ایک فنکارانسان:احمد عثمانی-طاہرانجم صدیقی

شہر مالیگاؤں کے بیشترشعرا نے جہاں پوری اردو دنیا میں اپنے شہر کا نام روشن کیا وہیں افسانہ نگاروں نے بھی اردو کی نئی پرانی تمام بستیوں کو اپنے قلم کے ذریعے مالیگاؤں سے متعارف کرایا ہے۔ مذکورہ افسانہ نگاروں کی صف میں نشاط شاہدی، سلطان سبحانی، سجاد عزیز، عرفان عارف، شبیر ہاشمی، خیال انصاری، خان انعام الرحمن اور مجید انور وغیرہ کا نام جتنی اہمیت رکھتا ہے اتنا ہی اہم نام احمد عثمانی صاحب کا بھی ہے۔احمد عثمانی شہر مالیگاؤں کی اس ادبی شخصیت کا نام ہے جس نے نہ صرف افسانے لکھے بلکہ ناول اور بچوں کی کہانیاں تخلیق کرنے میں بھی پیچھے نہیں رہے۔ افسانے انہوں نے جہاں عام سے لکھے وہیں علامتی، تمثیلی، اور تجریدی افسانے بھی لکھے اور اردو کے افسانوی ادب میں اپنے حصے کے جواہرات شامل کیے۔ اپنی اہمیت کا احساس دوسروں کے دلوں میں پیدا کیا اور ایک ادیب کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کی۔ان کی بنی ہوئی شناخت کے سبب ہی جب میں ان سے پہلی مرتبہ افسانہ نگار کی حیثیت سے ملا،تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ وہی احمد عثمانی ہیں جنہوں نے "رات کا منظر”، "اپنے آپ کا قیدی” اور "اپنی مٹی” جیسے افسانوں کے مجموعے اردو ادب کو بخشے ہیں۔
گہری گندمی رنگت، پیشانی پر تفکر کے نشانات، بولنے میں تھوڑے سے تیز رفتار مگر اچانک ہی جملے کو درمیان سے توڑ دینے کے عادی، جملے کی تکمیل پر بعض اوقات اوپری تالو سے زبان رگڑ کر کسی نامعلوم ذائقے کے متلاشی اور سفاری سوٹ میں ذرا سے دبتے قد والے اس انسان سے مل کر قطعی طور پر مجھے محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ وہ اتنے بڑے ادیب ہیں؛بلکہ احمد عثمانی صاحب سے گفتگو کے دوران صاف طور پر یہ احساس اپنا سر اٹھا رہا تھا کہ اس وقت احمد عثمانی صاحب اپنی شناخت اور اپنی عظمت کی اونچی کرسی سے اتر کر میری اپنی سطح پر، خود میرے اپنے سامنے اور میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ بالکل عام سا لہجہ، سیدھے سادے الفاظ، باتوں میں کوئی الجھاؤ نہیں، گفتگو میں کوئی خورد برد نہیں۔ ان کی باتوں سے لگتا تھا جیسے ان کے دل و ذہن اور زبان کے درمیان کوئی بھی چیز حائل نہیں ہے،ورنہ ان کی سطح کے کچھ ہی ادیب ہوں گے جو نئی نسل کے ایک نوجوان افسانہ نگار سے اس قسم کا برتاؤ کر سکیں؛ کیونکہ ان کی باتوں سے، ان کی حرکات سے یا پھر ان کے رکھ رکھاؤ سے کہیں نہ کہیں ان کے عظیم فنکار ہونے کی بو آہی جاتی ہے،مگر احمد عثمانی صاحب تو بڑے ہی خلوص کے ساتھ پیش آئے اور انہوں نے اپنے برتاؤ سے مجھے جتنی عزت بخشی،اس سے کہیں زیادہ عظمت وہ اپنے لئے میرے دل میں بنا گئے۔ اتنے پرخلوص اتنے ملنسار اور اتنے سیدھے سادے احمد عثمانی صاحب کی تخلیقات کی دنیا میں جب ہم داخل ہوتے ہیں تو پھر وہ کہیں بھی سمجھو تہ نہیں کرتے۔ مسلسل اپنی فنکاری کا اظہار کرتے چلے جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو ان کے فن کا کوئی سرا بھی ہمارے ہاتھ آ نہیں پاتا اور وہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔
احمد عثمانی صاحب نے جہاں ترقی پسندوں کا ساتھ دیا وہیں جدیدیت کی تحریک سے بھی آشنا رہے۔ یہاں تک کہ مابعد جدیدیت کی لہر سے بھی وہ واقف رہے ہیں اور اپنے گرد و پیش ہونے والی تبدیلیوں پر نگاہ رکھ کر انہوں نے ان سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ نیز اس استفادے سے اپنے فن کو پختگی عطا کی ہے تاکہ تادیر ادبی دنیا میں ان کے فن کی روشنی پھیلی رہے اور یہ سچ بھی ہے کہ اسی ادیب کا تخلیق کردہ ادب صدیوں تک زندہ رہا ہے جس نے زمانے کے تغیر کے ساتھ اپنے فن میں بھی تبدیلیاں پیدا کرکے اسے زمانے کی ضرورت کے مطابق استعمال کیا ہے۔ اس لیے احمد عثمانی صاحب کے ناول "زندگی تیرے لیے” اور بچوں کے ناولٹ "نوٹ کے پودے” کے بعد ان کا افسانوی مجموعہ "قفس”بھی منظر عام پر آ چکا ہے۔ اس موقع پر مجھے اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ یقینا مذکورہ مجموعے میں شامل افسانے بھی آج کے مسائل سے ضرور آنکھیں ملائیں گے اور ان کی ضرورتوں کو بھی ضرور پورا کریں گے:
قفس کے ساتھ مری نیک خواہشیں طاہر
قفس کے بعد بھی اِک عزم ان کا شہ پر ہو
مذکورہ بالا سطور "قفس” کے اجرا کی تقریب میں میں نے احمد عثمانی صاحب کے سامنے پڑھی تھیں مگر اب ان سطور کو لکھ رہا رہا ہوں، تو احمد عثمانی صاحب اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔
قفس کے بعد بھی وہ رکے نہیں، وہ تھکے نہیں، وہ نچلے نہیں بیٹھے بلکہ لکھتے رہے اور مسلسل لکھتے رہے، حتی کہ شہر مالیگاؤں میں منعقد ہونے والی بیشتر افسانوی نشستوں میں شریک ہوکر اپنے افسانے بھی سناتے رہے۔افسانہ نگاروں کی نئی نسل کو راہیں دکھاتے رہے۔ حوصلہ دیتے رہے۔ نیز ماہنامہ بیباک کے مدیر ہارون بی اے صاحب نے اپنی علالت کے بعد ماہنامہ بیباک کی ادارت کی جو ذمہ داریاں ان کے کاندھوں پر ڈالی تھیں وہ انھیں اخیر وقت تک سنبھالے رہے اور باقاعدگی سے "بیباک”جیسا ادبی رسالہ ہر ماہ نکالتے رہے۔
اب "زندگی تیرے لئے” احمد عثمانی صاحب جیسا "اپنے آپ کا قیدی” "رات کا منظر” چھوڑ کر "قفس” توڑ” کر” اپنی مٹی” میں دفن ہوچکا ہے۔ صرف اس فنکار انسان کی یادیں، باتیں اور الفاظ ہمارے درمیان زندہ ہیں۔ ایسے موقع پر اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس” فنکارانسان” کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)