ایک کرسچن محقق کی اسلام سے متعلق رائے-رعایت اللہ فاروقی

میری یوٹیوب والی مطالعاتی سرگرمی آج کل دو رخوں پر چل رہی ہے۔ ایک تو میں شیخ احمد دیدات رحمہ اللہ اور ڈاکٹر ذاکر نائک کو ذرا تفصیل سے سن رہا ہوں۔ اور ساتھ ہی مغرب کی اسلام سے متعلق سوچ کی موجودہ سطح کا جائزہ بھی لے رہا ہوں۔ اس دوسرے معاملے میں مجھے دو ایسی شخصیات کے لیکچرز بھی مل گئے جن میں سے ایک مرد ہے اور دوسری خاتون۔ اور دونوں ہی پروفیسر ہیں، دونوں کا میدان مذہبی تحقیق ہے، دونوں اس حوالے سے کئی کتب کے مصنفین ہیں، دونوں ہی امریکہ کے معتبر افراد میں سے ہیں، اور دونوں ہی کرسچین ہیں۔

ان میں سے جو مرد ہیں، وہ خاصے معمر Garry Wills ہیں۔ ان کا تخصص یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر مذہبی امور کے مؤرخ ہیں اور ان کی لگ بھگ تمام کتب کرسچیانٹی کی ہی خدمت ہیں۔ وہ قرآن مجید سے متعلق اپنے لیکچر میں بتاتے ہیں کہ جب نائن الیون ہوا تو سب کی طرح مجھے بھی گہرا صدمہ ہوا۔ میڈیا دن رات بتا رہا تھا کہ یہ اسلام کی سفاکانہ تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ اور مجھے بہت غصہ آیا کہ آخر اسلام نے ہمارے ساتھ اتنا بڑا ظلم کیوں کیا ؟ چنانچہ انہی دنوں ہم چند پروفیسر دوست بیٹھے اسی موضوع پر بات کر رہے تھے کہ اسلام اپنے پیروکاروں کو ایسی تعلیمات کیوں دیتا ہے ؟ یہ سوال میں نے ہی اٹھایا تھا تو ایک پروفیسر نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے یہ کہہ کر سخت شرمندہ کردیا

"ہم میں سے مذہب کے محقق تو تم ہی ہو ناں ؟ اس کا تو تمہیں علم ہونا چاہئے”

اس شدید شرمندگی کے نتیجے میں پہلی بار میں اسلام کی جانب سنجیدگی سے متوجہ ہوا۔ جب ہم اسلامی تعلیمات کی بات کرتے ہیں تو اس حوالے سے سب اہم اور مستند دستاویز قرآن مجید ہی ہے۔ سو میں نے بغور قرآن مجید کا مطالعہ شروع کردیا تاکہ سمجھ آسکے کہ وہ ایسی نفرت انگیز ظالمانہ تعلیمات کیوں دیتا ہے ؟ اور کئی سال کے اس مطالعے سے اس نتیجے پر پہنچا کہ ہمارا میڈیا اور معاشرہ دونوں ہی اسلام سے متعلق بہت بدترین قسم کی گمراہی پھیلا رہے ہیں۔

مثلا ہم اسلام کا تمسخر اڑانے کے لئے سب سے زیادہ جس جملے کا استعمال کرتے ہیں وہ یہ ہے اسلام اپنے پیروکاروں کو خودکش حملوں پر ابھارتے ہوئے انہیں یہ لالچ دیتا ہے کہ تمہیں اس کے نتیجے میں ستر حوریں ملیں گی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں ایک بھی ایسی آیت نہیں جو دہشت گردی کے نتیجے میں ستر حوریں دینے کا وعدہ کرتی ہو ؟ جی ہاں ! میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ ایک بھی ایسی آیت نہیں ہے۔ یہ دہشت گردی کے عوض ستر حوروں والا معاملہ ایک حدیث میں ہے۔ لیکن احادیث سے متعلق خود مسلم سکالرز کا ہمیشہ سے یہ اجتماعی موقف چلا آرہا ہے کہ احادیث قرآن مجید کی طرح غلطی سے پاک نہیں ہیں۔ احادیث من گھڑت بھی رہی ہیں۔ احادیث سند کے لحاظ سے بہت کمزور بھی موجود ہیں، اور ایسی لاتعداد احادیث بھی ہیں جنہیں ریسرچ کے نتیجے میں خود مسلمان اپنے ذخیرے سے نکال باہر کرچکے ہیں۔ اور یہ ستر حوروں والی حدیث ایسی ہی حدیث ہے جس پر مسلم سکالرز کی جرح موجود ہے۔ لھذا دہشت گردی کے لئے ستر حوروں کی لالچ دینے والا معاملہ اسلام پر محض الزام، اور اسلام کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ ہے، وہ ایسا کوئی لالچ نہیں دیتا۔

