ایک دیا اور بجھا اور بڑھی تاریکی-نوراللہ فارانی

عالم اسلام کے مایہ ناز محقق، ڈائریکٹر اسلامک اکیڈمی مانچسٹر جسٹس(ر)علامہ ڈاکٹر خالد محمود پی ایچ ڈی 96 سال کی عمر میں اس فانی دنیا سے ہمیشہ کے لیے کوچ کرگئے۔
آپ امرتسر میں 1925ء کو پیدا ہوئے تھے۔ آپ پاکستان کے ممتاز ترین علماے کرام اور مذہبی سکالرز میں بڑے بلند مقام پر فائز تھے۔
آپ کے اساتذہ میں شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ،حضرت علامہ ابراھیم بلیاویؒ،مفتی اعظم مفتی محمد شفیع عثمانیؒ،شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ،علامہ شمس الحق افغانیؒ ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، علامہ یوسف بنوریؒ ، حضرت مفتی محمد حسن صاحبؒ بانی جامعہ اشرفیہ لاھورسرفہرست ہیں۔جب آپ دارالعلوم دیوبند میں حدیث پڑھ رہے تھے اس وقت حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ جیل میں تھے۔
آپ نے ایک طویل عرصے تک مولانا احمد علی لاہوریؒ،حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ،امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ،مولانا خیر محمد جالندھریؒ،مولانا غلام غوث ھزارویؒ،مولانا مسیح اللہ خانؒ جیسے اکابرعلما اور اساطین علم وادب سے علمی ادبی اور روحانی فیوض حاصل کئے۔ آپ نےمختلف اوقات میں مختلف مدارس اور کالجز میں بحیثیت ایک عظیم محقق، استاذالحدیث اور پروفیسر کی حیثیت سے تدریسی و علمی خدمات انجام دیں ۔ ابتدا میں مری کالج سیالکوٹ میں پروفیسر رہے۔
اس کے علاوہ ایم اوکالج لاہور،ڈگری کالج خانیوال میں پروفیسر بھی رہے۔
تنظیم اہل سنت والجماعت سے وابستہ ہو کر آپ نے تحفظ ناموس صحابہؓ کے لیے بیش بہا خدمات انجام دیں۔
رد رافضیت کے سلسلے میں مولاناسید نور الحسن شاہ بخاری، مولانا عبدالستار تونسوی،مولانا اللہ یار خانؒ،مولانا محمد نافعؒ،مولانااحمد شاہ چوکیرویؒ،مولانا قاضی مظہر حسینؒ،مفتی بشیر احمد پسروریؒ جیسی ہستیوں کے ساتھ کام کرنا پڑا۔ آپ ان مجاہد علماسے خوب مستفید ہوئے ۔
تنظیم کی طرف سے ایک معیاری اور تحقیقی رسالہ ہفت روزہ "دعوت” جاری کیا جس نے آپ کی زیرارادت رفض والحاد کے پرخچے اڑائے اور دفاع صحابہؒ کے محاذ پر بھرپور تعمیری کام کیا۔ اس سلسلے میں عملی اور مالی مشکلات برداشت کیں اور پاکستان کے شہرشہر اور قریہ قریہ میں عظمت صحابہ رضی اللہ عنہم کے وہ چراغ روشن کئے جن کی تابانی ہفت روزہ "دعوت” کے صفحات میں ملے گی۔
آپ نے تنظیم اہل سنت کے قائد کی حیثیت سے ملک کے طول وعرض میں مقام صحابہؓ کا بھر پور دفاع کیا اور جلسوں، کانفرنسوں، مناظروں، تحریروں اور تقریروں کے ذریعے ہر محاذ پر رفض و الحاد کوللکارا۔ بعد ازاں” دارالمبلغين "تنظیم قائم کر کے ایسے مبلغ اور شاگرد تیار کئے جنہوں نے شہرشہر اوربستی بستی عظمت صحابہؓ کے چراغ جلائے ۔
