ایک اور ترجمہ کیوں؟ ـ زیف سید

انگریزی پر موقوف نہیں، اردو میں بھی بورخیس کے متعدد ترجمے ہو چکے ہیں۔ لیکن اسد محمد خاں کی استثنائی مثال کے علاوہ سب کے سب قریب قریب ناقابل قرأت ہیں۔ بورخیس کے اسلوب اور انداز کو اردو میں منتقل کرنا تو دور کی بات ہے، بہت سے جگہوں پر فاضل مترجمین نے انگریزی متن ہی کو سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ہے جس سے مطلب کچھ کا کچھ،بلکہ بعض اوقات تو بالکل الٹ ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مترجم نے ’آستیریون‘ کے ترجمے میں اس انگریزی فقرے:
Of course, I am not without distractions.
کا ترجمہ کچھ یوں کیا ہے:’’یقیناً میں انتشارتوجہ کا شکار بھی ہوتا ہوں۔‘‘
یہاں انھوں نے لفظ ’ڈسٹریکشن‘ کا صرف ایک مطلب ہی سامنے رکھا، اس کے دوسرے معنی amusement سے صرف نظر کر گئے،حالاں کہ یہاں متن کا منشا موخرالذکر تھا۔
اسی افسانے کا ترجمے کا آخری فقرہ ہے:
The Minotaur scarcely defended himself.
اسے اردو میں کچھ یوں ڈھالا گیا ہے:’’مینوتور بمشکل اپنا دفاع کر سکا۔‘‘
یہ ترجمہ بالکل غلط بلکہ اصل کے برعکس ہے۔ افسانے میں کہا گیا ہے کہ میناتور نے اپنا دفاع کرنے کی کوئی خاص کوشش نہیں کی اور بڑی آسانی سے تھیسیئس کی کانسی کی تلوار کے گھاٹ اتر گیا۔ مندرجہ بالا اردو ترجمے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ مشکل ہی سے سہی، اپنا دفاع کرنے میں کامیاب رہا۔
ایک اور مترجم نے مشہور افسانے’ مخفی معجزہ‘ کے ایک فقرے کا یوں ترجمہ کیاہے کہ اس کی روانی منجمد تارکول کو بھی مات دیتی ہے:
’’باقی سبھی لکھاریوں کی طرح اس نے دوسروں کی کامیابیوں کی پیمائش اس سب کچھ کی بنیاد پر کی جو انھوں نے حاصل کیا،پھر یہ سوچا کہ دوسرے بھی اس کو ان سب کاموں کی بنیاد پر ماپیں گے جنھیں کرنے کا اس نے ارادہ باندھا تھا۔‘‘
حالاں کہ بےچارے بورخیس نے تو سیدھی سادی بات کی تھی:
’’ہر ادیب کی طرح ہلادک بھی دوسرے ادیبوں کی خوبیوں کو ان کی کارکردگی سے جانچتا تھا لیکن چاہتا تھا کہ دوسرے ہلادک کو اس کے ارادوں سے پرکھیں۔‘‘
اسی ترجمے کا ایک اور ٹکڑا دیکھیے اور بتائیے کہ کیا سمجھ میں آیا۔
’’اس کے پاس کوئی دستاویز نہیں تھی سوائے یادداشت کے۔ اس حقیقت نے کہ اسے ہر وہ اضافی بحریاد کرنی پڑی جس کا اس نے اضافہ کیاتھا، اس پر ایک اتفاقی بندش عائد کی جو ان افراد کے لیے غیر متوقع تھی جو مبہم پیراگرافس لکھتے اور پھر انھیں بھول جاتے ہیں۔‘‘
اب ذرا بورخیس کی تحریر دیکھیے:
’’اس کے پاس سوائے اپنی یادداشت کے کوئی کاغذ نہیں تھا۔ ہر تخلیق کردہ بند نے اس پر ایک مبارک نظم و ضبط لاگو کر دیا تھا جس کا وہ اناڑی تصور بھی نہیں کر سکتے جو اپنی مبہم اور لمحاتی تحریریں بھول بھول جاتے ہیں۔‘‘
بورخیس کا یہی بےرحمانہ بلکہ مترجمانہ قتل تھا جس نے مجھے مجبور کیا کہ میں خود اس بھاری پتھر کو ہاتھ ڈالوں اور بورخیس کے کچھ نمائندہ افسانے ایک ساتھ اس طرح سے پیش کروں کہ اردو قارئین اس عہدساز ادیب کے ذہن تک براہ راست رسائی حاصل کر سکیں۔