا مرکز رہے۔
جس خاندان اور ماحول میں ہماری پرورش ہوئی اس میں خانقاہ رحمانی اور اس سے وابستہ اکابر و شخصیات کے پر عظمت تذکرے بہ کثرت ہوتے تھے اور گاؤں و علاقے میں ان بزرگوں کی آمد و رفت بھی رہتی تھی،اور اس طرح حضرت مولانا ولی رحمانیؒ کی زیارت و ملاقات کا شرف بھی حاصل ہو چکا تھا؛تاہم تشخص و تعیین کے ساتھ ملاقات و فیضیاب ہونے کا موقع اس وقت ہاتھ لگا جب ۲۰۰۰ میں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی وفات کے بعد ان کی شخصیت پر مسلم یونیورسیٹی علی گڑھ نے جناب مولانا ڈاکٹر سعود عالم قاسمی کی کنوینر شپ میں ایک سیمینار منعقد کیا تھا، میں اس وقت دارالعلوم دیوبند زیر تعلیم تھا اور ہمارے استاذ گرامی مرتبت حضرت مفتی ظفیر الدین صاحب مفتاحیؒ کو بھی اس میں شریک ہونا تھا، حضرت مفتی صاحبؒ نے بہ حیثیت خادم مجھے بھی ساتھ کر لیا تھا اور اس طرح مجھے عرب شخصیات اور ممتاز علماء و دانشوران سے ملاقات و استفادے کا موقع ملا،مفتی ظفیر الدین صاحبؒ سے مولاناؒ کے دیرینہ روابط اور جانبین سے بڑے نیازمندانہ تعلقات تھے؛ اس لیے مولانا ؒ کی مجھپر بھی نظر عنایت رہی،سیمینار کے دوسرے دن شام کو جب میں قیام گاہ پر حاضر ہوا تو مجھے اپنے پاس بٹھایا،دارالعلوم دیوبند کے احوال معلوم کیے اور دیر تک اپنی زندگی کے تجربات اور نصائح سے نوازتے رہے،یہ سیمینار میرے لیے اس لیے بھی یادگاررہا کہ اس میں میں نے پہلی بار مولاناؒ کی جرأت و بسالت،اپنے بزرگوں کی روایت سے بے پناہ تعلق اور تصوف و سلوک سے احساس مرعوبیت کے بغیر علی وجہ البصیرت وابستگی کی مثال ہمارے سامنے آئی، ہوا یہ کہ سیمینار میں جب آپ نے اپنا مقالہ پڑھا تو اپنے زبردست اسلوب نگارش ،تعبیرات کی ندرت اور طرز القاء کی وجہ سے ایک سماں بندھ گیا، جس کو سب نے محسوس کیا مقالات کی خواندگی کے بعد جب پروگرام کے ناظم صاحب نے قومی آواز کے سب ایڈیٹر محترم جناب منصورآغا صاحب سے تأثرات پیش کرنے کی گزارش کی تو انہوں نے پیش کیے گئے مقالات پراپنے مخصوص انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا :کہ یہ مقالات غیر علمی اور غیر تحقیقی ہیں،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علم و تحقیق کی دنیا سے ہٹ کر کسی خانقاہ میں تحریرکیے گئے ہیں؛البتہ میں مولانا ولی رحمانی اورڈاکٹر محسن عثمانی صاحب کے مقالے کا استثنا کروں گا ،انہوں نے حق ادا کر دیا ہے؛مجمع پر سکوت طاری تھا؛لیکن ہم نے دیکھاکہ منصور آغا صاحب کا یہ تبصرہ سن کر مولانا ولی رحمانی تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھے اور ان سے مائک لے کر بڑی سنجیدگی سے کہا:آغاصاحب! آپ مقالوں کو خانقاہ سے جوڑ کر ان کو بے وقعت ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں؛ لیکن آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ بندے کے جس مقالے کی آپ سراہنا کر رہے ہیں وہ صحیح معنوں میں ایک خانقاہ کے ایک چھوٹے اور تنگ کمرے میں تحریر کیا گیا ہے ،ہم نے دیکھا:مجمع پر سناٹا طاری ہو گیا،منصور آغا صاحب بھی ہڑبڑا سے گئے اور انہیں اندازہ ہو گیاکہ ان سے الفاظ کے انتخاب میں کیسی زبردست چوک ہو گئی ہے،میرے برابر میں ایک پرانے علیگی پروفیسر صاحب بیٹھے تھے، وہ کہنے لگے :شیر کا بیٹا شیرہوتا ہے ،چند سال قبل اسی یونی ور سٹی میں ایک تعلیمی کانفرنس میں آپ کے والد محترم مولانا منت اللہ رحمانیؒ بھی گرجے تھے اور انہوں نے کانفرنس کا قبلہ درست کر دیا تھا۔