عقیدہ تحفظ ختم نبوت کے لیے تمام عمر سرگرمِ عمل رہے۔قادیانیوں کے چوٹی کے مناظرین کو چاروں خانے چت کیا ۔اور ہمیشہ میدان آپ کے ہاتھ رہا۔
لاہور سول سکرٹریئٹ کی مسجد میں ایک عرصہ تک خطیب بھی رہے۔
1966ء میں میں آپ انگلستان تشریف لے گئے، آپ نے وہاں بھی اصحابؓ رسولﷺ کے دفاع کا کام جاری رکھا۔ اور باقاعدہ ایک اسلامک اکیڈمی مانچسٹر میں قائم کی،جس کے آپ ڈائریکٹر منتخب ہوئے،تادم واپسیں اس عہدہ پر فائز رہے۔
سنا ہے آپ کو 1970ء میں جمعیت علمائے اسلام نے لاہور کے حلقہ نمبر چار سے انتخاب کے لیے منتخب تھاـ مقابلے میں شیخ رشید، پی پی پی اور میاں طفیل محمد جماعت اسلامی تھے۔ سپریم کورٹ کی شریعہ بنچ کے جج بھی رہے۔
آپ نے ایک عظیم محقق اور مبلغ اسلام کی حیثیت سے پورے انگلستان میں عظمت اسلام کی صدائیں بلند کیں اور مرکزاسلامک اکیڈمی مانچسٹر کے ذریعے ختم نبوتﷺ، عظمت صحابہؓ، تبلیغ دین اور اشاعت حق کا فریضہ سرانجام دیا۔
حضرت نے دارالعلوم دیوبند اور جامعہ اسلامیہ ڈاھبیل دونوں اداروں سے پڑھا۔جامعہ اشرفیہ جب امرتسر میں تھا وہاں پر بھی پڑھا۔ لاہور کالج میں ملازمت کے دوران بھی جامعہ اشرفیہ مولانا محمد حسن صاحب سے پڑھا،جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں بھی پڑھا۔جس کا تذکرہ مولانا سمیع الحق شہیدؒ نے اپنی ڈائری میں کیا ہے۔سند فراغ دارالعلوم دیوبند سے حاصل کی۔
ان کے عقیدت مند ہمارے محترم منصور یلدرم صاحب فرماتے ہیں:
"اپنے حوالے سے کوئی تذکرہ کرنا پسند نہیں کرتے تھے،جب بھی ان سے بات کرو وہ اپنے اکابر کا تذکرہ شروع کر دیتے،کبھی اپنے منہ سے اپنی تعریف یا اپنے کارنامے بیان نہیں کرتے سنا۔”
آپ کی علمی،ادبی روحانی،تصنیفی، تالیفی اور تحقیقی خدمات پون صدی سے زائد عرصہ پر محیط ہیں۔آپ نے مختلف موضوعات، مسائل اور عقائد پر بڑے دو ٹوک اور تحقیقی انداز سے قلم اٹھایااور جس موضوع پر بھی لکھا کمال کا لکھا۔بعض موضوعات پر آپ کی کتابیں آٹھ آٹھ جلدوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔آپ نے بیسیوں تحقیقی کتب تصنیف کیں جو رہتی دنیا تک آپ کا نام تاریخ کے اوراق پر زندہ رکھیں گی۔
آپ کی چند اہم کتابوں کے نام یہ ہیں:
1۔عبقات 2جلد
2۔تجلیات آفتاب2جلد
3۔خلفائے راشدین 2جلد
4۔معیار صحابیت
5۔محرم کی پہلی دس راتیں
6۔دوازدہ احادیث
7۔عظمت الاصحاب فی بیان ام الکتاب۔
8۔مطالعہ بریلویت 8جلد
9۔آثارالتنزیل 2جلد،
10۔آثارالحدیث 2جلد،
11۔آثارالتشریع 2جلد،
12۔آثارالاحسان 2جلد
13۔عقیدۃ الامت فی معنی ختم نبوت
یہ کتاب امیر شریعتؒ کی زندگی میں انکے فرمانے پہ لکھی تھی۔
14۔عقیدۃ الامم فی مقامات عیسی ابن مریم
15۔عقیدۃ السلام فی الفرق بین الکفر والاسلام
16۔مرزاقادیانی شخصیت وکردار
ان کے علاوہ بھی کافی ساری کتابیں اور مختلف موضوعات پر گراں قدر مقالات سپرد قلم کیے ہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)