ایک گمنام سرسیّد شناس پروفیسر محمدممتاز عالم

ڈاکٹر محمد شمشاد قاسمی
موبائل:8750195041- 9013127159
shamshadqasmi@gmail.com
پروفیسر محمد ممتاز عالم نے سمری بختیار پور، ضلع سہرسا، بہار کے ایک چھوٹے سے گاؤں ‘‘بھٹونی’’کے ایک متوسط زمیندار گھرانے کے اندر ۱۹۵۷ میں اپنی آنکھیں کولیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گاؤں سے ہی کیا۔ پروفیسر موصوف بچپن ہی سے ذہین واقع ہوئے تھے اور علم کا شوق اور اس سے دلچسپی ان کے اندر شروع ہی سے پائی جاتی تھی جس کو ان کے ماموں ماسٹر حافظ عبد الرؤف صاحب ؒنے اچھی طرح محسوس کرلیا تھا جو جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر، بہار میں جغرافیہ، ہندی، انگریزی اور فارسی کےماہر استاذ تھے۔ لہذا انہوں نے اپنے بھانجے کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی۔
پروفیسر موصوف کی تعلیمی ترقی، ان کی ذہنی اور فکری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اوران کی ہمہ گیر شخصیت سازی میں ان کے ماموں حافظ عبد الرؤف صاحبؒ کا بڑا اہم کردار رہا ہے ۔ انہوں نے ہی پروفیسر موصوف کو اپنی تربیت میں رکھ کر اسکول سے لے کر کالج تک کی تمام کتابیں پڑھائیں اور ان کو قلم پکڑنا سکھایا۔ ان کو مضمون نگاری کے گُر سکھائے۔ پروفیسر موصوف نے انہیں کی آغوش تربیت میں رہ کر اپنے تعلیمی مراحل اور ارتقائی منزلیں طے کیں۔
چنانچہ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے ماموں جان سے حاصل کرنے کے بعد ۱۹۶۷ میں علاقے کے مشہور تعلیمی ادارہ اسلامیہ ہائی اسکول میں ساتویں کلاس میں داخلہ لیا اور ۱۹۷۲ میں وہیں سے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبرات سے پاس کیا۔پروفیسر موصوف نے اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ۱۹۷۴ میں ایم ایچ ایم کالج، سونبرسا راج، سہرسا، بہار سے انٹر پاس کیا۔ اعلی تعلیم حاصل کرنے کا شوق اور کچھ بننے کا جذبہ ان کے اندر بچپن ہی سے انگڑائیاں لے رہا تھا۔ اس لیے صرف انٹر پاس کرنے پر ان کا دل مطمئن نہ رہ سکا۔ چنانچہ انہوں نے ۱۹۷۴ ہی میں سہرسا کالج، سہرسا (متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ) میں داخلہ لیا اور ۱۹۷۶ میں بی اے پاس کیا (اُس زمانے میں بی اے دو سال کا ہوا کرتا تھا)۔اس کے بعد مزید اعلی تعلیم حاصل کرنے کی تڑپ اُنہیں بہار کی راجدھانی پٹنہ کھینچ لے گئی۔ لہذا مزید علمی پیاس بجھانے کے لیے انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی میں ایم اے (اردو) میں داخلہ لیایہاں تک کہ ۱۹۷۸ میں امتیازی نمبرات سے ایم اے پاس کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ۲۰۰۶ میں بی این منڈل یونیورسٹی مدھے پورہ ، بہار سے ڈاکٹر احمد حسین دانش کی زیر نگرانی اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرکے اپنی دیرینہ خواہش کی تکمیل کی۔