۲۰۱۲ میں دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ تدریس سے وابستگی کے بعدمتعدد بار ملاقات اور آپ کی توجہات وہدایات سے بہرہ ور ہونے کا موقع ملا ،کئی پروگراموں میں معیت کا بھی شرف حاصل ہوا،ہر ملاقات میں سیاسی بصیرت،ملت کے تئیں فکر مندی اور مستقبل کے لیے پیش بندی کے حوالے سے ان کی عظمت اور تہہ دار شخصیت کے نقوش قلب پر مرتسم ہوتے گئے،مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد آسام ایک پروگرام میں جانا ہوا جس کی صدارت حضرت مولانا سید ولی رحمانی ؒصاحب کو کرنی تھی ، میں مولانا سے موجودہ صورت حال پر گفتگو کرنے لگا ،اسی دوران آسام کے ایک نیم سیاسی اور نیم مذہبی شخص بھی گفتگو میں ٹپک پڑے اور مولانا سے کہنے لگے: آپ حضرات نے مودی سرکار کا ہوّا کھڑا کر دیاتھا؛ورنہ اس سرکارکے آنے کے باوجود بھی ہم مسلمانوں کا کچھ نہیں بگڑ رہا ہے ،سیکولر پارٹیوں نے بھی تو ہمارا استحصال کرکے اپنا الو ہی سیدھا کیا ہے ؟میں نے دیکھا کہ اس مداخلت پر حضرت مولاناؒ کے چہرے کی رنگت بدل گئی اور اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہوئے اس شخص سے گویا ہوئے:دہلی میں جو منصوبہ بندی ہو رہی ہے ،یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ آ پ تک اس کے منفی اثرات فوری طور سے پہنچ جائیں ،آج نہیں تو کل آپ کو اس تبدیلی کا اثر ضرو نظر آئے گا اور یاد رکھیے! سابقہ حکومت نے ستر سال میں مسلمانوں کا اور دیش کاجتنا نقصان کیا ہے موجودہ سرکار پانچ سالہ ٹرم میں ہی اس سے آگے نکل جائے گی ۔
آپ نے ’’دین بچاؤ دیش بچاؤ‘‘ کے عنوان سے جو عظیم الشان کانفرنس بلائی ،اس میں لوگوں کا ایسا ٹھاٹھیں مارتا سمندر امنڈ آیا تھا کہ اسے دیکھ کر سیاسی پارٹیوں کے بھی ہوش اڑ گئے تھے ،حتی کہ راجدکے’’ لالو پرساد یادو‘‘ نے فون کرکے مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا اب آپ ہی لوگ راج پاٹھ سنبھالیے ، عوامی جذبات آ پ کے ساتھ ہیں ، دوسری طرف وزیر اعلی نتیش کمار نے اس کانفرنس کے اناؤنسر،منتظم اور آپ کے معتمدجناب خالد انور صاحب کو ایم ایل سی بنا کر بہار قانون ساز کونسل پہنچا دیا،جس پر لوگوں میں چہ میگوئیاں بھی ہوئیں اور کانفرنس کے صالح اثرات کو اسی جزئی واقعے پر منفی تبصرے کی نذر کر دیا گیا،بندے نے بنگال کے ایک پروگرام میں پوری صورت حال گوش گزار کرکے اصل حقیقت جاننے کی کوشش کی ،جس پر حضرت سنجیدگی سے ایک گھنٹے تک اس موضوع پر گفتگو کرتے رہے، جس کے دوران انہوں نے کہا کہ میں خالد انور کو کیا ایم ایل سی بناتا ،دراصل نتیش کمار تیز لیڈر ہیں، جب دیکھا کہ خالد کانفرنس میں بڑے متحرک ہیں اور ان سے ہمارا فائدہ ہو سکتا ہے ، تو انہوں نے بلا تاخیر ایم ایل سی کے لیے نامزد کر دیا ؛جبکہ لالو کی سیاست ایسے مواقع پر مختلف نظر آتی ہے ، نتیش کو ان مواقع سے خوب فائدہ اٹھانا آتا ہے ۔