دوسری بات یہ کہ ہمارا میڈیا یہ بتاتا ہے کہ اسلام نفرت کا پرچار کرتا ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پیروکاروں کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا مذہب کرسچیانٹی ہے۔ سب سے زیادہ نفرت اسلام کو اسی کے خلاف ظاہر کرنی چاہئے۔ لیکن قرآن کا مطالعہ تو یہ بتاتا ہے کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کو جن شاندار الفاظ میں قرآن نے ذکر کیا ہے وہ تو بائبل میں بھی نہیں ہیں۔ جبکہ سب سے زیادہ اہم تو حضرت مریم ہمارے لئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ قرآن مجید میں ازواج مطہرات کے نام جا بجا ملتے، لیکن پورے قرآن مجید میں صرف ایک ہی خاتون کا نام لے کر ذکر آیا ہے اور وہ حضرت مریم ہیں۔ پھر ہم اسلام کو ہمیشہ کرسچیانٹی اور یہودیت کے مقابلے پر کھڑا کرکے اس پر فرد جرم عائد کرتے ہیں کہ اسلام کو سب سے زیادہ مسئلہ ان دو مذاہب سے ہے۔ جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت محمد (ﷺ) کے بعد قرآن مجید نے جن دو پیغمبروں کو سب سے زیادہ اہمیت دے رکھی ہے وہ حضرت موسی اور حضرت عیسی (علیھم السلام) ہیں۔ آپ ذرا قرآن مجید پڑھ کر تو دیکھئے کہ وہ ان دونوں کا ذکر کس محبت سے کرتا ہے۔ سو یہ بات کہ اسلام نفرت کی دعوت دیتا ہے، محض جھوٹا پروپیگنڈا ہے جو ہمارا مغربی میڈیا مسلسل کر رہا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں، یہ کتنی عجیب بات ہے کہ کہا جاتا ہے اسلام سب سے زیادہ عورتوں کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔ اس معاملے میں ایک ہی چیز سے اندازہ لگا لیجئے کہ اسلام کا خواتین کے معاملے میں رویہ کیا ہے۔ خود ہمارے معاشرے میں ابھی کل تک یہ ہوتا رہا ہے کہ جہیز پر لڑکی کا نہیں بلکہ لڑکے والوں کا حق تھا۔ ہماری کرسچیانٹی میں لوگ لسٹیں بنا بنا کر فرمائشیں کیا کرتے تھے کہ یہ چیز بھی دو، وہ چیز بھی دو۔ اور لڑکی جو بھی لاتی تھی وہ لڑکے والوں کا ہوتا تھا۔ جبکہ اسلام 1400 سال قبل قانون بنا چکا ہے کہ جہیز لڑکی کی ملکیت ہے۔ وہ جہیز کی دعوت نہیں دیتا لیکن یہ کہتا ہے کہ اگر کسی بچی کو اس کے والدین نے کچھ دیا، وہ اس بچی کی ہی ملکیت ہوگا۔ آپ "ملکیت” کی اہمیت سمجھ رہے ہیں ؟ کیا ہمارے ہاں آج سے کچھ عرصے قبل تک بھی عورت کو حقِ ملکیت حاصل تھا ؟ اسلام پہلے ہی دن سے حق ملکیت دے چکا ہے۔ خود حضرت محمد (ﷺ) نے پہلی شادی ہی ایسی عورت سے کی جو بہت سے مال و اسباب کی مالک اور خود کفیل تھیں۔

ایک لکچر کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست میں ان سے ایک بہت ٹیڑھا سوال ہوتا ہے۔

"اگر آپ کے بقول اسلام دہشت گردی کی دعوت نہیں دیتا تو پھر داعش کیا چیز ہے ؟”

وہ بے اختیار مسکراتے ہوئے اس کا اتنا دلچسپ جواب دیتے ہیں کہ سن کر زبردست جھٹکا لگتا ہے۔ وہ کہتے ہیں

"داعش اپنے مقاصد کے لئے قرآن کے ساتھ وہی کچھ کر رہی ہے جو ہم کرسچین کسی زمانے میں صلیبی جنگوں کے دوران بائبل کے ساتھ کرتے رہے ہیں”

ایک اور سوال ہوتا ہے

"اسلام بارھویں صدی تک ہر شعبے میں بہت ترقی کر رہا تھا، آج ایسا کیوں نہیں ہے ؟”

وہ جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں

"ہر بڑے مذہب کے پیروکاروں کے اچھے دن بھی ہوتے ہیں اور تاریک دن بھی۔ اسلام اگر آج برے دنوں سے گزر رہا ہے تو نہیں بھولنا چاہئے کہ تاریک زمانہ ہم کرسچین بھی گزار چکے ہیں”

ایک اور سوال ہوتا ہے

"آپ محمد (ﷺ) کے تصور خدا کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں ؟”

وہ جواب دیتے ہیں

"کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے، میں کٹر کرسچین ہی ہوں لیکن محمد (ﷺ) کے تصور خدا سے متفق ہوں، اسی خدا کی عبادت کرتا ہوں جس کی عبادت محمد کرتے تھے، اور اس خدا کو ایک ہی مانتا ہوں”

اپنے مطالعہ قرآن کے نتیجے میں انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام What the Qur’an Meant: And Why It Matters ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)