پروفیسر موصوف نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایم اے پاس کرنے کے بعد ہی کردیا تھا جب ان کا انتخاب لکچرر (اردو) کی حیثیت سے ۴ نومبر ۱۹۸۲ کو مہیلا کالج، پورنیہ میں ہوا۔اس کے بعد ان کا تبادلہ ۱ نومبر ۱۹۹۵ کو ٹی پی کالج، بی این منڈل یونیورسٹی، مدھے پورہ ہوا۔ پھر ان کا تبادلہ ۱۹۹۹ میں فاربس گنج کالج ہوا۔ پھر دوبارہ ۲۰ مئی ۲۰۰۱ میں ان کو ٹی پی کالج مدھے پورہ بلالیا گیا اور اُس وقت سے لے کر تاحال یہیں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ابھی شعبہ اردومیں ایسوشییٹ پروفیسر اور صدر شعبہ بھی ہیں۔
انہوں نے قلم وقرطاس سے اپنا رشتہ شروع ہی سے جوڑے رکھا ہےاور اب تک ۳۰ سے زائد مقالات ومضامین ملک کے مشہور اور معیاری جرائد اور رسائل میں شائع ہوکر اہل علم ودانش سے قبولیت اور پذیرائی حاصل کرچکے ہیں۔ سال گذشتہ ۲۰۲۰ میں ان کی ایک کتاب‘‘سرسید کا اردو ادب میں مقام’’کے نام سے منظر پر آئی ہے۔ ان کی دوسری تخلیق ‘‘اردو ناولوں پر تقسیم ہند کے اثرات’’ زیر طباعت ہے۔
کتاب ‘‘سرسید کا اردو ادب میں مقام’’: ایک سرسری تجزیہ:
سرسید کے بارے میں کچھ لکھنا یا بولنا آفتاب کو چراغ دکھانے کی مانند ہے۔ ان پر جتنا لکھا اور بولا گیا ہے وہ اس سے ہزار گنا زیادہ کے مستحق ہیں۔کیوں کہ ان کی شخصیت عہد ساز،ہمہ گیر اورہمہ جہت تھی۔ ان کی شخصیت کے اتنے پہلو ہیں کہ اگر ایک پہلو پر لکھا جائے تو کئی کتابیں تیار ہوسکتی ہیں۔ وہ بیک وقت عظیم مفکر، کہنہ مشق مدبر، بے دار مغز رہنما، مشفق معلم اور مربی، مصلح قوم، بلند پایہ مؤرخ، قانون داں،ماہر تعلیم اور انشا پرداز تھے۔ وہ کئی دماغوں کے ایک انسان اور جہد مسلسل کا دوسرا نام تھے۔ بقول پروفیسر طارق جمیلی: ‘‘سرسید کا دوسرا نام عمل پیہم کہا جاسکتا ہے’’۔
مذکورہ بالاکتاب ‘‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس’’ دہلی سے شائع ہوئی ہے۔ اس کا سر وورق جاذب نظر اور دیدہ زیب ہے۔ یہ کتاب پیش لفظ، نو (۹) ابواب اور کتابیات پر مشتمل ہے جو ۲۲۴ صفحات کو محیط ہیں۔مقدمہ میں مصنف نے شخصیت نگاری سے متعلق اپنے نقطہ نظر کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ کتاب کا اجمالی خاکہ پیش کیا ہے۔ پہلے باب میں سرسید کی پیدائش سے لے کر موت تک کے حالات کا تذکرہ ہے۔ جس میں ان کی تاریخ پیدائش، ابتدائی تعلیم ، بعد کے تعلیمی مراحل، ملازمت کے مختلف ادوار، قوم کی ہمہ گیر اور ہمہ جہت ترقی اور اصلاح کے لیے ان کے جذبے، حوصلے، لگن، کڑھن، تڑپ اور مسلسل جد وجہد کو مصنف نے بلند پایہ مفکرین اور اہل علم کے اقوال کی روشنی میں پیش کیا ہے جس سے سرسید کی پوری زندگی کا خاکہ قاری کے سامنے آجاتا ہے۔
دوسرے باب میں تفصیل کے ساتھ سرسید کے دور کے سماجی، سیاسی، ادبی اور معاشی حالات کا جائزہ لیا ہے جن کے سائے میں سرسید پلے، بڑھے اور پروان چڑھے۔ اسی طرح مذکورہ تمام میدانوں میں سرسید کی وقیع اصلاحی خدمات اور نمایاں کارناموں، ان کے سیاسی نظریات، مسلمانوں کے مذہبی احوال اور سرسید کی اصلاحی کوششوں کو باحوالہ اور بالتفصیل بیان کیا ہے۔ جبکہ تیسرے باب کا عنوان ہے ‘‘سرسید اور مغرب’’۔ جس کے تحت مصنف موصوف نے مغرب یعنی اہل یورپ کے تئیں سرسید کے نظریات، ان کے رشتے، ان کی مغرب نوازی اور مغربی مفکرین کی نگاہ میں سرسید کے مقام ومرتبے کو ان کی تحریروں کی روشنی میں بیان کیا ہے۔