مولانا اپنی تمام تر عظمتوں اور نسبتوں کے ساتھ سیر چشمی و کشادہ قلبی اور ہم جیسے چھوٹوں کے ساتھ شفقت و مروت میں بھی ممتاز تھے اور جب بھی ملاقات ہوتی،محبتوں سے نوازتے تھے ،ایک بارخانقاہ میں ہمارے کچھ قریبی رشتہ دار حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور ان کا نمبر نہیں آ پارہا تھا ، وہ کافی دیر سے پریشان تھے میں نے براہ راست حضرت مولانا کو فون کیا ؛ حالانکہ حضرت اپنے معمول کے مطابق طالبین سے مل رہے تھے؛لیکن مجھ سے فورا کہا کہ میں ابھی دیکھتا ہوں اور اپنے خادم کے ذریعے ان حضرات کو تلاش کرکے بلایااور انہیں اسی وقت فارغ کر دیا۔
حضرت مولانا کو دارالعلوم دیوبند سے خاص لگاؤ اور تعلق تھا، وہ اس کی فکر اور مشن کے امین تھے، دارالعلوم دیوبند کے دو سالہ دورطالب علمی کا آپ کی شخصیت کی تشکیل و تعمیر اور صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار رہا ہے ،اور پوری زندگی آپ نے اپنے دارالعلوم کے سپوت اور اس کے قابل فخر فرزند ہونے کا ثبوت دیا ہے ، بعض بڑی بڑی کانفرنسوں میں جب دارالعلوم دیوبند کی بیجا تنقیدیا اس کی تنقیص کی گئی تو آپ نے اسی وقت اسٹیج پر دارالعلوم دیوبند کا بھر پور دفاع کیا اور اس کی زبردست ترجمانی کی ہے ۔
سال گزشتہ ۲۲/ مارچ۲۰۲۰ء کو کسی تیاری اور پیش بندی کے بغیر حکومت کی طرف سے مسلط لاک ڈاؤن کے اعلان سے عام لوگوں کے ساتھ مدارس میں زیر تعلیم مقیم طلبہ کے لیے بڑی پریشانی کھڑی ہو گئی تھیں، خود دارالعلوم دیوبند میں صرف بہار کے تقریباً سات سو طلبہ رہ گئے تھے، طلبہ کے مطالبے پر انہیں اپنے گھروں تک بہ حفاظت پہنچان ے کے لیے بہ راہ راست وزیر اعلی سمیت اعلی انتظامی افسران سے حضرت مہتمم صاحب دارالعلوم دیوبند نے بات چیت کی؛لیکن سب نے ہاتھ کھڑے کر دیے، اس حوالے سے حضرت مہتمم صاحب نے امیر شریعت ؒ سے بھی رابطہ کیا ،جس کا امیر شریعتؒ نے بڑے اہتمام سے جواب دیا ،مسلسل مہتمم صاحب سے رابطے میں رہے اور طلبہ کی فہرست منگواکر اپنی سطح پر کوشش کرتے رہے اور جب ماہ مبارک کے اخیر میں دیوبند کی مقامی جمعیت کی کوشش سے طلبہ کی بسوں کے ذریعے روانگی عمل میں آئی اور بہار سرکار باقاعدہ اجازت میں آنا کانی کر رہی تھی تو حضرت امیر شریعتؒ نے خود پیغام بھجوایا کہ ساری بسوں کو گوپال گنج بارڈر سے بہار میں داخل کریں ،طلبہ کی فہرست اور بسوں کے نمبرات مجھے بھیج دیں !الحمد للہ بارڈر پر کسی بس کو زیادہ پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا؛البتہ اس سے بڑا مسئلہ لاک ڈاؤن میں بسوں کے ذریعے شہروں تک پہنچنے والے طلبہ کو دور دراز ان کے گھروں تک پہنچانے کا تھا ؛اس کے لیے امیر شریعتؒ نے جہاں ہمارے طلبہ کو ضرورت تھی ،امارت کے کارکنان کو متحرک کردیا اور قائم مقام ناظم محترم مولانا شبلی القاسمی کو اس کی ذمہ داری تفویض کر دی ، ان حضرات کی محنتوں اور کوششوں کا نتیجہ تھا کہ اگر بارہ بجے رات میں بھی کسی شہر میں پیشگی اطلاع کے بعد طلبۂ دارالعلوم کی بس پہنچی تو ان کے استقبال و رہنمائی ؛بلکہ انہیں اپنے اپنے گاؤں تک پہنچانے کے لیے امارت کے کارکنان اپنی گاڑیوں کے ساتھ مستعد نظر آئے ۔فجزاہم اللہ تعالی احسن الجزاء۔
حضرت مولانا کی آخری زیارت اور ملاقات رحمانی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام قطب عالم حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری رحمہ اللہ کی حیات و خدمات پر منعقد سیمینار کی مناسبت سے ہوئی، اس موقع پر بڑا اعزاز و اکرام فرمایااور دارالعلوم دیوبند سے مؤقر اساتذہ کا جو وفد سیمینار میں شریک ہوا تھا،جناب مولانا مقیم الدین صاحب ناظم مہمان خانہ دارالعلوم دیوبند اور اپنے معتمد جناب مولانا امتیاز رحمانی صاحب کے ذریعے خاص انتظامات فرمائے ،رات کو دیر تک اس وفد سے ملاقات کے لیے اپنے حجرے میں انتظار کرتے رہے اور صبح کی نشست میں حسب وعدہ سب سے پہلے اس وفد کو فارغ کرکے رخصت کردیا، اس سیمینار کے روح رواں حضرت امیر شریعت ہی تھے اور مہمانوں کے اکرام میں بچھے جا رہے تھے ؛لیکن تواضع اور بے نفسی کا عالم یہ تھا کہ اسٹیج پر مسند نشینی کے بجائے اصرار کے باوجود سامعین کی آخری قطار میں بیٹھے رہے اور اسٹیج پر اس وقت تشریف لائے جب خود ان کے خطاب اور پروگرام کا موقع آیا۔
حضرت مولانا اپنی ذات سے ایک انجمن اور رجال ساز شخص تھے ،آپ کی رحلت سے علم و ادب اور معرفت و دانش کی گرم بازاری سرد پڑ گئی ہے ، خدمت خلق،تزکیہ و احسان اور جرأت و بسالت کی شان دار روایت رخصت ہو گئی ہے ، کیا بورڈ کیا خانقاہ جامعہ رحمانی اور کیا امارت شرعیہ ہر جگہ خلا پیدا ہو گیا ہے ،وفات کے تیسرے دن جب احقر تعزیت کے لیے امارت شرعیہ کے دفتر پہنچا تو محسوس ہو ا کہ اس کے در و بام عجیب غم و حسرت کی تصویر بنے ہوئے ہیں،نائب امیر شریعت حفظہ اللہ و رعاہ نے ہمارا والہانہ استقبال کیا اور اپنے شیخ و مرشد کی نیابت کرتے ہوئے خاص خیال رکھا ، قائم مقام ناظم صاحب اشکبار آنکھوں سے دیر تک حضرت کی داستان عزیمت سناتے رہے ،امارت کی ممتازترین شخصیت ،ناظم وفاق المدارس سے بھی دیر تک گفت و شنید رہی، وہ بھی انتہائی مضمحل اور اس غیر معمولی حادثے سے متاثر نظر آئے ؛البتہ یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ اگرچہ سارے کارکنان صدمے سے نڈھال ہیں؛تاہم حسب معمول ساری سرگرمیاں انجام پارہی ہیں ،جس سے امید بندھی کہ حضرت امیر شریعت کے تربیت یافتہ افراد آپ کے بتائے ہوئے خطوط پر سارے نظاموں، شعبہ جات، خانقاہی روایات اور عصری تعلیمی اداروں کو مسلسل سر گرم سفر رکھیں گے ؛ کیوں کہ حضرت مولانا تو اپنے حصے کا کام مکمل کر کے گئے ہیں،باقی کام تو ایسی اتحاد و احترام کے ساتھ ان سے محبت و عقیدت کا دم بھرنے والوں کو ہی کرنا ہے ، انہوں نے اپنے قابل فخر آباؤ و اجداد کی روایات کو آگے بڑھانے اور چراغ سے چراغ جلانے کا جو کام کیا ہے ،ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی روشنی کو مدھم نہ پڑنے دیں ،اللہ رب العزت حضرت امیر شریعت کی جملہ خدمات و حسنات کو قبول فرما کر اعلی علیین میں مقام عطا فرمائیں اور ملت کی زبوں حالی و خستہ بالی پر رحم کریں۔