چوتھے باب میں سرسید کے نامور رفقائے کار کا تذکرہ ہے جن میں سر فہرست خود ان کے صاحبزادے سیدمحمود، محسن الملک نواب مہدی علی، وقار الملک مولوی مشتاق حسین، الطاف حسین حالی اور علامہ شبلی نعمانی وغیرہم ہیں جوسرسید کی فکر سے متأثر ہوکر ان کے شریک کارواں ہوئے اورجنہوں نے ان کے بعد ان کی تحریک اور مشن کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ پانچویں باب میں سرسید کی ادبی خدمات کا بیان ہے جس کے تحت مصنف موصوف نے اُس عہد کی اردو زبان وادب کا حال اور اس کی اصلاح کے سلسلے میں سرسید کی کوششوں کو بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سرسید سے پہلے اردو زبان لفظی بازیگری، خانقاہوں اور درباروں کی زبان تھی۔ سرسید نے اس کو دفتروں، تعلیم گاہوں اور عام لوگوں کی زبان بناکر اس کی نشأۃ ثانیہ کا کارنامہ انجامہ دیا جو اردو کی تاریخ کا ایک ایسا جلی باب ہے جسے مٹایا نہیں جاسکتا۔
چھٹا باب سرسید کے اسلوب نگارش سے بحث کرتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اردو ادب کو سادہ، عام فہم اور سلیس اسلوب سے آراستہ کیا جس نے اردو ادب کو بام عروج تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ جبکہ ساتویں باب میں سرسید کی تصنیفات کی روشنی میں اردو ادب میں سرسید کے مقام ومرتبے کو متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں مصنف کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ آٹھویں باب میں سرسید کی تخلیقات اور تصنیفات کا عمومی جائزہ لیاگیا ہے اور نویں باب میں ان کے رسالہ ‘‘تہذیب الاخلاق’’ کے جاری کرنے کے مقصد، اس کے مختلف ادوار، اس میں شائع ہونے والے مضامین اور معاشرے پر اس کے مثبت اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مصنف موصوف اپنے مقصد میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ اس کتاب کے ذریعے سے قاری اردو ادب میں سرسید کے مقام اور مرتبے کو جان سکتا ہے۔ لیکن راقم سطور کے نزدیک اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نوجوان نسل کوسرسید سے روشناس کرانے، ان کی زندگی،مشن، تحریک، کارناموں، سوئی ہوئی قوم کو خواب غفلت سے بے دار کرنے، مسلمانوں کی ہمہ گیر اصلاح، ان کے اندر حصول تعلیم کی روح پھونکنے اور اردو زبان وادب کی ترقی، اس کو نئے اسلوب اور نئے ڈھنگ وآہنگ سے آراستہ کرنے اور اس کی نشأۃ ثانیہ میں ان کی گراں قدر خدمات کے سلسلے میں ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی اور قیمتی مواد فراہم کرتی ہے۔ساتھ ہی ساتھ سرسید کے مشن کو آگے بڑھانےوالوں اور تحریکی ذہن رکھنے والوں کے لیے ایک قندیل اور مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا مطالعہ اس طرح کا ذہن رکھنے والوں کے لیے بےحد مفید ہوگا۔ اگرچہ یہ کتاب معلومات اور مضامین کے تکرار، ابواب کے صفحات میں توازن کی کمی اور کتابت کی غلطیوں جیسی خامیوں سے خالی نہیں ۔